یکم اکتوبر: معمر افراد کا عالمی دن


یوں تو ساری دنیا میں بالخصوص اور پاکستان میں کئی عالمی ایام منائے جاتے ہیں منانا بھی چاہیے لیکن کچھ ایام خاص اہمیت لیے ہوئے ہوتے ہیں کی جن کی وجہ سے شعور و آگہی کے مقاصد بھی بخوبی حاصل ہو جاتے ہیں اور ان ایام کو منانے کا مقصد تو حاصل ہوتا ہی ہے ایسے ہی دنوں میں ایک خاص دن معمر افراد کا عالمی دن بھی ہے جو کہ یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے یہ اقوام عالم کی طرف سے اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اپنے بزرگوں، معمر افراد کو اہمیت دیتے ہیں اور ان کی خدمات کے اعتراف ہی کی وجہ سے اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور یہ سلسلہ جا ری ہے اسی طرح ہم اپنی مصروف زندگی کے کچھ لمحات ان افراد کو دیتے ہیں کہ جن کی کاوشیں ہمیں موجودہ مقام تک لانے اور ہر سطح پر اپنی کامیابیاں حاصل کرنے کے قابل بناتی ہیں گر چہ ہمارے ملک پاکستان میں اب بھی کافی ضرورت ہے شعور اجاگر کرنے کی تاہم کسی نہ کسی سطح پر ان کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے جو کہ ایک خوش آئند روایت ہے۔

اس وقت جدید دنیا کا ہر ملک اپنی آبادی میں معمر افراد کے حجم اور تناسب میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے اور یہ صورتحال کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سطح پر معیشت ہر اثر انداز ہو رہی ہے اسی وجہ سے معمر افراد کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں ان کی اہمیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا کی کل آبادی کا دس (10) فیصد یعنی دس فیصد آبادی یعنی 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد معمر افراد پر مشتمل ہے اور اگر میں ذکر کروں اپنے ملک پاکستان کی تو ہماری آبادی کا تقریباً چا ر ( 4) فیصد معمر افراد پر مشتمل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی کا تناسب کچھ اس طرح ہو جائے گا کہ کل آبادی میں سے ہر چھٹا شخص معمر افراد کی فہرست میں شامل ہو گا یعنی اس کی عمر 65 سال یا اس زیادہ ہو جائے گی یہ ایک لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ کیونکہ آج ہمیں اپنے بزرگوں کے حوالے سے سب سے زیادہ یہی مسئلہ درپیش ہے کہ انہیں کس طرح مصروف عمل رکھا جائے انہیں کس طرح ذہنی اور جسمانی صحت کے مسائل سے بچایا جائے ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں دنیا کے ہر مذہب، ہر معاشرے، ہر تہذیب، ہر ثقافت میں بزرگوں کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ہونی بھی چاہیے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ان کی اہمیت مسلمہ ہے اور پھر ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں وہاں تو بزرگوں کو ایک خاص باعزت مقام و مرتبہ حاصل بھی ہے اور ان کی اہمیت ہمیشہ گھر کے سربراہ کی ہوا کرتی ہے ان معمر افراد کی صلاحیتوں، تجربات اور پر شفقت رویے بھی ہمارے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ہمارے معاشرے میں معمر افراد کو زندگی کے بہتے ہوئے دھارے سے اب بالکل الگ کر دیا گیا ہے شاید اس کی بڑی وجہ ان کی زندگی کے معاملات سے لا تعلقی بھی ہے اس سلسلے میں ہمیں ان کو مصروف عمل رکھنا ہو گا ان کی ذہنی، جسمانی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو کارآمد، متحرک، اور مفید شہری بنانے کے لئے ان کی زندگی میں بے مقصدیت ختم کرنے کے لئے کسی نہ کسی طرح معمر افراد کو اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرنا ہو گا ان کی دیکھ بھال، ان کی دلچسپی اور اک کے لیے نئے مواقعے پیدا کرنا ہوں گے کہ جہاں وہ باعزت طریقے سے غیر محسوس انداز سے اپنی عمر کا بقیہ حصہ گزاریں اس سلسلے میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے کام کرنے کی مسلسل ضرورت ہے۔ ایسے ادارے قائم کیے جائیں جیسے کہ بچوں کی مہارتوں میں اضافے کے لئے آج کل کئی ادارے کام کر رہے ہیں ان اداروں میں اساتذہ کو ایسی سرگرمیوں کی تربیت دینے کے لئے، نوجوانوں کی کاؤنسلنگ کے لیے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا یا جائے، پیشہ ورانہ اور مخصوص شعبوں میں مختلف قسم کے مسائل کے حل کے لئے مفید مشوروں کے لیے بطور کنسلٹنٹ ان کی خدمات حاصل کی جائیں اس سلسلے میں آغاز میں شاید ہمیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو تاہم اس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے اور یہی معمر افراد ہماری معیشت میں کلیدی کردار بھی ادا کر سکیں گے۔

مندرجہ بالا اقدامات کی طرح کچھ عالمی ادارے بھی ان افراد کی فلاح کے لئے عالمی سطح پر اور بالخصوص پاکستان میں بھی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی خدمات کا محور معمر افراد کے لئے کم آمدنی والے ممالک اور علاقوں میں کسی نہ کسی سطح پر ان کے مسائل کو کم کرانا یا ان کو کم کرنے کے لئے مواقعے پیدا کرنا بھی ہے ایسی یہ اداروں میں ہیلپ ایج انٹر نیشنل بھی ہے جو کہ کئی شعبہ ہائے زندگی میں مختلف معاشرتی سطح پر کام کر رہا ہے یا یوں کہ لیجیے کہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس ادارے نے پہلے صوبہ خیبر پختون خوا اور پھر صوبہ سندھ میں ایک باقاعدہ منظم نیٹ ورک قائم کیا جسے بزرگ دوست نیٹورک کا نام دیا گیا گرچہ ابھی ان نیٹ ورکس کا کام ابتدائی مراحل میں ہے تاہم پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے جو کہ انتہائی مشکل کام ہوا کرتا ہے امید ہے یہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گا۔

اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں اس نیٹورک کو قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی قائم کر لیا جائے گا اسی ادارے یعنی ہیلپ ایج انٹر نیشنل کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں انسانی حقوق کی تنظیم کے ساتھ مل کر متفقہ قانون سازی کے لئے مختلف متعلقہ شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے ساتھ کاوشیں جاری ہیں اسی سلسلے کی ایک کامیاب کوشش ایک فری ہیلپ لائن کا اجرا بھی ہے 1099 کہ جس پر مفت کال کر کے مخصوص (معمر افراد کے تحفظ ) حوالوں سے شکایات کو درج کیا جا سکتا ہے جو کہ بلاشبہ نہایت اہم کامیابی اور مستحسن قدم ہے کہ اس کو ہر سطح پر سراہا جا نا چاہیے اور اس حوالے سے ہم امید رکھتے ہیں کہ ہیلپ ایج اسی طرح کی فری ہیلپ لائنز کا اجرا صوبہ سندھ اور پھر پورے ملک میں بھی کرے گا اس کاوش سے بھی معمر افراد کے تحفظ کے حوالے سے جاری کاوشوں کو مدد ملے گی ہم ان کی تمام تر کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید رکھتے ہیں کہ اس طرح کے کار خیر جاری رکھے جائیں گے اور ہم بھی اپنا حصے کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS