تصوراتی اسلامی دنیا یا شہر


مطالعہ کرتے کرتے جب تھکاوٹ محسوس ہوئی تو یوٹیوب سے انٹرٹینمنٹ کے لیے کچھ ویڈیوز دیکھنے لگے تو وہیں اسلامی سنہرے دور پر بنائی گئی ایک ڈاکومنٹری نظر آئی۔ اس ڈاکومنٹری کو دیکھنے دل کیا تو بغیر کسی دیر کے ڈاکومنٹری دیکھنے لگا۔ دیکھتے دیکھتے گہری سوچوں میں گم گیا تو دماغ اپنی ایک ایسی اسلامی دنیا بنا کے پیش کی جو آج کے اسلامی دنیا سے انجان اور ناواقف لگنے لگا اور اس خیالی اسلامی دنیا کا دہشت گردی اور پریشانیوں سے بھری پڑی اسلامی دنیا سے دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آیا۔ دل نے مجبور کر دیا کہ اگر دماغ کی بنائی ہوئی اسلامی دنیا کو قلم بند نہ کیا تو دماغ کے ساتھ بہت زیادتی ہوگی، میں نے بھی دل کی مانی اور دماغ کی مشقت سے بنائی ہوئی اسلامی دنیا کو اس مضمون میں قلم بند کر رہا ہوں۔

اسلامی دنیا کا سنہرا دور ہر طرف خوشحالی اور ترقی کا منظر پیش کرتا ہے۔ سائنس کی ترقی سے لے کر آرکیٹچر کے میدان تک ہر روز نت نئے آئیڈیاز جنم لے رہے تھے۔ بغداد ہو یا غرناطہ، اصفحان ہو یا بخارا، ہر طرف علم و دانش، منطق اور فلسفہ کی باتیں ہوتی تھی۔ لوگوں میں کائنات کے چھپے رازوں کو جاننے کا بڑا شوق تھا۔ اس لیے وہ دور مسلمانوں کا سنہرا دور رہا اور ترقی کا دور رہا۔

میرا دماغ اسی دور سے متاثر ہو کر آج کے اسلامی دنیا سے بالکل مختلف دنیا بنائی۔ جب ناچیز کا دماغ بیت الحکمت کا نام سنا اور اس میں ہونے والی علمی کاموں سے واقف ہونے لگا تو دماغ ایک ایسے اسلامی شہر کا نقشہ کھینچنے لگا جو عالم اور دانشوروں سے بھرا ہوا اور ہر گلی ایک سے بڑھ کر ایک اچھا لائبریری اور اس میں مطالعہ کرنے والوں کے کائنات کے رازوں کو کھوجنے کا جستجو کو پیش کرتا ہے۔

شہر کا منظر کچھ یوں ہے، ایک چھوٹا سا اسلامی شہر ہے اور شہر کے چاروں طرف ایک بڑی دیوار ہے۔ شہر میں داخل ہونے کے لیے چاروں طرف گیٹ ہیں اور گیٹ پر آنے جانے والوں پر نظر رکھنے والے کچھ محافظہ ہر وقت ہوتے ہیں۔ اس کے بالکل مرکز میں ایک بڑی لائبریری ہے اور ساتھ ہی اس کے ساتھ جوڑے ہوئے مسجد ہے لوگ اس لائبریری اور مسجد کو دار العلوم یعنی علم کا مرکز کے نام سے پکارتے ہیں۔ چاروں طرف سے لائبریری تک پہنچنے کا فاصلہ تقریباً برابر ہے۔ یہ لائبریری اور مسجد اسلامی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ یہ شہر اسلامی دنیا کا مرکز ہے اور دور دور علاقوں سے لوگ یہاں علم حاصل کرنے آتے ہیں۔ کئی نامور مسلمان دانشور، فلسفی اور سائنسدان اسی شہر میں رہتے ہیں اور زیادہ تر ان کا وقت اسی لائبریری میں گزرتا ہے۔

دارالعلوم یعنی اس لائبریری کا ایک حصہ کتابوں کا ترجمہ کرنے کرنے کے لیے مختص ہے وہاں ہر وقت مختلف کتابوں کا ترجمہ ہوتا ہے۔ اس میں سائنس اور فلسفہ سے لے کر ہر میدان کے کتابیں ترجمے ہوتے ہیں۔ مغربی دنیا کے سائنس اور فلسفے کی کتابیں یہیں سے ترجمہ ہوتے ہیں اور شہر کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں۔ قدیم یونانی فلسفیوں اور سائنسدانوں کی کتابوں سے لے کر دور جدید کے مغربی سائنسدانوں اور فلسفیوں کی کتابیں ترجمہ ہوتے ہیں اور ان پر بحث ہوتی رہتی ہے۔

شہر کے جس کونے چلے جاؤ وہاں آپ کو لوگوں گروپ کی شکل میں بیٹھ کر فلسفہ اور سائنس کے بارے میں گفتگو کرتے سنو گے۔ بازار کے ہر دو قدم پر آپ کو کتب خانے نظر آئیں گے اور وہاں لوگوں کو کتابیں خریدتے ہوئے دیکھنے کو ملیں گے۔ اس بازار کے ہر تاجر یا تو فلسفی ہے یا سائنس دان۔ وہ اپنی اپنی دکانوں پر بیٹھ کر تجارت بھی کرتے ہیں اور ساتھ کتابیں بھی پڑھتے ہیں۔

علم و دانش، فلسفہ اور سائنس کے علاوہ لوگوں کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی اور موضوع ہے ہی نہیں۔ جو تھوڑا بہت امیر ہوتا ہے ان کے اپنے اپنے گھروں میں چھوٹے چھوٹے لائبریری ہوتے ہیں وہ ہر وقت اپنی لائبریریوں میں کتابیں پڑھنے میں مشغول ہوتے ہیں۔ اور جو اپنی لائبریری نہیں بنا سکتے ہیں وہ دارالعلوم میں جاتے اور وہاں بیٹھ کر پڑھنے میں گزارتے ہیں۔

اس لائبریری یعنی دارالعلوم میں ہر وقت کوئی دانشور، فلسفی اور سائنسدان اپنے نئے آئیڈیاز لوگوں کے سامنے بیان کرتے نظر آتا ہے۔ جمعہ کی نماز کے بعد ہر جمعہ کو اس لائبریری میں ایک بڑی محفل ہوتی ہے اور اس محفل میں نامور دانشور، سائنسدان اور فلسفی کوئی نئی موضوع ان کے سامنے پیش کرتے اور اس پر بحث ہوتا ہے۔ اس لائبریری میں لوگ ہر وقت تحقیق کرتے اور کتابیں پڑھتے نظر آتے ہیں۔

پوری دنیا کے لیے یہ ایک مثالی شہر ہے اور یہاں سے علم کتابوں کی صورت لے کر باہر دنیا کو جاتی اور لوگ ان کتابوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ فلسفی ہو یا سائنس دان ان کی کتابیں یہاں آتی اور یہاں سے ان کی کاپی بن کر دوسرے حصوں کو جاتے ہیں۔ اس طرح یہ شہر اسلامی دنیا کا ایک اور ایک سنہرا دور کا آغاز کر دیا۔

یہ تھا میرے خیالوں کا ایک اسلامی دنیا اور ان میں ہونے والے علمی کاموں کا۔ بغیر چاہتے ہوئے بھی میرے دماغ نے یہ ایک تصوراتی اسلامی دنیا بنا کے پیش کر دی۔

Facebook Comments HS