فلسطین، اسرائیل حالیہ کشیدگی اور اقوام عالم
فلسطین کی سر زمین پر یہودیوں کی آباد کاری سے ہی مشرق وسطی میں بے امنی کا آغاز ہو چکا تھا۔ 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی پر تشدد واقعات میں تیزی آ گئی۔ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود آنے والے ہر نئے دن کے ساتھ جس میں اضافہ ہوتا ہی دکھائی دیا۔
چند روز قبل فلسطینیوں کی سب سے بڑی تنظیم حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ مزاحمتی تحریک کی اس کارروائی کو 50 سالوں میں سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ منظم انداز میں اہداف کو نشانہ بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس نے کئی ماہ تک منصوبہ بندی کر کے حملہ کیا ہے جس سے اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیز لا علم رہیں۔ حملے کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک، ہزاروں زخمی اور سینکڑوں یرغمال بنا لیے گئے ہیں۔ قیدیوں میں اعلی عسکری افسران بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کو اپنی حدود کے اندر شدید ترین مزاحمت کا سامنا ہے۔ حماس کی جانب سے راکٹوں کی بارش نے آئرن ڈوم میزائل شکن نظام کو ناکام ثابت کر دیا ہے اور جنگجو اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر شدید جوابی بمباری کی ہے جس میں 800 سے زائد اموات اور ہزاروں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں جانب سے مرنے والوں اور زخمیوں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت عام شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو خوراک، پانی، ایندھن اور بجلی کی ترسیل بند کر کے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر لیا ہے اور غزہ پر فضائی حملے بڑھانے کی دھمکی دی ہے اور اسرائیل حماس کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات بھی چلا رہا ہے۔
حماس نے اسرائیل کی جانب سے نہتے اور پر امن فلسطینی شہریوں پر حملوں کی صورت میں جوابی طور پر یرغمالیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں پر ہر حملے کے انتقام میں ایک یرغمالی کو قتل کر کے ویڈیو جاری کی جائے گی۔ حماس نے اسرائیل کے شہر عسقلان پر بھی راکٹ حملے کیے ہیں جس کے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزاحمتی تحریک حماس کے اسرائیل پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ غزہ کا محاصرہ رہائشیوں کو انسانی بقا کے لئے بنیادی ضروریات سے محروم کر رہا ہے جو الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
امریکہ نے اسرائیل پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسلحہ کی فراہمی سمیت ہر طرح کی مدد اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈ، بیلجیئم، بھارت اور یوکرین سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی اسرائیل پر حماس کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو حمایت کا یقین دلایا ہے۔
اسلامی ملک ایران نے اسرائیل پر حالیہ حملے کو جابرانہ اسرائیلی قبضے اور ناجائز صیہونی حکومت کے مظالم کا رد عمل قرار دیا اور فلسطینی قوم کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ چومتے ہیں۔
تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور ترکیہ سمیت دیگر اسلامی ممالک نے مشرق وسطی میں حالیہ کشیدگی پر جاری رد عمل میں واضح اور دو ٹوک موقف اپنانے سے گریز کرتے ہوئے دونوں ممالک پر کشیدگی اور تشدد کے خاتمے کے لیے زور دیا ہے۔
حماس نے ایک ایسے وقت میں اسرائیل پر ناقابل یقین حملہ کیا ہے جب امریکہ کی ثالثی میں سعودی عرب کے مشرق وسطی میں قیام امن کی خاطر اسرائیل سے پس پردہ مذاکرات چل رہے تھے۔ امریکی کاوشوں سے ہی متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں لیکن مسئلہ فلسطین کے حل کو پس پشت ڈال دیا۔ سعودی عرب خود کو خطے میں دو ریاستی حل اور فلسطین کی خودمختاری کا خواہاں کہتا ہے۔ لیکن امریکی ثالثی میں ہونے والے ایسے مذاکرات جن میں فلسطینیوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا کو فلسطین سنجیدہ نہیں لیتا اور یکسر مسترد کرتا ہے۔
یاد رہے کہ مسلمانوں کے لیے مکہ اور مدینہ کے بعد ارض فلسطین انتہائی مقدس ہے۔ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے عوام فلسطینی بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہری اپنی حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کے حل اور قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر دباؤ بڑھایا جائے۔ اقوام متحدہ اسرائیل کو مقدسات سلام کی بے حرمتی اور قبلہ اول کے محاصرہ سے باز رکھے۔ اسرائیل جب چاہے بیت المقدس کا محاصرہ کر کے مسلمانوں کو عبادت سے روک دیتا ہے۔
بیت المقدس دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام مسلمانوں کا مطالبہ ہے۔ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے دو ریاستی حل وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ لیکن ایک ایسا حل جس پر فلسطینیوں کے تحفظات باقی نہ رہیں کیوں کہ ارض فلسطین کے وارث وہاں کے مسلمان ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے دیر پا حل کے لیے ایران اور قطر کی طرح دیگر اسلامی ممالک کو بھی واضح موقف اپنانا ہو گا۔ اپنی خارجہ پالیسی میں مسئلہ فلسطین کو سر فہرست رکھنا ہو گا اور فلسطینی مسلمانوں کی امنگوں کے مطابق اس کے حل کے لیے جدوجہد میں تیزی لانی ہوگی۔


