بھارت سے حسد کیوں؟ (مکمل کالم)


دو طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ بھارت کی کامیابیوں کی فہرست گنوائی جائے، اس کی کھلے دل سے تعریف کی جائے، اپنے ملک کا بھارت کے ساتھ تقابل کیا جائے، تجزیہ کیا جائے کہ ہم سے کہاں، کب اور کون سی غلطیاں ہوئیں اور پھر اس تجزیے کی روشنی میں اپنی روش بدلنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کی نسل کشی پر فوکس کیا جائے اور یہ سوچ کر خود کو تسلی دی جائے کہ بھارت کی انتہا پسندانہ پالیسی کی وجہ سے اس کی تمام ترقی بیکار ہے، بھارت کا خلائی جہاز چاند پر تو پہنچ گیا مگر آج بھی انڈیا کی بیس کروڑ آبادی ٹوائلٹ کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہے، اور غربت کا یہ حال ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کچی آبادی ممبئی میں ہے جہاں غربت نسل در نسل چلتی ہے۔ چلیے، دونوں طریقوں کی پڑتال کر کے دیکھتے ہیں۔

جی 20 اجلاس کی میزبانی اس مرتبہ بھارت کے حصے میں آئی، اس اجلاس میں امریکہ، سعودی عرب اور بھارت نے آپس میں جس قسم کے معاشی معاہدے کیے، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے عہد ناموں پر دستخط کیے اور بھارت سے براستہ مشرق وسطیٰ معاشی راہداری بنانے کا عزم کیا، وہ تمام تفصیلات میڈیا میں آ چکی ہیں۔ دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے سربراہان کو نریندر مودی ننگے پیر چلا کر مہاتما گاندھی کی سمادھی تک لے کر گیا، جو بائیڈن سمیت جی 20 کے تمام عالمی لیڈر مودی کے پیچھے چلتے ہوئے وہاں پہنچے اور گاندھی جی کو خراج تحسین پیش کیا۔ جی 20 اجلاس سے چند ہفتے پہلے بھارت کا خلائی مشن چندریان 3 چاند پر پہنچا تھا، اس کی داد بھارت نے الگ سے سمیٹی۔ کرکٹ میں ایشیا کپ کی میزبانی اس مرتبہ پاکستان کے حصے میں آئی تھی مگر بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں کوئی بھی میچ کھیلنے سے انکار کر دیا، نتیجتاً پاک بھارت مقابلوں کو سری لنکا منتقل کرنا پڑا جہاں بارشوں کا موسم ہے جس کی وجہ سے نہایت اہم میچز متاثر ہوئے، یہی نہیں بلکہ باقی ٹیموں کے مقابلوں کو بھی سری لنکا منتقل کرنا پڑا کیونکہ پاکستان میں مقابلے کروانے ممکن نہ رہے، بھارت کی اس بدمعاشی کے نتیجے میں پاکستان میں فقط چار میچ کھیلے گئے اور آئی سی سی منہ میں گھنگنیاں ڈال کے بیٹھا رہا کیونکہ بھارت اس کا کماؤ پوت ہے۔ ایسا ہی کچھ احوال OTT پلیٹ فارمز کا ہے۔ نیٹ فلیکس اور ایمزون پر بھارتی فلموں اور سیریز کی بھرمار ہے جبکہ پاکستان وہاں سے بھی غائب ہے کیونکہ ان OTTsپر بھی بھارتی قابض ہیں، وہ پاکستان کے ڈراموں اور فلموں کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھتے، ویسے بھی پاکستان اس سطح کی فلمیں ہی نہیں بنا سکتا جو نیٹ فلیکس اور ایمزون کو درکار ہیں۔ آپ میں سے جو لوگ OTT ٹی وی سیریز دیکھتے ہیں انہیں اندازہ ہو گا کہ مرزا پور، میڈ ان ہیون، یہ کالی کالی آنکھیں، پنچایت، سکیم 1992 دی ہرشد مہتا سٹوری، دہلی کرائم، ڈی کپلڈ، تانڈوو، اور اس جیسی درجنوں ٹی وی سیریز بھارت میں بن رہی ہیں جن کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں کوئی سپر سٹار نہیں بلکہ دوسرے درجے کے اداکار ہیں (سوائے اکا دکا ٹی وی سیریز جیسے کہ تانڈوو یا سیکرڈ گیمز جس میں سیف علی خان ہے) مگر ان کی اداکاری صف اول کے اداکاروں سے کسی بھی طرح کم نہیں اور نہ ہی ان فلموں کی ہدایتکاری میں کوئی سقم ہے۔ ان فلموں کی پہلی قسط میں کہانی جتنی آگے بڑھتی ہے، ہمارے ہدایتکار اس میں سے تیرہ اقساط کا پورا سیریل نکال سکتے ہیں۔ اس وقت مقصد پاکستان اور بھارت کی فلموں کا تقابل کرنا نہیں بلکہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ وہ بھارت جو نوے کی دہائی تک لگ بھگ ہم جیسا تھا، فقط بیس پچیس برس میں چاند تک کیسے پہنچ گیا جبکہ ہماری ائر لائن لاہور سے نیویارک تک براہ راست نہیں جا سکتی!

بھارت کی ان کامیابیوں پر ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ کیا رد عمل دیں، سو ہم نے انٹر نیٹ کھنگالا اور ہمیں معلوم ہوا کہ بھارتی معاشی ترقی تو محض ڈھکوسلہ ہے کیونکہ آج بھی پانچ فیصد امیر ترین افراد بھارت کی ساٹھ فیصد دولت پر قابض ہیں۔ اس قسم کی تنقید کسی بھی ملک پر کی جا سکتی ہے اور بھارت اس سے مستثنیٰ نہیں بلکہ بھارت تو ان ممالک میں شامل ہے جس کا انسانی حقوق کی پامالی اور خاص طور سے کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا بد ترین ریکارڈ ہے۔ وہ تو شکر ہوا ارون دھتی رائے کا جس نے حسب معمول بھارتی جمہوریت کا پردہ چاک کرتے ہوئے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا اور بتایا کہ کس طرح بھارت سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر اطمینان سے مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کرنے کے درپے ہے جو نازی جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ گویا ہم سے ڈھنگ کی تنقید بھی نہیں کی گئی، اس کام کے لیے بھی ہمیں ایک بھارتی دانشور کا سہارا لینا پڑا اور ایک دوسرے کو ارون دھتی رائے کا ویڈیو کلپ بھیج کر بتانا پڑا کہ بھارت کی کامیابی پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے اور بھارت میں اب بھی بہت غربت ہے۔ چلیے ہم پریشان نہیں ہوتے، لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت کی ترقی کا وہ کون سا مرحلہ ہو گا جب ہم پریشان ہو کر اپنی ترقی کے بارے میں سوچیں گے؟ جب بھارت مریخ پر پہنچ جائے گا یا جب اس کے زر مبادلہ کے ذخائر ہزار ارب ڈالر کی سطح کو چھو لیں گے، جب وہ مزید دس فیصد آبادی کو غربت سے نیچے سے نکال لے گا یا جب بھارتی تارکین وطن امریکہ کی باقی ماندہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سربراہی بھی سنبھال لیں گے، جب بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن بن جائے گا یا جب اس کی معیشت چین کے برابر آ جائے گی؟ ان تمام سوالوں سے پہلے ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے کہ کیا ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے کی ترقی سے پریشان ہونا چاہیے؟ ہم ایک عجیب و غریب خطے میں رہتے ہیں جہاں ہمسایہ ممالک نے آپس میں سرحدیں بند کر رکھی ہیں اور بات چیت تقریباً بند ہے۔ ایسا تو افریقی ممالک نے بھی نہیں کیا، انہوں نے بھی اپنا ایک بلاک بنا کر رکن ممالک کی سرحدوں کو کھولا ہوا ہے اور ویزے کی بندشوں سے شہریوں کو تقریباً آزاد کیا ہوا ہے حالانکہ وہاں کئی ممالک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، ایک ملک تھا، تاریخ نے انہیں علیحدہ کر دیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب باقی ماندہ تاریخ ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت کر گزاری جائے۔ بمبئی شہر محمد علی جناح کی محبوبہ تھی جبکہ لاہور میں جواہر لعل نہرو کا دل دھڑکتا تھا، جب ان ممالک کے بانیان نے آپس میں کنفیڈریشن کا ماحول بنا رکھا تھا تو یہ ماحول آج کیوں نہیں بن سکتا!

بھارت سے حسد کرنے کی ضرورت نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم فقط یہ سوچیں کہ چھہتر برس پہلے ایک ملک کے دو ٹکڑے ہوئے، ایک ٹکڑا آج چاند پر ہے جبکہ دوسرا ٹکڑا زمین پر، اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ کوئی ایسا مشکل سوال نہیں جس کا جواب تلاش کرنے کے لیے سقراط کو زندہ کرنا پڑے، آج اگر اس سوال پر ریفرنڈم کروا کے قوم سے پوچھ لیا جائے تو شاید اسی فیصد لوگوں کا جواب ایک جیسا ہو گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ مرض کیا ہے، ہمیں یہ بھی علم ہے کہ اس کی دوا کیا ہے، لیکن افسوس کہ دوا لینے کی بجائے ہم ٹوٹکوں اور کھوکھلے نعروں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔

It is silliness to live when to live is torment; and then have we a prescription to die when death is our physician۔ (Othelo) ۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada