حافظ جی کا ڈاکٹرڈ آئین اور پاکستان کی ترقی


حافظ جی پریشان تھے تو انہوں نے پاکستان کے ارب پتی کاروباری حضرات کو بلایا اور ان سے مشورہ اور مدد طلب کی ہے۔ حافظ صاحب نے فرمایا کہ وطن عزیز میں دہشت گردی ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہی ہے۔ آئے دن حملے اور بم دھماکے ہو رہے ہیں۔ ہر مہینے سینکڑوں لوگ قتل ہو رہے ہیں۔ ڈر یہ ہے کہ جیسے افغان طالبان نے ہماری مدد سے غلامی کی زنجیریں وہاں توڑ دی تھیں اسی طرح کہیں پاکستانی طالبان افغان حکومت کی مدد سے غلامی کی زنجیریں یہاں نہ توڑ دیں۔ حافظ جی نے مزید وضاحت فرمائی کہ فوج چونکہ ملک کی معاشی حالت سنوارنے، ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے اور سرسوں (جی سرسوں ہی لکھا ہے ) کے تیل کو چھوٹی چھوٹی شیشیوں میں پیک کرنے کے کام میں مصروف ہے اس لیے ملک میں دہشت گردی کی لہر کو روکنے، افغانستان کے ساتھ سرحد پر امن قائم کرنے اور سمگلنگ روکنے کے لیے تجربہ کار کاروباری حضرات اور بزنس کمپنیز کی ضرورت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے بڑے بڑے کاروباری ادارے فوج کی عسکری تربیت کریں کہ سرحدوں کی حفاظت کیسے کرنی ہے اور دہشت گردوں کی کمر ایک دفعہ پھر کیسے توڑنی ہے۔

کاروباری حضرات جب سرحدوں کی حفاظت کا کام سنبھال لیں گے تو ہمیں یعنی فوج کو ملک میں کاروبار کو بہتر کرنے کا موقع ملے گا۔ جب فوج کاروباری حضرات کو کاروبار کرنا سکھائے گی اور کاروباری حضرات فوج کو جنگ لڑنے کے طریقے سکھائیں گے تو ملک دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔ اب سب حضرات کو خوب معلوم ہو گا کہ پاکستان کی اب تک کی ترقی کا راز بھی یہی ہے۔ یہی فارمولا ہمارے چیف ثاقب نثار صاحب کا بھی تھا۔ انہوں نے ڈیم بنائے اور فیملی پلاننگ اور تولیدی صحت پر کام کیا تو ہی آج پاکستان میں آبادی چھلانگیں مار رہی ہے، ڈیموں کا پانی ایک فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہا ہے اور پاکستانی ارب پتی کاروباری حضرات کو اتنا انصاف دیتی ہیں کہ سب کو نظر بھی آتا ہے۔

حافظ صاحب کو ارب پتی کاروباری حضرات پر بہت اعتبار تھا اسی لیے تو انہوں نے ان سے مدد مانگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے ارب پتی کاروباری حضرات کو اپنا سبق خوب یاد ہے۔ کوئی بھی اپنے کام سے کام رکھنے والا غیر سیاسی پروفیشنل سولجر انہیں بلائے تو دوڑے چلے آتے ہیں اور اپنا پورا سبق فوراً پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔ سب مل کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ اس میٹنگ سے قبل انہیں بزنس کرنا آتا ہی نہیں تھا۔ اب لیکن ایک ہی میٹنگ سے انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ بزنس کیسے کرنا ہے۔ ان کی یہ واہ واہ بالکل درست ثابت ہوتی ہے اور اگلے تین سے چھ سال میں وہ خوب منافع کماتے ہیں۔ انہوں نے ہی حافظ صاحب کو بھی یقین دلایا ہے کہ آپ کے ڈاکٹرائن سے پاکستان ترقی کی ساری منزلیں اگلے چھ برس، اوہ معافی چاہتا ہوں اگلے تین سال میں، طے کر لے گا۔ اور یہ انسانی تاریخ میں ریکارڈ ہو گا کہ پچیس کروڑ کا ایک ملک صرف تین برس میں ترقی کی تمام منازل طے کر کے ترقی یافتہ بن گیا۔ ظاہر ہے یہ بہت اہم بات ہے کیونکہ پہلے دنیا میں جس قوم نے بھی ترقی کی ہے اس نے کوئی کم از کم تیس چالیس برس لگا دیے۔ وہ قومیں بہت سست تھیں۔ یہ کام تو صرف سال ڈیڑھ میں ہو جانا چاہیے۔

ہم کوئی نقل کرنے والے تھوڑے ہی ہیں کہ باقی ترقی یافتہ ممالک کی طرح ترقی کرنے کے لیے ملک میں جمہوریت کو جڑ پکڑنے دیں، تعلیم کے معیار کو بہتر بنائیں، صحت کا کوئی نظام بنائیں، انصاف اور قانون کی حکمرانی قائم ہونے دیں، شخصی آزادیوں کو یقینی بنائیں، آبادی کو کنٹرول کریں، نوجوان خواتین و حضرات کے لیے روزگار پیدا کریں، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی فیکٹریوں کو بند کریں، ملک کو سیر و سیاحت کے لیے پر کشش بنائیں، ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائیں یا اس طرح کے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے کام کرتے پھریں۔ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے حافظ جی کے ڈاکٹرڈ آئین پر عمل کرتے ہوئے اگلے اڑھائی سال میں مزید ترقی کر کے دنیا کو حیران کر دیں گے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik