معروف بلوچ عوامی شاعر: مبارک قاضی


آپ بلوچستان کے کسی بھی گلی کوچے میں کسی عام آدمی سے ، کسی دوکاندار سے، کسی راہگیر سے، کسی طالب علم، کسی ادبی بندے سے ، کسی استاد سے، یا کسی صفائی والے یا کسی ہیروینی سے جو کسی دیوار کے کونے میں بیٹھ کر اونگھ رہا ہوگا، پوچھ لیں تو وہ لازمی ایک نام سے واقف ہوگا جسے "مبارک قاضی” کہتے ہیں۔
خیر شہر تو شہر ہیں آپ کا کسی چھوٹے بلوچ گاؤں سے گزر ہو جہاں کسان بستے ہیں، جہاں بزگر دنیا و مافیا سے بے خبر ہوں، جہاں بچّوں نے سکول کبھی دیکھا بھی نہ ہو ، جہاں چروائے صبح اپنی بھیڑ بکریاں لے کر خوبصورت پہاڑوں اور چٹیل میدانوں میں چراگاہوں کی تلاش میں نکلتے ہوں اور شام کو تھکن سے چور ہوکر گھر لوٹتے ہیں وہ بھی ایک شخص کو پہچانتے ہیں جسے مبارک قاضی کہتے ہیں۔ ان سب کو یہ پتہ ہے کہ ایک بلوچ شاعر ہے جو مبارک قاضی ہے۔
مدرسوں میں جہاں کبھی شاعری کا غلطی سے تذکرہ بھی نہیں ہوتا، یا پہاڑوں پہ جہاں "زمین زاد” اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہر دم موت کو اپنی نظروں کے سامنے پاتے ہیں مگر پھر بھی جب وہ کمر باندھتے ہیں اور اپنی سرزمین کی حفاظت کا تہیہ کرتے ہوئے بندوق صاف کر رہے ہوتے ہیں تو وہ بھی ایک شاعر کے اشعار گنگناتے ہیں۔ یہی شاعر ہے جسے مبارک قاضی کہتے ہیں۔گرز بلوچ معاشرے کا ہر طبقہ اس نام سے واقف ہے اور کہیں نہ کہیں لازمی ان کے اشعار سنے یا پڑھے ہوں گے۔ (مگر یہاں بات صرف بلوچ علاقوں کی ہو رہی ہے)
مبارک قاضی 1956 کو پَسِّنی میں پیدا ہوئے اور گزشتہ دنوں مَکُّران کے مرکزی شہر تُربَت میں انتقال کر گئے۔ وہ بلوچ عوام میں مقبول ترین شاعر تھے اور ان کی پوری شاعری بلوچ قوم و بلوچ سرزمین کے گرد گھومتی ہے۔
مبارک قاضی کو اس لئے بلوچ اس حدّ تک چاہتے ہیں کیونکہ وہ عوامی شاعر تھے۔ اس کی شاعری کا مرکز بلوچ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ شعر کہتا تھا تو ان کے اشعار میں ہر کوئی اپنا درد محسوس کرتا، ہر کوئی اسے اپنے مسائل کا اظہار سمجھتا تھا۔ بڑے شاعر کی یہی خاصیت ہے کہ اس کے اشعار میں ہر کوئی اپنا عکس دیکھے اور یہ خاصیت مبارک قاضی میں موجود تھی۔
قاضی واحد بلوچ شاعر تھے جسے زندگی میں اتنی نام اور شہرت ملی۔ وہ جہاں بھی جاتا لوگ اس سے ملنے کے لئے ترس رہے ہوتے ہر کسی کی یہی خواہش ہوتی کہ اسی کے ساتھ رہے یا کم از کم اس کے ساتھ ایک تصویر لے سکے۔ سوشل میڈیا پہ ان کے ساتھ لوگوں کی تصویریں دیکھ کر آپ خود ہی اندازہ کر سکتے ہیں کہ بلوچ عوام کے دلوں میں ان کی کتنی قدر و منزلت تھی۔
قاضی عوامی شاعر تھے اسی لئے ان کا زبان سادہ و عام فہم تھا۔ انہیں اپنی سرزمین سے عشق تھا اور اشعار میں وہ اسی عشق کو ایسے رومانوی انداز میں بْیان کرتا کہ آپ محسوس ہی نہیں کرتے کہ یہ مزاحمتی شاعر ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی یہ شعر دیکھ لیں:
ترجمہ:
آئے ہیں مشکل نوبتیں، ہیں جنگوں کی بہار
اس شعر سے قاری خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ مزاحمتی شاعری بھی کتنے رومانوی انداز میں کرتے تھے۔ جہاں ظلم ہو وہاں مصیبتیں بڑھ جاتی ہیں اور جہاں جینے کے راستے بند کر دیئے جائیں وہاں جنگ لازمی ہوتا ہے۔ پھر اسی جنگ کو شاعر بہار سے تشبیہہ دیتا ہے، کیونکہ جو جنگ اپنی بقاء کے لئے لڑی جائے اس کے اختتام پر خوشحالی کی بہار لازمی آئے گی۔
مختصراََ بات یہ ہے کہ مبارک قاضی بلوچی ادب میں اپنے عہد کا مشہور ترین عوامی شاعر تھا۔ ان کی موت نے بلوچستان کے تمام حلقوں کو سوگوار کردیا۔

Facebook Comments HS