سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار کون تھے؟


سقوط ڈھاکہ کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا مگر پاکستانیوں کے دل و دماغ آج بھی وہ منظر زخم کی طرح نقش ہے جب مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے ہندوستان کے لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔

میرے کچھ ساتھی اور تاریخ سے لگاؤ رکھنے والے دوستوں کا کہنا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ داری بھٹو صاحب پر عائد ہوتی ہے۔ کیا انہوں کی یہ بات درست ہے؟
آئے تاریخ کے کچھ اوراق پلٹتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ بھٹو صاحب اس وقت صدر نہیں تھے، وزیراعظم نہیں تھے، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نہیں تھے، مشرقی پاکستان کے گورنر نہیں تھے اگر یحییٰ خان نے بھٹو کے کہنے پر پاکستان کو توڑ دیا تو یہ نا اہلی یحییٰ خان اور اس کے ساتھیوں پر مسلط ہوتی ہے۔

ہاں بالکل! اگر یحییٰ خان الیکشن کے بعد حکومت کی جڑیں سیاستدانوں کے حوالے کر دیتا ”تو پھر پاکستان جانے اور سیاست دان جانے“
اگر ہم تاریخ مطالعہ کرتے ہیں تو یحییٰ خان نے پاکستان کی تباہی کا بیج اس دن بو دیے تھے جب ون یونٹ توڑا گیا۔

مشرقی اور مغربی پاکستان میں پیریٹی ختم کی اور مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کے متعلق خاموش رہے۔ یہ تو بھٹو کے مشورے سے نہیں ہوا تھا۔ اس وقت بھٹو صاحب یحییٰ خان کے اقتدار سے دور تھا۔

سیاسی لوگوں میں سے شریف الدین پیر زادہ، ولی خان، اے کے بروہی اور دیگر تھے یحییٰ خان کے قریب تھے اور یہ جان بوجھ کے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار بھٹو صاحب تھے۔ جنہوں نے پولینڈ کی قرارداد مسترد کی۔

ہاں اگر یہاں سے اعلان ہوتا کہ ہم اس قرارداد کو منظور کر رہے ہیں تو بھٹو کیا کر سکتے تھے۔ بعض عناصر ہیں جنہوں نے ان کے خلاف متواتر پروپیگنڈا کیا ہے اور میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ بھٹو صاحب عیب سے خالی تھی۔ انہوں نے غلطیاں کی ہیں ان غلطیوں کی وجہ سے آخرکار انہیں اپنی جان بھی دینا پڑی لیکن بہت سے دیگر الزامات ان پر دھرے جاتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔

جسٹس محمد منیر نے اپنی کتاب ”فرام جناح تو ضیاء“ میں لکھا ہے کہ 1962 ء مجھے وزیر قانون بنانے کے بعد جنرل ایوب خان نے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک بنگالی وزیر رمیض الدین کے پاس بھیجا اور میں نے انہیں کہا کہ آپ ہم سے علیحدگی اختیار کر لیں یا کنفیڈریشن بنا لیں۔ رمیض الدین نے جواب میں کہا کہ ہم اکثریت میں ہیں، آپ اقلیت ہیں، اگر آپ علیحدہ ہونا چاہتے ہیں تو ہو جائیں لیکن اصل پاکستان تو ہم ہیں۔ جس کی شہادت سے پتا چلتا ہے کہ جنرل ایوب خان بنگالیوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے کیونکہ وہ صدارتی نظام کے خلاف تھے۔ یہی وہ سال تھا، جب تحریک پاکستان کے رہنما حسین شہید سہروردی کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو ڈھاکا میں پاکستان کے خلاف نعرے لگ گئے۔ ایوب خان کا کہنا تھا کہ ”بنگالیوں میں گھٹیا اور پست نسلوں کی تمام تر خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں“ ۔

مائی وائٹ ہاؤس ائرز کے مصنف کا نام میں بھول گیا ہوں کتاب میں یوں لکھا ہے کہ ”میں جب یحییٰ خان سے ملا تو وہ انتخابی نتائج کے بارے میں بہت پریقین تھے کہ کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی اور وہ بدستور صدر کے عہدے پر فائز رہیں گے“ ۔ یہ ہے ان نام نہاد منصفانہ اور شفاف انتخابات کی حقیقت جہاں تک ذوالفقار علی بھٹو پر ملک توڑنے کا الزام ہے تو اس سے بڑا کوئی اور بے بنیاد الزام ہوہی نہیں سکتا۔

میجر جنرل خادم حسین راجہ نے اپنی کتاب ”A stranger in my own country“ میں لکھا ہے کہ مارچ 1971 ء میں جنرل نیازی نے ایک میٹنگ میں بنگالی افسروں کی موجودگی میں کہا، ”میں اس حرامزادی قوم کی نسل بدل دوں گا۔“ اس واقعے کے بعد ایک بنگالی افسر میجر مشتاق نے کمانڈ ہیڈکوارٹرز کے باتھ روم میں اپنے آپ کو گولی مار کر خودکُشی کر لی۔

راؤ رشید اپنی کتاب ”جو میں نے دیکھا“ میں کہا ہے کہ ”یحییٰ خان نے میدان جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھی اقتدار بڑی مشکلوں سے چھوڑا جب ایسٹ پاکستان جا رہا تھا تو یحییٰ خان اپنے لئے نیا آئین بنانے کی تیاری کر رہا تھا جس کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ یحییٰ خان ساری عمر صدر رہیں گے۔ وہ تو فوج میں نوجوان افسر جنرل یحییٰ اور اس کے ساتھ جرنیلوں کے خلاف اتنے مشتعل ہو گئے تھے کہ اسے مجبوراً اقتدار چھوڑنا پڑا“ ۔

کمیشن نے لکھا کہ جنرل نیازی کم از کم دو ہفتے تک ڈھاکا کا دفاع کر سکتے تھے، وہ سرنڈر کی بجائے اپنی جان قربان کر دیتے تو آئندہ نسلیں انہیں ایک عظیم ہیرو کے طور پر یاد رکھتیں۔ حمود الرحمٰن کمیشن کے مطابق انہوں نے ہندوستانی جنرل کو گارڈ آف آنر کا حکم دے کر ملک اور فوج کی عزت خاک میں ملا دی۔

کمیشن نے جنرل یحییٰ، جنرل عبدالحمید، جنرل پیر زادہ، میجر جنرل غلام عمر، جنرل گل حسن اور جنرل مِٹھا کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی۔ کمیشن نے جنرل ارشاد احمد خان کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی، جنہوں نے بغیر مقابلے کے مغربی محاذ پر شکر گڑھ کے پانچ سو گاؤں دشمن کے حوالے کر دیے۔

16 دسمبر 1971 ء کے سرنڈر کے بارے میں اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں اپنے کمانڈر جنرل امیر عبداللہ نیازی کو سرنڈر کا نہیں، سیز فائر کے لیے اقدامات کا حکم دیا تھا۔

منیر احمد منیر کی کتاب ”المیہ مشرقی پاکستان۔ پانچ کردار“ میں جنرل یحییٰ خان کا انٹرویو شامل ہے۔ یحییٰ خان نے بتایا، ”میں نے نیازی کو سرنڈر کا نہیں کہا تھا بلکہ اسے کہا تھا کہ یو این او کو بولو کہ سیز فائر کرا دے۔ میں نے کہا تھا کہ دشمن کے آگے ہتھیار پھینکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“

یحییٰ خان نے جنرل نیازی کو جھوٹا اور بزدل قرار دیا حالانکہ وہ یحییٰ کا حسن انتخاب تھا۔ یحییٰ خان نے اپنے اس انٹرویو میں کہا، ”تڑخ گیا بچارہ میانوالی والا“ ۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو صاحب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہاری ہوئی قوم، شکستہ فوج اور خوفزدہ قوم کو کیسے سہارا دیا جائے اور قیدی فوج کے بارے میں عجیب مطالبات تھے یہاں تک کہ مقدمات چلائے جائیں اور بھٹو نے جس طرح اس مسئلہ کو ہینڈل کیا اس سے ان تحمل، تدبر اور بردباری کا ثبوت ملتا ہے۔

Facebook Comments HS