نئی سیاسی بساط
غریب ڈوبے یا ملک ڈوبے کوئی لوٹ مار کم کرنے کو تیار ہے نہ مراعات کم کیے جانے پر راضی۔ یوں بھی جس کے منہ کو خون لگ جائے وہ خونخوار سے خونخوار ترین تو ہو سکتا ہے بھیڑیے سے بھیڑ نہیں بن سکتا۔ سو بجلی کے مفت یونٹ کون چھوڑے، فری پیٹرول کی سہولت والی بڑی بڑی گاڑیاں بھی سڑکوں پر دندنا رہی ہیں۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ رشوت اور کرپشن کے ریٹس میں تو خاطر خواہ اضافہ ہو چکا۔ ریلیف کی البتہ آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری میں کہیں کوئی گنجائش نہیں۔ مہنگائی سے مقابلے کے لئے اب کچھ باقی رہ گیا ہے تو صرف جاں نثاری۔ اور اس حوالے سے گاہے گاہے خودکشیوں کی خبریں چھپ بھی رہی ہیں۔
نگران وزیر اعظم کے بارے میں صحافی دوستوں سے سنا تھا کہ کم گو ہیں۔ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں بھی ضرورتاً ہی لب کشائی کرتے ہیں۔ پر مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد ہمیں تو ان کے رنگ ڈھنگ اس ابتدائی تعارف کے برعکس ہی نظر آتے ہیں۔ میڈیا کے ہر سوال پر ایسا بھرپور اور تابڑ توڑ جواب دیتے ہیں کہ سننے والوں کی اپنے سوال کے حوالے سے تشفی ہو کہ نہ ہو۔ انہیں منتخب اور غیر منتخب کا فرق ضرور سمجھ آ جاتا ہے۔ باقی ٹیم تو با کمال ہے ہی۔ لیکن انہیں شاید اپنے کمالات دکھانے کے لئے خاطر خواہ وقت نہ مل سکے۔ جس کا انہیں افسوس ہی رہے گا۔ عوام کو البتہ ان کے جانے پر خدا کا شکرگزار ہونے کا ایک موقع ضرور ملے گا۔
نگران حکومت کے بل بوتے پر اقتصادی انقلاب کے خواب دیکھنے والوں کو بھی معاشی بحران کی جھلکیاں دنوں میں دکھائی دے گئی ہیں۔ بہت سوں کے خدشات اور اکثر پیش گوئیوں کے برعکس الیکشن کمیشن نے کہہ دیا کہ عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں کروا دیے جائیں گے۔ ہر لحظہ بڑھتی مہنگائی کے زیر اثر منجمد سوچیں اب شاید کچھ وقت کے لئے الیکشن کی گہما گہمی اور نیتاؤں کے پرفریب وعدوں سے کچھ بہل سکیں۔ ورنہ نگرانوں پر تو آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری فرض ہے ہی۔ اور اس کے بہت سے ثمرات عوام کے لئے ابھی بھگتنا باقی۔
نئی سیاسی بساط پر نظر دوڑائیں تو مشکل فیصلوں سے عوام کو مشکل میں ڈالنے والی پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں کے لئے انتخابی میدان میں اترنا آسان دکھائی دینے لگا ہے۔ آنے والے الیکشن میں اگر حریف ہوں گی تو یہی اور حلیف بنیں گی تو بھی یہی۔ یہ جماعتیں ہر صوبے میں الگ الگ سیاسی حکمت عملی کے تحت انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہیں۔ نون لیگ پنجاب اور بلوچستان کے حوالے سے الگ الگ حکمت عملی کا عندیہ بھی دے چکی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے نون لیگ کے خلاف شکایتوں کا پنڈورا بکس کھول کر انتخابات میں اپوزیشن کے طور پر اترنے کی تیاریاں دکھا دی ہیں۔ ماضی میں ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرنے والی پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھر چکا۔ پارٹی چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور صدر سمیت کئی لیڈر ہنوز پابند سلاسل ہیں۔ کافی رہنماؤں کی بڑی تعداد پریس کانفرنسوں میں توبہ تائب ہونے کا اعلان کر چکی۔ سابق کرتا دھرتا وزرا اور رہنما استحکام پارٹی میں شامل ہو کر ذاتی عدم استحکام سے تو بچ نکلے ہیں مگر سیاسی استحکام شاید ان کا مقدر نہ ہو سکے۔ بچے کچھے روپوش اور خاموش ہیں۔ انتخابات میں پارٹی کی شرکت۔ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی، امیدواروں کا چناؤ، ووٹرز کا ردعمل سبھی پر سوالیہ نشان ہیں۔ حامیوں کو مزید مایوسیوں کا سامنا ہو گا یا کوئی امید جاگ سکے۔ بڑے فیصلے عدالتوں سے آنے کا امکان ہے۔ رہی الیکشن مہم کی تھیم اسے تو آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری پہلے ہی طے کر چکی۔

