کراچی کو ایک جامع پبلک ٹرانسپورٹ نظام کی سخت ضرورت ہے
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کے جامع ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے مجموعی طور پر 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت شہر کی سڑکوں پر صرف 1029 بسیں چل رہی ہیں جن میں پیپلز بس سروس کی 240 بسیں، بی آر ٹی کی 100 بسیں اور 689 پرانی بسیں چل رہی ہیں۔
اس وقت کراچی شہر میں صرف 1,029 پبلک بسیں ہیں۔ جو کہ 15,000 بسوں کی کل ضرورت سے پانچ فیصد کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کر پڑ رہا ہے، جن میں سے زیادہ تر مسافر رکشوں اور ان ڈرائیو پر انحصار کرتے ہیں۔
اس وقت کراچی جیسے گنجان آبادی جیسے شہر کو کم از کم 15000 بسوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید کمی ہے جس میں کبھی عوام کے لیے 14,000 سے زیادہ بسیں اور منی بسیں تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر منی بسیں سڑکوں سے غائب ہو گئی ہیں، جس کی بنیادی وجہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ اور لوڈنگ منی ٹرکوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ کراچی میں ریڈ بسز کے منصوبے شروع ہونے کہ بعد لوگوں میں ایک خوشی کی لہر چھا گئی۔ مگر کچھ عرصہ گزر جانے کہ بعد انہیں بسوں میں لوگوں کی وہی حالت ہے جیسے پرانی بسوں میں ہوتی تھی۔
عبوری صوبائی حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر بسیں خریدنے یا پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو نئی بسوں کی خریداری کے لیے آسان قرضے دینے کا منصوبہ بنایا جائے تاکہ شہر کے ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کیا جا سکے جس کے لیے 15,000 سے زیادہ بسوں کی سخت ضرورت ہے۔
ایک جامع پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے حوالے سے نگراں حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دو تجاویز پر غور کیا ہے۔ نگران حکومت کہنا ہے کہ ”ہم یا تو پی پی پی موڈ پر پبلک بسیں خریدیں گے یا ہم مقامی پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو بسیں خریدنے کے لیے آسان قرض فراہم کریں گے۔ ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی تکمیل کے بعد شہر میں چلنے پرانی بسیں بند کر دی جائیں۔ کیوں کہ ان بسوں کی وجہ سے روز حادثات ہوتے ہیں اور ماحول کے لئے بھی خراب ہیں۔ اس کے علاوہ“ پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو یہ بھی ترغیب دی جائے گی کہ وہ خستہ حال گاڑیوں کو نئی گاڑیوں سے بدل کر آسان قرضوں کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ کراچی مسافر بسوں کی شدید قلت سے دوچار ہے کیونکہ شہر میں اس وقت صرف 1,000 سے زیادہ بسیں چل رہی ہیں، جو کہ اس کے 20 ملین سے زائد مکینوں کی روزمرہ کی سفری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت زیادہ ناکافی ہیں۔
ورلڈ بینک (ڈبلیو بی) کی جانب سے کی گئی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ شہر میں مسافروں کی نقل و حمل کے جامع نظام کے لیے 15,000 مسافر بسوں کی ضرورت ہوگی، لیکن اس وقت کراچی کی سڑکوں پر صرف 1,029 مسافر بسیں چل رہی ہیں۔ ان میں پیپلز بس سروس کی 240 نئی ائر کنڈیشنڈ بسیں، بس ریپڈ ٹرانزٹ سروس کی 100 بسیں، اور 689 پرانی بسیں جو پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کے ذریعے چلائی گئی ہیں۔
عبوری حکومت سے یہ گزارش ہے اور ایک تجویز ہے کہ جب تک پرانی بسوں کے آپریشن کو معطل نہیں کیا جائیے گا تب تک ایک جامع پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مترادف نہیں ہو سکتا۔ اس وقت کراچی میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کل 1029 بسیں چل رہی ہیں جن میں پیپلز بس سروس کی 240 بسیں، 100 بسیں بی آر ٹیز کے تحت اور 690 پرانی بسیں پرائیویٹ سیکٹر کے تحت چل رہی ہیں جبکہ مزید 500 بسوں کی مزید خریداری کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی بنائی جا رہی ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے نجی شعبے کو آگے جانے کے لیے انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کے ذریعے مقامی نجی ٹرانسپورٹرز کو آسان قسطوں پر قرضے فراہم کئیے جائیں۔
مقامی ٹرانسپورٹرز کو حکومت کی مدد سے آسان قرضوں پر نئی بسیں خریدنے اور شہر کا بہتر نظام بنانے کہ لیے بہتر خدمات کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
عوامی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تجربہ کار نجی ٹرانسپورٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں پر کام کیا جائے۔
نئی بسوں کی خریداری کے لیے نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں پر مارک اپ کی شرح کو ہر ممکنہ حد تک کم رکھنے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کو انڈوومنٹ فنڈ قائم کر کے بسوں کی خریداری کے لیے نرم قرضے کی سہولت دی جائی۔ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کی خریداری کے لیے تجربہ کار مقامی ٹرانسپورٹرز کو نرم قرضوں کی فراہمی کے لیے ایک قابل عمل اسکیم تیار کرے جو شہر کے مختلف روٹس پر چلائی۔
نگراں صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کے تحت پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ شہر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑے خلا کو پر کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں لوگوں کی ٹرانسپورٹ کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے مرحلہ وار مزید بسیں شامل کی جائیں گی۔ انہوں نے کابینہ کو پی بی ایس کے بیڑے میں فوری طور پر 500 مزید بسیں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ معاشرے کے غریب طبقے کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے وزیر ٹرانسپورٹ کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں اس حوالے سے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کا کہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے مسئلے نے لاکھوں لوگوں کے شہر کو متاثر کیا ہے جن کے پاس اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے بہت کم آپشنز باقی رہ گئے ہیں۔
شہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے۔ پی بی ایس کے بیڑے میں مزید 500 بسیں شامل کرنے اور 200 ٹیکسیاں شروع کرنے کی تجویز کو آئندہ مالی سال میں حتمی شکل دی جائے گی کیونکہ دونوں تجاویز کی فزیبلٹی کی توقع نہیں تھی۔ مگر اگلے صوبائی بجٹ کی پیش کش سے قبل محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے پیش کیا جائے گا۔ جب کہ ساٹھ مزید ایمبولینسوں کی خریداری کو منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے 30 موبائل میڈیکل وین سمیت 60 ایمبولینسز کی خریداری کی منظوری بھی دی۔ میرے مطابق مسافر بسوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پروگرام شروع کریں۔ ایک اہم حل کے طور پر پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر زور دیا جائے۔


