مصنوعی ذہانت
آج کل دنیا بھر میں سب سے زیادہ مشہور و معروف نئی جدت مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ہے جس نے کمپیوٹر کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ موجودہ عام کمپیوٹر کی رفتار اور حیرتناک تیزی سے ہم تو شاید اب تک پوری طرح باخبر بھی نہ ہوئے تھے لیکن اس سے بھی کہیں تیزرفتار اور ہوشیار پروگرام جسے مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے سامنے آ گیا ہے۔ دراصل انقلاب فرانس کے بعد جس رفتار سے صنعتی ترقی معرض وجود میں آئی تو انسان کی جگہ مشین نے لینا شروع کردی، مشینوں اور انسانوں کے درمیان یہ مسابقت شروع سے چلی آ رہی ہے، پھر جب کمپیوٹر ایجاد ہوا تو بہت سے کام کرنے والے انسانوں کی کمپیوٹر نے سکیڑ دی۔
مگر یہ تیز رفتاری کہیں رکنے والی نہیں۔ اب مصنوعی ذہانت کی بدولت بہت سی کمپنیاں اور ادارے جہاں بہت سے انسانوں کو ملازمتیں دینے پہ مجبور تھے اب اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت انہیں ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس کی وجہ وہ کام منٹوں میں ہوجاتا ہے۔ ملازمین کے انسانی ضروریات و حقوق کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، نہ چائے پانی کی طلب نہ کھانا بنانے اور کھانے کی ضرورت۔ بس بٹن دباؤ اور متعین شدہ احکامات اس سسٹم کو دے دیں پھر دیکھیں کمال اس کا یہ کام فورا سے بھی پہلے ہو جائے گا مگر نقصان کا احتمال یہ ہے کہ ملازمین کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔
ماہرین کے خیال و اندازوں کے مطابق اگلے دس سال میں کم از کم 90 ٪ لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اب لوگ دھڑا دھڑ اس نئی دریافت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں چاہے وہ صحافی ہوں، ادیب ہوں یا ریاضی و سائنس کے طلباء۔ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے بڑی کمپنیاں مثلاً بارڈ اوربنگ جیسی نامور کمپنیاں اس وقت اس جدوجہد میں ہیں کہ وہ کسی طور اس کا بھرپور فائدہ اٹھا لیں۔
ماہرین کو اندازہ ہے کہ اگلے دس برس میں نوے فیصد لوگ اپنی ملازمتیں کھو دیں گے۔ اس وقت کیسا عالم ہو گا کہ انسان محض مجبور محض بن کے کمپیوٹر کو دیکھ رہا ہو گا اور فائدہ اس کا وہی کمپنیاں اٹھائیں گی جو اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔ کیسی بے بسی ہے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے کھلونوں سے ہی انسان شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے۔


