دفاع کس کا؟


23 مارچ ہو یا 14 اگست ہر قومی دن پر ہم قوم کو خود احتسابی کا درس دیتے رہتے ہیں، کیا 6 ستمبر ”یومِ دفاع“ پر اداروں کو خود احتسابی کا کہا جا سکتا ہے۔ ہم یومِ دفاع ہی مناتے ہیں یومِ فتح کیوں نہیں؟

شہداء کو قربانیوں کو ہمارا سلام، کیپٹن سرور سے لالک جان تک سب ہمارے سروں کا تاج ہیں۔ دفاع وطن کے لئے قربان ہونے والے بہت محترم و مکرم ہیں۔ لیکن کیا یہ قربانیاں عوامی استحصال کا جواز ہیں؟ بالکل نہیں۔

جب 65 کی بات کی جاتی ہے تو یہی پبلک تھی جو دورانِ جنگ بارڈر تک کھانا لے کر پہنچ جایا کرتی تھی، گھروں کے چھتوں پر کھڑے ہو کر جنگی جہازوں کی چومکھی پر نعرے بازی کیا کرتی تھی۔ آج وہ جذبے کیوں مفقود ہیں؟ وہ سب کچھ کیوں ماند پڑ گیا ہے؟

کیونکہ 76 سال میں نہ کسی آمریت نے اور نہ ہی کسی جمہوریت نے اس مجبور و مقہور عوام کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے۔ اپنے اپنے مقاصد (ذاتی) پورے کیے اور یہ جا وہ جا۔

آئیے تھوڑا سا بحیثیت قوم یا عوام اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں، ہم لوگ بھی ملک کی بات نہیں کرتے پارٹی کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے لئے لیڈران اہم ہیں، پارٹی اہم ہے، ہمارے تعلقات اہم ہیں۔ اگر ادارے ہمارے لیڈر اور پارٹی ساتھ ہیں تو وہ ملکی سلامتی کے لئے بہت اہم ہیں اگر ہمارے ساتھ نہیں تو سب کچھ جائے بھاڑ میں۔ ویسے یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ادارے کیوں کسی پارٹی اور لیڈر کے ساتھ ہوتے ہیں؟ یہ ملک کے ساتھ کیوں نہیں ہیں؟ ان کو کسی پارٹی یا لیڈر کے ساتھ ہونے یا رہنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

کافی عرصہ پہلے کہا تھا کہ اب ہمارا سفر مذہبی انتہا پسندی سے سیاسی انتہا پسندی کی طرف جاری ہے۔ جو کہ عروج کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ ہم لوگ بلا سوچے سمجھے ایک اور شیطانی چنگل میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ پہلے مذہبی کارڈ تھا اب سیاسی کارڈ ہے اور عوام ان کارڈز کے ساتھ نتائج سے بے پروا کھیلے چلی جا رہی ہے۔ ہماری سوچ محدود دائرے میں رہتی ہے۔ وہ دائرہ پارٹی کا ہو، لیڈر کا ہو یا پھر ایک مخصوص گروپ کا۔ اس کے باہر ہماری رسائی ہی نہیں۔ ہمارے لئے اچھا کام وہ ہے جو ہماری پارٹی یا لیڈر کرے، باقی سب راندہ درگاہ ہیں۔ ہم نے خود کو ایک خول میں بند کر لیا ہے۔ فرمایا جاتا ہے، آج کل سیاسی و جمہوری شعور اوجِ ثریا پر ہے۔ اس ڈھکوسلے نے آج کی نسل کو اوجِ ثریا سے تحت الثریٰ میں لا پھینکا ہے، کیا خوب کہا ہے علامہؒ نے ؎

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

ہم کس کا دفاع کر رہے ہیں؟ اپنی اپنی پارٹی کا، اپنے اپنے لیڈران کا، رہے ادارے تو وہ اپنا اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ اس ملک کا دفاع کس کے ذمے ہیں؟ آج کا یہی اصل احتسابی سوال ہے، گر غور طلب ہو تو۔

Facebook Comments HS