بجلی چوری کی روک تھام اور کارکردگی
کسی بھی ملک میں بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، میونسپل سروسز، بجلی و پانی کی فراہمی، تحفظ، مذہبی و سماجی آزادی شامل ہیں اور اس کے لیے ریاست کی جانب سے اداروں کا قیام، منتظمین کی تعیناتی، عوامی سہولیات کی ادائیگی اور رولز و ریگولیشن پر عملدرآمد کرانا بھی ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے۔ اور یہ ریاستی سربراہ کس طرح اور کیسے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں یہ ملکی یا ریاستی قوانین و آئین تفویض کرتے ہیں۔
دوسری طرف عوام بھی مختلف انداز و گروپوں، گروہوں، فرقوں، قبیلوں و ذہنوں میں بٹی ہوئی ہوتی ہے عوامی سوچ و شعور، انداز زندگی مختلف ہوتے ہیں۔ کہیں لوگ شریف شہری بن کر ریاستی قوانین کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور کہیں چند افراد کے ٹولے نے ریاستی اداروں کے ناک میں دم کر رکھا ہوتا ہے جس کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے ادارے قانون کے مطابق کارروائیاں کرتے ہیں۔ موجودہ آسائشوں میں بجلی کی فراہمی بھی ایک نعمت ہے۔
لیکن چند افراد کا غیر قانونی کاموں طریقہ سے بجلی چوری کی وجہ سے شریف شہریوں کو دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر حکومت نے بجلی کی تنصیب و دستیابی میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن مسلسل ادارہ واپڈا کے خسارے میں جانے سے جہاں ریاست کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں عوام کو بھی شدید مشکلات سے گزرنا پڑا تو عوامی ردعمل پر ریاست نے غیر قانونی بجلی استعمال کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا تو حکومتی اداروں کی جانب سے ایک ماہ میں بجلی چوری کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا قارئین کے سامنے رکھتے ہیں۔
میپکو ریجن میں بجلی چوروں کے خلاف جاری آپریشن کو ایک ماہ مکمل ہو گیا۔ میپکو ٹیموں اور پولیس کی ٹیموں کے مشترکہ آپریشن میں 30 روز میں 6218 بجلی چوروں کو گرفت میں لیا۔ 5943 بجلی چوروں کے خلاف مقدمات کا اندراج ہوا جس میں سے 4722 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ بجلی چوروں کو مجموعی طور پر 42 کروڑ 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا جس میں سے 16 کروڑ روپے زائد وصول کیے گئے۔ 7 ستمبر تا 6 اکتوبر 2023 ء کے دوران میپکو ریجن میں 5942 گھریلو، 164 تجارتی (کمرشل) ، 95 زرعی ٹیوب ویل اور 17 انڈسٹریل صارفین بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔
ملتان سرکل میں 853 بجلی چوروں کو 82190000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 31180000 روپے جرمانہ وصول کیا۔ 833 مقدمات درج کروا کر 699 صارفین گرفتار ہوئے۔ ڈی جی خان سرکل میں 1717 صارفین 93850000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 18040000 روپے جرمانہ وصول کیا۔ 1633 مقدمات کا اندراج ہوا اور 1159 بجلی چور گرفتار ہوئے۔ وہاڑی سرکل میں 418 صارفین کو 24960000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 13050000 روپے جرمانہ وصول کیا۔ 340 مقدمات کا اندراج ہوا اور 312 افراد گرفتار ہوئے۔
بہاولپور سرکل میں 549 صارفین کو 35330000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 14260000 روپے وصولیاں ہوئیں۔ 546 مقدمات کا اندراج ہو اور 474 صارفین گرفتار ہوئے۔ ساہیوال سرکل میں 651 صارفین کو 45000000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 23500000 روپے جرمانہ وصول ہوئے۔ 617 مقدمات درج ہوئے اور 481 گرفتاریاں ہوئیں۔ رحیم یار خان سرکل میں 766 صارفین کو 42610000 روپے جرمانہ عائد اور 11040000 روپے وصول ہوئے۔ 756 مقدمات کا اندراج ہوا اور 601 افراد گرفتار ہوئے۔
مظفرگڑھ سرکل میں 731 صارفین کو 46690000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 27030000 روپے جرمانہ وصول ہوا۔ 709 مقدمات کا اندراج ہوا جبکہ 538 بجلی چوروں کو گرفتار کیا۔ بہاولنگر سرکل میں 228 صارفین کو 16400000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 8620000 روپے وصول ہوئے۔ 219 مقدمات کا اندراج ہو جبکہ 199 بجلی چور گرفتار ہوئے۔ خانیوال سرکل میں 305 صارفین کو 35240000 روپے جرمانہ عائد کیا اور 14080000 روپے جرمانہ وصول ہوا۔ 290 مقدمات کا اندراج ہوا جبکہ 259 بجلی چوروں کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں رننگ اور ڈیڈ ڈیفالٹرز کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ ایک ماہ 7 ستمبر سے 6 اکتوبر 2023 ء تک ریکوری مہم میں 86 ہزار 672 نادہندگان سے ایک ارب 78 کروڑ 19 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ 76 ہزار 634 گھریلو صارفین سے 75 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار روپے، 5 ہزار 541 تجارتی نادہندگان سے 6 کروڑ 59 لاکھ 60 ہزار روپے، 586 صنعتی ڈیفالٹرز سے 16 کروڑ 74 لاکھ 40 ہزار روپے، 3 ہزار 721 زرعی ٹیوب ویلوں سے 79 کروڑ 22 لاکھ 70 ہزار روپے جبکہ دیگر کیٹگریز کے 192 نادہندگان سے 42 لاکھ 20 ہزار روپے وصول کیے گئے۔
جنوبی پنجاب میں رننگ ڈیفالٹرز کی کیٹگری میں دو سے تین ماہ کی مدت والے 14 ہزار 459 ڈیفالٹرز سے 31 کروڑ 99 لاکھ روپے، 4 سے 6 ماہ کی مدت والے 10 ہزار 334 نادہندگان سے 37 کروڑ 57 لاکھ روپے، 6 ماہ سے ایک سال کی مدت والے 2 ہزار 565 ڈیفالٹرز سے 19 کروڑ 57 لاکھ روپے، ایک سے تین سال کی مدت والے 323 رننگ ڈیفالٹرز سے 2 کروڑ 48 لاکھ روپے وصول کر کے خزانے میں جمع کروائے۔ ڈیڈ ڈیفالٹرز کی ایک ماہ سے ڈیڈ ڈیفالٹرز کی کیٹگری میں ایک ماہ کی مدت والے 2 ہزار 749 نادہندگان سے 4 کروڑ 19 لاکھ روپے، دو ماہ کی مدت والے ایک ہزار 763 نادہندگان سے 2 کروڑ 29 لاکھ روپے، تین ماہ کی مدت والے ایک ہزار 234 ڈیفالٹرز سے ایک کروڑ 68 لاکھ روپے، 4 سے 6 ماہ کی مدت والے ایک ہزار 565 نادہندگان سے 3 کروڑ 13 لاکھ روپے، 6 ماہ سے ایک سال کی مدت والے ایک ہزار 448 نادہندگان سے 3 کروڑ روپے، ایک سے تین سال کی مدت والے 936 ڈیفالٹرز سے 3 کروڑ 86 لاکھ روپے اور تین سال سے زائد مدت والے 425 مستقل نادہندگان سے 2 کروڑ 60 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
اتنی بڑی رقم کی وصولی اور اتنی تعداد میں بجلی چوری کے واقعات کو جاننے کے بعد ریاست کو غور و فکر بڑھا دینی چاہیے کہ ایسا کیونکر ہو رہا ہے۔ اور دوسری طرف واپڈا کے افسران و ملازمین کی ملی بھگت، غیر قانونی کنڈوں میں ملوث اور ان کے ذاتی گھروں، بجلی میٹروں کی سخت چیکنگ بھی لازمی ہے۔ سردیوں کی ایک شام کوٹ ادو کے میپکو کالونی میں جانے کا اتفاق ہوا تو خالی گھر کے ہر کمرہ میں 3 ہزار واٹ کے ہیٹر مسلسل بجلی پر چل رہے تھے پوچھنے پر علم ہوا کہ یہ گھر واپڈا کے ایس ڈی او کا ہے اور بجلی فری ہے۔ بجلی فری ہونے کا مقصد خالی گھر میں فری ہیٹرز کا استعمال بھی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں عوام پر سختیاں قابل تعریف ہیں وہیں بجلی تقسیم کار اداروں کے اہلکاروں پر قوانین کا اطلاق وقت کی ضرورت ہے۔


