مولانا آزاد اور کانگرس کی صدارت کا معاملہ


میرے دوست حافظ صفوان محمد نے 7 ستمبر 2023 کو اپنی وال پر ایک پوسٹ لگائی تھی جس میں گاندھی جی کے مولانا ابو الکلام آزاد کے نام ایک خط کے کچھ جملے درج کیے گئے تھے۔ پوسٹ کے آخر میں حافظ صاحب نے لکھا تھا کہ اس اہم معاملے پر مولانا آزاد کا موقف جاننے کے لیے ان کی کتاب ”آزادی ہند کی کہانی“ مترجمہ غلام رسول مہر کے صفحہ 241 کا مطالعہ کافی دلچسپ ثابت ہو گا۔

محترم امجد سلیم علوی صاحب نے کرم فرماتے ہوئے مجھے یہ کتاب عنایت کی تھی اور میں اس کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ مولانا کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن سنہ 1988 میں شائع ہوا تھا جس میں وہ عبارتیں بھی شامل تھیں جو پہلے ایڈیشن میں روک لی گئی تھیں۔ اس ایڈیشن کے شائع ہونے کے بعد گاندھی جی کے پوتے اور راج گوپال اچاریہ کے نواسے پروفیسر راج موہن گاندھی نے India wins errors-a scrutiny of Maulana Azad ’s India wins freedom کے عنوان سے ایک کتاب لکھی اور اس میں مولانا آزاد کی کتاب کا جو پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ کافی عبرت انگیز ہے۔ اس نے دستاویزی شواہد بالخصوص کانگرس کے ریکارڈ سے ثابت کیا ہے کہ مولانا کے اکثر بیانات نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ اپنی شخصیت کو غیر ضروری اہمیت دینے کا شاخسانہ ہیں۔ دونوں کتابوں کا ایک ساتھ مطالعہ کرنے سے کافی دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔

ویسے تو یہ سارا باب ہی حافظے اور فہم کی فروگزاشتوں کا طومار ہے لیکن میں اس وقت خود کو صرف حافظ صاحب کے تجویز کردہ صفحہ نمبر 241 تک محدود رکھوں گا۔ مولانا کے جواب میں تنقیدی نکات زیادہ تر راج موہن کی کتاب سے مستفاد ہیں۔

کانگرس کے نئے صدر کے انتخاب کا مختصر پس منظر یہ تھا۔ سنہ 1945 کے اواخر میں کانگرس کا نیا صدر منتخب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سنہ 1939 کے سالانہ سیشن میں مولانا کا بطور صدر انتخاب ہوا تھا۔ اس کے بعد جنگ چھڑ گئی، کانگرس کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا، کانگرس پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔ چنانچہ ان برسوں میں نہ کوئی سیشن ہوا اور نہ کوئی صدر منتخب ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا کی صدارت کا دور پانچ چھ برس تک جاری رہا۔ ظاہر ہے ایسا مولانا کی عظمت و مقبولیت کی بنا پر نہیں ہوا تھا بلکہ ان کی صدارت کا جاری رہنا بس حالات کا جبر تھا۔

اب مولانا نے کتاب میں کانگرس کے آئندہ صدر کے انتخاب کا جو احوال بیان کیا ہے وہ اصل صورت حال کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ جب مولانا نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ آئندہ کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے تو اپنی ذمہ داری کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : ”دوسرا معاملہ جس کا مجھے فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ میرا جانشین کون ہو؟“

حیرت ہوتی ہے کہ اتنے برس تک کانگرس کا صدر رہنے کے باوجود کیا مولانا کانگرس کے آئین سے واقف نہیں تھے۔ جانے والا صدر کبھی اپنے جانشین کا فیصلہ نہیں کرتا تھا۔ فیصلہ سالانہ سیشن میں ہوتا تھا۔ اگر کسی وجہ سے سیشن کا انعقاد ممکن نہ ہو تو اے آئی سی سی فیصلہ کرتی تھی۔ اگر اس کی میٹنگ بھی ممکن نہ ہو تو ورکنگ کمیٹی فیصلہ کرتی تھی۔

”چنانچہ 26 اپریل 1946 ء کو میں نے ایک بیان جاری کیا جس میں صدارت کے لیے جواہر لال کا نام تجویز کیا اور کانگرسیوں سے اپیل کی کہ جواہر لال کو بالاتفاق صدر منتخب کر لیں۔“

مولانا نے بیان ضرور جاری کیا تھا لیکن اب جو دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ان کی روشنی میں جو تصویر سامنے آتی ہے وہ قدرے مختلف ہے۔ ان دنوں شاید کچھ اردو اخبارات میں اس قسم کی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ مولانا آزاد تو صدر بننے کے خواہش مند ہیں لیکن گاندھی جی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان خبروں کے تراشے جب گاندھی کے سامنے پیش کیے گئے تو انھوں نے 20 اپریل کو مولانا کے نام یہ خط تحریر کیا:

مولانا صاحب،

منسلک تراشوں کو پڑھیں۔ جو کچھ بھی میرے بارے میں لکھا گیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ میں نے کسی کے سامنے اپنی رائے بیان نہیں کی۔ جب کمیٹی کے ایک یا دو ارکان نے اس معاملے میں استفسار کیا تو میں نے انھیں بتا دیا کہ اسی صدر کو برقرار رکھنا مناسب نہیں ہو گا۔ درحقیقت مجھے ناخوشی محسوس ہوتی ہے کہ اس اہم موقع پر ایک مسلمان صدر کے منصب پر فائز ہو۔ اگر آپ اس سے متفق ہیں تو میں چاہوں گا کہ آپ منسلک تراشوں کو پڑھ لیں۔ آپ کو ایک بیان جاری کرنا چاہیے جس میں یہ اعلان ہو کہ آپ صدر نہیں رہنا چاہتے۔ یہ مناسب ہو گا اگر کسی دوسرے شخص کو صدر بنا دیا جائے۔ بادشاہ خان کا نام قبل ازیں تجویز کیا جا چکا ہے لیکن میں نے سختی سے اس کی مخالفت کی تھی۔ میری بادشاہ خان سے بحث بھی ہوئی تھی۔

اگر اس وقت میری رائے طلب کی گئی تو میں جواہر لال کو ترجیح دوں گا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ میں ان میں جانا نہیں چاہتا۔

آپ کا، ایم کے گاندھی

(یہ خط جو اردو میں لکھا گیا تھا گاندھی جی کے سکریٹری پیارے لال کے آرکاؤز میں محفوظ ہے۔ یہ انگریزی میں ترجمہ ہو کر Gandhi ’s Collected Works کی جلد 90 شائع ہو چکا ہے۔ راج موہن نے اس خط کا جو اقتباس اپنی کتاب میں نقل کیا ہے وہ اس کا اپنا ترجمہ ہے کیونکہ اس وقت تک ورکس کی اشاعت نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ دونوں ترجموں میں تھوڑا سا لفظی اختلاف ہے جو اتنا اہم نہیں۔ میں نے کلیکٹڈ ورکس سے واپس اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ )

اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مولانا کا 26 اپریل کا بیان گاندھی کے حکم کی تعمیل میں تھا۔ لیکن کتاب میں مولانا صاحب گاندھی جی کے خط کا ذکر کرنا بھول گئے، دانستہ یا نادانستہ۔ تاہم مولانا کی کتاب کے 1988 کے ایڈیشن میں بحال شدہ یہ جملہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے ”گاندھی جی کا جھکاؤ شاید ایک حد تک سردار پٹیل کی طرف تھا لیکن جب میں نے جواہر لال کا نام تجویز کر دیا تو گاندھی جی نے اپنی رائے علی الاعلان ظاہر نہ کی۔“

افسوس ہے کہ مولانا کا یہ بیان درست نہیں کیونکہ گاندھی جی اپنے خط میں جواہر لال کے حق میں اپنی رائے دے چکے تھے اور انھوں نے سردار پٹیل کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

تاہم مولانا کا کانگرس کا صدر منتخب نہ ہو سکنے کا پچھتاوا جاری رہا۔ فرماتے ہیں : ”میری دوسری غلطی وہ تھی جب میں نے فیصلہ کر لیا کہ خود کھڑا نہ ہوں گا۔“ کانگرس میں خود کھڑا ہونے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ اے آئی سی سی کے کوئی سے 15 ارکان کسی کا بھی نام تجویز کر سکتے تھے اور اس کے لیے جس کا نام تجویز کیا جا رہا ہو، اس کی اجازت لینا بھی ضروری نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی نے مولانا کا نام تجویز نہیں کیا تھا۔ نہرو کے علاوہ پٹیل اور اچاریہ کرپلانی کے نام تجویز کیے گئے تھے لیکن بالآخر نہرو کو بلامقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا تھا۔

اس کے بعد مولانا کے اس اظہار تاسف کو دیکھیے : ”میں نے اپنی فہم و فراست کے مطابق بہترین قدم اٹھایا مگر اس وقت سے معاملات نے جو صورت اختیار کی ہے اس کی بنا پر میں سمجھنے لگا ہوں کہ یہ میری سیاسی زندگی کی شاید سب سے بڑی غلطی تھی۔ میں اپنے کسی فعل پر اتنا پشیمان نہیں ہوا جتنا کہ اس نازک مرحلے میں کانگرس کی صدارت سے اپنا نام واپس لینے کے فیصلے پر۔ یہ ایک ایسی غلطی تھی جسے میں گاندھی جی کے الفاظ میں“ ہمالیائی جہت ”والی غلطی کا نام دے سکتا ہوں۔“

مولانا کا یہ تاسف ان کی معصومیت کا آئینہ دار ہے جس پر حیرت کا ہی اظہار کیا جا سکتا ہے۔ گاندھی کے خط کے بعد بھی کیا وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ کانگرس کی صدارت کے عہدے پر برقرار رہ سکتے تھے۔ گاندھی جی کے لیے تو یہ خیال ہی وحشت انگیز تھا کہ اس نازک موقع پر ایک مسلمان کانگرس کی کرسی صدارت پر براجمان ہو۔ بالفرض محال وہ صدر منتخب ہو بھی جاتے تو کیا وہ اس قابل ہوتے کہ تنہا حالات کے دھارے کا رخ کسی اور جانب موڑ سکتے۔

یہ صرف کتاب کے ایک صفحہ کا احوال ہے۔ پوری کتاب کے بیانات کا جائزہ لینے کے لیے راج موہن کے علاوہ اگر متھائی کی کتاب کو بھی ساتھ رکھ لیا جائے تو کھیم کرن کا میدان بری طرح پائمال ہو جائے گا۔

بات ختم کرنے سے پہلے میں راج موہن کی کتاب پر ایک کمنٹ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ تاریخی تحقیق کا معاملہ ایسا ہے کہ اس میں کسی بھی شخص پر آنکھیں بند کر کے اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی کتاب میں راج موہن نے ایک عجیب کام کیا ہے جس پر مجھے افسوس ہوا ہے۔ اس نے گاندھی جی کے مذکورہ بالا خط کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا وہ جملہ حذف کر دیا ہے جس میں وہ اس نازک موقع پر ایک مسلمان کے صدر ہونے پر ناخوش ہونے کی بات کر رہے تھے۔ حالانکہ یہ جملہ مولانا کی خوش فہمی کا زیادہ بہتر صورت میں ازالہ کرتا ہے۔ لیکن حذف کرنے کا سبب شاید یہ ہو کہ گاندھی جی کے چہرے سے بھی نقاب سرکا کر ان کا اصل روپ بھی سامنے لے آتا ہے۔

Facebook Comments HS