تاریخ میں سفر: ایک مختلف جہان کی سرگزشت
کتاب ”میں ہوں جہاں گرد“ ۔ مصنف: فرخ سہیل گوئندی
ناشر: جُمہوری پبلیکیشنز، لاہور۔ واٹس ایپ 03334463121
دنیا نے سرد جنگ کی سب سے فیصلہ کن، 1980 کی دہائی میں بے مثال جغرافیائی سیاسی صف بندیوں اور زبردست افراتفری کا مشاہدہ کیا، جو بالآخر دو قطبی دنیا کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوا۔ دو مختلف فلسفے۔ سرمایہ داری اور کمیونزم، بڑے پیمانے پر بلاکس کی شکل اختیار کر چکے تھے، اور دونوں ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ مؤخر الذکر نے پاکستان کے طلباء اور دانشوروں میں نمایاں حمایت حاصل کی، اور آخر کار ملک کی سب سے بڑی سوشلسٹ جمہوری پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا باعث بنا۔
ایسے ہی ایک طالب علم ایکٹوسٹ فرخ سہیل گوئندی، جو سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں جنرل ضیا الحق کے واشنگٹن کے ساتھ سٹریٹیجک اتحاد سے مایوس تھے، اور سوشلسٹ یوٹوپیا کے تصور سے متاثر تھے، انہوں نے لاہور سے بلغاریہ تک زمینی سفر کیا جو تب کمیونسٹ بلاک کا حصہ تھا۔ اس کے نتیجہ میں تحریر شدہ سفر نامہ، ”میں ہوں جہاں گرد“ 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایران، ترکی اور بلغاریہ کے تاریخی، سیاسی اور ثقافتی منظر نامے پر ایک بھرپور تبصرہ ہے۔
ان پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے، یہ سفرنامہ ایک یادگار جہت حاصل کرتا ہے کیوں کہ یہ آہستہ آہستہ میسوپوٹیمیا کی تہذیب کی صدیوں پرانی تاریخ اور مغربی ایشیا میں رومن، بازنطینی، سلجوق، عثمانی اور دیگر سلطنتوں کی موجودگی کا ذکر کرتا ہے۔ ایران اور ترکی کے تاریخی آثار تک رسائی کے ساتھ، مختلف طرزِ تعمیرات کی تفصیلات قارئین کو حکمران سلطنتوں کے تاریخ وار تسلسل کو جاننے میں مدد دیتی ہیں۔ مصنف نے اپنے منتخب کردہ مقامات اور ان کی اہمیت کی وضاحت میں کوئی تفصیل ترک نہیں کی اور یہ امر ان کے سفر کے پس منظر میں موجود تیاری، مطالعہ اور منصوبہ بندی کو ظاہر کرتا ہے۔
بعض اوقات، آواز شاعرانہ کشش پیدا کرتی ہے جب مسافر، جو کہ تاریخ اور سیاسیات کا طالب علم ہے، وسیع خطوں میں سفر کرتے ہوئے انسانی ارتقا کے اس سفر کا تصور کرتا ہے، جس کا تعلق کسی زمانے میں عظیم ترین سلطنتوں سے تھا۔ پوری کتاب میں ایک واضح بیانیہ ہے، جو معلومات اور مشاہدات کے بہاؤ کو قاری کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔ اس میں مزید مدد اس بیانیہ کو متعدد ابواب میں تقسیم کرنے سے ملی ہے۔ تاریخی اور سیاسی واقعات، ذاتی تجربات اور ثقافتی تبصرے قاری کی دلچسپی کو زندہ رکھتے ہیں۔
آخر کار یہ سفرنامہ ایک متحرک رواں تاریخ میں بدل جاتا ہے جہاں اپنے اسلامی انقلاب کے ابتدائی سالوں کا تجربہ کرتا، عراق کے ساتھ تنازع میں مصروف، ایران ”مرگ بر امریکہ“ کے نعروں سے گونج رہا ہے۔ جنرل کنعان ایورن کی فوجی حکومت کے تحت ترکی میں جمہوریت حالت ِجبر میں ہے۔ دونوں ممالک میں بائیں بازو اور لبرل طبقے کی دبی ہوئی آوازیں مصنف کے اپنے وطن کے حالات سے مماثلت رکھتی ہیں۔ اور پھر بلغاریہ میں ایک انتہائی سخت اور سفاک سوشلسٹ دنیا سمجھا جانے والا تصور ٹوٹ جاتا ہے۔ اس حصے میں، داستان آہنی دیوار کی حقیقت کو سمجھنے اور ایک سوشلسٹ ریاست کی حرکیات کا پوری طرح سے مطالعہ کرنے کی ایک اٹل کوشش پر مرکوز ہے۔
ٹرین اور بس کی سواری اس سفر کی دلچسپی میں اضافہ کرتی ہیں۔ بدلتے ہوئے منظر نامے سے گزرتے ہوئے، مسافر، عظیم کلاسیکی مہم جوؤں کی روایت سے متاثر ہو کر، سرحدوں، نسلوں، ثقافتوں اور تاریخوں کے لحاظ سے خطے کی ایک تصویری سرگزشت پینٹ کرتا ہے۔ فرخ سہیل گوئندی کے نزدیک، یہ خطہ اپنی دلچسپ تاریخ اور جوابات تلاش کرنے کی ان کی اپنی جدوجہد کی وجہ سے دلچسپی رکھتا ہے۔
یہ سفر نامہ پہلی بار 2021 میں شائع ہوا، اس سفرنامے کا دوسرا ایڈیشن اب دستیاب ہے۔ تاریخ کے شائقین اور موجودہ دور کے سفر کے شائقین افراد کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جی پی ایس اور معلومات تک آسان رسائی کے بغیر ایسی سفری دریافت کرنے کے کیا معانی ہیں۔



