جیفرے آرچر کی کہانی اور قومی معیشت کے دشمن
پاکستانی سیاست کی مختصر ترین تاریخ میں متعدد مواقع ایسے آئے جب قومی دولت لوٹنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا مطالبہ ہوا۔ اس 76 سال کے زیادہ تر عرصے میں جمہوری قوتیں عضو معطل بنا کر قومی سیاست کے حاشیے پر پھینکی جاتی رہیں اور ہر بار یہی سننے میں آتا رہا کہ قومی معیشت تباہی کے دہانے پہنچا دی گئی ہے اس لیے احتساب ضروری ہے۔ قومی معیشت کے دشمنوں پر ہاتھ ڈالنے کے دعوے ہوتے رہے، قانون سازی بھی کی گئی، نیب جیسے ادارے بنے۔ بڑے بڑے مگر مچھ پکڑے گئے مقدمات چلے ’پھر حکومتیں بدل گئیں قوانین میں گنجائشیں نکل آئیں۔ قومی مجرم ہیرو ہو گئے۔ نئے مجرم کٹہروں میں لائے گئے‘ ثبوت نہ ملنے کا بہانہ ہوا اور نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات نکلا۔ ایک بار پھر بھوک اور افلاس کی چکی میں پستی عوام کو فوری ریلیف دینے کی بجائے مجرموں پر کڑا ہاتھ ڈالنے کا غوغا اٹھایا جا رہا ہے۔ بجلی کوئی اور چوری کرتا ہے اور یہ گرتی کسی اور پر ہے۔ لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے بھی گاہے گاہے ترقیاتی بجٹ اور غیر ملکی قرضوں میں خورد برد کی تفصیلات طلب کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ امداد کو مالیاتی ڈسپلن، کسی بھی قسم کی سبسڈی کے خاتمے اور ٹیکس کی وصولیوں کو بہتر بنانے سے مشروط کرتے رہے ہیں۔ اب بھی جب کبھی مجھے کہیں سے ’احتساب، احتساب‘ کا نعرہ سنائی دیتا ہے یا پھر ایک خاص جماعت شکایت کرتی ہے کہ احتساب تو صرف اسی کا ہو رہا ہے، سب کا نہیں ہو رہا، اور مطالبہ کرتی ہے کہ اسے بلا امتیاز ہونا چاہیے تو مجھے جیفرے آرچر کا ایک افسانہ یاد آ جاتا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں اس یاد آ جانے والے افسانے کی بات کروں، بتاتا چلوں کہ لندن میں 1940 میں پیدا ہونے والا جیفرے آرچر فکشن نگار ہونے سے پہلے سیاست دان تھا۔ اس نے اوکسفورڈ کے ویلنگٹن سکول اور بریزنوز کالج میں تعلیم پائی اور پھر سیاست کے خارزار میں جا نکلا۔ 1969 ء میں ضمنی انتخاب جیت کر برطانوی دارالعلوم کا سب سے کم عمر ممبر پارلیمنٹ بن گیا۔ وہ 1976 ء تک ممبر پارلیمنٹ رہا تاہم اسے ایک مالیاتی اسکینڈل کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا۔
اس اسکینڈل نے اسے لگ بھگ دیوالیہ کر دیا تھا۔ تاہم بعد میں اس پر قسمت مہربان ہوئی، اس کی کتابیں دھڑا دھڑ بکنے لگیں، اور رائیلٹی کی رقوم نے نہ صرف اس کے دن پھیر دیے، خوب خوب نام بھی کمایا اور 1985 میں کنزرویٹو پارٹی کا ڈپٹی چیرمین بن گیا۔ سال بھر بعد ہی ایک اور اسکینڈل ہوا، اسے جیل کی ہوا کھانا پڑی اور اس کی سیاسی زندگی بھی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ یہیں بتاتا چلوں کہ جیفرے آرچر بہت زیادہ بکنے والے مصنفین میں شمار ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی کتب 250 ملین کی تعداد میں اپنے قارئین بنا چکی ہیں۔ میں یہاں جیفرے آرچر کی جس کہانی کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ اس کے مجموعے ”اے ٹوئیسٹ ان دی ٹیل“ میں ہے۔
”اکاؤنٹ“ کہانی کا نام ہے۔ آپ کھاتہ کہہ لیں، کھاتہ نہیں، بلکہ نیا کھاتہ، درست رہے گا۔ اس کہانی میں جو منظرنامہ دکھایا گیا ہے اگرچہ وہ نائیجیریا کا ہے تاہم نام اور مقامات بدل دیے جائیں تو عین مین اپنے ملک کا لگنے لگتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب مسٹر اگناٹیئس اگربی کو نائجیریا کا وزیر خزانہ بنایا جاتا ہے تو یہ وہ عرصہ ہوتا ہے جب ہر طرف مایوسی کا عالم تھا۔ سترہ سال کے عرصے میں سترہ وزیر خزانہ بدل چکے تھے۔ جو بھی آتا تھا، قومی خزانہ لوٹنے والوں کے ہاتھ ٹریپ ہو جاتا تھا۔
اگرچہ نئے وزیر خزانہ نے آتے ہی رشوت خوری ’بدعنوانی اور مالی بد انتظامیاں ختم کرنے کے لیے فوری موثر اور سخت اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا تھا مگر لوگ مایوس تھے کہ یہی کچھ ایک مدت سے کہا جا رہا تھا۔ تاہم نیا وزیر خزانہ بد دل ہونے کی بجائے پورے جوش سے مصروف کار ہو گیا۔ کئی بدعنوان لوگوں کو جیل بھجوا دیا اس میں وزارت خوراک کا اہلکار‘ پولیس افسر اور دوسرے سرکاری ملازم بھی شامل تھے۔ قومی دولت کا کچھ حصہ وہ یوں واپس لانے میں کامیاب بھی ہو گیا اور لوگ اس کے کارناموں کا اعتراف کرنے لگے۔
سربراہ مملکت بھی اس کی کارکردگی سے بہت خوش ہوا۔ ایک ملاقات میں وزیر خزانہ مسٹر اگناٹئیس نے خیال ظاہر کیا کہ غیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے وصول کی جانے والی رشوت سوئس بینک کے نجی حسابات میں جمع ہو رہی ہے تاہم اس نے اعتراف کیا کہ فی الحال اس ضمن میں اس کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔ سربراہ مملکت نے وزیر خزانہ کو اضافی اختیارات دے دیے تاکہ وہ ان ملک دشمنوں کی نشاندہی کر سکے۔
کہانی میں بتایا گیا ہے کہ اس نے زور و شور سے مگر انتہائی رازداری کے ساتھ نئی مہم کا آغاز کر دیا۔ سوئس دارالحکومت کے ایک غیر معروف ہوٹل میں قیام کے دوران اس نے بینکوں کی فہرست کا جائزہ لیا جو اس کے ملک کے خفیہ اداروں نے اس مقصد کے لیے بنائی تھی۔ وہیں سے اس نے ایک بینک کے صدر سے اسی روز ملاقات کا وقت طے کیا اور اپنے بوسیدہ بریف کیس سمیت وہاں پہنچ گیا۔ اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بینک کے صدر کو اس نے اپنی حکومت کی طرف سے دیے جانے والے خصوصی اختیارات کا حکم نامہ دکھایا اور کہا کہ اسے اس کے ملک کے سربراہ نے نائجیریا کے باشندوں کے خفیہ حسابات کا کھوج لگانے کے لیے بھیجا ہے اور اس ضمن میں اسے ان کی مدد چاہیے تھی۔ بینک کے صدر نے نائجیریا کے وزیر خزانہ اور خصوصی سفیر کو جواب دیا:
”مجھے یہ راز ظاہر کرنے کی آزادی نہیں ہے“
یہاں پہنچ کر کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے دلیلیں دی جاتی ہیں، بینک کا نام راز میں رکھنے کا وعدہ ہوتا ہے، لالچ دیا جاتا ہے کہ نائجیریا اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان تمام لین دین اسی بینک کے ذریعے کیا جائے گا، حتیٰ کہ دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ آئندہ اس کی حکومت اس بینک سے سارا لین دین بند کر سکتی ہے۔ مگر بینک کے صدر کا ہر بار ایک ہی جواب ہوتا:
”بینک کے راز ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔“
مسٹر اگناٹئیس ہمت نہیں ہارتا، قائل کرنے کے لیے دلیلوں کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ گفتگو میں کئی اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ سوئس سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دلوا دیا جائے گا مگر ہر بار اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حتی کہ مسٹر اگناٹئیس الجھتا ہے اور اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے چھوٹا سا پستول نکال کر بینک کے صدر مسٹر برگر پر تان لیتا ہے۔ ایسا اتنا اچانک ہوتا ہے کہ بنک کا صدر ایک بار تو خوف زدہ دکھائی دینے لگتا ہے۔
وزیر موصوف دھمکی دیتا ہے کہ اسے ہر صورت میں اس کے ملک کے خفیہ اکاؤنٹس رکھنے والوں کی فہرست چاہیے ورنہ اس کی کھوپڑی اڑا دی جائے گی۔ اسی اثنا میں صدر کا نائب قریب آیا تو وہ اسے بھی نشانے کی زد پر رکھ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگلا شکار تم ہو گے لہذا فوراً فہرست فراہم کرو، مگر وہ بھی معذرت کر لیتا ہے۔ عجب منظر ہے وہ دونوں خوف سے کانپ رہے ہوتے ہیں، مگر اس کی بات بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔
اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے دراصل وہی کہانی میں ایک المیہ ہو جاتا ہے ۔ کہانی کا وزیر خزانہ مسٹر اگناٹئیس پستول پیچھے ہٹا کر واپس جیب میں ڈال لیتا ہے۔ بہت شائستگی سے بینک افسروں کو تشریف رکھنے کی درخواست کرتا ہے اور اپنا پرانا بریف کیس کھول کر ان کے سامنے کر دیتا ہے۔ بریف کیس میں پچاس لاکھ ڈالر سلیقے سے رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں بینک افسران حیرت سے اسے دیکھتے ہیں، تو وہ کہتا ہے۔
”کیا میں اپنا کھاتہ آپ کے بینک میں کھول سکتا ہوں؟“
کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے۔
مگر صاحب! کہانی یہاں ختم کب ہوتی ہے، ایک سوال ہمارے سامنے چھوڑ جاتی ہے کہ آخر کب تک اس طرح کے کھاتے کھلتے رہیں گے، اور جب تک اس طرح کے کھاتے کھلتے رہیں گے، اس طرح کی کہانیاں کیسے ختم ہو سکتی ہیں۔





