پاکستان کے حالات: وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں


علامہ انور صابری مرحوم برصغیر کے معروف شاعر تھے ان کا تعلق مجلس احرار اسلام سے تھا۔ تحریک آزادی میں ان کی سیاسی نظموں کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے 1946 ء کے انتخابات کے موقع پر ایک نظم کہی۔ اس نظم کو قارئین بار بار پڑھیں صابری صاحب کی دور اندیشی سمجھیں، وعظ و نصیحت گردانیں، یا پھر کچھ اور اخذ کریں۔ لیکن اس میں بیان کردہ حقائق کو شاید ہی کوئی جھٹلا سکے جو آج ہمارے سامنے ہیں۔

پاکستان میں کیا کیا ہو گا!
چاروں طرف میخانے ہوں گے، گردش میں پیمانے ہوں گے
رندوں کی شمشیر کے نیچے مذہب کے دیوانے ہوں گے
ختم نئے ماحول کے اندر واعظ کے افسانے ہوں گے
پاکستان میں کیا کیا ہو گا!
دور نہ ہوگی فاقہ مستی، یونہی رہے گی فقر کی پستی
مٹ نہ سکی ہے، مٹ نہ سکے گی، دولت کی انسان شکستی
پاکستان کے اندر ہوگی دولت مہنگی، غربت سستی
پاکستان میں کیا کیا ہو گا!
تا بہ حد معراج کریں گے، جشن تخت و تاج کریں گے
مذہب ہی کی اوڑھ کے چادر، مذہب کو تاراج کریں گے
ابن علی کے دشمن بن کر، شمر کے بیٹے راج کریں گے
پاکستان میں کیا کیا ہو گا!
غیروں کے یارانے ہوں گے، اپنے سب بیگانے ہوں گے
شمع بنے گا خون غریباں، روشن عشرت خانے ہوں گے
پرجا کے غمگین دلوں پر راجہ خنجر تانے ہوں گے
پاکستان میں کیا کیا ہو گا!
رحم سے خالی ہر دل ہو گا، حاکم جور پہ مائل ہو گا
ڈوبے گی ایمان کی کشتی، غرق طوفاں ساحل ہو گا
بھیس میں انساں کے خود انساں، انسانوں کا قاتل ہو گا
پاکستان میں کیا کیا ہو گا!
زرداروں کی عزت ہوگی، ہر مفلس کی درگت ہوگی
رسوا ہو گا نام محبت، اوج پہ جنسی نفرت ہوگی
پیکر عصمت، زینت خانہ، بازاروں کی زینت ہوگی
پاکستان میں کیا کیا ہو گا!
سر سے پا تک دھوکا ہو گا!

پاکستان بننے سے پہلے باشعور اور دوراندیش افراد نے دیکھ لیا تھا کہ پاکستان خون آشام گدھوں کی بھینٹ چڑھنے والا ہے۔ جاگیرداروں نے جو برطانوی سامراج کی یونی ورسٹیوں سے سیاست کی شطرنج کی چالیں سیکھ کر آئے تھے۔ انہوں نے بانیان پاکستان پوری قطار دیوار سے لگا دی۔ کچھ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور کچھ لیاقت علی خاں کی طرح گولی کا شکار بنے۔ انہوں نے فوج اور بیوروکریسی کو اپنے ساتھ شامل کیا۔ قائداعظم کا پاکستان جو عام لوگوں کے لیے بنا تھا۔

اس میں فوج، آرمی اسٹیبلشمنٹ کے طور پر سامنے آئی اور بیوروکریسی نے اہم اداروں پر قبضہ کر لیا۔ پھر یہ طاقت کے تین سرچشمے مختلف ادواروں میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے رہے۔ پھر کچھ اور طبقات اس میں شامل ہوئے اور بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے لگے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور عام آدمی غریب تو تھا ہی اور بھی غریب ہوا۔ اس کے لیے حیات تنگ کر دی گئی۔

مجلس احرار اسلام سے لاکھ اختلاف کریں مگر آزادی کی تحریک میں اس کا جو حصہ ہے اور انگریز کا خوف دلوں سے نکالنے میں اس کے کردار کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جاسکتا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریک آزادی کے وقت کہا کہ

اس وقت آئینی و غیر آئینی دنیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا ہندوستان میں ہندو اکثریت کو مسلم اقلیت سے جدا کر کے بر صغیر کو دو حصوں میں جدا کر دیا جائے۔ قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔ مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو مشرق سے سورج طلوع ہو گا۔ لیکن یہ وہ پاکستان نہیں ہو گا جو دس کروڑ مسلمانان ہند کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اور پھر عمر کے آخری حصے میں کہا:

بھائی سب کچھ قصہ ماضی بن چکا، ہم تو عمر کے عہد آخر میں ہیں، بڑھاپا شروع ہو کر جوان ہو چکا ہے، بالوں میں سپیدی آ گئی ہے، سفر ایک تھا، منزلیں کئی، بعض منزلوں پر رکنا پڑا، بعض جگہ ٹھہرنا پڑا، کچھ دیر سستائے، تلووں کو سہلایا۔ آہوں اور کانٹوں میں معانقہ ہو چکا تو چلنے لگے، پھر چلتے ہی رہے، حتیٰ کہ ایک رات بیت گئی، دن چڑھا سورج نے شعاعوں کا چمن آراستہ کیا، غنچوں کا چہرہ مسکرا اٹھا، آنکھ اٹھا کر دیکھا تو گرد و پیش وہی رات کا سناٹا تھا۔

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

اب تقابل کریں تو کیا انور صابری اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے جو کچھ کہا وہ حقیقت واقعہ بن کر ہمارے سامنے نہیں۔

پاکستان ایک منفرد حیثیت کا ملک ہے۔ دنیا میں یہ واحد ملک ہے جو خالصتاً نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ اس نظریہ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان کی فطری صلاحیتوں کے اظہار اور اس کی شخصیت کے نشوونما کے لئے مکمل سیاسی اور معاشی آزادی کا حاصل ہونا ناگزیر ہے۔ یعنی جب تک کوئی معاشرہ اپنے ہر ہر فرد کو اس بات کی ضمانت فراہم نہیں کرتا کہ بنیادی ضروریات زندگی حاصل کرنے کی جدوجہد میں اس کی راہ میں کسی قسم کی اجارہ داریاں حائل نہیں ہونے دی جائیں گی اور دوسروں کے مقابلے میں زندگی میں ترقی کرنے کے تمام مواقع اسے مساوی طور پر حاصل ہوں گے، اس وقت تک وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ایک ایسے نظریہ حیات پر مبنی نظام کے قیام کے لئے ضروری تھا کہ پاکستان میں ایک ایسا نظام حکومت قائم کیا جاتا جو اس بنیادی مسئلہ کی طرف اپنی تمام تر توجہ مبذول کرتا کہ پاکستانی معاشرے کے افراد میں قیام پاکستان کے اعلیٰ مقاصد کے ساتھ لگن اور ہر طرح کی غلامی سے آزاد ہو کر قدرت کی ودیعت کی گئی بہترین انسانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی شدید تڑپ پیدا ہوتی۔ لیکن افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ایسا نہیں ہوسکا۔

اس کوتاہی کی آخر کیا وجہ ہے؟ کیا اسلامی اقدار خالی خولی نعرے اور محض خیالی باتیں ہیں؟ کیا ہماری تاریخ میں اس کی عملداری کی درخشاں مثالوں کا وجود نہیں ہے؟ مثال کے طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس تاریخی قول کو پیش کیا جاسکتا ہے کہ ”لوگو! اللہ نے مجھے اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ تمہاری دعاؤں کو خدا تک پہنچنے سے روک دوں“ ۔ (طبری) بظاہر عجیب سا دعویٰ معلوم ہوتا ہے لیکن ان کا یہ دعویٰ حقیقت بن کر رہا۔ حضرت عمر نے ایک ایسا نظام حکومت قائم کیا جس کے تحت رہنے والے افراد کی تمام احتیاجیں بخوبی پوری ہونے لگیں اور ان کی کوئی بھی معاشی ضرورت ایسی نہ رہی جس کے لئے انہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پیش آتی یا جس کی خاطر انہیں اپنے نظریات اور اپنی دینی اقدار کو چھوڑ نا پڑتا۔

پاکستان میں ایک ایسے نظام حکومت کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ فرسودہ سیاسی نظام ہے جس نے بڑی بڑی اجارہ داریوں کو جنم دے کر معاشرے کے ہر ہر فرد کو معاشی لحاظ سے خود کفیل بنانے کی بجائے قوم کی اکثریت کو بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم کر دیا ہے۔ اس نے ملکی دولت اور ذرائع و وسائل کو صرف چند ہاتھوں میں جمع کر کے ملک کی بیشتر آبادی کو محرومیوں سے دوچار کر دیا ہے۔ اب ہمارے معاشرے کے افراد کا مقام اس کی علمی و عملی صلاحیتوں، اخلاقی برتری اور ذاتی کردار کی بجائے اس کے پاس موجود دولت اور سرمایہ کے پیمانوں سے متعین کیا جانے لگا ہے اور سوسائٹی میں اس کے مرتبے کا معیار روپیہ پیسہ بن گیا ہے، چاہے یہ روپیہ پیسہ دوسروں کا حق مار کر ہی کیوں نہ حاصل کیا گیا ہو۔ لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور کوئی فضاؤں میں جان دے رہا ہے تو کوئی سمندر کی پہنائیوں میں۔ بے روزگار نوجوان موت کے سفر پر جانے سے پہلے یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ پاکستان میں کیا رکھا ہے۔ سارا سارا دن کام کرتا ہوں مگر پھر بھی حالات نہیں بدل رہے ہیں۔ اگر یہاں رہا تو ویسے ہی سسک سسک کر مر جاؤں گا۔ اگر یورپ پہنچ گیا تو نہ صرف میرا مستقبل محفوظ ہو جائے گا بلکہ اپنے خاندان کا مستقبل بھی محفوظ کرلوں گا۔ ’

انور صابری مرحوم کی ایک ایک بات سچ ثابت ہوئی ہے آج ملک جس دوہرائے پر کھڑا ہے اس وقت بھی اشرافیہ اپنی مراعات سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں اور دیس کا حال یہ ہے کہ:

کسی کو جام شراب جائز، کسی کو پانی ہے حرام اب بھی

Facebook Comments HS