کتاب: پاکستان، تعلیم اور اکیسویں صدی


کتاب، پاکستان، تعلیم اور اکیسویں صدی: مصنف شاہد صدیقی
آپ شاہد صدیقی صاحب کو جانتے ہیں؟

اگر تو آپ کو کتاب خریدنے اور کتاب پڑھنے کا شوق ہے، یاد رہے کہ یہ دو علیحدہ علیحدہ شوق ہیں، تو پھر آپ ان کو ضرور جانیے کہ لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں اگرچہ بولتے بھی خوبصورت ہیں۔

استاد ہیں کسی زمانے میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سربراہ رہے ہیں اور کیونکہ استاد اور جنرل کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے اس لیے آج بھی لاہور سکول آف اکنامکس میں پڑھاتے ہیں۔ لیکن میرا ان سے تعارف پڑھانے کے حوالے سے نہیں لکھنے کے حوالے سے ہوا۔ ان کی کتاب پوٹھوہار! خطہ دل ربا کی رونمائی پر ملاقات ہوئی اور خصوصی شفقت اس وجہ سے بھی حاصل ہوئی کہ اس پر اک تبصرہ بھی لکھ دیا۔ تھی تو گستاخی کہ استاد کے لکھے پر لکھا لیکن بڑے اور اچھے استاد کی نشانی ہے کہ وہ شاگرد کے مختصر اور کمزور لکھے پر بھی کھلے دل سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ مزید آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ بس یہ ہی تعلق ہے شاہد صدیقی صاحب سے کہ وہ استاد ہیں اور میں ان کا شاگرد وہ بھی بیک بینچر!

اسی تعلق اور مہربانی کی بنیاد پر جب ان کی نئی کتاب پاکستان، تعلیم اور اکیسویں صدی کی تقریب رونمائی کی تقریب بک کارنر جہلم پر مقرر ہوئی تو گگن بھائی کا اک دن پہلے فون آ گیا کہ استاد محترم نے کل اس نالائق کو بھی حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

مجھے اس تقریب کا علم تو تھا مگر جانے کا کوئی پروگرام نہ تھا، آپ خود سوچیں! پاکستان تعلیم اور اکیسویں صدی کتاب کا نام ہو اور لکھنے والی شخصیت شاہد صدیقی صاحب کی ہو تو مجھ نالائق کا وہاں کیا کام! اس لیے عزت سادات کو خطرہ میں ڈالنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا مگر حکم تھا سو تعمیل تو کرنی تھی۔ اس لیے پہنچ گئے ہم بھی تقریب میں اور اللہ کے فضل سے اور اپنے تعلیمی سالوں کے ریکارڈ کے مطابق ہمیشہ کی طرح دیر سے جبکہ تقریب کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا اور قسم لے لیں جو اس وقت تک کتاب کا نام بھی یاد ہو۔

خیال تھا چند میرے جیسے لوگ ہوں گئے کہ جہلم جیسے چھوٹے شہر میں اس سخت محنت اور تحقیق والی کتاب اور وہ بھی تعلیم کے حوالے سے، کی تقریب میں کتنے لوگ ہوں گے لیکن جب دروازہ کھل کر ہال میں داخل ہوا تو پہلا بے ساختہ فقرہ منہ سے نکلا ”بڑی رونقیں ہیں فقیروں کے ڈیرے“ ، ایسی نابغہ روزگار شخصیات کیا عرض کروں آدھے سے زیادہ حاضرین تو پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھے اور ان میں سے چند کا لیول بھی دیکھیں

ڈاکٹر شاہد سرویا صاحب ڈائریکٹر جنرل پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن
ڈاکٹر ناصر محمود صاحب وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
ڈاکٹر تبسم ناز صاحبہ ڈپٹی ڈائریکٹر اکیڈمکس فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن
ڈاکٹر افشان ہما صاحبہ اسسٹنٹ پروفیسر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
و دیگران اور پھر میں! کہاں راج بھوج، کہاں گنگوا تیلی کی جیتی جاگتی مثال۔

میں نے اس طالب علم کی طرح تقریب کو جوائن کیا جو لیٹ آنے پر چپ چاپ پیچھے بیٹھ جاتا ہے اور کسی سے کتاب مانگ لیتا ہے تاکہ حاضری لگ جائے۔ میں نے بھی کتاب اٹھا لی!

نہ خریدنے کا موڈ تھا اور پڑھنے کا کہ میرے نزدیک یہ تحقیقی کتاب یا تو اس شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے تھی یا پھر اس شعبہ پر تحقیق کرنے والوں کے لیے۔ لیکن جب کتاب کھولی تو جو پہلا مضمون نظر کے سامنے آیا وہ ایسا تھا جس پر میں خود ساری زندگی کڑھتا رہا ہوں اور اب بھی نہ صرف اپنے بچوں کے اساتذہ سے بلکہ بیگم سے بھی اس ٹاپک پر بحث ہوتی ہے اور وہ ہے ”پنجابی زبان اور معاشرتی رویہ،“ مطلب اک ایسا شخص جس کے پڑھائے ہوئے شاگرد بعد ازاں اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلواتے ہیں وہ بھی اس ٹاپک کی اہمیت سے واقف ہے جو آج کل ہر گھر کا مسئلہ بنا ہوا ہے!

اس کے علاوہ پورا ملک اور ہر حکومت ہر وقت تعلیم تعلیم کرتے رہتے ہیں مگر صدیقی صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ ”تعلیم! ہماری ترجیح کب بنے گئی؟“ مطلب کہ اکیسویں صدی اک چوتھائی گزر چکی ہے اور ہم ہر سال بجٹ مختص کرتے ہیں تعلیم کا لیکن تعلیم پھر بھی ترجیح نہیں ہے۔ اک اور سوال جو صدیقی صاحب نے اٹھایا وہ اعلی تعلیم اور تحقیق کے حوالے سے ”پی ایچ ڈی ڈگریوں کی بے ہنگم دوڑ“ کا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایچ ای سی پر بھی بات کرتے ہوئے ”ایچ ای سی، جامعات اور تحقیق کا سراب“ بھی لکھ دیا۔ میں نے ان کالم ہائے کو پڑھ کر شاہد صدیقی صاحب کو آفر کی کہ اگر ایچ ای سی نے آپ کے خلاف کوئی قانونی کا روئی کی تو میں بطور وکیل اپنی خدمات فری پیش کروں گا اگرچہ اس کا امکان کم

ہی ہے کہ جو لوگ ایسی پوزیشنز پر ہیں وہ اللہ کے فضل سے سرکاری فائلوں اور خطوط کے علاوہ کم ہی کچھ پڑھتے ہیں لیکن ہم شکایات لگانے میں بھی تو ماہر ہیں نا! کیا معلوم اس طور پر ہی کسی وکیل بھائی کا رزق کھل جائے!

جب اس کتاب کے حوالے سے مکالمہ ہو رہا تھا تو ایسے بہت سے مسائل پر بات ہوئی جو کہ آج کے طالب علم کے مسائل ہیں خاص طور پر یونیورسٹی لیول کے طلباء پر ، جس پر جب میں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آپ لوگ ان مسائل سے آگاہ ہیں جس کا جواب ملا کہ مسائل سے آگاہ ہیں لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون بندھے! ڈر تو یہ بھی ہے کہ اس گفتگو کے بعد واپس اپنی ڈیوٹی پر پہنچنے سے پہلے جواب طلبی کا نوٹس آ چکا ہو!

چند ماہ پہلے کی بات ہے رؤف کلاسرا صاحب نے اپنی اک پوسٹ میں کسی یورپی ملک کے طالب علم کی ایسی کتاب کا ذکر کیا تھا جو اس نے بطور تھیسس لکھی تھی اور بعد میں جب اس کو بطور کتاب شائع کیا تو وہ بیسٹ سیلز میں شامل ہو گئی۔ اس کے ساتھ انھوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ کاش کوئی پاکستان میں بھی اس طرز کی تحقیق کرے جس پر اس طالب علم نے عرض کیا تھا کہ جو مشکلات ہمارے طلباء کو ہیں اگر کوئی صحافی اس پر تحقیق کرے تو وہ بھی اک بیسٹ سیلر بک بن جائی گئی۔

وہ شاید قبولیت کا وقت تھا کہ شاہد صدیقی صاحب نے نہ صرف طلباء کے مسائل بلکہ تعلیمی نظام کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس نظام سے وابستہ لوگوں کے مسائل پربھی بات کی ہے۔ اچھا ایسا نہیں ہے کہ صرف یونیورسٹی کے طلباء اور ان کی تعلیم کا ذکر ہے بلکہ پورا اک باب ”پاکستان اور تعلیم کے بنیادی مسائل“ پر باندھا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے حوالے سے سماج، حکومت، زبان، جامعات اور استاد کے کردار کا بھی ذکر ہے۔ ہر بات بہت آسان زبان اور الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ صدیقی صاحب نے کتاب شائع کرنے کے لیے نہیں مسائل کو اجاگر کرنے اور نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لیے لکھا ہے۔ جو کہ سیدھا آپ کے دل پر اثر کرتا ہے۔ تحریر میں یہ تاثیر لانے کا گر بقول صدیقی صاحب کے انھوں نے مائیکل ایپل سے سیکھا ہے جس کے لیے انھوں نے اک علیحدہ تحریر ”مائیکل ایپل اور تحریر میں تاثیر“ لکھی ہے۔

اس زیادہ اس کتاب کی تحریر میں اور کیا تاثیر ہو گئی کہ اس کو مجھ جیسے نالائق نے دیکھا خریدا پھر پڑھا اور اس پر تبصرہ لکھ دیا آپ تو پھر بھی مجھ سے زیادہ اہل علم و دانش ہیں۔

پریم بھنڈاری نے اگرچہ یہ شعر غزل کی کتاب کے بارے میں کہا تھا مگر بہت بر موقع ہے کہ
چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں
ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

Facebook Comments HS