سوال کی کیمسٹری


ذہن، جس کا مسکن ’سر‘ ہے، دو پاؤں کے بل عمودی خط پر کھڑے آدمی کا سب سے بلند مقام ہے۔ اس پر طرہ امتیاز اس کی صفت و صلاحیت سوال و استفسار ہے۔ یہ اپنے محل وقوع کے شایان شان اہمیت و افادیت کا حامل اور انسان کے لیے باعث صد افتخار، تحسین و آفرین ہے۔ آدمی کی ساری صلاحیتوں، لیاقتوں اور کامیابیوں کا سبب، تشبیہ و استعارہ اس کا ذہن ہے۔

انسانی ذہن کی اختراع، تخلیق، ایجاد و دریافت کا محرک اول، سوال ہے۔ یہ وہ امتیازی صفت و صلاحیت ہے جو آدمی کو دیگر جانداروں پر فوقیت دیتی ہے۔ جاننے کی جستجو اور تحریک میں کار فرما عوامل میں سوال کا مرکزی کردار ہے۔ سوال ہی یہ طے کرتا ہے کہ جواب کتنا درست، تسلی بخش، منطقی و معقول ہے۔ گویا، جواب کی ساری سائنس سوال کے فلسفے کی مرہون منت ہے۔

انسان کے شعوری ارتقا کے سفر کا آغاز سوال ہی سے ہوا ہے۔ کائنات کے سربستہ رازوں کی اب تک کی پردہ کشائی سوال کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے۔ آئن سٹائن کے خیال میں ”انتہائی اہم چیز یہ ہے کہ سوال کرنا بند نہ کریں“ ۔ تعلیمی ماہرین، پال اور ایڈلر کے مطابق ”ادراک جوابات سے نہیں بلکہ سوالات سے بڑھتا ہے“ ۔ یہ سوال ہی تھا جس نے نیوٹن کو تحریک دی جو قانون کشش کی دریافت کا سبب بنی۔ سقراط کا تو طریق تعلیم ہی سوالات پر مبنی تھا جس نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا، ”میں اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا“ ۔ علم کا سفر لا علمی کے ادراک سے شروع ہوتا ہے۔ سوالات کی کثرت طالب علموں کے فہم و ادراک، تخیل، بصیرت افروزی اور علم دوستی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

سوال کی کیمسٹری کو سمجھنا جواب کے مستند ہونے کے لیے ضروری ہے۔ ’کون، کیا، کب، کہاں، کیوں اور کیسے‘ ۔ یہ چھ زاویے سوال کی نوعیت، مقصدیت، وسعت اور ذہن کی تجزیاتی، تنقیدی و تخلیقی صلاحیتوں کے ترجمان ہوتے ہیں۔ سوال کے یہی مختلف پہلو اور جہتیں آدمی کے شعور کی افزائش اور ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ”کیا۔ کب۔ کہاں“ سے ہم علم حاصل کرتے، ”کیسے“ سے اس کا اطلاق کرتے، ”کون سے“ سے تجزیہ کرتے اور ”کیوں کر“ سے نتیجے تک پہنچنے کی جسارت کرتے ہیں۔ سوال در سوال طالب علموں کے تخیل کو جلا بخشتا ہے اور ان میں ناقدانہ سوچ کو پروان چڑھاتا ہے۔

ہمیں جواب سے زیادہ سوال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نامعلوم سے معلوم کا سفر سوال سے شروع اور سوال پر ہی ختم ہوتا ہے۔ سوال اپنے اندر ہی اپنا جواب رکھتا ہے اور جواب کے بطن سے ہی سوال نمودار ہوتا ہے۔ اگر کوئی سوال اس معیار پر پورا نہیں اترتا تو وہ سوال نہیں، زیادہ سے زیادہ دست سوال ہو سکتا ہے۔ ہم جب تک یہ بات سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر رہیں گے کہ سوال کا جواب سوال کی صورت ہی موجود ہو سکتا ہے تب تک سیکھنے اور سکھانے کا عمل نامکمل اور تشنہ رہے گا۔

ایسا سوال جو دماغ کو متفکر، متجسس، متحرک اور مستغرق کرنے کی اہلیت سے عاری ہو وہ علمی اعتبار سے سوال نہیں کہلایا جاسکتا۔ نقد و خلق دماغ کی ایسی صفات ہیں جن کی بیداری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سوال کا الارم نہیں بج جاتا۔

سائنسی و سماجی علوم کے میدان میں سوال کا تعلق موجودات کی دنیا سے ہے۔ انفس و آفاق سے ہی سوال در سوال کے سوتے پھوٹتے اور بحر علم کی نذر ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ سوال سے متعلق یہ تحریر انہی علوم تک محدود ہے۔

مذہبی و روحانی علوم کا معاملہ مختلف ہے جہاں سوال و جواب کی نوعیت و معیار منفرد اور استثنائی ہے۔ ان علوم میں سوالات تو انسانی ہو سکتے ہیں مگر جوابات الہامی ہیں جن پر ایمان لانا دنیاوی و اخروی نجات کے لیے ضروری ہے۔ وہاں علم، علم الیقین و ایمان کی منزلیں طے کرتا ہوا مطلق، جامد اور اٹل حقیقت کی طرح ناقابل تردید اور ناقابل بحث ٹھہرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے میدان میں آدمی کے سارے سوالوں کے جوابات کا خدائی اہتمام؛ بصورت وحی و الہام، بذریعہ پیغمبر خدا اور مقدس آسمانی صحائف سے کیا گیا ہے۔

مفصل کو مجمل کرنے کے لیے ذیل میں سوال کی چیدہ چیدہ خصوصیات کو فہرست کی صورت دی گئی ہے جو حتمی ہر گز نہیں، اضافہ و حذف کے امکان اور گنجائش کے ساتھ ملاحظہ ہو:

1۔ سوال خارج کی پکار یا داخل کی پیداوار ہے
2۔ سوال محرک غور و فکر ہے
3۔ سوال معلوم سے نا معلوم کے سفر کا نکتہ آغاز ہے
4۔ سوال دماغ کی تخلیقی و تنقیدی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے
5۔ سوال تجسس کا خالق بھی ہے اور تخلیق بھی۔
6۔ سوال لاعلمی کا اعتراف و اظہار ہے
7۔ سوال، جانے یا مانے ہوئے علم کی صحت جانچنے کا معیار ہے۔
8۔ سوال نئی صورت حال و معلومات کی چھان بین کا ذریعہ ہے۔
9۔ سوال معلومات کی جانچ پڑتال کا سبب بنتے ہوئے انہیں علم کا درجہ دیتا ہے۔
10۔ سوال، جواب کا ممتحن ہے
11۔ سوال خیال سے ہے جو مظاہر میں وجود اور نمو پاتا ہے
12۔ سوال حسیات کے ساتھ ادراک کے لیے دعوت فکر ہے۔
13۔ سوال خود اپنے مسؤل یعنی ذہن کی تخلیق ہے
14۔ سوال علم کا خالق و محافظ ہے جو اسے جمود سے بچاتے ہوئے ہمہ وقت نافع و ترقی پذیر رکھتا ہے۔

سوال کی مختلف صورتیں اور اقسام، الگ سے ایک جامع تحریر کا تقاضا کرتی ہیں۔ اختصار کے پیش نظر سر دست ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے سوالات کو جانچتے اور پرکھتے رہنا چاہیے کیوں کہ سوال جب تک سوال کے تقاضوں اور معیار کے مطابق نہیں ہو گا، جواب علم کی دریافت و تخلیق کا سبب نہیں بن سکتا۔

سوال علم کی منزل کے مسافروں کے لیے زاد راہ ہے۔ اس کی تشکیل سائنسی اصولوں کے مطابق اور منفعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ سوال کی تصحیح پر ہی جواب کی صحت کا انحصار ہے۔

Facebook Comments HS