احتساب کو سیاسی نعرہ نہ بنایا جائے


نواز شریف کی طرف سے 2017 میں اپنی حکومت کے خلاف مبینہ سازش میں ملوث سابق جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد مسلسل یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیا کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کے سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کر کے ملکی سیاست میں متحرک رہ سکتی ہے۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ نواز شریف اپنے اس بیانیے پر اصرار نہیں کریں گے اور مسلم لیگ (ن) مستقبل کی طرف توجہ مبذول کرے گی۔ تاکہ انتقام کے بارے میں سوچنے کی بجائے عوامی بہبود اور ملکی مسائل پر کام کیا جا سکے۔

عام طور سے قیاس کیا جاتا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کی مرضی و منشا کے بغیر سیاست نہیں کر سکتی۔ اس طرح احتساب کا معاملہ ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ ہفتہ عشرہ قبل ویڈیو لنک پر پارٹی کارکنوں سے خطاب میں نواز شریف نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سپریم کورٹ کے دو سابقہ سربراہان اور چند ججوں کے خلاف کارروائی کو اہم قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے 2017 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف سازش کی اور 2018 کے انتخابات میں دھاندلی سے تحریک انصاف کو جتوا کر عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔ نواز شریف کا موقف ہے کہ اس ’سازش‘ کی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوا اور معاشی ترقی کا سفر تباہی کا راستہ بن گیا۔ اس لئے ان عناصر کا احتساب کر کے ہی مستقبل کی طرف قدم بڑھایا جاسکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہبر کا یہ موقف اصولی طور سے غلط نہیں ہے لیکن ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کا احتساب کرنے کے لئے محض سیاسی نعرے بازی یا انتخابی سلوگن اختیار کر کے معاملات درست نہیں کیے جا سکتے۔ ملک میں احتساب کو موثر بنانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے اور سیاسی پارٹیوں اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان مختلف سطح پر جاری غیر رسمی اور غیر قانونی گٹھ جوڑ ختم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر عدلیہ مضبوط ہو اور جج حضرات اپنے ان ساتھیوں کی گرفت کرنے پر آمادہ ہوں جو کسی بیرونی اثر و رسوخ کی وجہ سے حکم جاری کرتے ہیں یا عدالتی فیصلے لکھتے ہیں۔ یہ سب اقدامات ایک ہی ہلے میں نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کوئی انتخابی مہم جوئی اس مقصد کے لیے میدان ہموار کر سکتی ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے بدعنوانی کے بارے میں ایک واضح نظریہ پر اتفاق ضروری ہو گا۔ اس کے بعد ملک کے آئینی، سیاسی و انتظامی ادارے اس اصول کو نافذ کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کریں۔ تب ہی دھیرے دھیرے یہ مزاج استوار ہو سکے گا کہ کسی شخص کو اپنے عہدے کی بنیاد پر ملکی سیاست میں غیر قانونی مداخلت کرنے کا حوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔

یہ کام البتہ محتاط منصوبہ بندی اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ عسکری و عدالتی قیادت میں افہام و تفہیم کے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نواز شریف اگر اپنی خواہش کے مطابق بعض سابقہ جرنیلوں یا ججوں کے خلاف کارروائی کروانے میں کامیاب ہو بھی ہوجائیں تو اس سے یہ اصول طے نہیں ہو سکے گا کہ ملکی معاملات کیسے اور کہاں طے کیے جائیں۔ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ ایک وقت میں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو کرپشن کے الزامات عائد کر کے سیاست سے باہر کرنے اور جیل میں بند کر نے کا اہتمام کیا گیا اور اب چند سابقہ جرنیلوں اور ججوں کو سزا دلوا کر ایک فرد کی مجروح انا کی تسکین کا اہتمام کر لیا جائے۔ اس طرح نظام میں خرابی تو اسی طرح موجود رہے گی لیکن انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ دراز ہو جائے گا۔ اور جن ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد سازی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، ان کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کو اس وقت ایسے تصادم سے گریز اور اس سے باہر نکلنے کی شدید ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے لیڈر جاوید لطیف نے چند روز پہلے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے تئیں احتساب کے بارے میں نواز شریف کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم جنرل باجوہ اور فیض حمید کے احتساب کی بات نہیں کرتے لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ 9 مئی کو عسکری تنصیبات پر حملے کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے والے عناصر کو معاف نہ کیا جائے‘ ۔ دیکھا جائے تو سابق فوجی قیادت نے مبینہ طور پر ملکی سیاست میں مرضی کی پارٹی کو حکومت میں لانے کے لیے جو اقدامات کیے تھے اور جو نتائج سامنے آئے، ان کی نوعیت اور مضمرات سانحہ 9 مئی سے بالکل مختلف تھی۔ یوں بھی دو مختلف جرائم کو ملا کر دیکھنا درست نہیں ہو سکتا۔ اس بیان سے یہی قیاس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عسکری قیادت کو یہ اشارہ دے رہی ہے کہ اگر تحریک انصاف کو میدان سے نکال باہر کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی مدد کی جائے تو پھر پارٹی سابقہ فوجی لیڈروں کے احتساب کا مطالبہ نہیں کرے گی۔

اس سیاسی طرز عمل سے ملک میں احتساب کو ایک برائی کے طور پر تسلیم کرنے کی بجائے سیاسی ہتھکنڈا مان لیا جائے گا۔ اور یہ بھی طے ہو جائے گا کہ سیاسی پارٹیاں صرف اقتدار کے حصول کے لیے فوج کو استعمال کرتی ہیں۔ اس میں کامیاب ہو کر فوج کی تحسین کی جاتی ہے اور اگر کوئی فوجی لیڈر کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرے تو پھر وقت آنے پر اس کے خلاف مہم جوئی کی جاتی ہے۔ یہی احتساب کو سیاسی نعرے بازی کا ذریعہ بنانے کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ اصولی طور سے اس خرابی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ یعنی اس بنیاد کو ختم کیا جائے جس کی وجہ سے ملکی فوج سیاسی امور میں دخل اندازی کرتی ہے۔ اگر تمام سیاسی پارٹیاں صرف اقتدار کے حصول کے لیے فوج کو اپنے ساتھ ملانے کا طریقہ ترک کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو فوج کو بھی سیاست دانوں کو مشورہ دینے اور جوڑ توڑ میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔ تاہم جیسا کہ جاوید لطیف کے بیان میں دیکھا جاسکتا ہے، اس میں فوج کے ساتھ ’کچھ لو کچھ دو‘ کی بنیاد پر سودے بازی کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی سیاسی حکمت عملی اس ملک میں تمام مسائل کی جڑ ہے۔

سابقہ جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا نعرہ بھی درحقیقت سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کا نعرہ لگا کر انہیں بدنام کرنے جیسا عمل ہی ہے۔ اس وقت ملک میں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ کسی سیاست دان نے واقعی کوئی مالی جرم کیا ہے یا نہیں لیکن عوام کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ سیاست دان اقتدار ملتے ہی عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے قومی خزانہ لوٹنے پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کی کل سیاست اسی ایک نکتہ پر مرکوز تھی اور انہوں نے اقتدار میں آنے، رہنے اور نکلنے کے بعد تک سیاسی مخالفین کے بارے میں اس موقف کو عام کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ حالانکہ کسی عدالت میں معاملات طے ہوئے بغیر کسی شخص پر ایسا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اقتدار سے محروم ہونے اور فوج سے تعلقات خراب ہونے کے بعد عمران خان کو مالی بدعنوانی ہی کے ایک مقدمہ میں سزا دلوا دی گئی۔

اس مزاج کو قومی سوچ سے نکالے بغیر ملک میں نہ تو سیاسی ہم آہنگی پیدا ہوگی، نہ مل جل کا کسی قومی مقصد کے لیے کام کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ اور نہ ہی واقعی ان عناصر کا احتساب ممکن ہو گا جو قانونی و آئینی اختیارات سے تجاوز کر کے ملکی سیاست میں اپنا نقش ثبت کرنا چاہتے ہیں۔ بعض نامزد جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا نعرہ لگانا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک سیاسی پارٹی، دوسری سیاسی پارٹی کی قیادت کے خلاف بدعنوانی کا الزام لگا کر اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہے۔ اس کے برعکس ضروری ہے کہ ملک میں احتساب کا نظام مضبوط کیا جائے، قانون سب کے لیے یکساں طور سے موثر ہو لیکن ایسے الزامات کو نعرہ بنانے سے گریز کیا جائے بلکہ ان کی قانونی طور سے ممانعت ہو۔ اس مقصد کے لیے ازالہ حیثیت عرفی کے قوانین بہتر بنائے جا سکتے ہیں تاکہ جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والے لیڈر خواہ وہ سیاست دان ہوں یا ان کا تعلق فوج و عدلیہ سے رہا ہو، عدالتوں سے دادرسی کی امید کرسکیں۔

جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کی بات کرنے کے بعد اب نواز شریف کو خاموش ہیں لیکن پارٹی قائدین اس حوالے سے وضاحتیں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب سابق ویز خزانہ اسحاق دار نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’نواز شریف نے اپنے خلاف سازش کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے‘ ۔ حالانکہ ملکی آئین و قانون کی خلاف ورزی کا معاملہ کوئی بھی ایک شخص کیسے معاف کر سکتا ہے۔ جیسے قومی وسائل لوٹنے والے عناصر اللہ سے پہلے ملکی عدالتی نظام کو اپنے کارناموں کا جواب دینے کے پابند ہیں، اسی طرح جن جرنیلوں یا ججوں نے ملی بھگت سے ملکی نظام میں نقب لگانے کی کوشش کی ہے، انہیں بھی ملکی قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ البتہ ملک کے سیاسی معاملات میں عسکری مداخلت کی طویل تاریخ اور مفاد پرستی کی وجہ سے فوج کو ملکی معاملات میں دخل اندازی کا موقع دینے کی درجنوں مثالوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ پائیدار اور حتمی حل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ اور سیاسی ماحول آلودہ کرنے کے لیے خالصتاً الزام تراشی کی بنیاد پر نئے نعرے ایجاد کرنے کا طریقہ ترک کیا جائے۔

قانون کو بالادست کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہو گا اور معاشرے کے تمام عناصر کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنے پر آمادہ کرنا ہو گا۔ تب ہی احتساب معاشرے کا ایک موثر اور فیصلہ کن عنصر بن سکے گا۔ بصورت دیگر احتساب بیورو بنا دینے سے نا انصافی اور سیاسی انجنیئرنگ کا راستہ تو ہموار ہو گا لیکن عوام کے حقوق پامال کرنے والوں کی کبھی گرفت نہیں ہو سکے گی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali