دم توڑتی برطانوی سلطنت
حالیہ دنوں میں ایک نہایت پریشان کن خبر آئی کہ لندن کی ایک انتہائی محفوظ جیل سے ایک خطرناک قیدی فرار ہو گیا۔ اس خبر نے گویا برطانیہ میں ایک ہیجانی کیفیت طاری کردی۔ ادھر برمنگھم کی سٹی کونسل نے اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر، نرسز، اور اساتذہ مسلسل ہڑتالیں کرنے پہ مجبور ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی عمارات خطرناک حد تک اتنی بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ان کی دیکھ بھال میں ناکام ہو چکی ہے لہذا ذمہ داران استعفیٰ دیں۔
برطانوی ندی، نالوں اور دریاؤں میں ماحولیاتی کثافت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کبھی سیر و تفریح والے انگلش چینل میں اب غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں جس میں جانا بھی دوبھر ہو چکا ہے۔ عوام کی اکثریت سوچ رہی ہے کہ برطانوی سلطنت ختم ہو چکی ہے اور اس کی جمہوریت دم توڑ رہی ہے کیونکہ اس کے عوامی زندگی کے تقریباً تمام آثار تنزلی کا شکار ہیں۔ ایک۔ زمانہ تھا جب برطانوی صحت عامہ ایک مثالی کردار نبھا رہی تھی اور لوگ فخریہ جتلاتے تھے کہ ہماری حکومت ہماری صحت و سلامتی کا خاص اہتمام کرتی ہے، ہمارے دیے گے ٹیکس کا درست استعمال کرتی ہے ہمارے گلی کوچوں کو محفوظ، صاف و شفاف رکھتی ہے اور کاروبار حیات بہت احسن طریقے سے نبھاتی ہے مگر اب افسوسناک صورتحال ہے ایسا ہرگز نہیں ہے۔
اب اسپتالوں میں باری کا ایک طویل انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ اول مناسب فنڈ نہیں ہے جس وجہ سے ڈاکٹر اور دیگر عملہ آئے روز ہڑتالیں کرنے پہ مجبور ہے۔ پولیس کا نظام بھی سخت بگاڑ کا شکار ہے بنیادی وجہ یہی فنڈز کی کمیابی ہے جس وجہ سے پولیس ملازمین کئی غیر اخلاقی حرکات میں ملوث پائے گئے ہیں جس کی وجہ سے عوامی اعتماد کم ہو رہا ہے۔ جس وجہ سے اپنی قیادت پہ بھی ان کو شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے سامنے خطے میں موجود متحرک قیادت خاصی متحرک اور فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اس بگاڑ کی وجہ کیا ہوئی اور اس درجہ تنزلی کی وجوہات کیا ہیں بلکہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اب اس سے کیسے نبردآزما ہوا جائے۔
برطانیہ میں اگلے سال عام انتخابات منعقد ہونا ہیں لہذا اب ستمبر اور اکتوبر میں خاصی سیاسی ہلچل ہوتی نظر آتی ہے۔ لیبر پارٹی جو حزب اختلاف کی جماعت ہے اور ٹوری جماعت کی موجودہ حکومت ہے وہ اپنے اپنے دائرہ اثر کو متاثر کرنے کی جستجو میں محو نظر آتی ہیں۔ ان میں بظاہر تو کئی ایک اختلافات ہیں مگر اس انتخابی مہم میں ایک بات جو باہم مشترک نظر آتی ہے وہ کسی نئے ٹیکس کی بات نہیں کریں گے کیونکہ انہیں بخوبی علم ہے کہ عوامی غضب و غصہ اپنے عروج پہ ہے۔
بس اپنے تئیں وہ ان مسائل کے حل پہ زور دیں گے۔ یورپی یونین سے انخلاء کے وقت برطانوی سیانوں کا خیال تھا کہ ہم اب ترقی و خوشحالی کی نئی منازل طے کریں گے ہمارے ہاں نے نئی سرمایہ کاری آئے گی اور ہم مزید نئے ٹیکس لگا کر عوامی بہبود کے کام کریں گے مگر جو ہوا وہ اس کے برعکس ہوا اور اب اس خوش فہمی کے سب کے سامنے عیاں ہوچکے۔ موجودہ
کنزرویٹو حکومت 2010 ء سے حکومت سنبھالے ہوئے ہے اس دوران مالی میدان میں جو بگاڑ پیدا ہو چکا ہے امید ہے اس کو سدھارنے میں اگلی حکومت کو شدید مشکلات ہوں گی۔ عوامی رویوں کو مدنظر رکھ کر بندہ یہ امید کر سکتا ہے آئندہ حکومت کی زمام لیبر پارٹی ہی سنبھالے گی اور اسے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنا پڑے گا یہ مشکل تو ضرور ہو گا البتہ ناممکنات نہیں۔ اس کے ضروری دیانت دار اور صاف و شفاف قیادت کی ضرورت ہوگی ویسے عملی سیاست کے تقاضے اس قدر سخت اور بے رحم ہوتے ہیں کہ دیانتداری اور سیاست اکٹھے چل نہیں سکتے مگر عوام کی خواہش اور تمنا تو ایک متحرک، توانا اور دیانتدار قیادت ہی ہوتی بس اس کی راہ میں بہت سے روڑے اٹکائے جاتے ہیں جس سے عوامی بددلی و مایوسی میں یکسر اضافہ ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ عوامی بے چینی اور ہیجانی کیفیت میں منتقل ہو سکتا ہے جس کے دوررس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ڈھکوسلے طویل عرصہ تک چل نہیں سکتے۔ برطانیہ کو اس وقت ایک متحرک قیادت کی اشد ضرورت ہے جو دلیرانہ فیصلے کرسکے اور ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا سکے۔


