23 ستمبر: اشاروں کی زبان کا عالمی دن


عالمی مشہور و معروف تعلیم دان، فلم میکر جارج ویڈز نے کہا ”اشاروں کی زبان ایک عظیم تحفہ ہے جو اللہ نے صرف بہرے لوگوں کو عطا کیا ہے۔“ دنیا میں بنا مقصد کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ نشانیاں بہرے لوگوں کے لئے ہیں۔ آج 23 ستمبر ”اشاروں کی زبان“ کا عالمی دن ہے۔ یہ دن اس وجہ سے اہمیت کا حامل ہے چونکہ 1951 میں ”ورلڈ فیڈریشن آف ڈیف“ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس فیڈریشن کے تحت بہرے لوگوں اور ان کی زبان، ثقافت کا تحفظ کیا جاتا رہا ہے۔ دنیا میں بہرے لوگوں کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً سات کروڑ بہرے لوگ ہیں۔ اس میں سے اسی ( 08 ) فیصد ترقی پذیر ممالک میں آباد ہیں۔ اجتماعی طور پر تین سو اشاروں کی زبانیں ہیں اس میں قطعی شبہ نہیں کہ تین سو ہی زبانیں مکمل طور پر فطری ہیں لیکن بناوٹی لحاظ سے بولی جانے والی زبانوں سے الگ ہیں۔ بہروں کے لئے ایک ”بین الاقوامی اشاروں کی زبان“ بھی ہے جسے بین الاقوامی ملاقاتوں، غیر رسمی سفر اور سماجی تعلقات بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو زبان کی ”Pidgin“ شکل سمجھا جاتا ہے۔ یہ بمقابل فطری اشاروں کی زبانوں کی طرح پیچیدہ نہیں ہے۔ چونکہ اس کو محدود مدت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اس زبان کو اگر سادہ الفاظ میں وضاحت کریں تو یہ جسمانی اشاروں اور چہرے کے تاثرات سے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کو کہتے ہیں۔ اب ذرا برطانیہ کو دیکھا جائے وہاں حکومت کی طرف سے بہرے لوگوں کو مختلف مراعات سے نوازا جاتا ہے۔

جیسا کہ: میڈیکل الاؤنس، ٹیلی فون سروسز اور مالی مدد کی جاتی ہے۔ اگر تعلیم و تربیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو A BSL/English Interpreter، A Lipspeaker، a Speech۔ to۔ text reporter، an electronic Note taker، A communication support work جیسی سہولیات دی جاتی ہیں۔ ہم اپنے ملک کی بات کریں تو یہ شعر بہروں کے درد کی تشریح کرتا ہے

اشاروں کی زبان سے جب وہ کہتے ہیں
بڑے مفسر، عالم، ثنا خوان وہ لگتے ہیں
دل جلتا ہے وزیر بہروں کی دشواری دیکھ کر
جن کو معاشرے میں زخم و ستم ملتے ہیں

یہاں پر عام سہولیات تو دور کی بات ہے سب سے اہم ترین بنیادی حق ”تعلیم“ بھی مناسب طریقے سے نہیں دیا جاتا۔ پاکستان میں کچھ ہی بڑے شہروں میں بہروں کے لئے اسکول بنائے گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دور دراز کے دیہی علاقوں سے بہرے لوگ اسکول کیسے جائیں؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر کہیں بھی دیہی و شہری علاقوں میں ایک بھی بہرہ ہے تو اس کے لئے تعلیم کا خاص انتظام ہوتا۔ اور ان کی زبان کی بات کی جائے تو ملک کی تمام تر کالجز اور یونیورسٹیز میں الگ سے ”سائن لینگوئج“ کا ڈیپارٹمنٹ ہوتا جہاں پر بہرے لوگوں کو ”فری آف کاسٹ“ تعلیم اور ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا۔ اشاروں کی زبان سیکھنے والوں کے لئے کوئی رکاوٹ مثلاً عمر اور تعلیمی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہ ہوتی۔ کاش! ہم ایسے خطے میں ہوتے جہاں پر ریاست بہروں کو بنیادی حقوق دیتی، جج بہروں کے حق میں فیصلہ دیتے، وکیل بہروں کے کیس بنا فیس لڑتے، ڈاکٹر بنا فیس علاج کرتے لکھاری بہروں کے بارے میں لکھتے، شاعر بہروں کے لئے شاعری کرتے، گلوکار بہروں کے لئے گیت گاتے، ہم اور بہروں میں فرق نہ ہوتا۔ اس امید کے ساتھ اختتام کرتے ہیں ہم سب ہی انفرادی طور پر جتنا ہو سکے بہرے لوگوں اور ان کی زبان کے لئے کوشاں رہیں گے۔

Facebook Comments HS