سر ِآئینہ اور پسِ آئینہ
یوں تو ماہ ربیع الاول کے آتے ہی رحمت عالم ﷺکی ولادت کا جشن منانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ان کی ولادت بلاشبہ ساری کائنات اور عالم انسانیت کے لئے باعث افتخار ہے۔
زندگی کا کون سا ایسا شعبہ اور معاملہ ہے کہ جہاں ان کی ذاتِ مبارکہ رہنمائی کے لئے اعلی ترین سطح پر موجود نہ ہو۔ تاہم موجودہ جدید مگر پیچیدہ دور کی بے پناہ بڑھتی ہوئے اعصاب شکن صورتحال میں بطور خاص ان ﷺکی تعلیمات راہِ نجات ہیں کہ جہاں انھوں نے ہماری بھر پور عملی رہنمائی فر مائی۔ سب سے بڑھ کر کمال درجے کی معاشرتی زندگی اور پھر اس کے ہر پہلو پر مکمل رہنمائی۔
بطور سردار ِ قبیلہ، بطور دوست، بطور ہمسایہ، بطور سپہ سالار اور پھر بطور سربراہ حکومت ہر کردار بے مثال اور اعلی اخلاقی اقدار کا فروغ کہ جس کی گواہی خود خالق ِ کائنات نے قرآن پاک میں بھی دی۔
انھوں ﷺ نے ہمیں ترک ِ دنیا نہیں بلکہ دنیا میں رہ کر ایک مکمل معاشرتی کامیاب زندگی کا عملی درس اپنی حیات مبارکہ کے ہر ہر پہلو سے سکھا دیا۔ ایک ایسا جدید اور مکمل معاشی نظام زندگی کہ جس میں زکواۃ دینے والے تو ہوں لیکن زکواۃ لینے والا کوئی نہ ہو اور مدینہ میں ایک ایسا بھی وقت آیا کہ جب زکواۃ لینے والا کوئی نہ تھا۔
آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل جدید اور مضبوط و مستحکم معیشت قائم کر دکھائی۔ آج پوری جدید دنیا مل کر بھی دنیا کو غربت سے نجات دلانے اور بہتر معیار زندگی کے لئے کوششیں کر کر کے تھک رہی ہے لیکن کامیابی ممکن نظر نہیں آتی بلکہ اس کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کر نا ممکن نظر نہیں آتا۔
بلا سود معیشت نا ممکن اور نا گزیر محسوس ہوتی ہے۔ اگر ہم اس وقت کی ریاست مدینہ کو دیکھیں تو وہ نہ صرف مالی، معاشی اور سماجی لحاظ سے مستحکم اور کامیاب ریا ست نظر آتی ہے جس کی بنیادیں اسلام کے لازوال اصولوں پر نظر آتی ہیں۔ ہمیں ان تعلیمات پر ازسرِ نو غور کرنے اور پھر ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
پھر اگر نظام عدل دیکھنا ہو تو حیات مبارکہﷺ بھری پڑی ہے۔ ایسے واقعات سے کہ جہاں عدل کی اعلی ترین مثالیں ہمیں مکمل رہنمائی فراہم کرتی نظر آتی ہیں۔
بات کی جائے معاشرتی زندگی اور اس کے مختلف رویوّں کی آج ہماری دنیا میں ہم میں کئی لوگ مسلسل ذہنی امراض میں مبتلا ہیں اور کئی ایک ایسے ہیں کہ جن کا کوئی پرسان حال نہیں oy۔ آج ہمیں اپنے معاشرے میں کئی ایسے لوگ ملیں گے جو یا تو بے گھر ہیں یا کسی ادارے میں رہتے ہیں جن کو ان کے اپنوں نے اپنی زندگیوں سے نکال باہر کیا ہے۔
اگر آج سے ڈیڑھ ہزار پہلے چلے جاِئیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جس معاشرے میں بیٹی کے پیدا ہوتے ہی اسے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، وہیں اسی معاشرے میں بیٹی کی آمد رحمت کہلائی آئی اور چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ محسن انسانیت، رحمت عالم، خاتم النبین ﷺ اپنی بیٹی کی آمد پر کھڑے ہو کر نہ صرف اس کا استقبال کیا بلکہ پوری عالم انسانیت کو عورت اور اس کے ہر مقام کا احترام کا درس دیا۔ انھیں محسنِ نسواں کہنا بالکل بجا ہے۔
آج جدید دنیا عورت کی آزادی کے لئے نت نئے قوانین لا رہی ہے مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہی۔ جائزہ لینے کی ضرورت ہے حضرت خدیجۃ الکبری کے کردار کی۔ اس عرب کے جہاں جہالت اپنے عروج پر تھی کی کیا زبردست شخصیت رکھتی تھیں۔ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری نہ صرف ایک کامیاب تا جر اور پھر زبردست پاکیزہ کردار اور اپنے لیے مال تجارت لے جانے کے لئے انتخاب بھی دنیا کے سب ایمان دار تاجر کا کیا۔ آج کی عورت کو مکمل رہنمائی ملتی ہے ان کے کردار سے۔
اگر بات کی جائے علوم میں دسترس و مہارت کی تو ام المومنین حضرت عائشہ کا علمی مرتبہ دیکھ لیں۔ حضرت عمر فاروق جیسے زیرک عالم بھی مشورہ لیا کرتے تھے۔ ان کی حیات مبارکہ ہر ہر لمحے کو دیکھیں تو ہمیں نہ صرف رہنمائی بلکہ اپنے کئی مسائل کا حل بھی نظر آ جاتا ہے۔
ہم سرِ آئینہ تو ان کی شخصیت کی خوبیوں کا ذکر اور اعتراف کرتے نہیں تھکتے تاہم بات آتی ہے اپنی زندگیوں میں اس پر عمل درآمد کی تو ہم ان سے اجتناب برتتے نظر آتے ہیں۔ نجانے کیوں؟ یہاں صرف چند بنیادی مسائل اور ان حیات مبارکہ کے صرف چند پہلووں کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ ان ذاتِ مبارکہ کے تمام پہلووں پر بات یا ذکر کرنا بھی چاہیں تو نہ ہماری بساط ہے نہ ہی ان شایان ِ شان الفاظ۔
مجھ میں ان کی ثناء کا سلیقہ کہاں
وہ شاہ ِدو جہاں وہ کہاں میں کہاں
بات کی گئی ہے کیونکہ ان کا یوم ولادت منانے کے لئے ان کی حیات مبارکہ کا کچھ حصہ بھی اپنی عملی زندگی میں شامل کرنا ناگزیر ہے ورنہ پھر ہمارا کردار تو وہی ہے کہ جو میرا آج کا موضوع ہے کہ ہم ”سرِ آئینہ کچھ اور ہیں اور پسِ آئینہ کچھ اور“ ۔


