نالائقی کا بحیرہ عرب


سپریم کورٹ کی حالیہ فل کورٹ کی براہ راست نشر ہونے والی کاروائی میں ایک جسٹس کی طرف سے اٹھائے گئے سوال کا بہت چرچا ہے۔

اس ضمن میں ایک سابق جج نے جب اس سوال کرنے والے جسٹس (عائشہ ملک) کے بارے میں تاثرات دیے کہ وہ نالائقی کا بحرالکاہل ہیں تو سعید چوہدری نے کہا سر کچھ کم کر دیں تو جواب میں کہا کہ نالائقی کا بحیرہ عرب سمجھ لو۔

سینئر صحافی سعید چوہدری کورٹ رپورٹنگ کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔

انہوں نے اس جسٹس (عائشہ ملک) کے وکالت کا امتحان پاس کرنے سے لے کر ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کی جج بننے تک کے مبینہ ڈرٹی پلے کا کچا چٹھا کھول ہی نہیں بلکہ ادھیڑ کر رکھ دیا۔ سعید چودھری کے ولاگ میں مندرجہ ذیل الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سعید چودھری کے مطابق عائشہ ملک کسی مستند لاء کالج کی گریجویٹ نہیں تھیں۔ ان کی دوسری شادی ایسے صاحب سے ہوئی جو ایک پرائیویٹ لا کالج کے مالک ہیں۔ وہاں سے لا کی ڈگری مل گئی۔

مبینہ ڈرٹی پلے کے دوسرے مرحلے میں وہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ شیخ عظمت سعید کی نگاہ مہربان کی وجہ سے جج ہائی کورٹ بن گئیں جبکہ بطور پریکٹسنگ وکیل کوئی کیس ہی نہیں لڑا ہوا تھا۔ جج بناتے وقت مزید عقدہ کھلا کہ یہ تو سپریم کورٹ میں بطور وکیل انرول ہی نہیں ہوئی ہیں۔ اپنی باری آنے سے پہلے انرول کر دیا گیا۔ قواعد کے ساتھ مزید مذاق کہ پی ایل ڈی میں ان کا ایک بھی رپورٹیڈ کیس نہیں ہے۔

عظمت سعید، کھوسہ، ثاقب نثار اور بندیال کو اس میں پتہ نہیں کیا چانن نظر آیا کہ چیف جسٹس گلزار کو اسے سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کر دی۔ جسٹس گلزار نے ایک پرفارما بھرنے کے لئے بھیجا (اس پرفارما میں ان کیسوں کی تفصیل دینی ہوتی ہے جن میں متعلقہ جج نے فیصلے دیے ہوتے ہیں ) مگر یہ واپس نہ آیا کیونکہ ان کا بطور جج کوئی ایک قابل ذکر رپورٹیڈ فیصلہ ہی نہ تھا۔ اس وقت تو وہ جج نہ بن سکی لیکن بعد میں اس پرفارما کی شرط کو ہی ڈراپ کر دیا گیا۔

ان کی غیر موزونیت بارے سینئر جسٹس سردار مسعود صاحب کا نوٹ سپریم کورٹ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔

مگر نہ معلوم بندیال کو اتنی کیا جلدی تھی کہ جب جسٹس قاضی فائز عیسی بیرون ملک تھے عجلت میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا کر عائشہ ملک کو جج سپریم کورٹ منتخب کر کے ایسا چن چڑھایا کہ اس جج کے ایک سوال کے ذریعہ پھیلنے والی روشنی نے سپریم کورٹ کے وقار کو گہنا دیا۔

یہ موصوفہ ماہانہ تقریباً بارہ لاکھ تنخواہ بمع مفت فرنیشڈ رہائش، کار ڈرائیور گھریلو ملازم بجلی پانی گیس فون اور آسائش کی دیگر سہولیات حکومت کے اس خزانے سے وصول پاتی ہیں جسے عوام کا خون چوس چوس کر بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

جنرل باجوہ اور فیض کے پراجیکٹ عمران کو کھوسہ ثاقب نثار اور بندیال کے ذریعہ۔ مسلط کی گئی ایسی جونکیں نہ جانے کب تک پاکستان سے چمٹی خون چوستی رہیں گیں۔

Facebook Comments HS