گٹر گیس سے بجلی بنانا
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر ان معنوں میں درست ہے کہ ہماری دنیا بلکہ اس پوری کائنات میں کوئی چیز قدرت نے بے کار نہیں پیدا کی۔ ہر چیز کی اپنی جگہ افادیت اور اہمیت موجود ہے۔ حتی کہ ہم جن اشیاء کو کوڑا کرکٹ یا فالتو بے کار چیز کہتے ہیں، ان میں بھی ہمارے لیے ایسے کارآمد عنصر موجود ہوتے ہیں جو ہمارے لیے واقعی فائدہ مند اور اکنامیکلی قیمتی ثابت ہوسکتے ہیں۔ بس اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے دماغ کا استعمال کرنا آنا چاہیے۔ جو قومیں ہوشیار اور چالاک ہوتی ہیں وہ اپنے کچرے سے بھی کمائی کر جاتی ہیں اور ایسی ایسی دریافتیں کر جاتی ہیں کہ ان کی دولت میں کئی گنا اضافہ ایسے ہی ان اشیاء سے ہوتا ہے جو کسی کے نزدیک بے کار اور غیر ضروری ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک ”گٹر گیس یا sewer gas“ بھی شامل ہے۔
سائنسدانوں نے اس بدبودار، ناک میں چبھتی ہوئی، زہریلی گٹر گیس کو ایک صاف ستھرے اور کم سے کم کاربن رکھنے والا ایندھن میں تبدیل کرنے کے لیے ایک نیا کیمیائی عمل دریافت کیا ہے۔ ایک حالیہ دریافت ہونے والے نئے کیمیائی طریقہ، کیمیکل لوپنگ Chemical Looping ”کے ذریعے سائنسدانوں نے زہریلی سیوریج گیس یا گٹر گیس کو صاف ہائیڈروجن ایندھن میں تبدیل کرنے کا طریقہ تلاش کر لیا۔ یہ گٹر گیس زیادہ تر ہائیڈروجن سلفائیڈ ہوتی ہے۔ یہ نیا مطالعہ ایک کیمیائی طریقہ کار جس کو ’کیمیکل لوپنگ‘ کے استعمال کرتے ہوئے ایک سابقہ کام پر کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے۔
کیمیائی لوپنگ دراصل ایک ایسا کیمیائی عمل ہے جو صاف اور مہلک اثرات سے پاک توانائی کی پیداوار اور غیر ضروری کاربن کی شمولیت کے بغیر ایندھن کی پیداوار کے لیے ایک امید افزا ٹیکنالوجی ہے۔ یہ ایک جلنے یعنی combustionکی تکنیک ہے جو ہوا سے ایندھن میں آکسیجن کی منتقلی کے لیے ٹھوس آکسیجن کیریئر کا استعمال کرتی ہے، جس سے ہوا کے ساتھ براہ راست رابطہ کیے بغیر ایندھن کے جلنے کے عمل کو فعال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO 2 ) کو دیگر جلنے کے عمل کی پیدا ہونے والے مصنوعات سے الگ کرنے کا ایک طریقہ فراہم کرتا ہے، جس سے CO 2 کے اخراج پر قابو پانا اور ذخیرہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
ہائیڈروجن جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ہماری کائنات کا سادہ ترین اور کثرت سے پایا جانے والا عنصر و ایٹم ہے۔ پوری کائنات تقریباً 75 فیصدی نارمل مادہ میں ہائیڈروجن پایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے ستارے اور نبیولا زیادہ ہائیڈروجن اور ہیلیم سے ہی بنے ہیں۔ زمین پر بھی ہائیڈروجن کثرت سے پائی جاتی ہے لیکن مرکبات کی صورت میں۔ زیادہ تر ہائیڈروجن پانی یعنی کی صورت میں ہے اور زمین کی تہہ جس کو ہم ارتھ کرسٹ Earth Crust کہتے ہیں، وہ بھی تقریباً 0.14 فیصد ہائیڈروجن سے مل کر بنی ہے۔
دوسرے الفاظ میں ہائیڈروجن کی اس زمین اور پوری کائنات میں ایک ہمیں نہ ختم ہونے والی سپلائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اب اسی ہائیڈروجن کو ایک فیول یعنی ایندھن کے طور پر استعمال کرنے پر کام ہو رہا ہے اور یہ ہائیڈروجن فیول ہمارے لیے ایک قابل تجدید توانائی کی سورس حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے متعلق یہ بات کہی جاتی ہے کہ آئندہ کچھ سالوں میں متبادل توانائی کے استعمالات کے طور پر ہائیڈروجن فیول سیل ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے ۔ ہائیڈروجن فیول کیا ہوتے ہیں ان کو سمجھنے کے لیے میری یہ پوسٹ دیکھئے
امریکن کیمیکل سوسائٹی کے جریدے ACS سسٹین ایبل کیمیکل انجینئرنگ Sustainable Chemical Engineering میں حال ہی میں تفصیل سے یہ عمل جس میں ہائیڈروجن سلفائیڈ جسے عام طور پر ”سیور گیس sewer gas یا گٹر گیس“ کہا جاتا ہے، اس کو ہائیڈروجن ایندھن گیس میں بدل دیتا ہے۔ ہائیڈروجن سلفائیڈ دراصل کھاد کے ڈھیروں اور گٹر کے پائپوں سے خارج ہوتی ہے اور یہ صنعتی سرگرمیوں کا ایک اہم ضمنی پروڈکٹ ہے جس میں تیل اور گیس کو صاف کرنا، کاغذ کی پیداوار اور کان کنی شامل ہے۔ ساتھ میں ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس دراصل بہت سارے گھریلو کچرے اور ویسٹ پراڈکٹس کے گٹروں میں تلف کردینے سے بھی پیدا ہوتی ہے۔
اس مطالعہ میں تفصیلی عمل نسبتاً کم توانائی اور نسبتاً سستا مواد استعمال کرتا ہے جیسے ایک کیمیکل آئرن سلفائیڈ iron sulfide جس میں ایک کیمیائی عنصر مولیبڈینم molybdenum کی ٹریس مقدار شامل ہوتی ہے۔ سڑے ہوئے انڈوں کی طرح بو آنے کے علاوہ، ہائیڈروجن سلفائیڈ ایک انتہائی زہریلی گیس بھی ہے جو سیوریج پائپوں کو خراب کرتی ہے اور اس کا سامنا کرنے والے لوگوں کی صحت کو بے پناہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اور کبھی کبھی موت کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔
”ہائیڈروجن سلفائیڈ دراصل صنعت اور ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ گیسوں میں سے ایک ہے،“ ایسا اس مطالعہ کے شریک مصنف اور اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں کیمیکل اور بائیو مالیکولر انجینئرنگ میں ریسرچ ایسوسی ایٹ لینگ کن نے کہا ”اور چونکہ گیس بہت نقصان دہ ہے، بہت سے محققین ہائیڈروجن سلفائیڈ کو کسی ایسی چیز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو اتنا نقصان دہ نہ ہو اور وہ ترجیحی طور پر قیمتی اور فائدہ مند بھی ہو۔“
یہ مطالعہ پچھلے کام پر اسی تحقیقی گروپ کے ذریعہ کیا گیا ہے جس میں اسی کیمیائی پراسس جس کو کیمیکل لوپنگ کہا جاتا ہے، کے ذریعے ہوا اور ایندھن کے درمیان براہ راست رابطے کے بغیر ایندھن کو جلانے کے لیے ہائی پریشر ری ایکٹروں میں دھاتی آکسائیڈ کے ذرات کو شامل کرنا شامل ہے۔ اس ریسرچ ٹیم نے پہلے کوئلے اور شیل گیس پر کیمیائی لوپنگ کا استعمال کیا تاکہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کیے بغیر فاسل ایندھن کو بجلی میں تبدیل کیا جا سکے۔ ابتدائی عمل میں فاسل ایندھن کو توڑنے کے لیے آئرن آکسائیڈ کا استعمال کیا گیا تھا۔
محققین نے بعد میں اس تصور کو ہائیڈروجن سلفائیڈ پر لاگو کیا اور SULGEN عمل ایجاد کیا، جو ہائیڈروجن سلفائیڈ کو ہائیڈروجن میں تبدیل کرتا ہے جو کہ ایک مفید اور بے ضرر ایندھنی گیس کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ لینگ کن نے کہا کہ اس طریقہ کار میں محققین نے پایا کہ ایک خالص کیمیکل، آئرن سلفائیڈ، صنعتی استعمال کے لیے درکار بڑے پیمانے پر کچھ کیمیائی عوامل میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے۔ پھر تحقیقی ٹیم کسی دوسرے سستے کیمیکلز کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو اس تبدیلی کو زیادہ مقدار میں متحرک کر سکتے ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ آئرن سلفائیڈ میں مولیبڈینم کی ٹریس مقدار کو متعارف کرانا ایک پرکشش آپشن ہو سکتا ہے۔
یہ مواد نسبتاً سستا ہوتا ہے اور اسکوحاصل کرنا نسبتاً آسان ہے، جو اسے بڑے پیمانے پر اس گٹر گیس کی صفائی آپریشنز کے لیے ایک پرکشش اختیار بناتا ہے۔ محققین نے کہا کہ اس زہریلی گیس کو ہائیڈروجن ایندھن میں تبدیل کرنے سے متبادل تیل اور گیس پیدا ہوتی ہے، جو ایسے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے جو ماحولیاتی اعتبار کے لحاظ سے ایسے ضرر رساں اثرات نہ ہونے کے برابر رکھتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
”یہ بتانا قبل از وقت ہو گا کہ آیا ہماری تحقیق ہائیڈروجن ایندھن کی پیداوار کی کسی بھی ٹیکنالوجی کی جگہ لے سکتی ہے جو وہاں موجود ہے یا نہیں،“ کلیانی جنگم مطالعہ کی مرکزی مصنف اور اوہائیو اسٹیٹ کی کلین انرجی ریسرچ لیبارٹری میں گریجویٹ طالب علم نے یہ بات بتائی۔ ”لیکن ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس گلنے کے عمل کو ایڈجسٹ کرنا اور اس سے ایک قیمتی پروڈکٹ بنانا ہے، مطلب اس بے کار گیس سے ایک قیمتی چیز بنانا ہے۔“
اس تازہ ترین مطالعہ کے لیے، محققین نے پایا کہ مولیبڈینم ہائیڈروجن سلفائیڈ کے ٹوٹنے کو بہتر بناتا ہے، اسے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ہائیڈروجن ایندھن اور سلفر، اور یہ دونوں ہی حاصل ہونے والی چیزیں ایک کارآمد صنعتی پیداوار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ابھی یہ کام سائنسی عمل میں ابتدائی ہے۔ محققین نے ظاہر کیا کہ یہ عمل لیب میں سو فیصد کام کرتا ہے اور نتیجہ میں ہائیڈروجن گیس سو فیصد خالص حاصل ہوتی ہے، جس کو باآسانی ایک ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس کیمیائی عمل یعنی کیمکل لوپنگ کے صنعتی سطح پر ٹیسٹ آنے والے ہیں۔ جس سے اس ”گٹر گیس“ کو بڑے پیمانے پر مفید چیزوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ صنعتی پیمانے پر بھی کامیاب ہو جائے، تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں سے پیٹرول کی قریبا 40 فیصد کھپت کم ہو سکتی ہے اور ساتھ میں کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی نظر آئے گی۔ کیونکہ دنیا پھر ایک قابل تجدید ایندھن ہائیڈروجن کی طرف چلی جائے گی۔
لینگ کن نے کہا، ”ہمارے لیے ایک بڑا معاملہ یہ ہے کہ ہم ایک نقصان دہ گیس (ہائیڈروجن سلفائیڈ) کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے تھے، اور ہم نے سوچا کہ ہمارا کیمیائی لوپنگ عمل اس کی اجازت دے گا۔ اور یہاں، ہمیں لیبارٹری میں ایسا کرنے کا ایک طریقہ مل گیا ہے جو اس ویلیو ایڈڈ ہائیڈروجن ایندھن کو بھی تخلیق کرتا ہے۔ یعنی بیک وقت ہمیں دو محاذوں پر اکٹھے کامیابی حاصل ہو گئی، جو ہمارے لیے ایک مسرت کی بات ہے“
Reference: ”Mo-Doped FeS Mediated H2 Production from H2S via an In Situ Cyclic Sulfur Looping Scheme“ by Kalyani Jangam, Yu-Yen Chen, Lang Qin and Liang-Shih Fan, 12 August 2021, ACS Sustainable Chemical Engineering.
DOI: 10.1021/acssuschemeng.1c03410


