ستارہ رقص میں ہے
مونا شہاب کی شاعری کا تیسرا مجموعہ دیکھا؛ کتاب کا نام ”ستارہ رقص میں ہے“ پڑھتے ہی عشرت آفریں کی ایک نظم ”فرصت“ کی طرف دھیان چلا گیا۔ اس نظم میں وہ کہتی ہیں : ”میں خود پر منکشف ہونے کی ساعت میں کسی گل رنگ فرصت میں تمہیں جب یاد کرتی ہوں مرے چاروں طرف جیسے ستارے رقص کرتے ہیں زمانوں سے زمانوں تک جہانوں سے جہانوں تک محبت کے ہزاروں استعارے رقص کرتے ہیں پرندے تتلیاں اور پھول
Read more




