’تخت محل‘ جو اجڑ گیا
بہاول نگر سے بہاول پور کو جاتی قدیم سڑک کے دائیں کندھے پہ یہ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن موجود ہے۔ تخت محل ریلوے اسٹیشن۔ نام کتنا جادوئی اور خوب صورت ہے۔ تخت۔ محل۔ جیسے پرانے وقتوں میں کسی بادشاہ نے محل بنوایا ہو، تخت سجایا ہو، دربار لگایا ہو، داد رسی کی ہو۔ اور پھر کوچ کر گیا ہو کہیں۔
بہاول نگر شہر سے ڈھلتے سورج کی کرنیں پکڑنے نکلیں تو پندرہ کلومیٹر دور یہ بجھا چراغ آپ کو نظر آتا ہے۔ جس کی لو کب کی بجھ چکی۔ دھواں بھی کب کا ہوا ہو چکا۔
سڑک سے دیکھیں تو یہ ریلوے اسٹیشن ایک سنسان سی عمارت دکھائی دیتا ہے۔ قریب آ کر دیکھیں تو ویرانی آنکھوں کے رستے دل میں اتر جاتی ہے۔ اس کے ماتھے پہ مستطیل نما سفید تختی ہے جس پہ لکھے سیاہ حروف زیر لب بڑ بڑا رہے ہیں۔ بتا رہے ہیں کہ یہ سن 1897 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ برطانوی راج کا سورج ہندوستان میں دہک رہا رہا تھا تب۔ ریاست بہاول پور پہ مسلمان نواب تخت نشیں تھے۔ نوابوں کے نام ریاست کے قصبوں شہروں کے ناموں کا بھی حصہ بن گئے۔ اسی دور میں یہ ننھا سا اسٹیشن سمہ سٹہ بٹھنڈا دلی لائن پر بنایا گیا تھا۔ اگتے سورج کی سمت یہ اس لائن سے جڑا تھا جو بہاولنگر، منچن آباد سے ہوتی ہوئی بٹھنڈا دلی تک مسافروں کو لے جاتی تھی اور بوڑھے سورج کی سمت چشتیاں، حاصل پور، بہاول پور، کراچی تک جڑی ہوئی تھی۔
کتنا پر رونق، چہل پہل سے بھرا یہ مقام رہا ہو گا۔ صبح طلوع ہوتے ہی مسافر یہاں امڈ آتے ہوں گے۔ چھک چھک کرتی ریل گاڑی کے کندھوں پہ سوار دور دور تک جاتے ہوں گے۔ ریل گاڑی کی کوک کتنے ہی دیہاتوں میں گونجتی ہو گی۔ کتنی کہانیاں ہوں گی جو یہاں سے جنم لے کر یہیں خاک ہو گئی ہوں گی۔
دیس آزاد ہوا تو تخت محل اسٹیشن کی لائن مشرق کی وسعتوں سے ہمیشہ کے لیے کٹ گئی۔ آدھا وجود جدا ہو گیا۔ شدید زخما گئی۔ آدھی ادھوری سی رہ گئی۔ ایک ہی ریلوے لائن پہ کھڑے ریلوے اسٹیشن ایک دوسرے سے منہ موڑ کے کھڑے ہو گئے۔ دلی بٹھنڈا، فیروز پور جانا خواب ہو گیا۔ چند منٹوں کے فاصلے سالوں دہائیوں کی طویل مسافتوں میں بدل گئے۔ نگری نگری گھومنے والے مسافروں کی دنیا سکڑ گئی۔
دیس نے مزید سفر کیا تو یہ لائن جگہ جگہ سے اکھڑنے لگی۔ اس پہ دوڑتی ریل گاڑیاں بوڑھی ہونے لگیں۔ کچھ مر گئیں۔ کچھ اور وقت گزرا تو اس پہ صرف ایک گاڑی رہ گئی۔ اس کا بھی نا کوئی آنے کا وقت نا جانے کا بھروسا۔
وطن عزیز کو پھر یہ ایک گاڑی بھی بوجھ لگنے لگی۔ بند ہو گئی۔ ریل کی کوک اس کے گلے ہی میں پھنس گئی۔
کئی سال بیتے تو ریلوے اسٹیشن میں بھوتوں کے بسیرے ہونے لگے۔ ویرانی کے ڈیرے لگنے لگے۔ کچھ عرصہ قبل کسی محب وطن ٹھیکیدار کمپنی نے اس کی اربوں روپے مالیت کی لائن اکھاڑ لی۔ کہا گیا کہ نئی بچھائی جائے گی۔
اب دیکھئیے اس چرخ کہن کو نئی ریلوے لائن دیکھنا نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔
تخت محل ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر کرایا نامہ درج ہے۔ اتنا کم کرایہ! ضرور بہت برس پہلے کا ہو گا۔
خستہ حالی سی خستہ حالی ہے۔ دور کھجور کے درخت کھڑے ہیں۔ جیسے اس بیابانی سے ڈر کر دور جا کھڑے ہوئے ہوں۔ وہ پرے گائیں، بھینسیں اور بکریاں چر رہی ہیں۔ کچھ تپتی دھوپ سے بچنے کے لیے سائے میں ہانپ رہی ہیں۔ چرواہے اسٹیشن کے گرد آلود فرش پر لیٹے اونگھ رہے ہیں۔ اسٹیشن کے آس پاس سیم زدہ بے آباد زمیں میں جابجا جھاڑیاں اگی ہوئی ہیں۔
خاموشی بھی خاموشی کی چادر اوڑھے لیٹی ہے۔ بس بدن جھلساتی دھوپ برس رہی ہے اور گرم ہوائیں سر سرا رہی ہیں۔
تخت محل ریلوے اسٹیشن۔ کتنا خوب صورت نام تھا۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی بادشاہ کا تخت اجڑ گیا ہو اور محل میں ویرانی پھنکار رہی ہو۔
جیسے صبح کا نور پھوٹنے سے قبل ہی چراغ بجھ گیا ہو اور دھواں اندھیرے میں غائب ہو گیا ہو۔
نا تخت رہا نا محل رہا، اب یہ چراغ کون روشن کرے۔


