ڈینگی کی وبا
آج کل پھر سے ڈینگی کی وبا سر اٹھا کر پورے معاشرے میں عفریت کی مانند پھیل رہی ہے۔ پنجاب میں اس کا پھیلاؤ زیادہ تیزی سے بڑھتا نظر آتا ہے۔ یہ مسائل درحقیقت ماحولیاتی تغیرات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
اب تک کئی لوگ موت کا شکار ہوچکے ہیں سینکڑوں افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور جو حکومتی ریکارڈ میں نہیں ان کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔ ایسی ہی صورتحال بنگلہ دیش میں بھی درپیش ہے۔ اب تک کی موصولہ اطلاعات کے مطابق 1000 افراد اس عفریت کی نذر ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں مریض وہاں ہے اسپتالوں میں داخل ہیں جن کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کا پھیلاؤ مچھروں کی بہتات کی وجہ سے جو بدلتی ماحولیاتی کثافتوں کی وجہ سے روز افزوں ہے۔ مریض کو شدید بخار ہوتا ہے، خون کا اخراج شروع ہوجاتا ہے جو اندرونی بھی ہو سکتا ہے اور ناک اور منہ سے خون بھی نکل سکتا ہے۔ اس عالم میں مریض کو شدید کپکپاہٹ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ یہ ظالم مچھر پانی کے ذخائر میں پرورش پاتا ہے۔ پچھلے سال بھی بنگلہ دیش میں 281 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور 210000 لوگ اس وقت بھی اس مرض میں مبتلا ہیں اور مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے ہیں۔ یہ ایک طویل ایمرجنسی کی شدید کیفیت ہے جس سے نبٹنا عام ڈاکٹروں کے بس کی بات نہیں اور یوں گائناکالوجسٹ اور دل کے امراض کے ماہرین کو بھی ان کی مدد کرنا پڑ رہی ہے۔ اب تک 158 مریض جان کھو بیٹھے ہیں جو گزشتہ برس سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔ اندازہ ہے کہ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی اس مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔ وہاں کے سرکاری اسپتالوں میں علاج فری ہوتا ہے مگر بعض ایسی ادویات کی کمیابی ہے کہ لوگوں کو چار و ناچار بازار سے دوائیاں خریدنا پڑتی ہیں۔
عالمی ادارہ الصحت ( ڈبلیو ایچ او ) کے مطابق ڈینگی، چیگنگنیا، پیلا بخار، زکاہ وغیرہ بیماریوں کی اصل وجہ یہی مچھر ہیں جو ماحول کے مسائل کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسم مون سون کے اختتام پہ اس مرض کی شدت میں نمایاں کمی نظر آئے گی مگر خدشہ پھر بھی برقرار رہے گا کیونکہ کو احتیاط کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ ان حشرات الارض کی پسندیدہ جگہ شہروں کے بیچوں بیچ کھڑے پانی کے گندے جوہڑ ہوتے ہیں جس میں افزائش نسل خوب ہوتی ہے مگر طبی ماہرین کی حیرانی و پریشانی اور بڑھ گئی تھی کہ جب دیہی علاقوں سے مریض آنا شروع ہو گئے تھے۔ اب ان کی تعداد بھی خوب بڑھ رہی ہے۔ زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ یہ مرض آپ کو بار بار بھی ہو سکتا ہے جس سے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔


