اداس نسلوں سے مایوس نسل تک

میں درویشوں کے حجرے میں ہوں یہاں مکمل خاموشی ہے اتنی خاموشی کہ اندر جاتی اور باہر آتی سانس کی خرخراہٹ بھی صاف سنائی دے رہی ہے۔ جب کوئی بھی خاموشی توڑنے پہ رضامند نہ ہو تو فرسٹریشن خود بخود نقطہ عروج پہ پہنچ جاتی ہے کہ سانس کا آنا جانا ہی تو زندگی نہیں ہے تو پھر زندگی کیا ہے؟ اسی نکتے پہ توجہ مرکوز رکھتے ہوئے میں نے جھنجھلا کر کہا کہ جنم کنڈلی میں کیتو لگا ہے اور تم سب خاموش ہو۔ کیا اس کا اپائے صرف خاموشی ہے؟ کیا تم نے سنا کہ میں جا رہی ہوں، ناکام و نامراد۔ بوڑھے درویش نے نظر اٹھائے بغیر کہا،
”وقت اور الفاظ انسان کے شکاری ہیں“
میرے کان کھڑے ہوئے کہ یہ جملہ سنا ہوا یا پڑھا ہوا لگتا ہے۔ ذہن پہ زور دینے کے باوجود یاد نہیں آ رہا کہ یہ کس کتاب میں پڑھا تھا اور کب پڑھا تھا۔ بہت سے جملے ہماری نظروں سے گزرتے ہیں ان میں سے کچھ تو وقت کی گرد میں ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ دوبارہ نظر پڑنے پر بھی شناسائی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ کوئی جملہ بہت مانوس سا لگتا ہے جیسے اسے پہلے پڑھا ہو یا پھر وہ کثرت استعمال کی وجہ سے کلیشے بن چکا ہو۔ ایسے جملے پہ توجہ کی سوئی اٹکتی نہیں ہے ایک لحظہ ٹھہر کر استہزائیہ مسکراہٹ لبوں پہ سجائے آگے بڑھ جاتی ہے۔ کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو ذہن میں ایسے اٹکتے ہیں کہ جیسے ریکارڈ پہ سوئی اٹک جائے تو بار بار ایک ہی لفظ تکرار ہوتی رہتی ہے۔ ایسی ہی کیفیت اس جملے کے ساتھ ہے یہ وقتاً فوقتاً ہانٹ کرنے چلا آتا ہے۔ خیال کی رو کو ایسے الجھاتا ہے کہ تانے بانے کا کوئی بھی سرا ہاتھ نہیں آتا۔
اس جملے کے سحر سے باہر نکلنا ناممکن ہے۔ ایسا کیوں ہے کا جواب میرے پاس نہیں۔ شاید کسی کے پاس نہ ہو، میں نے بارہا ذہن کے پوشیدہ خانوں میں ہرکارے دوڑائے کہ کچھ کھوج لائیں مگر کامیابی نہیں ملی۔ اس ناکامی پہ جھنجھلاہٹ بھی ہوتی ہے مگر الفاظ میں اتنی سچائی اور گہرائی ہے کہ اس کی جکڑن میں کمی نہیں ہوتی۔ شاید یہ جملہ میں نے نوعمری میں پڑھا ہو اس وقت جب شعور کچے پکے کے مرحلے میں ہو۔ جوں جوں شعور پختہ ہوتا ہے بہت سی باتوں کی اہمیت نہیں رہتی۔ جب کوئی بات چونکا نہ پائے تو گویا وہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہے یوں وہ خود بخود وقت کے کوڑے دان میں دفن ہو جاتی ہے۔
سچ کی خوبی ہی یہی ہے کہ زمان و مکان کی تبدیلی کے باوجود وہ ویسے کا ویسا رہتا ہے۔ اس میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ وقت کا کوڑے دان اسے ہڑپنے میں ناکام رہتا ہے۔ سیاق و سباق یاد نہ ہونے کے باوجود بھی وہ ذہن کی تختی پہ جلی حروف سے لکھا رہتا ہے۔ یعنی کہ شعور اور لا شعور کا کھیل ہے کہ جو شعور سمجھنے سے قاصر رہتا ہے وہ لاشعور کی پہنائیوں میں چھپا آشکار ہونے کے لیے اپنے وقت کا انتظار کرتا ہے۔
ایک اور جملہ بھی ہے جو ذہن کے نوٹس بورڈ پہ مستقل چسپاں ہے جسے ہٹانے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ ایک انگریز خاتون جن کا نام غالباً لیڈی ولسن تھا نے قریباً ایک صدی پہلے متحدہ ہندوستان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ملک لکڑیوں کا ایسا گٹھا ہے جس کی ہر لکڑی دوسری لکڑی کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ جب پہلی بار یہ جملہ نظر سے گزرا تو مانو کپکپی کی ایک لہر سر سے پاؤں تلک جسم میں دوڑتی چلی گئی۔ انگریز چلا گیا ہندوستان تقسیم ہو گیا۔
ہماری نسل جس کی پیدائش اس واقعے کے کئی برسوں بعد ہوئی نہیں جانتی کہ خاردار تار کے اس پار حالات کیا ہیں۔ ہم تو وہ جانتے ہیں جو ہم تک پہنچتا ہے یا پہنچایا جاتا ہے۔ ہمیں اس سے سروکار تب ہو گا جب ہم اس دائرے سے باہر نکلیں گے جس میں پچھتر سال سے مسلسل گھوم رہے ہیں۔ البتہ شعور کی سیڑھی پہ پہلا قدم رکھتے ہی علم ہو گیا تھا کہ لکڑیاں باہم دست و گریباں ہیں اور بد قسمتی سے ہاتھ بھی اپنا ہے اور گریبان بھی اپنا۔
لال آنکھوں والے درویش نے کہا تو بہت بولتی ہے، جا چلی جا تیری آواز ہمارا سکوت غارت کر دے گی۔ ہم نے بولنا ترک کر دیا ہے
ہاں ہاں جا رہی ہوں مگر خود کو بری الذمہ قرار دے کر تم بھی مکتی نہیں پا سکتے۔
آج اگست کی انتیس تاریخ ہے۔ اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہیں۔ کار ائرپورٹ کی جانب رواں دواں ہے۔ سڑک کے دونوں جانب درختوں کے پتے الوداعی دھن چھیڑ چکے ہیں یا یہ بھی گمان کی کارستانی ہے؟ بہرحال یہ ایک نیلی صبح ہے۔ روشنی کی لکیر اندھیرے کا دامن تار تار کرتی جب افق پہ نمودار ہوتی ہے تو روشنی اور اندھیرے کا ابتدائی ملاپ نیلے رنگ کو جنم دیتا ہے بعد میں اجالے کا ظہور ہوتا ہے۔ کون سا اجالا؟ یہ لفظ لغت میں تو موجود ہے مگر ہم نے اسے دیکھا نہیں شاید ہم نے عادتاً اس کا استعمال کیا ہے۔ ہم سے پہلے والوں نے بھی اسے داغ داغ اجالے سے تعبیر کیا تھا۔ بہت خوش گمان تھے کہ اس سحر کی نوید دے کر چلے گئے جو کبھی آئی نہیں۔ ایک اور کلیشے۔
یہ بہت ہنگامہ خیز مہینہ ہے۔ آزادی کے جشن اور پھٹتے آموں کے کریٹوں کے علاوہ میرے خاندان کے اکثر بچوں کی پیدائش بشمول میرے اسی مہینے میں ہوئی ہے۔ ہم میں سے اکثریت کا تعلق اس اداس نسل سے ہے جو دو دنیاؤں کے درمیان پنڈولم کی مانند جھول رہی ہے۔ کیا صحیح ہے، کیا غلط ہے کا فیصلہ جب تک نہیں کر پاتی، وائے افسوس کہ تب تک ہماری ہر صبح نیلی ہی رہے گی۔
جو بات میں درویشوں سے کہہ نہیں پائی وہ یہ تھی کہ تم نے اپنی تمام تر اداسی ہم میں منتقل کر دی ہے۔ ہم نے اندرونی اور بیرونی طور پہ بہت کچھ ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی دھمک سے اپنے وجود کو پارہ پارہ ہوتے دیکھا ہے۔ جب لکڑیاں ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے کھاتے جلنے اور دھواں دینے لگیں تو ہم اداسی سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ ہمیں یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ اس جنگ و جدل میں گٹھا ہی جل گیا تو کیا ہو گا؟
تم تو اپنی اداسی اپنے ساتھ لائے تھے اسے ہم پہ کیوں لاد دیا؟ اب ہم اپنی اور تمہاری اداسی سروں پہ لادے کسی نئی دنیا کی تلاش میں مسلسل سرگرداں ہیں۔ ہماری شناخت کا پروانہ دیکھ کر ہر کوئی ہم سے پناہ کیوں مانگتا ہے؟ یہ بد بخت اور بے تکے خیالات اس وقت کیوں آ رہے ہیں جب جہاز رن وے تیزی سے دوڑتے ہوئے ٹیک آف کرنے والا ہے؟
جہاز ٹیک آف کر چکا ہے اور وہ بستی مجھ سے لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی جا رہی ہے جہاں زندگی الٹے قدموں چل رہی ہے۔ الٹے قدموں کا یہ سفر کہاں تھمے گا؟ نہیں معلوم۔ ایک دوسرے سے بدگمان، زبوں حال اور باہم دست و گریباں۔ اپنی فرسٹریشن بد کلامی اور ٹھٹول بازی سے دور کرتے ہوئے الجھے ذہن کریں بھی تو کیا کہ ان کے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں ہے سوائے ان نت نئے گورکھ دھندوں کے کہ جن کے ذریعے ان کے جذبات کو ابھارنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ پل کے اس پار اور اس پار کی درمیانی لکیر بہت واضح ہو چکی ہے۔ کب یہ لکیر سرخ ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ قطار اندر قطار یہ بھوکے ننگے مدقوق چہرے تو بھوک کی زبان کے علاوہ کچھ نہیں جانتے، کوئی بھی گیت ان کے جذبات کو نہیں ابھارتا تو یہ گیت کن کے لیے لکھے جاتے ہیں؟
ونسٹن چرچل کے الفاظ بھی ایک ٹکر کی صورت ذہن کے پردے پہ جلوہ گر ہیں۔ اس نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان کو آزادی دی گئی تو طاقت غنڈے بدمعاشوں اور شیطانی ٹولے کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔ رہنما وہ ہوں گے جن کی ذہنی استطاعت بونوں اور تنکوں سے بنے پتلوں جیسی ہو گی۔ میٹھی زبان اور کالے دل طاقت کے حصول کے لیے متحارب ہوں گے اور ہندوستان سیاست کی دلدل میں کھو جائے گا۔ ایک دن وہ آئے گا کہ پینے کے پانی اور سانس لینے والی ہوا پہ بھی ٹیکس ہو گا۔ قطع نظر اس کے کہ پڑوسی کیا کرتا رہا مگر اتنا ادراک ضرور ہے کہ ہم نے ان الفاظ کو سچ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ میرا پڑوسی چرچل کے ان الفاظ کو دل پہ لے گیا اور اسے غلط ثابت کرنے کے لیے چاند پہ کمند ڈال چکا ہے اور میری دھرتی کی ائر لائن کا نیٹ ورک سکڑتے سکڑتے ایک نقطے تک محدود ہو گیا ہے
ہم خود کو اداس نسل کیوں نہ سمجھیں کہ نہ تو وقت نے ہمارا ساتھ دیا اور نہ ہی ہم وقت کے ساتھ چل سکے۔ وقت وہ ظالم درندہ ہے جو کمزور کو چیر پھاڑ، اس کے پنجر پہ پاؤں رکھ آگے بڑھ جاتا ہے۔ راستے میں کون حائل ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جانتا ہے۔ ہم میٹھے اور خوبصورت لفظوں کے ڈسے ہوئے لوگ ہیں۔ وقت اور الفاظ دونوں ہی ایسے شکاری ہیں کہ جن کا کاٹا پانی نہیں مانگتا۔ وہ کون ہے جو ہمارے منہ میں اپنے الفاظ ٹھونستا ہے کیا اسے نہیں دکھائی دیتا کہ وہ لفظ قے کی صورت باہر نکل آتے ہیں۔ اسے کوئی کہے کہ ”تینوں رب دیاں رکھاں“ ( رب تیری حفاظت کرے ) اب میرے بچوں کے بارے بھی سوچ ورنہ اگلی نسل اداس نہیں بلکہ مایوس نسل ہو گی۔ کون جانے کہ نسل ہو گی بھی یا ٹکڑوں میں بٹے ہوئے چند گروہ ہوں گے کہ وقت کا شکاری تو تاک میں ہے۔

