عالمی یوم اساتذہ


”عالمی یوم اساتذہ“ دنیا کے کئی ممالک میں ہر سال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یوم اساتذہ منانے کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کا اہتمام 1994 میں یونیسکو اور عالمی تعلیم Education International کی شراکت سے کیا گیا تھا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں با صلاحیت اساتذہ کی بھرتی، اساتذہ کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے انہیں مواقع فراہم کرنا، اساتذہ کو درپیش معاشی اور معاشرتی مسائل کا تدارک کرنا، اساتذہ کی خدمات کو اجاگر کرنا، ان کی عزت و تکریم اور وقار کو بڑھا نا اور انہیں ہر قسم کی تحفظ فراہم کرنا تھا۔

اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں کئی سیمینارز، کانفرنسیں اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 2009ء میں عالمی یوم اساتذہ کے حوالے سے یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2015ء تک دنیابھر میں تعلیم کو عام کیا جائے گا اور بلند معیار تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں پیشہ ور اساتذہ کو ان کا جائز مقام ملے اور انہیں دور جدید میں نظام تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے وقتاً فوقتاً باخبر کیا جائے۔

جیسا کی 2017 میں عالمی یون اساتذہ کا تھیم تھا
”Empowering Teachers“
2018 کا ورلڈ ٹیچرز ڈے کا تھیم تھا
”The right to education means the right to a qualified teacher.“
اس سال 2023 کا تھیم ہے

’‘ The Teachers We Need for the Education We Want: The Global Imperative to Reverse the Teacher Shortage ’.

اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معلمین کی تعداد میں کمی کو روکا جائے اور عالمی سٹیج پر اساتذہ کی تعداد کو بڑھایا جائے اور ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ”

اب ہمارے معاشرے پر ایک نظر ڈالیں تو خود ہی فیصلہ کر لیں۔ پاکستان میں محض چند طلبہ 5 اکتوبر کو فیس بک اور وٹس اپ سٹیٹس پر کچھ اشعار یا تہنیتی پیغامات کے ساتھ چند اساتذہ کی تصویریں یا ویڈیوز پوسٹ کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

باقی سال بھر خاص طور پر گزشتہ کچھ سالوں سے اساتذہ کو مسلسل مفت کی تنخواہ لینے کے طعنے مارے جاتے ہیں۔ ایک استاد کو ایک ناکے یا چیک پوسٹ پر کس برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اپ سب کے سامنے ہے۔

حکومتی سطح پر اساتذہ کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھا جاتا ہے وہ اپ کے سامنے ہے۔ بھرتیوں میں کیسے کیسے اہل اور با صلاحیت اساتذہ کو نظر انداز کر کے من پسند اور غیر تربیت یافتہ افراد کو ترجیح دی جاتی ہے؟ پھر بھرتی کس بنیاد پر کی جاتی ہے؟ عارضی بنیادوں پر ، وزٹنگ، ایڈہاک اور کنٹریکٹ بھرتیاں کر کے اساتذہ کو روزگار میں عدم تحفظ کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ یہ اساتذہ چاہے ہزار صلاحیتوں کے مالک کیوں نہ ہوں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ کیونکہ وہ ایک مستقل لائحہ عمل ترتیب نہیں دے پاتے جس سے وہ اپنی تدریسی کاوشوں کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ ان کے سامنے صرف وقت مقر رہ پر تفویض شدہ اسباق پڑھانا اور طلبہ سے یاد کروانا ہو تا ہے۔ اس لیے ہمارے ہاں طلبہ کے نام پر طوطے تیار کیے جاتے ہیں۔ جو کسی چیز کو سمجھنے کی بجائے رٹ لیتے ہیں۔

اور پھر اساتذہ کو ملنی والی مراعات کا بھی دوسرے شعبوں کے ملازمین کے ساتھ بھی کوئی موازنہ نہیں ہے۔ ایک سترہ گریڈ کے استاد کی تنخواہ سیکٹریکٹ کے سات سکیل کے جونیر کلرک کے برابر نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی کے بائیس گریڈ کا پروفیسر ایک سترہ گریڈ کے اسسٹنٹ کمشنر کے برابر نہیں اور ایسی ہزاروں مثالیں اور۔

ایسے میں یوم اساتذہ منانا صرف ایک ناٹک سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ویسے بھی ہم نوٹنکی قوم ہیں تو نوٹنکی چلتی رہے۔

ہیپی ٹیچرز ڈے۔
ڈاکٹر عرفان اللہ فرہاد
اسسٹنٹ پروفیسر
شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی
شیرینگل ضلع دیر بالا

Facebook Comments HS

ڈاکٹر عرفان اللہ فرہاد

ڈاکٹر عرفان اللہ فرہاد شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی، شیرینگل، دیر بالا کے ڈیپارٹمینٹ اف بائولوجیکل سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں

dr-irfanullah-farhad has 6 posts and counting.See all posts by dr-irfanullah-farhad

One thought on “عالمی یوم اساتذہ

  • 08/10/2023 at 9:27 صبح
    Permalink

    ماشاءاللہ

Comments are closed.