اپنا کاروبار کیسے کامیاب بنایا جائے؟


گاوَں اور دیہاتوں کے رہنے والے عمومی طور پہ دو دو نہروں سے شناسائی رکھتے ہیں۔ ایک چھوٹی نہر جہاں سے وہ اپنے بچپن میں تیراکی کا فن سیکھتے ہیں۔ جہاں وہ لوڈے ویلے (سہ پہر کے وقت) اپنے پشووَں (جانوروں) کی دم کے ساتھ نہر میں اترنے کا ڈر اتارتے ہیں۔ الٹی سیدھی قلابازیاں اور ڈُم (گہرائی) میں زیادہ دیر تک ٹکے رہنے کی مشق’ اسی چھوٹی نہر کے حصے آتی ہے۔ دوسری نہر گاوَں سے ذرا باہر بڑی نہر کہلاتی ہے جو کسی بیراج سے منسلک ہوتی ہے’ جس کی چوڑائی اور گہرائی صرف مشاق تیراکوں کے حوصلوں کو ہی دعوت دیتی ہے۔

شہرلاہور کے بیچ و بیچ لیکن ایک ہی معروف نہر ہے جو شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ شہرلاہور کی کیا بات ہے ‘ ہر شخص کے لئے اس میں اس کی دلچسپی کا کوئی نہ کوئی عنصر ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ سخی اتنا ہے کہ کسی کو بھوکا نہیں سونے دیتا۔ اب تو روزمرہ کے چٹکلوں میں بھی آ گیا کہ ” اپنا کھا آوَ تے ساڈا لے آوَ "۔ اسی شہر لاہور نے یہ رمز بھی سیکھائی کہ اگر اپاہج بن کے بیٹھو گے ‘ تو بھی کوئی نہ کوئی لنگر کی تقسیم پہ مامور آپ کا حصہ آپ تک پہنچا ہی دے گا لیکن اگر شیر بن کے خود ہمت کرو گے ‘ تو نا صرف اپنے حصے کا رزق بھی پاوَ گے بلکہ بہت سے دوسروں کے حصہ کا رزق بھی آپ کے رزق میں شامل کر دیا جائے گا۔ تا کہ تقسیم درتقسیم کا نظام چلتا رہے۔

اسی نہر کنارے ایک ادارے میں دو روزہ تربیتی پروگرام تھا۔ لاشاری صاحب بھی مقررین میں شامل تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کاروباری اصول ‘ قواعد و ضوابط ‘ کاروبار کی بڑھوتری ‘ اس وقت کے درپیش مسائل اور کاروباری حریف (رقیب بھی کہہ سکتے ہیں) جیسے موضوعات پہ بڑی متاثر کن اور سیرحاصل گفتگو کی۔ پاکستان کے نظامِ ریلوے اور اپنے ایک ذیلی کاروبار کی مثال اور تقابلی جائزے سے نہایت عمدگی کے ساتھ کامیابی کے راستے کی وضاحت کی۔

چائے کے مختصر وقفے کے بعد بات چیت کا رخ بدلا۔ تکنیکی گفتگو سے ہٹ کے روزمرہ کے اخلاق اور کامیابی کے حصول کے لئے درکار کوشش ‘ صبر ‘ مسلسل دستک ‘ دوسروں کے لئے سودمند ہونا جیسے اہم نکات پہ بات چیت شروع ہوئی۔ اس سارے عمل میں سامعین و حاظرین کو شامل کر کے اسے پرتاثیر بنا دیا گیا تھا۔ بڑی عمدگی سے نئے کاروبار کو تیراکی سیکھنے کے فن کی مماثلت سے سمجھایا گیا کہ کیسے پہلے پہل یار دوستوں کے ساتھ نہر تک جائیں گے’ اگلی دفعہ کچھ سازوسامان اور تیاری کے ساتھ جانا ہو گا۔ پہلے پہل فقط پاوَں اور گھٹنوں کی حد تک نہر سے شناسائی بنے گی ‘ پھر کوئی من چلا ہاتھ پکڑ کے آگے تک لے جائے گا اور اگر کوئی زیادہ ہی بے تکلف مل گیا تو ایک آدھ قلابازی ضرور لگوائے گا کہ جلد اصولِ بازار سے واقفیت ہو جائے۔

سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ جب تک ناکام نہیں ہوں گے ‘ کامیابی سمجھ نہیں آئے گی۔ جب تک نقصان نہیں ہو گا ‘ فائدے کا قاعدہ سمجھ نہیں آئے گا۔ جب تک ٹھوکر نہیں لگے گی ‘ تب تک نیچے دیکھنے کی عادت نہیں پڑے گی۔ وقتی ناکامیوں سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے ان سے سبق سیکھا جائے اور اپنے کام میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے۔ ناکامی کے خوف سے یا وقتی ناکامی دیکھنے سے کام چھوڑ دینا ہی اصل ناکامی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ناکامی ہی کامیابی کا زینہ ہے۔

ناکامی دراصل ایک اور موقع ہے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا ‘ اپنی صلاحتیوں کو از سرِ نو سن٘وانے کا ‘ اپنی قوّت کو دوبارہ یکجا کرنے کا ‘ اپنے عزم کے علم کو بلند کرنے کا اور کامیابی کی طرف پھر سے چلنے کا۔ قدرت بھی یہی چاہتی ہے کہ راہ میں آنے والی چھوٹی چھوٹی مشکلات ‘ خود رو مسائل اور لا یعنی اندیشے منزل سے دور نہ کر دیں۔ بلکہ یہ سب رکاوٹیں انسان کو اندر سے نا صرف زیادہ مضبوط کرتی ہیں بلکہ زیادہ مربوط بھی کرتی ہیں۔ جیسے جیسے مشکلات بڑھیں گی اسی راست تناسب سے اپنا حوصلہ اور عملی کام بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پائیدار کامیابی کے لئے اپنی فہم و فراست اور اپنے زورِبازو کے ساتھ ساتھ احکم الحاکمین سے رابطہ اور تعلق نہایت ضروری اور اہم جزو ہے۔ ہر ٹھوکر اور وقتی ناکامی اس کی طرف متوجہ ہونے کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ مسلسل محنت کو رائیگاں ہوتے دیکھ کے دل سے نکلنے والی آہ ہی منزل کے قریب لے جاتی ہے۔

Facebook Comments HS