نفاذ اردو، عدالت عظمیٰ کا حکم اور پاکستان کی بیوروکریسی
اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پاکستان کے طول عرض میں یہی زبان رابطے کے لیے استعمال میں لائی جاتی ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام سکولوں کا ابتدائی نصاب اردو زبان میں تحریر شدہ ہے چونکہملک کی تقریباً ساری آبادی اسی زبان پر انحصار کرتی ہے۔ اس لیے اس زبان کو پاکستان میں رابطے کے ساتھ ساتھ دفتری اور امتحانی زبان کا درجہ بھی حاصل ہونا چاہیے اور یہی بات پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ اردو پاکستان کی سرکاری اور دفتری زبان ہوگی اس سلسلے میں سپریم کورٹ اف پاکستان کا باقاعدہ فیصلہ موجود ہے جس کی رو سے اردو کو بطور دفتری زبان رائج کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا. اگر ایسا ہوجاتا تو لوگوں کی زندگی میں بہت سہولت ہوتی اور علوم و فنون کی کتابیں سرکاری مراسلت اور عدالتوں کے فیصلے اردو میں لکھے جاتے جس سے عام پاکستانی بھی آئین پاکستان حکومت کے فیصلوں پارلیمنٹ کے قانون سازی اور عدالتوں کے فیصلوں اور احکامات سے سے مستفید ہو سکتا تھا۔
اردو کو معاشرتی طور پر تو پاکستان میں قومی زبان ہونے کا شرف حاصل ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کے نافذ نہ ہونے کے کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی یہ بابو جو پاکستان کے انتظامی و دیگر معاملات سنبھالتے ہیں۔ اس تسلسل کا حصہ ہیں جو انگریز چھوڑ کر گئے تھے۔ لارڈ میکالے جو برصغیر و پاک و ہند میں ان بابوؤں کا امام تھا۔ اس نے کہا تھا۔ کہ، انگریزی نظام تعلیم سے ہمیں ایسا طبقہ وجود میں لانا ہے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے ہندوستانی ہو مگر ذوق طرز فکر اخلاق اور فہم و فراست کے نقطہ نظر سے انگریز ہو، وہ اس میں کامیاب ہوئے اور ایسے کامیاب ہوئے کہ ان سے عملی آزادی کے 77 برس بعد بھی ہم نے اسی تسلسل کو جاری رکھا ہوا ہے۔
انگریزی زبان سیکھنا ایک اچھا عمل ہے جس کے ذریعے سے ہم علوم اور دنیا سے رابطے میں آسانی محسوس کرتے ہیں لیکن ہم اگر اپنی اصل اور زمینی تعلق کو یکسر نظر انداز کر دیں اور اب بھی انگریزوں کی اسی طرح پیروی کریں تو اس ملک میں ترقی کیسے آئے گی۔ اس لیے کہ اس وقت بھی اس ملک کے پچانوے فیصد لوگ انگریزی سے نا آشنا ہیں۔ اس کالم کے لکھنے کا خیال اس وقت آیا جب سپریم کورٹ کے حالیہ تمام معزز جج صاحبان نے ٹی وی پر آ کر مقدمے کی سماعت کی تو اس وقت ہمیں احساس ہوا کہ اردو زبان کیوں ضروری ہے۔
اس پوری نشریات کو دوبارہ دیکھیں اور آپ فیصلہ کریں کہ جب اتنے اعلیٰ ترین نشست میں ملک کے سب سے قابل ترین لوگ انگریزی کا یہ حال کرتے ہیں تو باقی جگہوں پر کیا حال ہوتا ہو گا۔ اس ملک میں انگریزی صرف ایک فیشن ہے اور ہم اس فیشن کی کاپی کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں انگریزی نہ تو ہماری زبان ہے اور نہ ہی اس پر ہماری دسترس کامل ہے۔ سی ایس ایس کا نتیجہ آیا ہے جس میں تیرہ ہزار میں سے صرف تین سو اور کچھ لوگ پاس ہوئے ہیں جو فیل ہوئے ہیں۔
وہ سب انگریزی کی وجہ سے فیل ہوئے ہیں جو پاس ہوئے ہیں۔ یہ لوگ جب کل ملازمت میں آئیں گے تو کسی کے ساتھ انگریزی میں بات نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ ان کے ماتحتوں کو انگریزی نہیں آتی عوام کو بھی انگریزی نہیں آتی اور چونکہ یہ لوگ صرف انگریزی کی بنیاد پر ایک بوسیدہ اور قدیمی مقابلے کا امتحان پاس کر کے آئے ہوتے ہیں۔ وہ اسی غلام ذہنیت کے ساتھ تیس سے چالیس برس اس سسٹم کا خون چوستے ر ہیں۔ گے۔ اس لیے انگریزی کی بنیاد پر نہ تو ملکی معاملات چلائے جا سکتے ہیں۔
نہ پلاننگ کی جا سکتی ہے۔ ہر کام کے لیے دنیا میں اپنے علوم ہیں۔ اس لیے یہ بابو صرف اس مقصد کو پورا کرتے ہیں جو انگریز چاہتا تھا کہ یہ دفتروں میں جو کچھ ہوتا ہے۔ وہ ان کو انگریزی میں بتا سکیں اور کاغذوں پر لکھ سکیں چونکہ باقی سارے کام وہ خود کرتے تھے۔ اس لیے ان کے دور میں ریلوے ترقی پر تھی۔ انتظامی معاملات بہتر طریقے سے چلتے تھے۔ زمینوں کے ریکارڈ اور عدالتی معاملات مثالی صورت میں تھے پھر پاکستان آزاد ہو گیا انگریز چلا گیا مگر ہم نے یہ نہیں سوچا کہ اب انگریزی کی ضرورت نہیں ہے۔
اس لیے کہ اب کوئی انگریز بچا نہیں اب جو لوگ بیٹھے ہیں۔ وہ انگریزی سے اردو کو ہزار درجے بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور اس میں اپنا مافی الضمیر نہایت آسانی کے ساتھ بیان کر سکتے ہیں۔ اب انگریزی کی نہیں متعلقہ علوم اور فنی مہارت کی ضرورت ہے جس کی بنا پر منصوبہ بندی ہو سکے عملی طور پر اس کام کو سرانجام دیا جا سکے اور یہ کام صرف اس زبان میں ممکن ہے جو آپ کے تہذیبی لاشعور میں موجود ہو اور معاشرے میں وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہو ہم نے پاکستان میں نظام دینے کے بجائے لارڈ میکالے کے بابو بنانے کے ٹوٹکے کو ابھی تک دل سے لگا یا ہوا ہے اور ملک میں طبقاتی نظام کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کو دوام دیا ہے۔
ایک بہت چھوٹا سا طبقہ جس کے بچوں کو پیدائش کے بعد مکمل انگریز بننے کی تربیت دی جاتی ہے اور پھر ذمہ داریاں ان کے حوالے کی جاتی ہیں اور باقی ستانوے فیصد لوگوں کو ان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس ملک میں اس وقت درجنوں تعلیمی نظام عملی طور پر رائج ہیں اور ان سب نظاموں ماسوائے مدرسوں کے نظام کے کا ایک ہی مقصد ہے۔ انگریزی رٹاؤ زبان صرف ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ سے علوم تک رسائی ہوتی ہے۔ ہم نے علوم کی کبھی پرواہ ہی نہیں کی سارا زور انگریزی پر صرف کر دیا جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے جو انگریزی یہاں کے دیسی بولتے ہیں۔
وہ کسی انگریز کو سمجھ نہیں آتی آپ پاکستان کے سارے بیوروکریسی کو جمع کریں ان کو انگریزی میں ایک مضمون لکھنے کو کہیں جس میں وہ ایک دن کا احوال لکھیں جو انہوں نے گزارا ہو تو وہ نہیں لکھ سکتے اس لیے کہ انہیں فائلوں پر چند جملے لکھنے کے سوا کچھ نہیں آتا اس لیے ضروری ہے کہ اس ملک میں تعلیم اردو میں ہو اور دفتری اور عدالتی زبان اردو میں تاکہ سب اسے سمجھ سکیں دنیا کے تمام ملکوں میں ایسا ہی ہے۔ انگریزی سیکھنا ایک اضافی عمل ہے۔
جیسا دوسرے ملکوں میں ہوتا ہے۔ اگر کسی نے انگریزی سیکھنی ہے تو وہ سیکھ لے مگر یہ جو زبردستی انگریزی سکھانے کا عمل ہے۔ اس کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ سولہ برس کی تعلیم کے بعد نہ کوئی ایک جملہ انگریزی میں لکھ سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے۔ اردو زبان دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اس میں تمام علوم کی کتابیں موجود ہیں اور دفتری زبان کی اردو کی مکمل کتابیں موجود ہیں جب صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت آئی تھی تو انہوں نے ہماری مدد سے اردو کو دفتری زبان کے طور پر رائج کر دیا تھا جس کے لیے ہم نے ان کو معاونت فراہم کی تھی۔
مگر جونہی وہ حکومت ختم ہو گئی اس سلسلے کو لپیٹ دیا گیا اگر اس کو چلنے دیا گیا ہوتا تو آج جو لوگوں کو مشکلات ہیں۔ وہ نہ ہوتیں یورپ نے بھی اس وقت ترقی کی جب وہاں کے لوگوں نے لاطینی اور یونانی زبانوں سے پیچھا چھڑا کر اپنی مقامی زبانوں میں تعلیم دینا شروع کیا یوں فرانس اٹلی جرمنی برطانیہ فن لینڈ ڈنمارک، بلجیم، ہالینڈ وغیرہ نے ترقی کی ان سب ملکوں کی اپنی زبانیں ہیں جب کہ جاپان روس اور چین اور اسرائیل نے بھی اپنی زبان میں ہی ترقی کی ہے۔
ان ممالک نے جنہوں نے اپنی زبان کو چھوڑ کر کسی فاتح ملک کی زبان اپنائی ہے۔ وہ آج بھی ذہنی طور پر غلام ہیں اور وہاں ایک استحصالی طبقہ ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کمال دیکھیں کہ انگریزوں نے اردو کو رائج کرنے کے لیے فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج، اورینٹل کالج لاہور اور کئی دیگر ادارے بنائے انگریزوں نے اپنے مال پٹوار اور پولیس کے معاملات کے لیے اردو کا انتخاب کیا جو آج تک رائج ہے۔ مگر ہم بضد ہیں کہ نہیں سب کچھ انگریزی میں ہو گا۔
اس لیے کہ صاحب کو انگریزی پسند ہے۔ اگر یہ ملک صاحب کے لیے بنا ہے تو پھر ٹھیک ہے ورنہ اس کے دفتری اور عدالتی نظام کی زبان اردو بنا دیں اور اس کے تمام مقابلے کے امتحانات اردو میں کراؤ دیں تاکہ یہ ملک بھی دیگر ممالک کی طرح ترقی کرسکے اور مٹھی بھر ذہنی غلاموں کی چنگل سے آزادی حاصل کرسکے، اردو کا نافذ قائد اعظم کا فرمان بھی ہے۔ آئین پاکستان میں بھی لکھا ہوا ہے اور عدالت عظمی کا حکم بھی ہے۔ اب اس کا نفاذ کیوں نہیں ہو رہا کیا اس کے لیے اب ہمیں کسی عالمی عدالت کے حکم کا انتظار ہے۔
8 ستمبر 2015 کو عدالت عظمیٰ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 251 کے تحت جو حکم دیا تھا۔ کیا اٹھ برس گزرنے کے بعد بھی سپریم کورٹ اپنے اس حکم پر عمل درآمد نہیں کرسکے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک لمحہ فکریہ ہو گا کہ ملک کی سب سے بڑی اور معزز عدالت اپنے دیے ہوئے فیصلے پر اتنے عرصے میں عمل درآمد نہیں کر سکتی تو اس کی دیگر فیصلوں پر عمل درآمد کیسے ممکن ہو گا۔


