بیرون ملک جانے کی خواہش: ذاتی اور حکومتی رویے
دو دن پہلے ایک جاننے والے کا فون آیا وہ مشورے کا طالب تھا کہ اس کے بچے کینیڈا یا یورپ کس طرح جا سکتے ہیں۔ عرض کی کہ بطور طالب علم سب سے آسان ہے، پڑھنےکے لئے بھیجیں۔ تعلیم حاصل کرکے وہاں رہنا چاہیئں تو رہ جائیں نہیں تو واپس آکر یہاں بہتر طریق پر ملک کی خدمت کریں۔ آگے سےکہنے لگے کوئی آسان طریقہ بتائیں۔ میرے بچے زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ پھر کسی جاننے والے کے بارے میں کہنے لگے اس کی بچی سے رشتہ کی بات کرتا ہوں۔ عرض کی کہ ان کی بچی تو غالباً کمپیوٹر سائنٹسٹ ہے آپ کے ان پڑھ بچوں کو قبول کرلیں گے؟ کہنے لگے کیا ہوتا ہے آج کل بچیوں کو کسی خاندانی گھر کا معقول رشتہ مل جائے تو کیا اچھی بات ہے۔ میں نے "خاندانی اور معقول” کی تشریح جانے بغیرفوراً فون بند کرنے میں غنیمت جانی۔
بھارت ظاہر بات ہے آبادی اور وسائل میں پاکستان سے بہت آگے ہے۔ مختلف بڑی کمپنیوں کے سی ای او بھارتی بن چکے ہیں اور اس کا فائدہ ان کے ملک کو بھی ہورہا ہے۔ جی20 کے بعد وہ سیکورٹی کونسل کی مستقل ممبر شپ کا بھی دعویدار ہے۔ بڑے ممالک سے تجارت بہت زیادہ ہے۔ ان کےطلبہ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں جو مستقبل میں اپنے ملک کے لئے اثاثہ ثابت ہوں گے۔
قارئین کو شاید علم ہوگا کہ جرمنی کی یونیورسٹیوں میں انٹرنیشنل طلبہ کے لئے بھی تعلیم بالکل مفت ہے۔ بیچلر عموماً جرمن زبان میں لیکن ماسٹرز اور پی ایچ ڈی انگریزی زبان میں کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ بھارت ہر سال اپنے ہزاروں طلبہ کو جرمنی بھجوا رہا ہے۔ پچھلے سال یہ تعداد 42 ہزار سے زیادہ تھی جو کہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ وہ مفت اور بہترین تعلیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
تقریباً سارا یورپ آج کل نوجوانوں کی کمیابی کا شکار ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے کم پڑھے لکھے لوگوں کے لئےمختلف پروگرام، مختلف تکنیکی ہنر سکھانے کے لئے بھی کھول رکھے ہیں۔ جرمنی میں خصوصیت کے ساتھ آپ نائی، پلمبر، موٹر مکینک، راج مستری۔۔۔ جیسے پیشوں کے لئے بھی باقاعدہ ٹریننگ اور کورس کے محتاج ہوتے ہیں جسے جرمن زبان میں Ausbildung (ووکیشنل ٹریننگ) کہا جاتا ہے۔ جرمنی نے اس کے لئے ویب سائٹس لانچ کررکھی ہیں جس کے ذریعے آپ یہ آوُس بلڈنگ اپلائی کرتے ہیں ۔ کوئی کمپنی آپ کو رکھنےکے لئے تیار ہوجائے تو ویزا تقریباً یقینی ہوتا ہے۔ کم پڑھے لکھے، میٹرک یا ایف اے پاس نوجوانوں کے لئے یہ بہت سنہری موقع ہے۔ ٹریننگ کے دوران متعلقہ کمپنی الاونس بھی دیتی ہے جو گذارے کے لئے کافی ہوتا ہے۔
کینیڈا اور بھارت کے بظاہر کشیدہ حالات کے بعد کینیڈین یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بھی عنقریب بحران پیدا ہوگا۔ اگر لمبا چلا تو ہوسکتا ہے آئی ٹی سیکٹرز کے ماہرین کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو۔اس سب سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹیوں کی فیس بہرحال بہت زیادہ ہے۔ اگر کوئی سکالر شپ نہ ہو توامرا ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ہمیشہ کی طرح نہ والدین کو اس طرف توجہ ہے نہ حکومت کو۔ اس لئی بدقسمتی سے نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت جو مورد الزام ٹھہرانا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر کینیڈا بھارت کشیدگی سے (اگر خبروں میں شور مچانے سے فرصت ملے تو) پاکستان تجارتی فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور یونیورسٹیوں اور کالجز سے بھی بہتر اور آسان شرائط پر طلبہ کے داخلے کے لئے مذاکرات کرسکتا ہے۔ اسی طرح جرمنی جیسی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومتی سطح پر نہ انفارمیشن سیشن ہیں، نہ جرمن ایمبیسی سے رابطے، کہ مزید معلومات اور آسانی حاصل کی جائے۔ جرمنی جانے کے لئے کورس کی ضرورت کے مطابق مختلف لیول کی جرمن زبان سیکھنا ضروری ہے لیکن دارالحکومت اسلام آباد کے زبانوں کے واحد مستند ادارے یعنی نمل یونیورسٹی میں تادم تحریر جرمن زبان کے داخلے اور امتحانات ہی معطل ہیں۔
پھر یہی بہتر ہے کہ وہاں کسی جاننے والے کی بچی کی قسمت خراب کی جائے یا انٹرنیٹ پر کوئی ستر سالہ کینیڈین خاتون "گھیری” جائے جو پنشن سے کھلائے پلائے بھی اور کینیڈا کے ویزے کا بھی انتظام کرے۔


