کینسر کی ڈی این اے سے ملتی کڑیاں
ہمارے تمام صحت مند خلیے جسم میں ایک ٹیم کی طرح اپنا کام سر انجام دیتے ہیں لیکن کچھ عوامل کی وجہ سے جب ہمارے اچھے جینز میوٹیٹ (تبدیل) ہو کر برے جینز میں بدل جاتے ہیں تو کینسر کے خلیے وجود میں آتے ہیں جو فر فر تقسیم ہو کر ٹیومر (کینسر کے خلیوں کا جھنڈ) بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ صحت مند خلیے تقسیم ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری جسم کی بہت بڑی خدمت کرتے ہیں، جس کے لیے انھیں نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے جو ہماری خوراک سے پورا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس کینسر کے خلیوں کا زور صرف اپنی نشوونما پر ہوتا ہے، جسم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ ان کینسر کے خلیوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ ہمارے صحت مند خلیوں سے بھی نیوٹرینٹس لے کر اپنی غذا پوری کرتے ہیں جس سے ہماری صحت مند خلیے ماند پڑ جاتے ہیں اور پورا جسم نڈھال سا رہتا ہے۔
عام طور پر جسم میں جب خلیے پرانے ہو جائے اور اپنا کام ٹھیک سے سرانجام نہ دیں سکے تو خلیوں میں موجود ایک ساخت (lysosomes) پھٹ جاتا ہے جس سے وہ خلیے مر جاتے ہیں۔ لیکن کینسر کی خلیوں میں میوٹیشن کی وجہ سے یہ عمل نہیں ہو پاتا۔
ہر خلیے کے کروموسومز پر ایک حصہ ہوتا ہے جسے ٹیلومئر (Telomere) کہتے ہیں۔ یہ حصہ خلیے کی عمر طے کرتا ہے، جتنا لمبا ٹیلومئر ہو گا اتنی ہی زیادہ اس خلیے کی زندگی ہوگی۔ کینسر کے خلیوں میں ایک انزائم ٹیلومریز (Telomerase) کی وجہ سے یہ حصہ لمبا ہوتا جاتا ہے جس سے کینسر کی خلیوں کی زندگی اور بڑھ جاتی ہے۔
کینسر کی خلیوں میں دو اہم ترین جینز پروٹو آنکوجین (proto۔ oncogenes) اور ٹیومر سپریسر جین (tumor۔ suppressor gene) میوٹیٹ ہو کر اپنا نارمل کام چھوڑ دیتے ہیں۔ پروٹو آنکوجین (proto۔ oncogenes) عام طور پر خلیوں کو حکم دیتا ہے کہ کب تقسیم ہو کر نئے خلیے بنانا ہے اور کب نہیں۔ جیسے جسم پر کہیں کٹ لگ جائے تو یہ جین زخمی حصے کے خلیوں کو تیزی سے تقسیم ہونے کا حکم دیتا ہے تاکہ وہ زخم جلد مندمل ہو سکے۔ لیکن بدقسمتی سے کینسر میں اس جین کا کنٹرول ختم ہوجاتا ہے اور کینسر کے خلیے بغیر کنٹرول تقسیم ہو کر بڑھتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ٹیومر سپریسر (tumor۔ suppressor gene) خلیے کی بے وقت گروتھ کو روکتا ہے جو کہ کینسر میں اپنا کام سرانجام دینے میں ناکام رہتا ہے نتیجتاً کینسر کے ٹیومر آزادانہ طور پر جسم میں پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کینسر جنیاتی طور پر بھی اگلے نسل میں منتقل ہو سکتا ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے جسم کا ایک آٹومیٹک ریپئر ڈی این اے سسٹم ہے جو میوٹینٹ جین کو واپس اپنی ٹھیک حالت میں لے آتا ہے لیکن سگریٹ نوشی، شراب پینے اور انسان کی بری طرز زندگی سے یہ سسٹم بہت کمزور ہوجاتا ہے، جس سے کینسر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
میڈیکل میں کینسر کے علاج کے لیے عام طور پر تین طریقے استعمال میں لائے جاتے ہیں، جن میں کیموتھراپی، شعاعیں اور سرجری قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان تینوں طریقوں سے ہمارے جسم کو کافی مسائل درپیش رہتے ہیں۔ جیسا کہ کیموتھراپی کی وجہ سے جسم کے صحت مند خلیوں پر اثر پڑتا ہے اور وہ پھر ٹھیک سے تقسیم نہیں ہو پاتے یہی وجہ ہے کہ جس مریض کا علاج کیموتھراپی سے کیا جائے تو اس کے بال گرنے لگتے ہیں اور بھوک ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اس علاج کی وجہ سے ان کے بال اور نظام انہضام کے خلیے متاثر ہو جاتے ہیں۔
اس کے برعکس شعاعیں کسی حد تک ٹھیک رہتی ہے کیونکہ یہ سیدھا ٹارگٹ پر جا کر لگتی ہے اور کینسر خلیوں کو ختم کرتی ہے لیکن کبھی کبھار یہ شعاعیں کینسر کے ساتھ ساتھ عام خلیوں پر لگ کر انہیں بھی میوٹیٹ (تبدیل) کر دیتی ہیں، جو بعد میں کینسر کے لیے دوبارہ سے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔
اب ایک نئے تھراپی سے علاج ممکن ہو سکتا ہے، جس میں آنکو لٹک وائرس (oncolytic virus) استعمال کیا جاتا ہے۔ ویسے اس لفظ کا مطلب کینسر کو توڑنے والا وائرس بنتا ہے۔ یہ وائرس قوت مدافعت کے ساتھ مل کر کینسر ٹیومر کو ڈھونڈ نکالتا ہے اور اس کو وہی پر ختم کر دیتا ہے۔ یہ عمل کامیابی سے ایک چوہے میں ہو چکا ہے۔ اس طریقہ علاج کا سب بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں ہمارے صحت مند خلیے محفوظ رہتے ہیں۔
مستقبل میں ایک اہم طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس میوٹیٹڈ جین کی وجہ سے یہ ساری کارستانی جاری رہتی ہے اس کو معلوم کر کے جین کی سیکونس بنا لی جائے جس کو دیکھتے ہوئے مخصوص ڈرگز بنا کر اس خراب جین کو ہی مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے، لیکن فرداً فرداً سیکونس معلوم کرنا ایک بہت مہنگا عمل ہیں۔
کینسر کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی یا کوئی بھی نکوٹین والی چیز کا کثرت سے استعمال ہے کیونکہ یہ چیزیں ہمارے ڈی این اے کو بہت تیزی سے میوٹیٹ کرتی رہتی ہیں۔
اسی لیے سگریٹ نوشی کو منہ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث مانا جاتا ہے۔ UV شعاعیں بھی سکن کینسر کا راہ ہموار کرتی ہے کیونکہ یہ تیز اور خطرناک شعاعیں ہمارے جلد کے خلیوں کی ساخت ہی بدل ڈالتے ہیں۔
جب کہ سب سے بہترین علاج ورزش ہے کیونکہ اس سے ہمارے جسم کا ڈی این اے ریپئر سسٹم تیز ہوتا جاتا ہے اور ہمارا میوٹیٹڈ ڈی این اے واپس اپنی ٹھیک حالت میں آ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اچھی غذا جس میں فروٹ اور سبزیاں شامل ہیں، وہ بھی اس ریپئر سسٹم کو تقویت بخشتا ہے۔


