درنہ کی داستان الم


لیبیا میں بحیرۂ روم کے کنارے ایک تاریخی شہر ہے جس کا نام ہے درنۃ، یہ لیبیا کا مشرقی ساحلی شہر ہے۔ بڑا خوبصورت اور انتہائی دلکش شہر ہے اس کی کل آبادی لگ بھگ نوے ہزار افراد پہ مشتمل ہے۔ یہ ایک بربری شہر ہے۔ کبھی خلافت عثمانیہ کا راج ہوا کرتا تھا تو یہ اس وقت بھی اپنے محل وقوع کی وجہ سے خاصا مقبول اور متمول ترین آبادی کا مسکن تھا۔ یہ کوۂ سبز کے کنارے آباد ہے۔ یہاں مختلف النوع قبائل کے افراد باہم شیرو شکر رہتے ہیں۔

اس کا کنارے سمندر اور صحرا سے بیک وقت ملتے ہیں اور اس کے کنارے دو پانی کے ڈیم بھی بھلے وقتوں میں بنائے گئے تھے۔ گزشتہ ہفتہ ایک شدید سمندری طوفان نے بے خبری میں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ لاکھوں افراد اپنی جانوں سے گئے، ہزارہا زخمی اور بے خانماں ہو گئے۔ اس تباہی کا موجب یہی دو ڈیم بنے جب ان کے پشتے ٹوٹ گئے اور سارا پانی ایک عفریت کی طرح شہر کی بنیادیں اکھاڑ کر لے گیا۔ معمر قذافی جیسے مقبول عام لیڈر کی عدم موجودگی کی وجہ ملکی تباہی کی ایک نئی داستان رقم ہوئی ہے اور پرانے زخم بھی ہرے بھرے ہو گئے ہیں۔

جب کرنل قذافی کو چالیس سالہ قیادت کے بعد نکالا گیا تو ملکی وحدت کے تار و پو ہل کے رہ گئے اور اس کی جگہ ہر کوئی حاکم بننے کے چکر میں ہتھیار بند ہو گیا اور یوں ملک میں انتشار نے ملکی یکجہتی کو شدید ٹھیس پہنچائی اور ملکی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ قذافی کا ایک قابل اعتماد ساتھی تھا اس کا نام تھا خلیفہ ہفتار۔ وہ کسی وجہ سے باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوا تو قذافی نے اس کی چابی گھما دی مگر شومئی قسمت کہ امریکیوں نے اس کو نکال کر اپنے ہاں پناہ دی اور یوں وہ کئی سال تک وہیں قیام پذیر رہا۔

ملکی شورش میں اپنا حصہ ڈالنے وہ واپس آیا تو مختلف قبائل کے ہمراہ ایک حکومت سازی کی کوشش کی مگر اب وہ پہلے سی ملکی یکجہتی کہاں۔ اس کی عملداری صرف ایک مشرقی حصے تک ہی محدود ہے۔ اسی بدامنی کا فائدہ ہمیشہ مرکز گریز عناصر اور دہشتگرد ہی اٹھاتے ہیں۔ ادھر بھی ایسا ہی ہوا اور آئی ایس آئی ایس داعش نے اٹھایا اور مشرقی لیبیائی حصے کو اپنا مرکز اور درنۃ کو اپنا مضبوط مورچہ بنا لیا۔ چونکہ یہاں خلیفہ ہفتار کا اثر زیادہ تھا اس نے داعش کو 2015 میں ایک طویل محاصرے کے بعد مار بھگایا تھا۔

اب اسی خلیفہ کی کوشش ہے درنۃ کے رہائشیوں کی کوئی قابل فخر مدد کیے بغیر وہ سارا کریڈٹ اپنے سر لینا چاہتے ہیں۔ ڈیم اور پل سڑکیں ملکی وحدت کے نشانات ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی ایک ملی اور قومی فریضہ ہے جب ملک میں عدم یقینی عام ہو اور امن و سکون غارت ہو جائے تو پھر ان کی مناسب نگہداشت کی نہیں جا سکتی اور یہی اس شہر کی تباہی و بربادی کی اصل وجہ بنی۔ بعض ہمدرد اور باخبر افراد نے ان خطرات کی جانب نشان دہی کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ کوئی خطرناک طوفان آنے کو ہے مگر کسی کے کان پہ جوں تک نہ رینگی اور یوں اس طوفان نے پانی کے ذخائر کو برباد کر دیا اور لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن گئے۔

لیبیا کے صدارتی اور عام انتخابات کی تیاری کی گئی تھی اور تاریخ کا اعلان بھی ہو چکا تھا کہ 24، دسمبر 2021 کو ہوں گے مگر ان سے چند روز قبل ہی ملکی عدالت عظمیٰ نے ان کو منسوخ کر دیا اور پھر وہ دن ہے کہ یہ دن ایسا ممکن نہ ہوا۔ درنہ کی تباہی کو روکا تو جاسکتا تھا۔ باہمی سر پھٹول نے ملک کی حالت برباد کر کے رکھ دی ہے۔ ملک میں عدالتی اور پولیس کے ادارے مفقود ہوچکے ہیں اب کسی کی کوئی سننے والا نہیں۔ دکھ بھری داستان ہے اس شہر الم کی۔ گمشدگان کا ماتم ہے، زخم خوردہ اپنے زخم سہلا رہے ہیں اور جانے والوں کا سوگ منایا جا رہا ہے۔

یہ لمحۂ گریہ ہے سوچنا ہو گا کہ اس موقع پہ بھی یہ قوم کسی ملی جذبہ کے تحت یکجا ہوتی ہے کہ نہیں۔ کیونکہ کسی ایسے متفقہ فیصلے سے ہی مستقبل میں ایسے تباہ کن لمحات میں باہمی اشتراک سے ہی مناسب طور نبٹا جاسکتا ہے۔

اس سال 2023 نے تو خطۂ زمین کو گرما کر رکھ دیا ہے۔ اس سال آنے والی آسمانی آفات سے صرف تب ہی بچاؤ ممکن بنا سکتے ہیں جب اجتماعی ملی شعوری کوششیں کی جائیں۔ درنہ کی بھی کوئی شعوری پلاننگ نہ تھی جس کے سبب اب یہ محض ایک قبرستان کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ لیبیا میں غربت نام کو نہیں مگر بدقسمتی سے اتفاق ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا گویا ملک سے برکت آٹھ گئی ہے۔ بس اب خاک و خوں کے اس ڈھیر سے لیبیا کے بڑے بڑے کارپردازوں کو اتفاق نامی چڑیا ڈھونڈنا پڑے گی۔

سچ ہے کہ بڑے سیاسی قائدین اپنی اپنی قوم کی زنجیریں ہوتی ہیں جو مختلف النوع قبائل اور افراد کو باہم یکجا رکھتی ہیں ان کی ملک میں موجودگی ازبس لازم اور ناگزیر ہے۔ یکجہتی کا معیار اگر دولت و ثروت ٹھہرتا تو لیبیا میں کبھی خانہ جنگی اور باہمی سر پھٹول نہ ہوتی۔ لازم ہے کہ اس لمحہ کو ادراک کا ایک نیا باب سمجھیں اور اس کا فائدہ اٹھائیں اسی میں لیبیا کا فائدہ ہے۔

Facebook Comments HS