کینیڈا کا الیکشن اور ہماری ننھی ننھی حسرتیں

اس بار کینیڈا کے الیکشن کے بارے میں شنید تھی کہ کچھ گہما گہمی ہو گی۔ جسٹن ٹروڈو کی ٹرم ختم ہونے سے پہلے ریزائن۔ ارلی الیکشن کا غوغا، مہنگائی، جاب مارکیٹ کے دگرگوں حالات، کساد بازاری اور امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات نے فضا ہی کچھ ایسی بنا دی کہ ایسا سوچنا کچھ غلط بھی نہیں تھا۔ ٹرمپ فینامنا امریکہ تک ہی محدود نہیں اس کی ایک کاربن کاپی یہاں بھی موجود ہے۔ ایسا وہ لوگ بھی کہتے ہیں

Read more

بھایا دل پہ لینے کا نہیں

آخری افطاری میں ابھی ڈھائی گھنٹے باقی تھے اور ہم سوشل میڈیا کی ورق گردانی کرتے ہوئے اپنا روزہ بہلا رہے تھے کہ اچانک ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ صاحب پوسٹ خاصے دل اور قلم برداشتہ تھے۔ آخری سحری کے بعد ایسا ہونا عین مُمکن ہے۔ ہمیں تو عمر عزیز کے ماہ و سال نے سکھلا دیا کہ آخری سوئیاں نکلنے سے پہلے بہت تکلیف ہوتی ہے کیوں کہ برداشت بھی آخری دموں پہ ہوتی ہے لیکن ہر کوئی ہماری

Read more

استادوں کا اُستاد

یہ فیس بُک ہے، ایک بُلبُلہ یا وہ مصنوعی دنیا جو ہم سب نے اپنے گرد بنا لی ہے۔ اس بلبلے کے کچھ مکین اسے میدان جنگ سمجھتے ہیں اور کچھ پناہ گاہ جان کر بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ بات سُنی نہ گئی، بات کہی نہ گئی یہ ہمیشہ سے انسانوں کا مسئلہ رہا ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ آنے والے زمانے میں بھی رہے گا لہٰذا حقیقی دنیا میں جو بات ہم کسی سے کہہ

Read more

  یادوں کی برسات میں بھیگا دن

ناشتہ کرتے سمے میں سوچ رہی تھی کہ یہ مٹھی بھر اناج کتنا اہم ہے گر پیٹ میں نہ پڑے تو زندگی کی گاڑی ہچکولے کھانے لگتی ہے۔ دنیا کو درپیش مسائل میں سر فہرست بھوک ہے۔ زمین اتنا اناج ضرور پیدا کرتی ہے جس سے بھوک کا سدباب ہو سکے مگر سرمایہ داری پہ مبنی بین الاقوامی معاشرت میں ایک طرف اپنی ضرورت سے زائد اناج پیدا کر کے سمندر برد کر دیا جاتا ہے اور دوسری طرف وہ

Read more

حکایت غم رفتہ و دوراں

میں نے سینکڑوں بار بند گلی کے بارے میں پڑھا ہے۔ بند گلیاں دیکھی بھی ہیں اور ان کی گھٹن کو پور پور اترتے محسوس بھی کیا ہے۔ تنگ سے تنگ گلی بھی تین اطراف سے بند ہونے کے باوجود ایک سمت سے ہمیشہ کھلی ہوتی ہے مگر ایسی بند گلی کبھی نہیں دیکھی جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہ ہو۔ سمے کی دھارا نے دو سو انسانوں کو ایسی ہی گلی میں بے بسی سے تڑ پھڑانے کو

Read more

سلگتے حرفوں سے لکھی تحریر

پرانی فائلوں کی ورق گردانی کرتے کرتے دماغ جھنجھنانے لگا ہے اور جھٹکوں کا تسلسل بھی دل و دماغ اڑائے دے رہا ہے۔ ساتھ والی نشست پہ بیٹھے لڑکے کی آنکھیں بند ہیں۔ زیادہ تر مسافر اونگھ رہے ہیں بلکہ کچھ تو باآواز بلند خراٹے لے رہے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ نیند تو کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے مگر میری بے خواب آنکھوں سے نیند کوسوں دور ہے۔ بے خوابی سے نمٹنے کو میرے بیگ میں نیند کی

Read more

  زندگی کا پہلا جبر

نشست کی پشت پہ سر ٹکا کر میں نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں تو سامنے پھر مہر بانو کھڑی مجھے اضطرابی نظروں سے گھور رہی تھی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو اور کہہ نہ پا رہی ہو۔ ذہن کے کباڑ خانے میں دھول مٹی سے اٹی پرانی فائلوں میں سے مطلوبہ فائل کی تلاش آسان کام نہیں۔ بہت سی گمشدہ فائلیں یک لخت مل جائیں تو انہیں پروسیس کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ میں نے جھنجھلا کر

Read more

بھول بھلیوں میں گھومتی کہانی

جہاز کے کیبن میں اس سمے میزوں کے کھلنے کی کھٹر پٹر اور راہداری میں آتے جاتے قدموں کی ہلکی سی دھمک اور دھیمی دھیمی آوازوں کے شور نے پورا ماحول متحرک کر دیا ہے۔ اس ہلچل سے اندازہ ہوا کہ اعلی الصبح گھروں سے نکلے ہوئے تمام مسافر کھانے کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ یوں بھی بھوک دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ٔ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ کھانے کے لیے زندہ رہتے اور

Read more

گمشدہ کہانی کا پہلا سِرا

جہاز کی ننھی مُنی کھڑکی سے باہر کے منظر نامے نے مجھے بے حد تھکا دیا ہے۔ میری حالت اس مسافر جیسی ہے جو میلوں کی مسافت طے کر کے بھی کہیں نہ پہنچا ہو۔ اگر دیکھا جائے تو وہ حقیقتاً میلوں کی مسافت ہی تھی جسے رفتار نے گھنٹوں سے گھٹا کر منٹوں پہ منطبق کر دیا تھا۔ آج کی دُنیا اتنی برق رفتار ہے کہ جو سوچتی ہے وہ کر گُزرتی ہے اور افسوس کہ ہم اس برق

Read more

ایک نئی کہانی کی شروعات

کہانی یہیں تک ہی پہنچی ہے کہ جہاز ٹیک آف کر چکا ہے۔ زمین سے بلندی کی جانب اٹھتے ہوئے جہاز کا زاویہ اس وقت ترچھا ہے۔ میری نمناک نظر کھڑکی سے باہر کے منظر نامے پہ مرکوز ہے۔ اس وقت صبح کے دس بجے ہیں اور چمکیلی دھوپ میں نیچے پھیلے ہوئے شہر کے خد و خال اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں سمیت ایک بڑے سے کینوس پہ نقطوں کی مانند بکھرے پڑے ہیں۔ دن تابناک ضرور ہے

Read more

اداس نسلوں سے مایوس نسل تک

میں درویشوں کے حجرے میں ہوں یہاں مکمل خاموشی ہے اتنی خاموشی کہ اندر جاتی اور باہر آتی سانس کی خرخراہٹ بھی صاف سنائی دے رہی ہے۔ جب کوئی بھی خاموشی توڑنے پہ رضامند نہ ہو تو فرسٹریشن خود بخود نقطہ عروج پہ پہنچ جاتی ہے کہ سانس کا آنا جانا ہی تو زندگی نہیں ہے تو پھر زندگی کیا ہے؟ اسی نکتے پہ توجہ مرکوز رکھتے ہوئے میں نے جھنجھلا کر کہا کہ جنم کنڈلی میں کیتو لگا ہے

Read more

ایک بے ربط کہانی

شہرزاد خاموش ہے۔ اتنی خاموش کہ اس خاموشی سے خوف آنے لگا ہے۔ انگارہ سی آنکھوں میں ناچتی وحشت دِل دہلا دیتی ہے۔ کیا اس کے پاس کہنے کو اب کُچھ بھی نہیں رہا؟ وہ جو دِل کی زرخیز زمین پہ ہل چلا کر انواع و اقسام کی کہانیوں کی فصل ایک رات میں کاشت کر لیا کرتی تھی کیا وہ زمین بنجر ہو چُکی ہے؟ کیا اس کی نہ ختم ہونے والی کہانیوں کے سوتے خُشک ہو گئے ہیں؟

Read more

اندھا بھوت اب یہ قبر کھودنا بند کرے

شیکسپئر کے یہ جملے اب کلیشے کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں کہ دنیا ایک سٹیج ہے۔ سب اپنا کردار نبھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر وہ زندگی ہی کیا جو اپنی سفاکیت سے قدم قدم پہ حیران نہ کرے۔ برسوں پہلے ایک کردار اپنے اوپر خاتمے کی مہر لگا کر خاک کا پیوند ہوا۔ اب تک تو شاید اس کی ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہوں مگر ہم انسانوں کو معاف کرنے کی

Read more

کوچہ بغداد سے براہ راست

سوشل میڈیا پہ کوا کان لے گیا کے محاورے کی بہت پذیرائی ہوتی ہے۔ عقل تو کہتی ہے کہ خدا کے بندے پہلے اپنے کان تو چیک کر پھر واویلا مچانا مگر کیا مجال کہ بندا عقل کے گھوڑے کو گھاس ڈالے اور ذرا سی سوچ بچار ہی کر لے۔ دماغ بے چارہ تو پہلے ہی پچاسیوں الجھنوں میں گرفتار ہے اسے بلا وجہ کی زحمت کیوں دی جائے؟ ارے بھئی اگر کسی موضوع پہ معلومات نہیں ہیں اور کسی

Read more

واہمہ

یہ کھلی ہوئی کھڑکی ہے نا یہ بہت ہی عجیب و غریب ہے۔ یہ جو کچھ دکھاتی ہے وہ ہمیں دیکھنا نہیں چاہیے۔ ایسے رنگ دکھاتی ہے جنہیں ہم اپنے کینوس میں بھر نہیں سکتے۔ وہ منظر جو آنکھ کبھی دیکھ ہی نہ پائے اسے دیکھنے سے کیا حاصل؟ ایسے خواب دیکھنے کا کیا مطلب جن کی کوئی تعبیر ہی نہ ہو۔ یہ خسارے کا سودا ہے۔ آخر ہم انسان نفع و نقصان کے بارے میں ہی کیوں سوچتے ہیں؟

Read more

موجودہ حالات میں آپ کیا سوچتے ہیں؟

کیا دور ابتلا آ گیا ہے کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ڈھنگ کی بات کرتے ہیں یا جن سے کچھ اچھا سیکھنے کو ملتا ہے۔ سوشل میڈیا کے حالات دیکھ کر زبان پہ الامان و الحفیظ کا ورد بے ساختہ جاری ہو جاتا ہے۔ وہ کچھ پڑھنے اور دیکھنے کو ملا ہے کہ چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ ارے بھئی ایک سو چودہ بھی ہوتے تو وہ بھی روشن ہو جاتے۔ اپنی تو بس ہو گئی کہ

Read more

ایک خط علامہ اقبال کے نام

حکیم الامت، شاعر مشرق، علامہ محمد اقبال صاحب بصد عجز و انکسار سلام آج ساری قوم آپ کا دن مناتی رہی مگر اپنی تو وہی بے ڈھنگی چال یعنی کہ ہمارا حجرہ جہاں بستر پہ لیٹے لیٹے ہمیں نادر قسم کے خیالات سوجھتے رہتے ہیں۔ ایک ہم ہی کیا ساری قوم اب چھٹی کا دن ایسے ہی مناتی ہے۔ بہت تیر مارا تو ٹی وی کے کان مروڑ لیے ۔ ٹی وی سے یاد آیا کہ آج آپ کے مرقد

Read more

پل پل بدلتا منظر نامہ

ہماری طرف برگ ریزی کا موسم بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ درخت جب ہرے رنگ کا لباس تبدیل کر کے لال پیلا اور نارنجی لبادہ اوڑھ لیتے ہیں تو ان کی چھب ہی نرالی ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہواؤں کے زور پہ ٹوٹتے بکھرتے یہ پتے اپنے اندر ایک عجیب سی اداسی لاتے ہیں۔ ٹوٹنے والے پتوں میں امید کا پتا کب شامل ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ یہ عمل اکتوبر کے وسط سے شروع

Read more

میرے معبود آخر کب تماشہ ختم ہو گا؟

صاحبان مہربان قدردان، یہ جملہ ہم بچپن سے پچپن تک سنتے آئے ہیں۔ ہر چوراہے، ریل گاڑی اور بس میں کوئی نا کوئی نوسر باز اپنی دکان چمکانے کو یہی صدا لگایا کرتا تھا۔ ہم جیسے سادھارن آدمی نے جب سے ہوش سنبھالا ہے چشم حیراں سے انواع و اقسام کے کھیل تماشے ہی دیکھے ہیں۔ بقول ہمارے ممدوح مرزا نوشہ بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے ہوتا ہے یہاں روز تماشا میرے آگے مرزا کے دور میں چھوٹے موٹے تماشے

Read more

جھروکے میں کھڑی معصوم لڑکی کے ارمانوں کا خون ہوا

کبھی کبھی کوئی عادت یا کوئی بے جان سی چیز زندگی میں ایسے دخیل ہو جاتی ہے جیسے وہ ہمارے کل کا ایک جزو ہو۔ کچھ ایسا جس کے بغیر اپنا آپ ادھورا سا لگتا ہے۔ جو کسی سے کہنے کا حوصلہ نہیں پڑتا وہ اسے بلا خوف و خطر سنایا جا سکتا ہے۔ پہروں ایسی باتیں کی جا سکتی ہیں جن کا بظاہر اس کے کوئی مقصد نہیں ہوتا کہ دل ہلکا کر لیا جائے اور اپنے آپ کو

Read more

پٹاری، تلے دانی اور نوسٹیلجیا

ہماری زندگی میں جن اشیا کی بہت اہمیت ہے۔ ان میں سے ایک تو پٹاری ہے۔ اور دوسری؟ ارے صاحب ذرا چھری تلے دم تو لیجیے وہ بھی بتلا دیں گے۔ ابھی اتنا ہی لکھا تھا اور سوچ میں گم تھے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے کہ ایک لطیفہ ہو گیا۔ اپنے لکھے پہ نظر دوڑائی تو کمپیوٹر موصوف پٹاری کو پٹواری بنا چکے تھے۔ ان کا مزاج بھی مزاج یار کی مانند ہے وقت دیکھتا ہے نہ موقع

Read more

لوگ مزاروں پہ کیوں جاتے ہیں

ڈئیر پروفیسر سلام، آپ کا گرامی نامہ ملا، آپ لکھتے ہیں تمہارا مضمون پڑھا مگر تشنگی سی رہ گئی۔ دل کے پھپھولے پھوڑنے کی تگ و دو میں اصل موضوع سے صرف نظر کر گئیں کہ لوگ مزاروں پہ کیوں جاتے ہیں؟ قبلہ ہم سے کہیں بہتر تو آپ سمجھتے ہیں۔ اگر اس نالائق و ناچیز کا امتحان ہی مقصود ہے تو اپنی سی کچھ اور سعی کر کے دیکھ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ عجیب و غریب فطرت کے مالک

Read more

جلے دِل کے پھپھولے

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے برسوں پہلے پڑھی یہ تحریر تو ذہن کے پنّوں پہ آج بھی تر و تازہ ہے۔ محو بھی کیسے ہو کہ کُچھ لوگوں نے ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے یاد دہانی کا۔ ہم تو تھک ہار کر چُپ ہو بھی جائیں مگر یہ مہربان اس قدر ڈھیٹ ہڈی واقع ہوئے ہیں کہ نہ نہ کرتے بھی کچھ نہ کُچھ طوعاً و کرہاً بولنا ہی پڑتا ہے۔ ہم ایسے بھی سنت سادھو نہیں کہ کوئی بے

Read more

اُداسی بھری دُھن

ہم گرم ملکوں کے رہنے والے جب مغرب میں آ بستے ہیں تو یہاں موسم کے ہاتھوں بہت پریشان رہتے ہیں۔ کڑکڑاتا ہوا جاڑا جب ہڈیوں میں اترتا ہے تو مانو جسم کا ہر جوڑ جم جاتا ہے۔ باہر درجہ حرارت منفی بیس ہے نرم و گداز کمبل سے نکلنے کا من نہیں مگر گھڑی کا الارم بج گیا تو بستر چھوڑتے ہی بنتی ہے۔ آسمان سے گرتے برف کے گالے ہوں یا موسلادھار برستی بارش کوئی کام نہیں رکتا

Read more

کہانی رائیگانی کی

ڈیئر پروفیسر سلام، آج ایک لمبے وقفے کے بعد آپ سے بات کرنے کی شدید خواہش ہے جو ہمیں خط لکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔ سوچ کے کیڑے کی کلبلاہٹ جب حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو وہ کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے میں ایک انسان کو کسی دوسرے انسان کی شدت سے ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کوئی ایسا جو احساسات کی کاٹ کو سمجھ سکے۔ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے ایسا ہم نے پڑھا تھا مگر

Read more

تو تو گئیو ٹھاکر

برسوں پرانی بات ہے کہ میٹرک کے اردو کے سلیبس میں ایک مضمون ہوا کرتا تھا، ”ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے“ مصنف کا نام تو ذہن سے اتر گیا ہے مگر نفس مضمون آج بھی یاد ہے۔ کچھ مضامین سدا بہار ہوتے ہیں۔ ان کا وقت مقام اور کردار بدل جاتے ہیں۔ زمان و مکان کی قید سے ماورا وہ ہر زمانے پہ منطبق رہتے ہیں۔ جب تذکرہ مہربانوں کا ہو تو کوئی دور ان سے مبرا نہیں ہوتا۔

Read more

باجے کی پاں پاں اور اخلاقی اقدار کا جنازہ

کل رات ہم تا دیر اس کھڑکی میں کھڑے رہے جو سمندر کی جانب کھلتی ہے۔ سمندر کی لہروں میں مد و جزر کے ساتھ ساتھ دور دور تک سر ہی سر تھے، سمندری طوفان کی وارننگ کے باوجود سارا شہر ہی سمندر پہ امڈ آیا تھا۔ شور ہی شور تھا پاں پاں کا شور۔ سائیلنسر کے تکلف سے بے نیاز موٹر سائیکلوں کا شور۔ اس بے ہنگم شور کی بے سری بے تالی اور کانوں کے پردے پھاڑ دینے

Read more

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات دل

ڈیئر پروفیسر سلام، کرونا جیسی منحوس بیماری سے جوجنے کے بعد کیا حال سنائیں دل کا، اس دوران چند لمحے تو ہمیں یوں لگا کہ یہ کہانی بھی اب ختم ہے زندگی کا وہ آدھا گھنٹہ نفی ہو کر کہاں گیا ہمیں نہیں معلوم۔ علم ہے تو بس اتنا کہ ہم نے وہ جیا ہی نہیں! اس دورانیہ میں ہم کہاں تھے کچھ خبر نہیں شاید عالم برزخ میں ہوں۔ یا شاید فرشتوں کو کہا گیا کہ یہ کس کو

Read more

ایک جید عالم کے ساتھ ایک سفر کی سرگزشت

پروفیسر ڈیئر، طبیعت میں اتنی بیزاری ہے کہ ذہن نہ پڑھنے پہ مائل ہے اور نہ لکھنے پر۔ آپ کی بھیجی ہوئی مشتاق یوسفی کی کتابیں کب سے سرہانے پڑیں ہیں پر کیا مجال کہ ہم نے کسی کتاب کو کھول کے بھی دیکھا ہو۔ کئی اور بھی شروع کیں پر چند صفحات کی ورق گردانی کر واپس رکھ دیں۔ لکھنے پڑھنے کو یکسوئی چاہیے اور ہم ہیں کہ ہمہ وقت پہلو پہ پہلو بدل رہے ہیں۔ بھرتی کے لکھاری

Read more

دیس میں ان کا چاند کب نکلے گا؟

ڈیئر پروفیسر، سلام سورج کی حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دن کے اوقات میں درجہ حرارت چالیس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے مگر سیاسی سطح پہ سورج نصف النہار پہ پہنچ چکا ہے۔ یہ گرما گرمی اور کتنا قہر ڈھائے گی ابھی کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ ماہ رمضان میں جسمانی کمزوری کے ساتھ برداشت میں اتنی کمی واقع ہو چکی ہے ہر کوئی بات بے بات لڑنے مرنے پہ تلا بیٹھا ہے۔ روزے کا مقصد اپنے

Read more

یہ منجن اب نہیں بکے گا، نئے نعرے ایجاد کرو

ڈیئر پروفیسر، سلام پچھلے ہفتے آپ کو پہ در پہ کئی خطوط لکھے۔ یقین مانئیے کہ داستان درد رقم کرنا آساں نہیں۔ عالم وحشت میں دل خون کے آنسو روتا ہے مگر کسی پل کسی کروٹ قرار نہیں آتا۔ دل کے جانے کی کیا کہیں کہ بقول میر عشق برے ہی خیال پڑا ہے، چین گیا آرام گیا دل کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا شام گیا دل کے جانے کی داستانیں دیوار و در پہ رقم تھیں مگر

Read more

تماشہ برگد کی چھاؤں تلے

ڈیئر پروفیسر، سلام سنا ہے کہ غالب بڑا الہامی شاعر تھا۔ قریباً ڈیڑھ صدی گزر جانے کے بعد بھی اس کا کلام آج تک تازہ اور زبان زد عام ہے۔ کوئی بھی موضوع ہو کوئی نا کوئی شعر نکل ہی آتا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہمیں شاعری سے شغف ہے تو بات شاعر سے ہی شروع ہو گی۔ یہاں اردو کی کتابیں نہیں ملتیں اور اگر ملتی بھی ہیں تو بڑی مشکل سے ملتی ہیں۔ آج سے گیارہ

Read more

بارہواں کھلاڑی کھیلن کو مانگے چاند

ڈیئر پروفیسر، سلام ہمیں علم ہے کہ آپ جواب دینے سے کتراتے ہیں کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ کم سے کم سوال پوچھیں پر ہم بھی کیا کریں کہ یہ تمام سوال تو ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ سوال وہی ہیں پرانے گھسے پٹے۔ نہ ہماری آرزوئیں بدلتی ہیں نہ ہمارے سوال۔ سوالوں کی ان گتھیوں کو کوئی اہل علم ہی سلجھا سکتا ہے، آپ سے بڑھ کر اور کون ہو گا؟ ہم سے پہلی نسلیں بھی یہی سوال

Read more

منکے کی تلاش

ہر کسی کی زندگی میں بہت سے ایسے کردار ہوتے ہیں جن سے ہم دل کی بات کبھی زبانی یا کبھی لکھ کر کرتے ہیں۔ ایسی بات جو ہر کسی سے نہیں کی جا سکتی۔ پروفیسر بھی ایک ایسی ہی شخصیت ہے۔ وہ بہت کم اور مختصر جواب دیتے ہیں مگر بات سن ضرور لیتے ہیں۔ بات کہی نہ گئی، بات سنی نہ گئی یہی تو عام انسانوں کا المیہ ہے۔ ہم نے انہیں بہت سے خطوط لکھے ہیں ان

Read more

تیسری دنیا کے باسی کا بھائی جان چوہدری کے نام ایک کھلا خط

محترمی و مکرمی سلام و کلام تو دور کنار ہمارا تو جی چاہتا ہے کہ آپ کا منہ چوم لیں اور پوچھیں کہ آپ نے یہ کتابی بیٹھک بنائی کیوں تھی؟ اب اس کا نام بدل کر کتابی فصیل رکھ دیں۔ دیواروں کی اس دنیا میں کیا کمی تھی کہ ایک اور کی ضرورت پیش آ گئی؟ ہم تو یہاں یہ سوچ کر آئے تھے کہ گوناگوں لوگوں سے ملاقات ہو گی انجانے دیسوں کی سیر کریں گے کچھ ان

Read more

کنفیشن باکس میں لکھی تحریر

آج ایک دوست کی وال پر ایک انتہائی دلگداز پوسٹ دیکھی جس میں انہوں نے اپنی ایک دوست کے ہمیشہ کے بچھڑ جانے کی کہانی بیان کی ہے۔ یہ واقعہ کوئی بیس سال پرانا ہے مگر اس کی کسک ان کے دل میں اس حوالے سے آج تک ہے کہ وہ کوئی اہم بات کہنا چاہتی تھی مگر وقت نے انہیں اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ اس کی بات سن پاتیں کیونکہ امیگریشن کے بعد اس سے کبھی مل نہ سکیں۔ اور وہ وہاں چلی گئی جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

انسان بہت سی باتوں کا زندگی میں اعتراف نہیں کرتا۔ ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ انتہائی مخلص اور ہمدرد، ہم سے بے غرض محبت کرتا ہے، دکھ درد کا ساتھی مگر ہم اس محبت کا کبھی خاطر خواہ جواب نہیں دے پاتے۔ جانتے بھی ہیں، سوچتے سمجھتے بھی ہیں مگر زندگی کا گورکھ دھندہ اتنا الجھا کے رکھتا ہے کہ ہم ان کی محبت کا جواب ٹالتے رہتے ہیں مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، یہ اپنی چال سے چلتا ہے۔ جب مہلت ختم ہو جائے تو وقت کے رسیور سے فقط ایک ہی آواز آتی ہے کہ معزز صارف یہ مطلوبہ سہولت اب آپ کو میسر نہیں۔ ایسا حساس انسان اس دنیا کا نہیں ہوتا، بہت جلد چلا جاتا ہے۔ جو رہ جاتے ہیں تو یہ سفاک دنیا انہیں اتنے زخم لگاتی ہے کہ وہ اندر ہی اندر مرتے رہتے ہیں۔

Read more

عورت مارچ اور استبداد کے نئے حربے

سوشل میڈیا پر رائٹ ونگ کی خواتین کی تصاویر نظر سے گزریں مع فرسودہ نعروں کے تو ذہن میں بے ساختہ یہ مصرعہ گونج اٹھا۔ جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا۔ دل جلانے والے دل بنانے اور دلوں کو جوڑنے کی بات کہاں کرتے ہیں؟ کسی نے لکھا کہ ان کا بیانیہ بدل رہا ہے اور آج سے پانچ برس بعد وہ کہیں گے کہ اس تحریک میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ ہمیں تو سوچ کر ہی جھرجھری سی آتی ہے کہ جو قتل کرتے ہیں وہی مظلومیت کا دعویٰ دائر کریں گے۔

Read more

بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کی وجہ تو تلاش کرنی ہو گی

ہر آنے والا دن اپنے پہلو میں بربریت کی ایسی داستانیں لا رہا ہے جو دل دہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ ابھی ایک کی بازگشت ختم نہیں ہوتی کہ دوسرے اور تیسرے کی شروع ہو جاتی ہے۔ ہائی وے کے واقعہ پر ابھی دہائیاں ختم نہیں ہوئیں کہ فورٹ عباس کا واقعہ جس میں گھر میں گھس کر پندرہ سالہ بچی کو والد کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کسی اور شہر میں شوہر کی موجودگی میں بیوی

Read more

مٹی کی خوشبو اور بچوں کے چبھتے سوالات

میں گزشتہ آٹھ سال سے کینیڈا میں مقیم ہوں مگر جس مٹی سے میرا خمیر اٹھا ہے وہ نہ صرف میرے بلکہ غیر ممالک میں بسنے والے تمام ہم وطنوں کے اندر رہتی ہے۔ مٹی کی خوشبو ہمیں بار بار کھینچ کر وہاں لے جاتی ہے۔ ہمارے گھر ایک طرح سے منی پاکستان ہوتے ہیں۔ ہمارا دل یہاں ہوتا ہے پر دھڑکن پاکستان میں۔ وہاں کی ہر خوشی اور غمی ہم پر اثرانداز ہوتی ہے۔ پاکستانی ٹی وی چینل ہمارے

Read more

نا مردی کے جوتے

زندگی نام کی فاحشہ کے مُنہ کو خون لگا ہے یہ بھینٹ چاہتی ہے ایک کنواری کنہیا کی بھینٹ یہی تو صدیوں کی رِیت ہے قحط پڑا ہے اناج کے دیوتا آنکھیں لال ہیں بارش کا دیوتا روٹھ گیا ہے باڑھ نے تباہی پھیلائی ہے دریا اُتر نہیں رہا ہے سورج قہر ڈھا رہا ہے سارے دیوتا ناراض ہیں اور سب کنواریوں کی بھینٹ چاہتے ہیں وقت کیلنڈر کے پنے تیزی سے اُلٹنے لگا انسان نے درزی سے دیوتا کا

Read more

مختاریا ہوش کر، گل ودھ گئی اے

میرے فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی ہے۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا۔ گھڑی کی سوئیاں بتا رہی ہیں کہ آنکھ لگے بمشکل پانچ گھنٹے گزرے ہیں۔ گھنٹی کی آواز تھم چکی ہے۔ کال اسپتال سے تھی۔ ری ڈائل کیا تو جونیئر ڈاکٹر نے بتایا کہ ڈاکٹر شیراز آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری آواز ڈاکٹر شیراز کی تھی۔ یار حسنین مجھے علم ہے تم صرف چھ گھنٹے پہلے ڈیوٹی آف کر کے گئے ہو بہت مجبوری میں کال کر

Read more

کیا ہم آنے والی تبدیلیوں کے لئے تیار ہیں؟

ہم نے ہمیشہ سوچا کہ وقت کا دامن تو نت نئی تبدیلیوں سے بھرا ہوتا ہے تو حیرانی کیسی۔ اس سوچ کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جس زمانے میں ہماری نسل کا جنم ہوا دنیا کے بڑے بڑے واقعات ظہور پذیر ہو چکے تھے۔ ہمارے ہوش سنبھالنے تک تین اہم واقعات ہوئے جن میں پہلا واقعہ انسان کا چاند پر قدم رکھنا، دوسرا کمپیوٹر کی ایجاد اور تیسرا سویت یونین کا ختم ہونا تھا۔ موخر الذکر دونوں بہت اہمیت کے

Read more

میں بے حیا عورت ہوں!

ہاں میں اِک بے حیا عورت ہوں اور وہ مجسّم پارسائی ہے وہ جو ستر لبادوں میں چُھپے حورروں کے ننگے جسم کے نشیب وَ فراز دیکھتا ہے پستانوں کی گولائیاں ناپتا ہے سڈول ٹانگوں کے قصّے سُناتا ہے شیطانی مُسکراہٹ لبوں پہ سجائے ٹانگوں کے درمیاں ہونے والی الف لیلٰی سُناتا ہے سامنے بیٹھے مدقوق وحشت زدہ چہروں کی شہوت بڑھاتا ہے جو دودھ اور شہد سے گُندھی حور کے بدن کی حلاوت دکھاتا ہے مُشک و عنبر میں

Read more

کھڑکی میرے من کی

کھڑکی کی اہمیت کو وہ سمجھتا ہے جس کا باہر کی دنیا سے تعلُق اِسی کھڑکی کے ذریعے ہوتا ہے۔ آج کی دُنیا اس لحاظ سے بہتر ہے کہ سائنس کی نت نئی ایجادات کی بدولت اب کھڑکی روائیتی کھڑکی نہیں رہی بلکہ یہ ایسی کھڑکی بن چُکی ہے کہ جو ہمیں دیس دیس کے لوگوں سے مُلاقات اور اُن کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ جب پردیس جا

Read more

آزاد چائے والا کی وڈیو اور خواتین کی تعلیم

آج کل سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوزگردش کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے متنازع مواد کی بنا پر وائرل ہو جاتی ہیں۔ خاص کر وہ جو خواتین سے متعلق ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چالیس سالہ جبر نے ایک ایسے مائنڈ سیٹ کو جنم دیا ہے جو خواتین کو ترقی کرتے اور آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ یہ وہ خوفزدہ مائنڈ سیٹ ہے جو سمجھتا ہے کہ عورت اگر تعلیم یافتہ ہوگی تو

Read more