آج ایک دوست کی وال پر ایک انتہائی دلگداز پوسٹ دیکھی جس میں انہوں نے اپنی ایک دوست کے ہمیشہ کے بچھڑ جانے کی کہانی بیان کی ہے۔ یہ واقعہ کوئی بیس سال پرانا ہے مگر اس کی کسک ان کے دل میں اس حوالے سے آج تک ہے کہ وہ کوئی اہم بات کہنا چاہتی تھی مگر وقت نے انہیں اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ اس کی بات سن پاتیں کیونکہ امیگریشن کے بعد اس سے کبھی مل نہ سکیں۔ اور وہ وہاں چلی گئی جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔
انسان بہت سی باتوں کا زندگی میں اعتراف نہیں کرتا۔ ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ انتہائی مخلص اور ہمدرد، ہم سے بے غرض محبت کرتا ہے، دکھ درد کا ساتھی مگر ہم اس محبت کا کبھی خاطر خواہ جواب نہیں دے پاتے۔ جانتے بھی ہیں، سوچتے سمجھتے بھی ہیں مگر زندگی کا گورکھ دھندہ اتنا الجھا کے رکھتا ہے کہ ہم ان کی محبت کا جواب ٹالتے رہتے ہیں مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، یہ اپنی چال سے چلتا ہے۔ جب مہلت ختم ہو جائے تو وقت کے رسیور سے فقط ایک ہی آواز آتی ہے کہ معزز صارف یہ مطلوبہ سہولت اب آپ کو میسر نہیں۔ ایسا حساس انسان اس دنیا کا نہیں ہوتا، بہت جلد چلا جاتا ہے۔ جو رہ جاتے ہیں تو یہ سفاک دنیا انہیں اتنے زخم لگاتی ہے کہ وہ اندر ہی اندر مرتے رہتے ہیں۔
Read more