شارٹ سرکٹ


یونیورسٹی میں الیکٹرانکس کے ایک ماسٹر ہوا کرتے تھے۔ ظاہر خان صاحب، لاشعور میں کہیں ظاہر شاہ کا نام گونجتا تھا تو ہم انہیں اکثر و بیشتر ظاہر شاہ کے نام ہی سے یاد کیا کرتے تھے۔ نا صرف ان کی طبیعت، شاہوں، جیسی تھی بلکہ ان کے شوق بھی ویسے ہی تھے۔ کیا نفیس شستہ اردو بولتے تھے، سادہ مگر سلوٹوں سے مبّرا کپڑے، اپنے رکھ رکھاوَ اور ڈیل ڈول سے بھی کسی، شاہ، سے کم بھی نہیں لگتے تھے۔ بس مندریوں اور مالاؤں کا اہتمام باقی تھا ورنہ جئے بھٹو کے بعد انہی کا نعرہ مشہور ہوتا۔

ایک دن اپنے لیکچر کے دوران فیوز اور اس سے متعلقہ چیزوں پہ بات کر رہے تھے، بات کرتے کرتے انہیں کوئی ضمناً بات یاد آ گئی۔ فرمانے لگے کہ لیبارٹری میں تجربے کے دوران ایک فیوز کام نہیں کر رہا تھا تو ویسے ہی ٹیسٹ کے طور پہ پوچھا کہ کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ یہ کام نہیں کر رہا؟ تو ایک موصوف (اپنے کسی پرانے شاگرد کا ذکر کر رہے تھے ) کہنے لگا کہ جناب یہ فیوز تو شارٹ ہو گیا ہے۔ کلاس کی طرف سے مطلوبہ قہقہہ نہ آنے پہ ماسٹر صاحب تھوڑے نالاں تو ضرور ہوئے لیکن سمجھ گئے کہ یہاں بھی بات پوری ہی سمجھانی پڑے گی۔

ماسٹر کا تو کام ہی گیان بانٹنا ہے، اپنی عادت سے مجبور ہو کے انہوں نے اس کی وضاحت ضروری سمجھی کہ کہیں ساری عمر ہم اس سے نابلد ہی نہ رہ جائیں۔ سمجھانے لگے کہ فیوز تو ہوتا ہی شارٹ سرکٹ ہے۔ مزید سمجھانے کے لئے انہوں نے گھروں میں بجلی کے میٹر کے ساتھ لگے فیوز کی مثال لی کہ جیسے وہاں ایک باریک سا تار لگا ہوتا ہے، اور درست کام کرتے رہنے کے لئے اس کے دونوں سروں کا دونوں طرف منسلک ہونا ضروری ہے، اگر کسی بھی وجہ سے وہ تار ٹوٹ جائے تو بجلی کا نظام بھی رک جاتا ہے۔ اسے دوبارہ فعال بنانے کے لئے اس تار کو پھر سے جوڑ دیتے ہیں۔ یعنی اسے شارٹ کر دیتے ہیں۔

دُنیاداری کرتے کبھی کبھی ہم اس گورکھ دھندے میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ رب سے ملانے والے نظام کی خبر ہی نہیں رہتی کہ کب اس کے فیوز کا وہ ایمان و یقین کی صورت والا باریک اور مہین صفت سا تار ٹوٹ گیا ہے۔ گو نا گوں مصروفیات اور زندگی کی تیز رفتاری میں بہت سا وقت گزر جاتا ہے اور جب تک اس فیوز کو دوبارہ سے شارٹ کرنے کا خیال آتا ہے تب تک زندگی کے تاروں کا جلترنگ ختم ہونے کو ہوتا ہے۔

بابا بلھے شاہ صاحب نے فرمایا تھا کہ:
رب دا کی پووَنا۔ ادھروں پٹنا، ادھر لووَنا
ترجمہ: خدا کو کیسے پانا ہے؟ بس ادھر (فانی) سے (دھیان) اٹھا کے ادھر (امر کی طرف) لگانا ہے

زندگی کی مصروفیات میں گاہے بگاہے اس فیوز (دھیان) کو چیک کرتے رہنا چاہیے کہ تار جڑی رہے۔ اگر کہیں یہ تار ٹوٹی ہوئی بھی ملے تو فوراً سے پیشتر کسی قابل اور کامل ”قصائی“ سے جڑوا لینی چاہیے کہ یہ تار جڑی رہے گی تو خیر و برکت کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا۔ ہمہ وقت اس دھیان کا گیان پا لینے والا ہی دان کرنے کی صفت کو پہنچ پاتا ہے۔ اور کون جانے کہ دان کرنے والا کب نگاہ یار میں آ کر داس بن جائے۔

 

Facebook Comments HS