ستارہ رقص میں ہے

مونا شہاب کی شاعری کا تیسرا مجموعہ دیکھا؛ کتاب کا نام ”ستارہ رقص میں ہے“ پڑھتے ہی عشرت آفریں کی ایک نظم ”فرصت“ کی طرف دھیان چلا گیا۔ اس نظم میں وہ کہتی ہیں : ”میں خود پر منکشف ہونے کی ساعت میں کسی گل رنگ فرصت میں تمہیں جب یاد کرتی ہوں مرے چاروں طرف جیسے ستارے رقص کرتے ہیں زمانوں سے زمانوں تک جہانوں سے جہانوں تک محبت کے ہزاروں استعارے رقص کرتے ہیں پرندے تتلیاں اور پھول

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

ایک زمانہ گزر گیا مگر میری دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس ملائم ڈھلکتے کپڑے کا لمس ابھی تک زائل نہیں ہوا جس کا تانا ایک رنگ کے ریشم کا تھا اور بانا دوسرے رنگ کے دھاگے کا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو تانے بانے میں ایک تند کتھئی سی تھی اور دوسری بادامی۔ بچپن میں رنگوں کی اتنی پہچان تو نہ تھی، یہ تو اب پیچھے کہیں دور جیسے مجھے نظر آتے ہیں ویسے رنگوں کے

Read more

جلیل عالی : برگ و ثمر سے آگے

  میں نے اپنے مشاہدے، تجربے اور جا چکے وقتوں کی کہانیاں بزرگوں سے سُن سُن کر یہ گماں باندھ رکھا ہے کہ گزرے زمانوں میں خال خال ہی لوگ سات دہائیوں سے اوپر جاتے ہوں گے۔ ہمیں تو جو لمبی عمر پا لیتا ملتا رہا انجام بہ خیر کی دعائیں مانگتا نظر آیا۔ کمر جھک ہوئی جیسے بڑھتی عمر کی بھاری بوری کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہو۔ کردہ ناکردہ گناہوں کا احساس وہ دوسرا بھاری پتھر ہوتا جو ایسوں

Read more

تجھے میں کیسے بھلا دوں

”ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں“ میں نے یہ جملہ کچھ برس پہلے پڑھا تھا۔ جملہ ایسا تھا کہ اس کی گونج ایک تسلسل سے سنائی دینے لگی تھی۔ یوسفی صاحب کی وفات کے بعد پرسے کے لگ بھگ ہر مضمون میں یہ جملہ مقتبس ہوتا رہا۔ ایسے میں ظہیر فتح پوری کی طرف دھیان کا جانا فطری تھا کہ یہ انہی سے منسوب تھا؛ سو، میرا دھیان بھی ادھر ہوا۔ جستجو ہوئی کہ وہ مضمون تلاش

Read more

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہر اے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں یہ مقطع خواجہ میر درد کی اسی غزل کا ہے جس کے تیسرے شعر کا پہلا مصرع ڈاکٹر قاسم بگھیو نے اپنی کتاب کا عنوان بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو۔ ڈاکٹر بگھیو کا مزاج ایسا ہے کہ وہ شہر بھر کے زاہدوں کو دست ِ سبو پر بیعت کا درس دیتے مل سکتے ہیں ؛ مگر اس

Read more

پروفیسر خورشید احمد :علمی روایت کا قصہ تمام شد

اُدھر ڈاکٹر تقی عابدی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کینڈین سول انعام ”کنگ چارلس سوم ایوارڈ“ دینے کی خبر اِدھر پاکستان پہنچی الحمد اسلامی یونیورسٹی، شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر شیر علی خاں نے، ان کے پاکستان آنے پر ایک تقریب کی منصوبہ بندی کرلی۔ ڈاکٹر تقی عابدی آ گئے تو یہ تقریب بہت اہتمام سے ہوئی۔ میں اس تقریب کا احوال سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہاں کہے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک کے

Read more

صدارتی خطبہ حلقہ ارباب ذوق

  خواتین و حضرات! حلقہ ارباب ذوق، اسلام آباد کے اس پروقار سالانہ اجلاس کے لیے صدارتی کلمات کے طور پر اپنی گزارشات پیش کرنا میرے لیے باعث شرف ہے۔ جو باتیں میں یہاں کرنے جا رہا ہوں لازم نہیں ہے کہ آپ اُن سے اتفاق کریں کہ وہ میرا نقطہ نظر ہیں ہم جہاں ہوتے ہیں وہیں سے سامنے کا منظر نامہ دیکھ سکتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق کی یہ مستحکم روایت اور اصول رہا ہے کہ اختلاف کا

Read more

ماریو برگس یوسا کی یاد میں

(ماریو برگس یوسا  کا انتقال 13  اپریل  2025 کو ہوا) عالمی شہرت یافتہ نوبل انعام یافتہ فکشن نگار ماریو برگس یوسا کی موت کی خبر سب سے پہلے اس کے بیٹے الوارو برگس یوسا کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر چڑھائی گئی اور پھر یہ جنگل میں آگ کی طرح ہر طرف دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ 89 برس کی عمر میں رخصت ہوئے تھے اور اپنے پیچھے ایسا ادبی سرمایہ چھوڑا کہ ہر کہیں یاد کیے

Read more

ایک خط جو بستر مرگ پر پڑھا گیا

لسانی مباحث سے خاص رغبت رکھنے والے ممتاز محقق پروفیسر غازی علم الدین سے میری بس ایک ہی ملاقات رہی ہے اور وہ بھی میرپور آزاد کشمیر کی ایک تقریب میں۔ ہم اسٹیج پر پاس پاس بیٹھے رہے دوچار باتیں تب ہوئیں اور کچھ باتیں تقریب کے بعد ۔ انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ مجھے ان کی کتب پر ردعمل دینا چاہیے تھا۔ کچھ ایسا ہی مطالبہ وہ اپنے خطوط میں بھی کر چکے تھے۔ اس بار ان کی

Read more

حمیرا رحمن کی غزل پر ایک نوٹ

حمیرا رحمٰن کا پہلا شعری مجموعہ ”اندمال“ ٹھیک چالیس برس پہلے آیا تھا۔ اس مجموعے کی ایک غزل کا شعر ہے : سوچ کا کیسا کھیل تھا وہ بھی جو میں اپنے آپ سے کھیلی ”اندمال“ کے تیرہ برس بعد اُن کا مجموعہ ”انتساب“ آیا جبکہ زیر نظر تیسرے مجموعے ”بہت سے کام کرنے ہیں“ اور دوسرے مجموعے کے درمیان ستائیس برس پڑتے ہیں۔ میرا دھیان ان کے پہلے مجموعے کے مذکورہ شعر کی جانب یوں گیا ہے کہ شعر

Read more

التوا میں پڑے خواب

جب سفاک نوآبادکار یورپی سوداگروں نے افریقیوں کو غلام بنانے کا پہلا پراگا تیار کیا تھا اور اُنہیں زنجیروں سے باندھ جکڑ کر 1619 ء میں حیوانوں کی طرح امریکہ لایا گیا تھا تو یہیں سے وہ زمانہ بھی آغاز پاتا ہے جب امریکہ کے اصل باسیوں / ریڈ انڈینز کو ٹھکانے لگایا جا رہا تھا۔ تب ڈھٹائی سے ایسے قوانین بنوا لیے گئے تھے کہ غلاموں کی خرید و فروخت جائز ہو گئی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ

Read more

محبت اور دوسرے کباڑ

یہی کوئی پانچ برس ہو چلے ہوں گے کہ مجھے ایک عجیب سا ناول ملا تھا ؛ جی، ایسا کہ میں اسے کھولے بغیر کچھ وقت کے لیے دیکھتا رہ گیا تھا۔ جہاں میں اٹکا ہوا تھا وہ ایک نہیں دو مقامات تھے اور دونوں سرورق پر تھے۔ کتاب پر مصنف کا نام رشاد بخاری تھا۔ یہ نام ہمارے ہاں معروف نہیں ؛ خدشہ ہوا، ہو نہ ہو ’ارشاد‘ نام ہو گا ’الف‘ چھپائی میں اُڑ گیا ہو گا۔ اس

Read more

من آنم کہ من دانم

سب سے پہلے مجھے زبان و ادب کی خدمت پر قومی سطح پر مامور ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ ان کے معاونین کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے زبان و ادب کے ایک طالب علم کے ساتھ مکالمہ کی اس نشست کا اہتمام کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس عزت افزائی کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی ترجیحات مرتب کرتے ہوئے اُردو زبان اور ادب کو سب سے اوپر

Read more

اقبال اور دانش عصر حاضر

اقبال نے ”خضر راہ“ میں نمرود کی دہکائی ہوئی جس آتش کا ذکر کیا تھا: آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے بال جبریل کی ایک غزل کے دوسرے شعر میں اسی آتش کو انہوں نے عذاب دانش حاضر سے جوڑ لیا ہے اور بہت دردمندی سے کہتے ہوئے ملتے ہیں : عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل ایسا

Read more

یہ کار محبت ہے، یہ ہوتا ہی رہے گا

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ کوئی شخص آپ کو بعد میں کہیں جاکر ملا ہو مگر پہلے سے اس کی محبت آپ کے دل میں ڈال دی گئی ہو، اور یوں لگے جیسے ہم تو ازل سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ کسی اور کے ساتھ ایسا ہوا ہو، نہ ہوا ہو، میرے ساتھ ہو چکا۔ میں لائلپور کی زرعی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور گاہے گاہے لاہور گھوم آتا تھا۔ وہیں لاہور کی کسی

Read more

نجیبہ عارف کے لیے

”راگنی کی کھوج میں“ تخلیقی نثر میں لکھی گئی ایسی کتاب ہے کہ میں نے اسے بار بار پڑھا ہے اور ہر بار ایک نیا لطف اٹھایا ہے۔ میں اسے نجیبہ عارف کی بہترین کتب میں سب سے اوپر رکھتا ہوں۔ ایک کتاب؛ جسے میں فکشن کی کتاب کے طور پر پڑھتا رہا ہوں حالاں کہ یہ فکشن کی کتاب نہیں ہے، یقیناً نہیں ہے اور نجیبہ نے بھی اسے فکشن کہہ کر پیش نہیں کیا مگر اس میں، جس

Read more

گنجینہ معنی کا طلسم

اردو غزل کو نئی نئی بصیرتیں عطا کرنے والے میرزا یاس یگانہ چنگیزی کی غزلیات اور رباعیات کے ایک مجموعے کا نام ”گنجینہ“ ہے، اس کتاب کے لگ بھگ وسط میں وہ معروف غزل دیکھنے کو مل جاتی ہے جس کا مطلع ہے : کس کی آواز کان میں آئی دور کی بات دھیان میں آئی ڈاکٹر محمد اقبال آفاقی پر بات کرنے بیٹھا تو اس غزل کے مقطعے کی طرف دھیان چلا گیا ؛ لیجیے پہلے وہی عرض کیے

Read more

ڈاکٹر ابرار احمد اور سیربین

( ”اوڈیسی: نظم کی دنیا“ میں جب ابرار احمد کو ”معاصر نظم کا جمال“ کہا گیا تو مجھے اس کا تین سال پہلے محض 67 برس کی عمر میں بچھڑنا یاد آ گیا۔ 1954 ء میں جڑانوالہ پیدا ہونے والے ابرار احمد نے ایک شاعر کی حیثیت سے تب ہی شہرت پالی تھی جب وہ ملتان کے نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی بی ایس کر رہے تھے۔ لاہور میں مقیم ہوئے تو ان کی شاعرانہ شناخت مستحکم ہوتی

Read more

 علی اکبر عباس :حروف ِتازہ عبارت ہوئے کناروں پر

یقین جانیے، وہ دن ایسے تھے کہ نئی کتاب کی آمد توجہ کھینچ لینے والی خبر ہو جایا کرتی تھی۔ ایسی خبر، جو کسی اخبار رسالے میں چھپنے کی محتاج نہ ہوتی، سینہ بہ سینہ بہت تیزی سے سفر کرتی اور محافل میں موضوع ہو جاتی۔ لگ بھگ پینتالیس چھیالیس سال پہلے میں فیصل آباد کے چوک گھنٹہ گھر کے قرب میں واقع محفل ہوٹل میں بیٹھا تھا، وہیں جہاں شام ڈھلے ریاض مجید، احسن زیدی، انور محمود خالد، افتخار

Read more

انوار فطرت اور ”سمندراااااا “

یہ لگ بھگ بائیس تئیس برس پرانی بات ہوگی میں نے معروف برطانوی شاعر ٹیڈ ہیوز پر ایک مضمون لکھا تھا۔ ظاہر ہے اس میں سلویا پلاتھ کا ذکر بھی آنا تھا کہ اس شاعرہ کی زندگی اور موت کے ساتھ یہ نام جڑا ہوا تھا۔ ان دنوں ہمارے درویش صفت شاعر اور صحافی انوار فطرت روزنامہ ”جنگ“ راولپنڈی کا ہفتہ وار ادبی صفحہ ترتیب دیا کرتے تھے۔ میں نے یہ مضمون انہیں بھیج دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ

Read more

فہیم جوزی: میں کوئی اور

مجھے لگتا ہے کہ اقبال فہیم جوزی رسومیات ِغزل سے اوب، اکتا کر یا عاجز ہو کر نئی نظم اور نثم کی طرف آئے تھے۔ جس زمانے میں انہوں نے یہ راستہ چنا، غزل سے کنی کاٹ کر نئی نظم کی طرف آ نکلنا یوں بھی فیشن میں تھا اور مجھے کہنے دیجئے کہ جن لوگوں نے اس فیشن کی بنا رکھی تھی ان میں ایک نام فہیم جوزی کا بھی تھا۔ اور وہ لگ بھگ ڈانٹ ڈپٹ کرتے یہ

Read more

آفتاب اقبال شمیم کی یاد میں

کوئی آٹھ برس پہلے، جس روز میرے گھر کتب خانے میں جڑواں شہر کے چنیدہ تخلیق کار آفتاب اقبال شمیم کے کلیات ”نادریافتہ“ کے استقبال کو موجود تھے اور ان کے فن کی تحسین کر رہے تھے تو کون کہہ سکتا تھا کہ ایسا موقع ان کی زندگی میں پھر نہ آئے گا کہ ہم سب یوں جمع ہو کر بات کر پائیں۔ یہ موقع کہیں اب جاکر نکلا ہے ؛ جی اُن کے چل بسنے کے بعد ؛ کاش

Read more

اظہار الحق: نئی زمینیں اور نئے آسماں

مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اظہار الحق میرے گنتی کے محبوب شاعروں میں سے ایک ہیں اور اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں انہیں ان کے ہم عمر ہم عصروں ہی میں نہیں اردو غزل کی مجموعی روایت میں ایک ایسے منظر نامے اور ایسی فضا کو ایزاد کرتے دیکھتا ہوں جو بڑی حد تک انہی سے منسوب ہے۔ ہر دس پندرہ برس بعد غزل کو نیا کرنے والے

Read more

ترکیہ اور پاکستان :ادبی اور ثقافتی رشتے

(یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ، پاکستان، شعبہ اردو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”اکیسویں صدی میں ادب، تاریخ اور ثقافت کے تناظر میں ترکیہ پاکستان کے باہمی روابط“ میں بہ بطور مہمان خصوصی پیش کی جانے والی چند سطور) جب ترکیہ کو خلافت عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا تھا تب سے ہمیں یہ ملک اپنا اپنا لگتا ہے ؛ ہمیشہ سے دل کے قریب۔ جدید

Read more

کچھ محبت کچھ بے بسی

انور سن رائے اور عذرا عباس دونوں پاس پاس بیٹھے ہوں تو ان کی میٹھی میٹھی نوک جھوک مزا دیتی ہے اور وہ بے پناہ محبت بھی جو ان کے تیکھے جملوں کے اندر سے ابلتی مچلتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ دونوں تخلیق کار ہیں اور اپنے اپنے الگ تخلیقی وجود میں مست اور رُجھے ہوئے۔ ہم لکھنے والوں کو بھی ان دونوں کی پر خلوص محبت حاصل ہے۔ جب جب کراچی جانا ہوتا ہے اس تخلیق کار جوڑے

Read more

کہانی ایک نظم کی

ٹی ایس ایلیٹ کے اُس لخت لخت مسودے کہ کہانی کسی ناول سے کم دلچسپ نہیں ہے جو 1915 ء سے بھی پہلے سے ٹکڑوں میں لکھا جا رہا تھا اور کہیں 1922 ء میں ایک شاندار ماڈرنسٹ نظم ”دا ویسٹ لینڈ“ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ ”دا ویسٹ لینڈ“ کی اشاعت کو ایک صدی سے بھی زیادہ کا دورانیہ بیت چلا ہے مگر اس کے بھید اب بھی توجہ کھینچتے ہیں بہ طور خاص جس طرح ایذرا پاؤنڈ

Read more

آدمی کہانی ہے!

کئی سال پہلے میں نے محمد سلیم الرحمن کے کیے ہوئے تراجم پر مشتمل کی ایک کتاب پڑھی تھی "اسیر ذہن”، مصطفیٰ شاہد کا ناول ”آدمی کہانی ہے“ پڑھ چکا تو رہ رہ کر اس کتاب کے دو مضامین یاد آتے رہے۔ پہلا جون میک مرے کا؛ “ حقیقت اور آزادی ”جب کہ دوسرا چیسلا میلوش کا مضمون، وہی جس کا عنوان کتاب کا نام ہو گیا ہے۔ اس دوسرے مضمون یعنی“ اسیر ذہن ”میں ایک غیر معمولی ناول “غیر

Read more

غلام حسین ساجد اور جمالِ دشت ِحیرت

گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائیاں اردو ادب اور شاعری کی ہنگامہ خیز دہائیاں ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا رہا تھا کہ سماج کو لکھ لیں گے تو فرد بھی اس میں آ جائے گا کہ ترقی پسندوں کا یہی دعویٰ تھا اور اب تک انہی کا سکہ چل رہا تھا۔ سماجی طبقات اور ان کی الجھنیں اس قدر توجہ پا رہی تھیں کہ فرد دھندلا تا گیا۔ جب اسے ایک خرابی کی صورت میں شناخت کیا گیا تو

Read more

ہبہ ابو ندیٰ کی غزہ سے آخری نظم

کہا جاتا ہے کہ غزہ کی 32 سالہ شہید شاعرہ اور فکشن نگار ہِبہ کمال صالح ابو ندیٰ کی آخری نظم ”پناہ“ ہے۔ وہ 20 اکتوبر 2023 ء کو اپنے گھر میں موجود تھیں کہ اسرائیلی طیارے ان کے گھر پر بم برسا کر اور اسے ملبے کا ڈھیر کر کے ان کی قبر بنا گئے تھے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا ہے۔ پوری دنیا سراپا احتجاج ہے مگر عالمی طاقتوں کی پشت

Read more

سات جنم: ناول یا ہمارے زوال کی کہانی

وہ ایک مصنف سے ملاقات اور کتاب کے اجرا کی تقریب تھی۔ ایک مختلف تقریب جس میں ادیب خال خال تھے مگر اسلام آباد کلب کا ملٹی پرپز ہال موجودہ اور سابق بیوروکریٹس سے چھلک رہا تھا۔ کتاب پر بات کرنے والے ہم تین تھے اور چوتھے شکیل جاذب جو ناظم ہو گئے تھے۔ ان چاروں میں، میں اکیلا تھا جو اکثریتی شمار قطار میں نہ آتا تھا۔ شکیل جاذب، ظفر حسن رضا، ڈاکٹر وحید احمد نے ساری کہانی کھول

Read more

عورتیں اور زندگی کا مختلف دائرہ

گزشتہ دنوں انقرہ یونیورسٹی، ترکیے کی بین الاقوامی اردو کانگریس میں بطور مہمان مقرر آن لائن شرکت رہی اور ”اردو ادب میں عورت کے تصور“ پر بات کر کے لگ بھگ انہی باتوں کو دہرایا جو اس موضوع پر میں گاہے ماہے کرتا آیا ہوں۔ میں نے باقی مقررین کو بھی توجہ سے سنا، اچھا لگا اور شدت سے احساس ہوا کہ بعض باتوں کو دہرایا جانا بہت اہم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے اس کانگریس کا اہتمام انقرہ یونیورسٹی،

Read more

اوجڑی کیمپ کا سانحہ

یوں لگتا تھا جیسے سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔ خوب صورت شہر کہوٹہ میں مجھے عارضی طور پر تعینات کیا گیا تھا اور میں جب اس شہر کی طرف پہلی بار آ رہا تھا تو وہاں کی ریسرچ لیبارٹری کے جتنے قصے کہانیاں سن چکا تھا، ان کے سبب ایک بھید سا اس شہر سے وابستہ ہو گیا تھا۔ میں تجسس میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ نیم پہاڑی راستے پر گاڑی آہستہ آہستہ بلندی کی طرف بڑھتی جا

Read more

سفر گزشت نہیں، رومان بھرا ناول

کہنے کو شاہد صدیقی نے اپنی تازہ کتاب ”ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر“ کو اپنے سفری تجربات پر مشتمل تحریریں کہا ہے اسی سے شاید گماں باندھ لیا گیا ہے کہ یہ کتاب تین سفرناموں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ دھوکا ہے جس کا اہتمام مصنف نے نہ صرف کتاب کا نام رکھتے ہوئے کیا ہے، اپنے پیش لفظ میں بھی کر رکھا ہے، جہاں وہ یہ کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ کتاب میں شامل تحریروں کا تعلق ٹورنٹو، دبئی اور

Read more

غزہ والوں کی نسل کُشی اور ایک نظم

عین ایسے سفاک موسم میں کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کے کلی اتلاف پر تلا بیٹھا ہے۔ جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں پر امداد کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں اور مغرب کے انسان دوست عوام، اپنے حکمرانوں کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، پاکستان میں مشاعروں کا موسم چل ہے۔ ملکی میڈیا سیاست سیاست کھیل رہا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کے حواس کا ناس مار رکھا ہے۔ جی،

Read more

دوپہر کا چاند ؛ ایک تاثر

”دوپہر کا چاند“ نذیر قیصر کی شاعری کا گیارہواں مجموعہ ہے۔ اس تازہ کتاب کے مقدمے اور غزلوں کو پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے ان کے لیے شاعری محض فنی اظہار نہیں ہے زندگی کرنے کا اسلوب ہے۔ وہ جو بلھے شاہ نے کہا تھا کہ ”رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی“ تو اس کی ایک تفسیر آپ کو یہاں ملے گی۔ اپنے اشعار میں اور ’پہلا حرف‘ کی نثر میں بھی، متن تشکیل دیتے

Read more

افسانہ: آٹھوں گانٹھ کمیت

یوں نہیں ہے کہ میری بیوی میرا دھیان نہیں رکھتی بل کہ واقعہ تو یہ ہے کہ اس کم بخت کا دھیان میری ہی طرف رہتا ہے۔ اَجی یہ کم بخت جو میری جیبھ سے پھسل پڑا ہے تو اس سے یہ تخمینے مت لگا بیٹھنا کہ خدانخواستہ ہم دونوں میں محبت نہیں ہے۔ میں اس خُوشبو بھرے جذبے سے دست کش ہو سکتا ہوں، نہ میری بیوی، کہ یہ سالی محبت ہی تو ہے جس کی آڑ میں کئی

Read more

کاشف رضا اور ایک عورت کا باغ

نئی صدی کے طلوع ہوتے ہی جن نئے تخلیق کاروں نے ادبی منظر نامے پر اپنے دستخطوں کی ایسی فصل سجائی کہ وہ مرکز نگاہ ہو گئے ان میں سید کاشف رضا کو میں بہت نمایاں دیکھتا ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی ہیں اور ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ؛مگر ان کی ادبی اور علمی وابستگیوں کا دائرہ متنوع اور نہایت وسیع ہے۔ وہ عمدہ تخلیق کار ہیں ؛ عمدہ اور مختلف۔ شاعری، فکشن، تراجم غرض کون سا

Read more

اُردو غزل کا سفر: جمود، پسپائی یا پیش رفت

غزل یوں تو فارسیوں سے اِدھر اردو والوں کے ہاتھ لگی تو اس نے اپنا رنگ ڈھنگ بدلا۔ یہ ویسی نہ رہی تھی جیسی ایران میں تھی مگر 1857 ء کی جنگ آزادی سے لے کر انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے تک مجموعی طور پر اُردو شاعری کا مزاج بہت بدلا تو غزل بھی بدلتی گئی۔ کہہ لیجیے بدلتے ہوئے سیاسی سماجی حالات اسے بھی مسلسل بدل رہے تھے۔ 1857 ء کے ہنگامے میں غالب دہلی میں تھے اور انگریز مقامیوں

Read more

بول مٹی دیا باویا!

کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ زندگی ایک سسکی سے شروع ہوتی ہے اور ہچکی پر تمام ہو جاتی ہے مگر کس کی سسکی ؛عورت کی؟ اور کب کی ہچکی؛ دمِ واپسیں پر؟ زندگی کو آغاز دینے والی سسکیاں تو لذت کے لمحے نگل جاتے ہیں گویا یہ اس سطح کا وجودی تجربہ نہ ہوا جو زندگی کی تفہیم ہو سکے۔ رہا آخری ہچکی کا تجربہ، یہ یقینی سہی مگر اس کا ذائقہ جو بھی چکھ لیتا ہے وہ

Read more

اسی برس کا شاعر جسے اور بھی جینا ہے

کچھ دن پہلے انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ابھی اور جینا ہے۔ پھر ہنستے ہوئے اپنی بیٹی گیتی سے ہونے والی اس گفتگو کا ٹکڑا سنانے لگے جس میں ممتاز مفتی کا ذکر ہوا تھا۔ جی ممتاز مفتی جنہوں نے نوے برس کی عمر پائی۔ اور مشتاق یوسفی کا بھی، جو پچانوے برس جیے۔ شاید ایک آدھ مثال سو برس جینے والے ادیب کی بھی ان کے ذہن میں تازہ ہو گئی ہو گی مگر وہ یہ والا جملہ

Read more

فرد، نیا سماج اور سیرت رسول ﷺ

آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے جب میں سیرت النبی ﷺ پر اپنی کتاب مکمل کر چکا تھا اور اس کا مقدمہ لکھنے سے پہلے کتاب کے نام کی بابت سوچ رہا تھا جو جیسے ایک چھپاکا سا ہوا تھا اور روشنی کی ایک لکیر دور تک میری رہنمائی کرتی چلی گئی۔ میں نے قلم اٹھایا اور ”پیکر جمیلﷺ“ لکھ دیا تھا۔ مجھے اس نام تک راغب اصفہانی کی ”مفردات“ میں موجود ”حسن“ کی اس تعریف نے پہنچایا

Read more

ہرے بھرے تصور کی موت

جب سے نت نئے گیجٹس گھر گھر پہنچنے لگے ہیں ؛ ہر کوئی انہیں ہاتھوں میں تھامے یا منہ کے آگے دھرے ان کے ڈسپلے پر نظریں ٹکائے ملتا ہے۔ اس کا اچھا برا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ انٹرنیٹ پر تحریریں پڑھی جانے لگی ہیں۔ اخبارات اور جرائد کی اشاعتیں سکڑ گئی ہیں۔ آن لائن بکس پلیٹ فارمز کھل گئے۔ ریختہ جیسی ویب سائٹس پر ہزاروں کتابیں چڑھا لی گئی ہیں اور کتابوں سے بھری لائبریریوں میں دھول اڑنے

Read more

ادب، عورت اور مرد

عین اس وقت کہ جب ایک طرف عورت مارچ چل رہا ہو، عورتوں کے حقوق پر مذاکرے ہو رہے ہوں اور اکادمی ادبیات والے فرض کفائیہ ادا کرنے کو عورتوں کے مشاعرے کا اہتمام کیے بیٹھے ہوں ادارہ اردو کا ایک سیمینار ”ادب، عورت اور مرد“ کے عنوان نے اس سوال پر رکھ لینا کہ ”صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق کیوں؟“ بظاہر ایک شرارت لگتا ہے لیکن جس سنجیدگی سے یہ سوال میرے سامنے رکھا گیا، اس سوال

Read more

ڈاکٹر امجد طفیل کی تنقیدی بصیرت پر ایک نظر

ڈاکٹر امجد طفیل کا عمر بھر کا تنقیدی سرمایہ، جو گزشتہ چالیس سال میں وقفے وقفے سے مختلف مضامین کی صورت میں ظہور کرتا رہا ہے ؛ اب سنگ میل سے پانچ کتابوں کے لگ بھگ اٹھارہ انیس سو صفحات کے مواد کے ساتھ ہمارے سامنے ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ ہم عصر اردو افسانہ: اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میں نظری مباحث بھی ہیں اور اس صنف کے

Read more

پاکستان میں اردو افسانہ

مجھ سے ملنے والے اکثر نوجوان جو افسانہ لکھنا چاہتے ہیں، یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ کوئی ایک کتاب بتائیے کہ ہم اردو افسانے کا سفر جان لیں۔ اگرچہ یہ سہل انگاری مجھے پسند نہیں اور ایسا سوال کرنے والوں کی بابت شک میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ افسانہ نگاری ایسے نوجوان کی پہلی ترجیح ہے بھی یا بس گھومتے گھماتے ادھر آ نکلے ہیں اور اسے تخلیقی سطح پر اپنے وجود کا مسئلہ بنانے کی بجائے محض

Read more

مقامی علمی ادبی اور ثقافتی سرمائے کی عالمی پہچان

نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز کے زیر اہتمام ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بہ طور مہمان خصوصی شرکت کے لیے آپ نے یاد فرمایا تو مجھے کانفرنس کے نئے موضوع کو دیکھ کر اچھا لگا ورنہ جامعات میں لگے بندھے موضوعات پر اوروں سے اخذ شدہ باتیں اور مرعوب کرنے کو درآمدی اصطلاحات کی تکرار ہی سننے کو ملا کرتی ہے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز ڈاکٹر

Read more

رومی کون؟

مولانا جلال الدین رومی ایسے عالم اور فقیہ تھے کہ زمانہ مانتا تھا۔ شریعت کا علم سیکھنے اور درپیش مسائل پر فتوے لینے کو لوگ دور دور سے آتے کہ وہ اپنے عہد کے سلطان العلما تھے اور سلطان الفقہا بھی۔ پھر یوں ہوا کہ ان کی ملاقات شاہ شمس الدین تبریزی سے ہو گئی اور کچھ یوں ہوئی کہ کایا کلپ ہو گئی؛ قال، حال میں منقلب ہوا اور ایک مولوی کی جگہ مولائے روم کا ظہور ہو گیا

Read more

رواں ہے موج جنوں پہ احساس کا سفینہ

جب سجاد بلوچ کا پہلا شعری مجموعہ ”ہجرت و ہجر“ آیا تو مجھے اس کے نام نے چونکایا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے اس کے نئے مجموعے ”رات کی راہداری میں“ نے چونکایا ہے۔ دونوں بار مجھے یہ شاعری کے مجموعوں کی بہ جائے فکشن کی کتابوں کے نام لگے۔ پہلی کتاب پڑھتے ہی یہ احساس زائل ہو گیا تھا اور مجھے تسلیم کرنا پڑا تھا کہ غزل کا ایک نیا مجموعہ میرے سامنے تھا۔ ”ہجرت و ہجر“ کی آمد

Read more

حسن پرست شاعر، مصور اور خطاط: اسلم کمال

اب اس واقعے کو لگ بھگ تین دہائیاں ہو چلی ہیں، میں نے اپنے افسانوں کا مجموعہ ”بند آنکھوں سے پرے“ اسلم کمال کو پیش کیا تووہ اس کے سرورق کو کچھ دیر توجہ سے دیکھتے رہے پھر کہا ؛ ”میں اس کتاب کا سرورق بناتا تو یوں نہ بناتا، یہ کچھ اور ہوتا۔“ وہ سرورق ہمارے ایک دوست آفتاب عالم نے بنایا تھا۔ آفتاب شوقیہ مصور تھے۔ ایک روز یونہی بیٹھے بیٹھے میں نے کاغذ پر پنسل سے عورت

Read more

تارڑ کے خس و خاشاک زمانے اور سفیر اعوان

دیکھا گیا ہے کہ وہ لکھنے والے جو عوامی سطح پر مقبول ہو جاتے ہیں ان کے فن کی بارے میں سنجیدہ تنقیدی مکالمہ رک سا جاتا ہے۔ جو تسلیم کیا جا چکا اس پر تنقید کی کیا ضرورت ؛ بات ”بلے بلے“ سے آگے نہیں بڑھتی۔ ہم نے ایسا منٹو کے ساتھ ہوتے دیکھا تھا اور اب مستنصر حسین تارڑ کے باب میں دیکھ رہے ہیں۔ منٹو مقبول تھا اور یہی کافی سمجھا جاتا رہا۔ فن سے زیادہ شخصی

Read more

نئے سال کی پہلی دعا

اے خدا! اے خستہ بدنوں میں صوت، صوت میں بیان اور بیان میں تخیل کی مقدس اڑان رکھ دینے والے خدا! ہماری بصارتوں کے بند جزدانوں کی گرہیں کھول اور ہماری سماعتوں کو ان زنگار لفظوں سے محفوظ رکھ جو ہمارے مقدر بدنوں کے بیچ کب سے اب تک بانجھ گونج کا تسلسل بھرتے رہے ہیں۔ اے خدا! لمحوں کے دست آئندہ میں ہمارے ہونے کا مقدر لکیر دے۔ ہمارے مقدر پر تنے مسلسل رات سناٹے کو امید چنگاریوں سے

Read more

شمس الرحمن فاروقی کی ناول نگاری

ایک ذرا مڑ کر اردو دنیا کی ان ساری شخصیات کو دیکھ آئیں جنھوں نے رواں زمانے کے صفحات پر ایک سے زیادہ جہتوں سے اپنے دستخط ثبت کیے اور محترم ٹھہریں توان سب سے الگ اور نمایاں مقام پر ایک شخصیت ملے گی؛ شمس الرحمٰن فاروقی۔ میں ہمیشہ سے ان کی غیر معمولی تنقیدی صلاحیتوں کا معترف رہا ہوں۔ مجھے موقع ملتا رہا ہے کہ ”شعر، غیر شعر اور نثر“ ، ”تفہیم غالب“ ، ”شعر شور انگیز“ اور ”اردو

Read more

ایاز میلو اور جیل کی ڈائری

ابھی میں سولہویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے بعد کراچی ہی میں تھا کہ سندھی شاعرہ، ادیبہ اور ماہر تعلیم محترمہ سلمیٰ لغاری کی طرف سے ایک پیغام مل چکا تھا کہ مجھے ”ایاز میلو“ میں ضرور شرکت کرنی ہے۔ یہ سلمیٰ لغاری کوئی اور نہیں معروف ایکٹیوسٹ امر سندھو ہیں ؛ جی ایاز میلو کی مدارالمہام۔ محترمہ نورالہدیٰ شاہ نے بتایا تھا کہ سندھی عورت کی آگہی کے باب میں جتنا عملی کام امر سندھو اور ان کی

Read more

اردو شاعری میں تازہ رجحانات

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے گرمانی مرکز زبان و ادب میں منعقدہ قومی کانفرنس کی اس نشست کے لیے، وہ موضوع جو میرے لیے طے ہوا ہے اس میں کئی کٹھن مقامات آتے ہیں۔ خود شعری اصناف ہی کو لے لیجیے، کس پر بات ہو کس کو چھوڑ دیں۔ غزل، نظم، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، قطعہ، شہر آشوب، رباعی، گیت، ماہیا، ہائیکو وغیرہ۔ کچھ کا فیصلہ تو وقت نے کر دیا اور انہیں پچھاڑ کر ایک طرف کر دیا۔

Read more

سجدہ – افسانہ

جب بھی وہ کسی انتہائی شدید جذبے کے زیر اثر بات کر رہی ہوتی، اس کے ماتھے پر ایک رگ پھڑپھڑانے لگتی تھی۔ عین وہاں سے، جہاں اس کی سلیقے سے بنی بھنووں کے درمیان صاف شفاف جلد ایک ابھار سا بنا کر پیشانی سے جا ملتی، وہ رگ وہیں سے لہراتی ہوئی نکلتی تھی۔ میں اس کے پہلو میں بیٹھا تھا، سامنے نہیں لہٰذا اس کا چہرہ سامنے سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اچانک اس نے لرزتی ہوئی آواز

Read more

ڈاکٹر توصیف تبسم چلے گئے

محمد احمد جنہیں ہم سب شاعر، استاد اور ادیب ڈاکٹر توصیف تبسم کے نام سے جانتے ہیں پچانویے برس کی بھر پور اور قابل رشک زندگی گزار کے اگلے جہان کو رخصت ہو گئے۔ کہہ لیجیے وہ شخصیت چلی گئی جو ایک تہذیب کی نمائندہ تھا۔ شعر و ادب ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔ جب تک وہ اسلام آباد کے جی نائن کے علاقے میں رہے ملاقات کی صورتیں تواتر سے نکلتی رہتی تھیں پھر وہ ڈی ایچ اے منتقل

Read more

رؤف امیر ایوارڈ

(پاکستان یوتھ لیگ کی جانب سے ڈاکٹر رؤف امیر تعلیمی (وقف) ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رؤف امیر ممتاز شاعر، نقاد، محقق، استاد اور کئی کتب کے مصنف تھے اور جب وہ پاکستان چیئر، ایبلائی خان یونیورسٹی آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ورڈ لینگویجز، الماتی، قزاقستان میں خدمات سر انجام دے رہے تھے تو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ عالمی یوم تکریم اساتذہ کے موقع پر تقسیم ایوارڈ کی شاندار تقریب واہ کینٹ کے ایک

Read more

ہم نے جو بھلا دیا

جن دنوں میں زرعی یونیورسٹی لائل پور/فیصل آباد میں پڑھ رہا تھا، سرگودھا سے ایک نوجوان آتا، شہر کا ایک دوست ساتھ لیتا میرے ہاں آ جاتا تو خوب محفل جمتی تھی۔ میں جب سرگودھا گیا تو پہلی بار اسی دوست کے ساتھ وزیر آغا سے ملنے گیا تھا۔ یونیورسٹی کا زمانہ لد گیا تو ہمیں وقت جہاں لے جانا چاہتا تھا، ہم چلے گئے۔ ہمارے بیچ کوئی رابطہ نہ رہا۔ دوسرے شہروں میں کئی برس گزارنے کے بعد جن

Read more

ایک مسلسل احتساب

نجیب محسن وہاں عین برانچ کھلتے ہی پہنچ گیا تھا۔ اپنی نئی پوسٹنگ پر جب سے وہ وہاڑی آیا تھا تو اس کی بیوی مائرہ کی سانسیں کچھ زیادہ ہی اکھڑ گئی تھیں۔ مائرہ کے لیے جیسے کچھ بھی ٹھیک نہ ہو رہا تھا۔ یوں تو اس کا یہ عارضہ پرانا تھا مگر الرجی کا ایسا حملہ کہ چھاتی ہر بار زور سے دبا کر سانس بحال کرنی پڑے، ایسا پہلے نہ ہوتا تھا۔ ایسا کرنے سے اس کی پسلیاں

Read more

سید کیاکام کرتا تھا؟

بچپن کا زمانہ تھا اور ہمیں نئی نئی باتیں سکھانے کے لیے کئی حیلے ہو رہے تھے ۔شاید یہاں مجھے ’نئی نئی‘ کی بہ جائے’ نئی پرانی سب باتیں‘ لکھنا چاہیے تھا کہ گھر میں رہتے تو ہمارے بزرگوں کے پاس، اور اسکول میں ہوتے تو اساتذہ کے پاس تہذیب، روایات اور تاریخ کے حوالے سے ہمارے ذہنوں میں انڈیلنے کو بہت کچھ تھا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ بہت کچھ ذہن میں سما گیا اور اس میں بہت کچھ

Read more

اسد محمد خاں: تہذیب، تاریخ اور فرد سے مکالمہ

”ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی“ کے ساتویں حصے میں اسد محمد خاں نے، جو ٹکڑے جوڑے ہیں ان میں اپنے بھتیجے / بھائی ناصر کمال کو بھیجی گئی ای میلز بھی ہیں۔ ناصر کو بھیجی گئی ایک ای میل میں پس نوشت کا اضافہ ملتا ہے جس میں ہمارے افسانہ نگار نے اپنے آنے والے ناول سے اقتباس دینے سے پہلے اپنا نام ’اسد محمد خاں‘ نہیں بلکہ ’اسد بھائی خانوں‘ ۔ لکھا ہے۔ ناول کا یہی اقتباس ”خانوں“ کے

Read more

وارث علوی: ناقدوں کے ناقد

اب تو اس واقعے کو کئی برس ہو چلے ہیں، رات گئے منشا یاد کا فون آیا اور چھوٹتے ہی پوچھا تھا: ”آپ ای میل کا جواب کیوں نہیں دیتے؟“ حملہ اتنا اچانک تھا کہ میں ایک لمحے کو بھونچکا رہ گیا، سوچا لیکن سمجھ میں کچھ نہ آیا تو الٹا سوال کر دیا : ” کون سی میل کا جواب منشا صاحب؟“ ”میں ساجد رشید کی میل کا ذکر کر رہا ہوں، ساجد نے ایک میل تین بار بھیجی

Read more

چوتھا کونا دھندلا خاکہ اور احمد ہمیش

کئی سال پرانا واقعہ ہے ؛ جون کا مہینہ تھا۔ شاید دوسرا ہفتہ رہا ہو گا میں اندرون سندھ سے گھومتا اور وہاں کی شدید گرمی سے اُکتایا ہوا کراچی پہنچا تھا اور خواہش کرنے لگا تھا کہ کراچی کے کچھ ادبی دوستوں سے ملاقات ہو جائے۔ کیسے؟ کہ میرے پاس کسی کا فون نمبر تھا، نہ اتا پتا۔ خیر اُن دنوں، محمود واجد کا ”آئندہ“ باقاعدگی سے نکل رہا تھا۔ یاد آیا اُن کا ایک پرچہ، میں گھر سے

Read more

عطا الحق قاسمی کے سفر نامے

کچھ سال ہوتے ہیں، میں نے اورحان پامک کی ایک کہانی پڑھی تھی وہی جس میں پامک نے لکھ رکھا ہے کہ جب فتح مند فاخر شاہ نے صلاح الدین خان کو شکست دے کر قتل کر دیا تو رواج کے مطابق کتابوں کی جلدیں اکھڑوا کر انہیں ازسر نو مرتب کروایا گیا۔ یوں صلاح الدین خان کے کارنامے فاخر شاہ کا حصہ ہو گئے۔ جب کتاب کے تصویری حصے میں شاہی مصور فاخر شاہ کو داخل کر رہے تھے

Read more

گماں کا ممکن: جو تو ہے میں ہوں

ن م راشد کی نظم ”گماں کا ممکن : جو تو ہے میں ہوں“ میرے لیے یوں اہم ہو گئی ہے کہ اس کے وسیلے سے اگر کوئی چاہے تو ان سارے مخمصوں کی بنیاد کو تلاش کر سکتا ہے جو راشد کی شاعری میں یہاں وہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ یہی مخمصے اس کے زندہ وجود ہونے پر دال بھی ہیں جو سوچتا ہے، کئی سوالات اٹھاتا ہے اور اپنے تئیں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے جتن کرتا ہے۔ اچھا،

Read more

جیفرے آرچر کی کہانی اور قومی معیشت کے دشمن

پاکستانی سیاست کی مختصر ترین تاریخ میں متعدد مواقع ایسے آئے جب قومی دولت لوٹنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا مطالبہ ہوا۔ اس 76 سال کے زیادہ تر عرصے میں جمہوری قوتیں عضو معطل بنا کر قومی سیاست کے حاشیے پر پھینکی جاتی رہیں اور ہر بار یہی سننے میں آتا رہا کہ قومی معیشت تباہی کے دہانے پہنچا دی گئی ہے اس لیے احتساب ضروری ہے۔ قومی معیشت کے دشمنوں پر ہاتھ ڈالنے کے دعوے ہوتے رہے، قانون سازی

Read more

گفتگو روشنی ہے

(محمد حمید شاہد ہمارے درمیان موجود ایک نادرہ روزگار، منفرد اور رسیلے شخص کا نام ہے۔ کیا خوبصورت زندگی ہے کہ علم، حیرت اور تخلیق سے عبارت رہی ہے۔ محترمہ لبنیٰ صفدر نے لاہور سے شائع ہونے والے رسالے ”ارژنگ“ کے لیے محمد حمید شاہد سے ایک مصاحبہ کا اہتمام کیا، جس میں بہت اہم ادبی موضوعات زیر بحث آئے۔ محمد حمید شاہد کے جوابات تو اپنی جگہ گہر بار تھے لیکن لبنیٰ صفدر نے بھی سوال کرنے کا حق

Read more

ماڑی چڈھیاں والی

جب وہ میرے پاس بیٹھے بیٹھے ان سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی جو ایک ایسے ہال میں اترتی تھیں جس کی دیواروں پر چھت تک نصب چوبی تختے کتابوں سے لدے ہوئے تھے، جی، ان کتابوں سے جو میری عمر بھر کی کمائی تھیں اور نہ جانے ایک ایک کر کے میں نے کہاں کہاں سے اور کتنے جتنوں سے جمع کی تھیں، تب مجھے یاد آیا تھا کہ پچھلی بار اس نے میرے پہلو میں بیٹھے بیٹھے یوں

Read more

جاوید انور: ہزارے کا مہمان کیا بولتا

جاوید انور بیسویں صدی کے ربع آخر کے نظم نگاروں میں ایک نمایاں نام تھا۔ میں نے ”تھا“ لکھ دیا اور لکھ چکا تو دل میں ایک ٹیس اٹھی کہ یہ نام تو ابھی دل میں زندہ ہے مگر ہمارا یہ نظم نگار دوست نہیں رہا۔ میں آج اس کی ایک بہ ظاہر نٹ کھٹ نظم کو یاد کرنا چاہ رہا ہوں۔ ہمارے اس دوست نے ادھر ادھر بہت ہنگامہ بپا کیا اور دیار غیر میں جا بسا تھا پھر

Read more

شوکت واسطی کی شاعرانہ جنت

میں وہ خوش بخت ہوں جسے زندگی میں بالکل الگ مزاج رکھنے والے کہہ لیجیے عام روش سے ہٹے ہوئے مگر اپنے فن میں ماہر لوگوں سے ملنا رہا ہے۔ انہیں محض اپنے فن میں ماہر کہنا شاید ایسی شخصیات کی توہین ٹھہرے کہ وہ جس فن سے وابستہ رہے اور عمر بھر رہے، اُس کی فضا میں ہی رہے ؛ وہ بھی یوں، جیسے مچھلی پانی میں رہتی ہے۔ گویا اُن کا جینا مرنا وہی تھا اور اسی سے

Read more

احسان اکبر: یہ کرشمہ سوز جگر کا ہے

نہیں معلوم ہمارے عہد کے ناقدین کو اس کا احساس ہے یا نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ احسان اکبر کے فن کی تحسین کے باب جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہ اب تک نہیں ہوا۔ یہ شاعر اپنے مزاج اور قرینوں میں مختلف بھی ہے اور تخلیقی سطح پر اتنا صاحبِ توفیق بھی کہ اسے ہم عمر ہم عصروں کے ساتھ وقت پر زیر بحث لایا جاتا تو کئیوں سے بڑھ کر رفعتِ مقام پاتا۔ اوروں سے کیا شکوہ

Read more

مجید امجد: ضمیر ہستی کا آہنگ تپاں

لگ بھگ اٹھانویے سال کی عمر کو پہنچ کر کشمیری لال ذاکر نے ”فیض کی دنیا“ کے نام سے اپنی زندگی کی آخری کتاب مرتب کی تھی۔ یہ کتاب مجھے اپنی زندگی میں شمس الرحمن فاروقی صاحب نے بھیجی اور تاکید کی تھی کہ اس میں موجود ان کا دیباچہ پڑھوں۔ یہ وہی دیباچہ ہے جس میں فاروقی صاحب نے ایک ایسی بات لکھ دی تھی کہ ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ تاہم میرے لیے یہ نئی بات نہ

Read more

خورشید رضوی: یہ زمانہ کیا ہے ترے سمند کی گرد ہے

مجھے نہیں معلوم میں خورشید رضوی کی شاعری کی طرف کب متوجہ ہوا تھا۔ بس اتنا یاد ہے کہ میں ان دنوں فیصل آباد میں تھا اور کسی دوست سے یہ شعر سنا تھا: یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلے سبھی کو بزم میں دیکھو مگر دِکھائی نہ دو یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن ہو رہے تھے اور میں بھی الیکشن لڑنے والوں میں شامل تھا۔ ہر روز جلسے ہوتے اور ہمیں تقریریں کرنا ہوتیں لہٰذا

Read more

افغانستان اور طالبان

ایمبیسیڈرز لاؤنج میں ہمارے ایک شاعر دوست سید ابرار حسین کو تین سفارت کاروں نے گھیر رکھا تھا اور انہیں طالبان، شمالی اتحاد، افغانستان پاکستان تعلقات اور ٹرانزٹ ٹریڈ سے لے کر افغانستان میں ہندوستانی مفادات اور افغانستان کی نئی نسل میں پاکستان مخالف احساسات جیسے اہم موضوعات پر کرید رہے تھے۔ یہ گفتگو امید کی اس کرن تک ہوتی چلی گئی جو ہمارے مہربان دوست کی کتاب کے عین آخر سے پھوٹ پڑی تھی۔ سید ابرار حسین محض شاعر

Read more

مستقبل کا تصور اور فرد کی آزادی

یہ 29 اکتوبر 2021 ءکی بات ہے۔ جی، اُن دنوں میں سے ایک دن کی بات کہ ابھی عمران خان کا اقتدار پوری طرح قائم تھا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا کہ یہ حضرت اپوزیشن کی عدم اعتماد کی ایک تحریک منظور ہونے کے بعد اقتدار سے یوں نکال باہر کیے جائیں گے کہ ان کے لیے سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ فیصلے کرنا ممکن ہی نہ رہیں گے۔ یہ بھی بعد میں ہم نے

Read more

ایک زمانہ ختم ہوا ہے

ناصر عباس نیر نئی تنقید میں اپنی شناخت مستحکم کرنے کے بعد ، مابعد جدید تنقیدی مباحث اور لسانیات سے لے کر اردو ادب کی تشکیل جدید اور مابعد نو آبادیاتی ادب پر اپنے خیالات میں ہمیں الجھا پاکر کوئی چھے برس پہلے اچانک اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”خاک کی مہک“ لے کر آ گئے تھے۔ یہ مجموعہ اردو کی ادبی دنیا کے لیے اچانک آ لینے والی اور حیرت زدہ کرنے والی خبر بن گیا تھا۔ میں اس

Read more

حیراں سرِ بازار

میں حارث خلیق کے شعری مجموعے ” حیراں سر ِ بازار” کو پڑھ کر ، یہاں کچھ کہنے کو اپنے خیالات مجتمع کر رہا تھا کہ دھیان میر صاحب کے دیوان دوم کے ایک شعر کی طرف چلا گیا۔ لیجئے وہ شعر عرض کیے دیتا ہوں۔ دھیان اس شعر کی طرف کیوں گیا یہ آگے چل کر بتاؤں گا ۔ ہاں تو خدائے سخن کا کہنا تھا: ڈوبا لوہو میں پڑا تھا ہمگی پیکر میر یہ نہ جانا کہ لگی

Read more

غالب، تفہیم غالب اور فاروقی صاحب

شمس الرحمن فاروقی کو میں ایک مجتہد نقاد مانتا ہوں۔ ان کے کام کی کئی جہتیں ہیں۔ چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ”شعر شور انگیز“ کی صورت میں انہوں نے جو کارنامہ سر انجام دیا، یہاں اس کی طرف آپ کی توجہ چاہیے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کرنا چاہوں گا کہ یہ تفہیم میر کے باب میں اجتہادی کام نہیں تو اور کیا ہے؟ فاروقی صاحب کے ناقدین نے تفہیم میر کے مقابلے میں ”تفہیم غالب“ کا مختصر

Read more

”شعر شور انگیز“ اور فاروقی صاحب کے سمجھوتے

محمد حسن عسکری اپنے ایک مضمون ”مزے دار شاعر“ میں لکھتے ہیں کہ میر تقی میر کے یہاں جو مشکلیں پیدا ہوتی ہیں اُن کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کی شخصیت اوروں سے زیادہ پیچیدہ اور پہلو دار تھی، بلکہ وہ اپنی شخصیت پر مسلسل خلاقانہ عمل کے ذریعے متضاد عناصر گھلا ملا کر ایک نئی چیز پیدا کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے میر صاحب کے باطن میں جاری جدلیاتی عمل کی وضاحت کے لیے جس شعر

Read more

آخر کار: عشق میں نے بھی کیا ہے مرے اجداد نے بھی

جیسے کوئی اپنے دھیان میں چل رہا ہو۔ ادھر ادھر سے بے نیاز اور اچانک روشنی کا جھپاکا ہو اور وہ کچھ دیر کے لیے ہک دک دیکھتا رہ جائے ؛ تو یوں ہے کہ اشفاق ناصر سے میرا تعارف بھی ان جھپاکوں میں ہوتا رہا ہے۔ پہلی بار چنیوٹ جاتے ہوئے، سفر کے دوران۔ ہمیں شکیل جاذب کی کتاب ”نمی دانم“ کی تقریب میں شرکت کے لیے چنیوٹ جانا تھا اور ہمیں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر اشفاق ناصر

Read more

نذیر قیصر کی غزل:بیل بوٹوں سے لکھی حمد

گزر چکی صدی کی چھٹی دہائی کے لگ بھگ وسط سے غزل کے باب میں اپنا نام رقم کروا لینے والے نذیر قیصر سے میرا اولیں تعارف ان کی کتاب ”آنکھیں چہرہ ہاتھ“ سے ہوا تھا: آنکھیں چہرہ ہاتھ لئے پھرتا ہوں میں کیا کیا اپنے ساتھ لئے پھرتا ہوں میں جی، اس کتاب سے، جس کی تقریظ میں جیلانی کامران نے ایک عجیب بات لکھ دی تھی۔ نذیر قیصر کا ذکر آتے ہی ہر کوئی وہی بات دہراتا تھا؛کوئی

Read more

لہو کے ریشم سے

”ایسے ہی مشکل مقام پر ادب آدمی کا ہاتھ تھامتا ہے کہ امید اور نا امیدی کے درمیان کا پیچاک ہی دراصل جدید ادب، خاص طور پر فکشن کا موضوع ہے اور اس پیچاک ہی کے کسی پڑاؤ پر ایک برج عاج ہے، جس میں بیٹھا ادیب خواب و خیال کے لچھوں سے جوجھتا رہتا ہے۔ کچھ سلجھا لیتا ہے، کچھ میں ریشم کے کیڑے کی طرح الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اور انجام کار مر جاتا ہے مگر دنیا

Read more

دانہ نہیں یاں دام بچھا ہے

افسانہ:محمد حمید شاہد احمدال نامی گاؤں پر نظر پڑنے تک مجھے یوں لگتا جیسے سارا منظر یک لخت بدل جاتا تھا۔ جو پہلے تھا پھر ویسا نہ رہتا۔ پنڈی گھیب جانے کے لیے مجھے یہیں سے گزرنا ہوتا تھا۔ پشاور روڈ پر ترنول تک پھنسی ہوئی ٹریفک سے بچنے کے لیے کشمیر روڈ سے ائر پورٹ کی طرف جاتے ہوئے جو راستہ پنڈی کوہاٹ روڈ سے جا ملتا تھا، ممتاز سٹی سے ہوتا ہوا، میں اس پر ہو لیتا تھا۔

Read more

جمیل جالبی کا تہذیبی طرز احساس

سوات سے ہجرت کر کے برطانوی ہندوستان میں جا بسنے والے یوسف زئی پٹھانوں کا ذکر ایک ساتھ چھڑے یا کراچی شہر اور ادب کا تو میرے ذہن کے افق پر دو نام چمکنے لگتے ہیں ؛ان میں سے ایک افسانے کا کردار ہے اور دوسرا حقیقی مگر دونوں اردو ادب کے صفحات پر بھی دمک رہے ہیں۔ افسانوں کا کردار ہمارے محترم افسانہ نگار اسد محمد خاں نے لکھا ہے۔ انہوں نے بتا یا ہے کہ وہ کردار اصل

Read more

احمد جاوید اور تہذیب سخن: چند تاثرات

گزشتہ دنوں جناب احمد جاوید کے ویڈیو پروگراموں کا ایک سلسلہ دیکھ رہا تھا جس کی پہلی وڈیو میں انہوں نے اپنی فکری تشکیل کے حوالے سے یہ بتا کر مجھے حیران کر دیا تھا کہ وہ سولہ برس کے تھے جب شاعری اور تصوف کے قوام سے ان کا ذوق مرتب ہو چکا تھا اور یہ کہ وہ تب تک ابن عربی کو نہ صرف پڑھنے لگے تھے، وجودی تجربے کے ساتھ سمجھنے کی طرف مائل بھی تھے۔ جب

Read more

انتظار حسین: کچھ یادیں کچھ باتیں (پانچویں برسی پر خصوصی تحریر)

انتظار حسین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے ایک بہت بڑی پینٹنگ گویا آنکھوں کے سامنے سج جاتی ہے۔ اس پینٹنگ میں سمندر ہے، سمندر بھی اور اس کا وہ کنارہ بھی جس پر ہم ہیں۔ صبح کا منظر ہے۔ چمکتی لہراتی پانی کی سطح کے اندر سامنے کے درختوں کا جھنڈ جھانک کر جھول رہا ہے۔ بیچ لگژری ہوٹل والوں نے اردو کانفرنس کے مندوبین کے ناشتے کا بندوبست سمندر کے اندر تیرتے اس تختے پر کیا ہے

Read more

انسان دوست منو بھائی

منو بھائی سے میری پہلی ملاقات زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہوئی تھی۔ تب میں ایک طالب علم تھا اور منو بھائی امروز سے وابستہ معروف صحافی۔ یہ سن 81۔ 1980 ء کا تھا۔ کئی سال بعد بین الجامعاتی تقاریب کا انعقاد ممکن ہو پایا تھا لہٰذا طلبا و طالبات بہت پرجوش تھے۔ اس سلسلے میں ایک عدالت یونیورسٹی کے اقبال آڈیٹوریم میں لگائی گئی۔ عدالت نہ کہیں عدالتی کھیل کہہ لیں۔ پورا ہال طلبا اور طالبات سے کچھا کچھ

Read more

احمد فراز: جو لکھا تپاک جاں سے لکھا

(احمد فراز کی 90 ویں جنم دن پر ایک مختصر تحریر) فراز جذبوں کی شدت کے شاعر ہیں۔ تاہم ایسا ہے کہ اس شدت کا بیان ان کے ہاں ایک تہذیب میں ڈھل کر ہوتا ہے۔ بہ طور خاص جب وہ غزل کہتے ہیں تو غزل کی اپنی تہذیب کا جی جان سے احترام کرتے ہیں ایک انٹرویو کے دورآن ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا: ”میرے تخلیقی انداز کو نیم کلاسیکل سے

Read more

بھیشم ساہنی، انعام ندیم اور ”امرتسر آ گیا ہے“

یہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، مجھے میرے پیارے دوست آصف فرخی نے دو کتابیں ایک ساتھ عنایت کی تھیں۔ ان کتابوں میں سے ایک کانام تھا: ”اور کہاں تک جانا ہے؟“ جب کہ دوسری تھی: ”درخواب“ ۔ دونوں شاعری کے مجموعے اور دونوں شاعر میرے لیے نئے۔ تاہم آصف فرخی نے کہا تھا: ”انہیں پڑھیے ضرور آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔“ ان میں سے پہلی کتاب اکبر معصوم کی تھی۔ وہی اکبر معصوم جو آصف فرخی کی

Read more

وبا کے دِن اور گل مرگ

بارش تھم گئی تھی۔ اب آسمان پر بادل کی ایک دھجی تک نہ تھی۔ فضا یوں دُھل کر صاف ہوئی تھی کہ میں نظر اٹھا کر آسمان کو دیکھتا تو کہیں رکتی ہی نہ تھی اور لگتا اگر کچھ اور دیر یونہی دیکھتا رہا تو عرش بالا پربچھا وہ عظیم تخت بھی نظر آجائے گا جس کے بارے میں، اپنے بچپن سے یہ تصور قائم کر رکھا تھا کہ خدا اس پر بیٹھا امور کائنات چلا رہا تھا۔ میں کئی

Read more

شاخ اشتہا کی چٹک

اسے قریب نظری کا شاخسانہ کہیے یا کچھ اور کہ بعض کہانیاں لکھنے والے کے آس پاس کلبلا رہی ہوتی ہیں مگروہ ان ہی جیسی کسی کہانی کو پالینے کے لیے ماضی کی دھول میں دفن ہو جانے والے قصوں کو کھوجنے میں جتا رہتا ہے۔ تو یوں ہے کہ جن دنوں مجھے پرانی کہانیوں کا ہوکا لگا ہوا تھا ’مارکیز کا ننھا منا نیا ناول میرے ہاتھ لگ گیا۔ پہلی بار نہیں‘ دوسری بار۔ اگرمیرے سامنے مارکیز کا یہ

Read more

عبدالرشید کی یاد میں

عبدالرشید کے چل بسنے کی خبر فون پر کشور ناہید نے دی تھی تو مجھے اپنا کئی سال پہلے کا لکھا ہوا اپنا وہ مضمون یاد آیا تھا جو میں نے ”لذیذ لمحے اور عبدالرشید“ کا عنوان جما کر لکھا تھا۔ طالب علمی کے زمانے کا لکھا ہوا مضمون۔ اور کل رات جب ہم شکیل جاذب، حارث خلیق، فرخ یار اور کشور ناہید سے ان کی شاعری سن رہے تھے، تو اس دورانیے میں ساقی فاروقی کے ”ہدایت نامہ شاعر“

Read more

مجاہد مرزا: پریشاں سا پریشاں

مجاہد مرزا سے میری گنی چنی ملاقاتیں ہیں، پہلی بار ہم لاہور میں ملے تھے، یہ 2015 کا سال تھا، اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پاک چین کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور گیا ہوا تھا۔ شام ایک کلب میں آمنا سامنا ہوا اور یہ بھلا آدمی دِل میں سما گیا۔ یوں نہیں ہے کہ مجاہد مرزا کو میں سرے سے جانتا ہی نہیں تھا، جانتا تھا اور جس بے باکی اور معصومیت کو بہم کرکے وہ مختلف موضوعات پر لکھتے رہے ہیں، اخبارات میں اور سوشل میڈیا پر، وہ میری نظر میں تھا۔

Read more