انور زاہد کا وجدان
زمین نام کے سیارے پر ہومر ایسا شاعر ہے جس کی نظمیں اِس کی وجہ شہرت ہیں اُس کی دو نظمیں ایلیڈ اور اوڈیسی جو اُس کی وجہ شہرت بنی خدا کی زمین پر خدا گواہ ہے کہ صدیاں بیت چلیں اُس کی شہرت میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا ۔دُنیا میں ہر لکھنے والے نے ہومر کی عظمت کو دل و جان سے تسلیم کیا ہے ۔ وہ اپنی نظموں میں یونانی بہادروں کی جرات ، شجاعت ، بہادری اور انسان دوستی کی مدح سرائی کرتا ہے ۔یونانی ثقافت اور طویل طرز زندگی کے نقشے کھینچتا ہے لیکن یہ سب کچھ اِس اُسلوب میں بیان کرتا ہے کہ قدیم اور جدید لکھنے والے اُسے سر جھکا کر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور بر ملا کہتے ہیں ۔’ ہومر یونان ہے اور یونان ہومر ہے ،
اُس کی قبر پر آج بھی یہ کتبہ لگا ہوا ہے۔ ’ اِس قبر میں اُس مقدس انسان کا سر دفن ہے جس نے دھرتی کے بہادروں کی شان اور قدر بڑھائی ہے اِس آدمی کا نام ہومر ہے ،۔
ہومر کو سب سے پہلے انگریزی میں Chapman ایڈیشن میں ایلیڈ کا ترجمہ کیا گیا ۔پھر اِس کے بعد ہومر کا لکھا دُنیا بھر کی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ ہمارے ہاں محترم سلیم الرحمن نے ’اوڈیسی کا جہاں گرد ‘کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ سورج اور وقت کو اُن کے سفر سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ ہومر 800 قبل مسیح کا شاعر تھا جبکہ رُوم میں پہلی صدی عیسوی میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جس کو بچپن سے شاعری کا شوق تھا ۔ وہ جس سکول میں پڑھتا تھا وہاں کے ایک اُستاد کا نام بالسٹا تھا ۔بالسٹا کو چوری چکاری کا اَندھا شوق تھا وہ راہ چلتے مسافروں کو لُوٹتا تھا۔ ایک دن اُس کی چوری پکڑی گئی تو لوگوںنے پتھر مار مار کر اُس کو مار دیا۔اُس دن اُس بچے نے پہلی بار ایک قطعہ اپنے استاد کے بارے میں کہا۔ وہ قطعہ یہ تھا ۔
پتھروں کے اِ س ڈھیر کے نیچے
بالسٹا نامی چور دفن ہے
اب مسافر بلا خوف و خطر
اپنے اپنے راستے پر جا سکتے ہیں
روم کے بادشاہ آگسٹس کی یہ بڑی خواہش تھی کہ رُوم میں کوئی ایسی نظم لکھے جس میں روم کی عظمت ، ثقافت اور رُوم کے قومی ہیروز کے گیت گائے جائیں اور اُس نظم کو وہی رتبہ حاصل ہو جو ہومر کی نظموں کو یونان میں حاصل ہے ۔آگسٹس کا یہ کام اُس بچے نے کر دکھایا جسے تاریخ وَرجل کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اُس کا نام شاعری کی دُنیا میں بالخصوص نظم میں نہایت عقیدت اور احترام سے لیا جاتا ہے ۔ تب وَرجل نے اہل روم اور آگسٹس کی خواہش کا نہ صرف احترام کیا بلکہ ایک عظیم نظم لکھنے کا کام شروع کر دیا ۔وَرجل کا بچپن دیہاتی ماحول میں گزرا تھا اُس کے ارد گرد بکریوں ، بھیڑوں ، گائے بھینسوں اور گھوڑو ںکا ہجوم تھا۔ وَرجل نے اِس ماحول سے بہت کچھ سیکھا جو اُس نے اپنی شاعری میں بیان کیا ہے ۔ جب اُس کی طویل نظم اینیڈ چھپی تو لاطینی شاعری میں ایک انقلاب آ گیا ۔ اُسے سکول کے نصابوں میں شامل کر لیا گیا اور تمام رُوم نے یک زبان ہو کر کہا ۔
اے یونانیوں سنبھل جاو
ایلیڈ سے بڑی نظم کی
پیدائش ہو چکی ہے
یہ وہ عزت و احترام ہے جو اہل روم نے اپنے اِس عظیم شاعر کو دیا۔ اہل روم کے نزدیک وہ پیغمبرانہ صفت رکھنے والا شاعر ہے ۔ورجل کی ماں نے خواب میں جس شجر کو جنم دیاتھا وہ درخت بن کر بہار دِکھا رہا ہے۔ درخت کے پتے اب بھی ہرے اور پھول چار سو اپنی خوشبو پھیلا رہے ہیں۔ ایک ایسی ہی خوشبو ہند کی دھرتی سے آنا شروع ہوئی ہے مگر ہم اہل روم کی طرح یونان سے تو نہیں بولیں گے کہ سنبھل جاو مگر نہایت عقیدت اور احترام سے ہومر اور وَرجل کے حضور یہ عرضی بھیجنا چاہتے ہیں کہ مہادیو گورو نانک جی کے ننکانہ صاحب سے ، پنجاب سے ایک ایسی ہی نظم کی پیدائش ہو چکی ہے جو ،، ریت ،، کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ریت کائنات کے ہر ذرے میں موجود ہے اور کائنات کا ہر ذرہ ریت ہے ۔یہ انور زاہد جی کا پہلا تخلیقی مجموعہ ہے جو نظم کی صورت میں شائع ہوا ہے اُن کی یہ نظمیں ایک ایسے جہاں کا پتا دیتی ہیں جو کل تھا مگر آج کہاں ہے ۔انہوں نے انسان اور فطرت کو بالکل نئے زاویے سے دیکھا ہے پھر دونوں کو ایک رشتے میں باندھ کر کتاب کی شکل میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدے اور تجربے پر پورا پوراعتماد کیا ہے ۔انہوں نے حقیقی زندگی اور اُس کے اِرد گرد بکھرے فطرت کے نظاروں اور اشیاء میں حقیقی خوشی اور مسرت کا کھوج لگایا ہے۔ انہوں نے بتلایا ہے کہ انسان اُن چیزوں میں خوشی تلاش کرتا ہے جہاں وہ موجود نہیں ہوتی ۔انہوں نے اپنے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں حقیقی مسرت کی وضاحت کی ہے ۔
جس طرح وَرجل کا بچپن گاوں میں گزرا ہے بعینہ ہی زاہد جی کا بچپن بھی گاوں میں گزرا ہے ۔وہ بچپن سے ہی فطرت کے قریب رہے ہیں ۔بچپن میں ہی فطرت کو نہایت قریب سے دیکھ لیا تھا اور چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوب صورتی ، سچائی اور مسرت کے بے پناہ خزانے ڈھونڈ لئے تھے۔ اَب وہ شاعری سے سماج کو اِن کا پتا بتلانا چاہتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ خوشی اور غم کا ذریعہ کیا ہے۔ انہوں نے دل کی آنکھ سے حقیقی زندگی کو دیکھا اور اپنی شاعری میں بیان کیا ہے ۔ اُن کی نظم میلہ ہے اِس نظم میں انہوں نے نہایت خوبصورتی سے رنگینی حیات کو بیان کیا ہے ۔ اِس ضمن میں انہوں نے کھلونوں کی دکان کو انسانی زندگی کی عیش و عشرت قراردیا ہے۔ اِس عیش و عشرت کو جادو کی گڑیا اور اِس گڑیا کا طلسمی محل اور حسین خوابوں کا گہوارہ قرار دیا ہے جبکہ اِس دنیا کی طمع اورلالچ کو ڈائنو سار کا نام دیا ہے ۔ آج سے کروڑوں سال پہلے زمین پر جوجابر و ظالم حکمران تھے آج اُن کا نام لیوا کوئی نہیں ہے ۔ ایک نظم مریم کے نام سے ہے جس میں انہوں نے اِس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ہر دور میں سچ بولنا بڑا مشکل ہے اور اِس سے بھی مشکل سچ کو برداشت کرنا ہے ۔وہ بتانا چاہتے ہیں کہ زندگی جینے کا نام ہے، امن ، محبت اور پیار کا نام ہے مگر ہمارے یہاں ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم ہے کہ ہماری چیخیں تک کسی کو سنائی نہیں دے رہی ہیں۔ ہم ہر لمحہ گھٹ گھٹ کے جی رہے ہیں۔ جیسے ہم جینے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ہمیں دھرتی کے ناخداوں سے یہ سوال کرنا ہو گا کہ ایسا کیوں ہے ؟
اُن کی ایک نظم منصور ہے جس میں انہوں نے آفاقی سچائی کا تذکرہ کیا ہے کہ حق اور سچ کا پرچار کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔زمین پر جو بھی حق اور سچ کا پرچار کرے گا وہ منصور کی طرح تختہ دار پر جھوم جائے گا مگر حق کا پرچار ہوتا رہے گا۔ یوںانور زاہد جی کی یہ نظم لمحہ بہ لمحہ قدم بقدم آگے بڑھتی رہے گی۔ ایک ایسی ہی نظم درد کی تہذیب ہے جو اصل میں تہذیب کا درد ہے اِس کے معنی اور مفہوم کیلئے قاری کو شعور و فکر کی شاہراہ پر نہ صرف چلنا ہوگا بلکہ دوڑنا ہوگا تاکہ وہ درد کی اِس تہذیب سے تہذیب کے درد تک کا نظارہ کر سکے ۔ انور زاہد جی کا یہ خاصا ہے کہ انہوں نے ریت کی ہر نظم میں بیان ، اُسلوب کو خوب صورت استعاروں سے مزین کیا ہے جو نظم کی دُنیا میں خاص اُنہی کا خاصا ہے ۔ وہ براہ راست کے شاعر نہیں ہیں بلکہ استعاروں کے ذریعے سے جو محسوس کرتے ہیں وہ قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ شاعری کی دنیا میں بڑا شاعر وہ ہوتا ہے جو نئے اور منفرد اسلوب کی تشکیل کرتا ہے پھر یہی صفت اُس شاعر کی شہرت کا سبب بنتی ہے۔ ہمارے ہاں نظم ناپید ہو رہی ہے ایسے دور میں جب نظم کا وجود پڑھنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہو رہا ہو تب انور زاہد جی کا مجموعہ نظم دنیا کے سامنے آنا اُن کے بڑے ہونے کی گواہی ہے ۔ ایک ایسی ہی نظم خیام ہے جس میںانہوں نے وہی کیا ہے جو ہومر اور ورجل نے کیا ہے کہ ہم اپنے قابل، ذہین ، فطین لوگوں کی قدر کرنے سے قاصر ہیں ہم علم و فکر کی آشنائی سے دور ہیں۔ ہمیں جب تک اِس سوال کا جواب نہیں ملتا ہم اور ہمارا معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ زندگی جی لینے کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی بنی نوع انسان کے لئے کچھ کرنے کا نام ہے ۔ہمارے سماج میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کینہ ، بغض، حسد ، لالچ ، طمع کو عام کیا گیا ہے ،علم و شعور کو مسخ کیا گیا ہے ۔جب تک ہم اپنے بچوں کو اِن سوالوں کے جواب نہیں دیتے ہیں ہم اور ہمارا معاشرہ ایسے ہی چیخوں اور آہوں کی زد پہ رہے گا ۔وہ سوال کرنے کو نہایت اہم سمجھتے ہیں کیونکہ جب سوال کیا جاتا ہے تو پھر اُس کا جواب دیا جاتا ہے جو ہم سے اب تک چھپایا جا رہا ہے ۔اِس لئے ہم کچھ کرنے سے قاصر ہیں حالانکہ ہمارے لوگوں میں بلا کا اعتماد ہے، موقع ملے تو بڑے شاندار نتائج دیتے ہیں ۔ اِس نظم کو پڑھ کر عمر خیام کے علم و فضل کا وہ واقعہ یاد آجا تا ہے جو آج بھی ہمارے معاشرے کی ٹھیک ٹھیک عکاسی کرتا ہے کہ جھوٹ، کینہ ، بغض ، حسد ، لالچ، طمع ، حرص انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا ہے۔اِس جہاں میں عمر خیام کی شہرت ایک بڑے شاعر کی ہے اُس کی رباعیوں کے تراجم دُنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکے ہیں مگر اُس کا اصل مقام فلکیات ہے فلکیات والوں کو اُس کے نام اور مقام کا علم ہے خصوصاًکیلنڈر اور تقویم میں عمر خیام ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اُس نے جوتقویم بنائی ہے اُس میں 365 دن کے ساتھ 6 گھنٹے کا اضافہ اُسی کا وضع کردہ ہے ہر چار سال بعد چھ گھنٹوں کے اضافے سے ایک دن بڑھانے کا کلیہ بھی عمر خیام کا ہے ۔ آج کے جدید ترین آلات سے سال کا جو تخمینہ نکلا ہے اِس میں اور عمر خیام کے حساب میں صرف 11.3 سیکنڈ کا فرق ہے ۔ عمر نے اِس تقویم کا نام اپنے سرپرست سلجوقی حکمران کے نام پر’ تقویم جلالی‘ رکھا تھا ایک مرتبہ سلطان جلال الدین ملک شاہ نے خیام سے شکار پر جانے کے لئے ایک دن مقرر کرنے کا کہا جس دن برف و باراں نہ ہو ۔ اُس نے اپنے علم کی بنا پر ایک دن کا تعین کر دیا اُس نے سلطان کو خود سوار کروایا لیکن اِس وقت مطلع اَبر آلود ہو گیا اور بارش کے آثار پیدا ہو گئے ۔ علم و شعور سے عاری درباری اُس پر ہنسنے لگے مگر خیام کو اپنے علم پر پورا بھروسہ تھا ۔ اُس نے انتہائی اعتماد سے سلطان سے کہا کہ بادل ابھی چھٹ جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ اصل میں یہ نظم ہمارے 76 سالہ دور کی مکمل عکاسی کرتی ہے کہ خود کرنا کچھ نہیں ہے اور جو کر سکتا ہے اُس کی راہ میں روڑے اٹکانے ہیں خود سے جینا نہیں ہے اوردوسروں کوجینے دینا نہیںہے ۔یہی بات حقیقت میں کسی سماج اور معاشرے کی ترقی اور تباہی کا شاخسانہ ہوتی ہے ۔ انور زاہد جی اپنی اِس کتاب میں سوال کرنے ، بات کرنے ، آگے بڑھنے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی بات کرتے ہیں جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے ہماری آہیں ، ہماری چیخیں، ہمیں اپنے آپ سے دور کرتی رہیں گی۔ دُنیا سے دور تو ہم کب کے ہو چکے ۔وہ بتانا چاہتے ہیںکہ سرکنڈے کو جب کاٹا جائے تو وہ قلم بن جاتا ہے ،نرکل کو توڑا جائے وہ بانسری بن جاتا ہے مگر نرکل کا ٹکڑا ہمیشہ فریاد کرتا رہتا ہے اُس اصل کے فراق میں جس سے وہ کاٹا گیا ہوتا ہے۔ ہم تھوڑا سا بھی غور کریں تو ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اصل سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو زاہد جی بتانا اور سمجھانا چاہتے ہیں۔ یہ آہیں انور زاہد جی کے خواب ہیں ۔خواب وہ نہیں ہوتے جو آپ سوتے میں دیکھتے ہیں۔ اصل میں خواب وہ ہوتے ہیں جو انسان کو سونے نہیں دیتے ۔ میں بس یہی کہوں گا کہ انور زاہد جی کے یہ خواب اُن کا وجدان ہیں اور میرے نزدیک وجدان وہ سواری ہے جو آپ کو تصورات کی دُنیا میں لے کر جاتی ہے اور جو کچھ انسان وہاں سے لے کر آتا ہے وہ گیان ہوتا ہے ۔
انور زاہد جی کو اُنکے وجدان سے گیان تک کا سفر مبارک ہم اُن کی نظم خیام کا مزہ لیتے ہیں تو پھر ملاحظہ فرمائیں ۔
ہونٹ مس ہو گئے صراحی سے
پیاس بھڑکی وجود کے اندر
ایک جرعہ ہے پیاس کی قیمت
ایک لمحہ خراج ہستی کا
جس کو جینا ہے یہ گھڑی جی لے
جو بھی پینا ہے ہاں ابھی پی لے
فکر فردا میں جو پڑا کم ظرف
عمر بھر کا عذاب جھیلے گا




