مودی سرکار یا قاتل سرکار؟


کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ”انسان چاہے چاند پر پہنچ جائے، لیکن اگر اس میں انسانیت نہیں، تو اس میں اور گلی کے کتے میں کوئی فرق نہیں۔ یہی بات پڑوسی ملک، بھارت پر بھی صادق آتی ہے کہ وہ چاند پر تو پہنچ گیا، مگر سوچ کے اعتبار سے آج بھی کم ظرفی کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ گو کہ آئی ٹی انڈسٹری میں اس نے اپنا ایک نام، ایک مقام بنالیا ہے، لیکن بنیادی آداب انسانیت سے تا حال بے بہرہ ہے۔ تعلیم یافتہ، جدت پسندی کا دعوے دار ہونے کے باوجود درندگی، بربریت، بے غیرتی اور بے شرمی اس کے انداز و اطوار سے صاف عیاں ہے۔

اور جانتے ہیں، ایسا کیوں ہے، کیوں کہ بھارت کو اس کی ہٹ دھرمیوں، من مانیوں سے کوئی روکنے والا نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان نے متعدد بار احتجاج ریکارڈ کروایا، معصوم کشمیریوں کے بہیمانہ قتل عام پر ان گنت بار اقوام عالم کی توجہ دلوائی مگر سب بے سود۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو انتہا پسند جب چاہیں اپنے مخالفین کے خلاف دھاوا بول دیتے ہیں۔ نام نہاد سیکولر اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں خون کی ہولی کوئی نئی بات نہیں، مگراس مرتبہ یہ نقاب فاش کرنے والا پاکستان نہیں، کینیڈا ہے۔ وہی کینیڈا، جہاں ایک بڑی تعداد میں ہندو مقیم ہیں، وہی کینیڈا، جو کئی تجارتی معاہدوں میں بھارت کا شراکت دار ہے اور وہی کینیڈا جہاں سکھ برادری کی ایک کثیر تعداد مقیم ہے۔ وہ سکھ برادری، جو خالصتان تحریک کی پر زور حامی ہے۔

ویسے تو بھارت میں سکھ برادری کے خلاف بھی مظالم کوئی نئی بات نہیں، جون 1984 میں بھارتی حکومت نے گولڈن ٹیمپل امرتسر پر حملہ کر کے 5 ہزار سے زائد سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ 29 مئی 2022 کو مشہور سکھ گلوکار سدھو موسے والا کو ہندو انتہا پسندوں نے بے رحمی سے قتل کر دیا تھا اور رواں برس 18 جون کو سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو دو نقاب پوش مسلح افراد نے وینکوور سے قریباً 30 کلومیٹر دور شہر سرے میں واقع گرو نانک سکھ گرودوارے کی مصروف کار پارکنگ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

یاد رہے، ہردیپ سنگھ خالصتان تحریک کے اہم رہنما، گردوارے کے صدر اور کینیڈین شہری تھے۔ جس وقت انہیں قتل کیا گیا، اس روز دنیا بھر میں عالمی یوم پدر منایا جا رہا تھا اور وہ گرودوارہ نانک صاحب میں شام کی پراتھنا (عبادت) کے لیے معمول کے لیے گئے تھے۔ کینیڈا کی سکھ برادری میں ان کے قتل پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اس کے خلاف کینیڈا میں بسنے والی سکھ برادری نے ٹورنٹو اور وینکوور سمیت متعدد شہروں میں مظاہرے بھی کیے۔

اسے کہتے ہیں جمہوری ریاست، یہ ہوتا ہے، جمہوریت کا حسن اور یہ ہوتی ہی جمہور کی طاقت کہ پیدائشی طور پر کینیڈین نہ ہونے کے باوجود کینیڈا میں کینیڈین پاسپورٹ ہولڈرز کو تمام آئینی و قانونی حقوق حاصل ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں برتا جاتا اور نہ ہی انہیں دوسرے درجے کا شہری تصور کر کے ان کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں۔ خیر، جولائی کے اوائل میں لندن، میلبرن اور سین فرانسسکو میں بھی اس قتل کے خلاف سکھ برادری نے بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔

یقیناً بھارت سوچ رہا ہو گا کہ معصوم کشمیریوں کے خون کی طرح اس واقعے پر بھی دنیا چپ سادھ لے گی، مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس مرتبہ اس نے ایک ایسے ملک میں کارروائی کی ہے، جو ہر لحاظ سے اس سے بہتر اور اس دخل اندازی پہ کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا۔ کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کر دی گئیں اور اب اس قتل سے جڑے حقائق سامنے آنے لگے ہیں۔ گزشتہ روز (پیر کو) کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمان کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ ”کینیڈین انٹیلی جینس نے ہردیپ کی موت اور بھارتی حکومت کے درمیان تعلق کی نشان دہی کی ہے۔

کینیڈا کی سرزمین پر کینیڈین شہری کے قتل میں غیر ملکی حکومت کا کسی طرح بھی ملوث ہونا ناقابل قبول اور ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ان بنیادی اصولوں کے منافی ہے جن کے ذریعے آزاد، کھلے اور جمہوری معاشرے اپنے آپ کو چلاتے ہیں۔ یہ معاملہ جی 20 اجلاس میں بھارتی وزیراعظم مودی کے ساتھ اٹھایا تھا، کینیڈین سرزمین پر شہری کے قتل میں غیرملکی حکومت کا ملوث ہونا ہماری خودمختاری کے خلاف ہے۔ “ واضح رہے، اس کے بعد کینیڈا نے بھارتی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا ہے اور اس سے تجارتی تعلقات بھی بندش کا شکار ہو گئے ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارتی سفیر، کینیڈا مین ”را“ کا ایجنٹ بھی تھا۔ اس تمام صورت حال کے بعد ہم تو بس یہی سوچ رہے ہیں کہ چاہے کرکٹ ہو، کشمیر یا مسلم کش فسادات بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہونے کے باوجود کبھی مہذب دنیا نے کھل کر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی؟ اگر صحیح وقت پر عالمی برادری بھارت کو لگام ڈال دیتی، تو شاید آج وہ اتنی بے باکی سے دوسری سرزمین پر قتل و غارت نہ کر رہا ہوتا۔ ذرا سوچیں کہ سکھ رہنما کا قتل اگر کینیڈا کے بجائے کسی ترقی پذیر یا غریب ملک میں ہوا ہوتا، تو کیا تب بھی بھارت کو دنیا بھر میں اسی طرح ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا یا؟

Facebook Comments HS