بجلی کے بل ۔۔۔ھاۓ ھاۓ
ھمارے ھاں بدقسمتی سے کسی بڑے خیال یا ارادے کا کیا کوئی سوچے روزگار حیات کے مسائل ھی ختم ھونے کا نام نہیں لیتے ۔ بینادی ضروریات پورا کرنا حاکمین کا کام ھے مگر ھم ھمہ وقت ان مسائل کے گرداب میں پھنس کررہ گئے ہیں ۔ اب حالیہ بجلی کے مسائل نے تو ایک افریت کی شکل اختیار کر لی ھے ۔ جسے دیکھو اپنا بل لہرا لہرا کر دھائیاں دے رہا ھے ۔ دنیا تسخیر کائنات میں محو ھے اور ھم قطار در قطار بل ٹھیک کروانے لائنوں میں لگے ھیں ۔ تنگ دستی نے غریب اور متوسط طبقے کو عین چوک میں ننگا کر کے رکھ دیا ھے ۔ حاکمین کی بے حسی کا اندازہ ھی نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ فرماتے ھیں کہ بل زیادہ آگۓ ھیں تو کیا ھوا لو بھلا یہ بھی کوئی بات ھے احتجاج کرنے کی ، یہ تو لمحۂ شکر ھے اتنے بل نہیں کہ بالکل مر جائیں یا احتجاج کی صورتحال ھو ۔ اب بات ھے ھمارے ھاں اجتماعی شعور کی کہ کیسے ان مسائل سے نبرد آزما ھواجاۓ ۔ بجلی کی آنکھ مچولی تو سارا سال ھی جاری رہتی ھے ۔ اس کا کوئی جامع حل بھی مدنظر نہیں ھے ۔ حکومتی حکمتِ عملی بھی نمایاں نہیں تو پھر آخر کیسے اس کا حل تلاش کیا جاۓ ؟
ھمارے ھاں بنیادی جمہوریت کے خدو خال نمایاں نہیں ھیں جہاں عوامی شنوائی ھوسکے تو کیا ھم اپنی مدد آپ کے تحت کچھ حل سوچ لیں ۔ دنیا بھر میں شمسی توانائی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جارہا ھے ۔ بڑے بڑے ممالک میں بڑی سرمایہ کاری کی جارہی ھے جس سے وہ اپنی آئنیدہ نسلوں کا مستقبل سنوارنے کا ارادہ و عزم رکھتے ھیں ۔ شمسی توانائی کا استعمال ھمیں بہت سے مسائل سے نجات دلا سکتا ھے ۔سب سے پہلے تو بل نہیں دینا پڑے گا ، قومی اخراجات جو بجلی کی پیداوار اور تقسیم کاری میں ضائع ھوجاتا ھے اس کی بچت ھوگی ۔ یہ ذاتی مفاد کا تحفظ دے گا اور قومی ترقی میں ھماری حصہ داری بھی ھوگی ۔ ھم شمسی توانائی والی بجلی بے دھڑک استعمال کرکے اپنی زندگیاں آسان بھی بنا سکیں گے اور بہت سی ذھنی ،جسمانی اور معاشی تناؤ اور گھٹن سے نجات بھی پالیں گے ۔ اقوام متحدہ کے ترقی کے اصولوں پہ عمل پیرا ھونے کا یہی عالمی میعار اور منصوبہ ھے ۔ ھمیں اس مہم کو ایک قومی جذبہ کے ساتھ کرنے کی ضرورت ھے ۔ ھم اگر انفرادی طور پہ یہ نہیں کرسکتے تو ھماری تجویز کے مطابق گلی محلے کی سطح پہ کمیٹی سسٹم کے تحت یہ کام بخوبی ادا کرسکتے ھیں ۔ دیگر ھداف کی طرح اس کام بھی ایک قومی فریضہ گردانتے ھوۓ یہ کام باآسانی کیا جاسکتا ھے ۔ اس کی سالانہ دیکھ بھال کا خرچہ بھی قابل برداشت ھوگا ۔
جہاں اتنے کام اور کئے ھیں یہ تجربہ بھی کردیکھتے ھیں امید ھے اچھی نیت کا صلہ بھی اچھا ھی ھوگا انشأاللہ ۔


