کامیابی کو رجنی کانت کی طرح ہینڈل کریں – مکمل کالم


قسمت کی واقعی اگر کوئی دیوی ہے اور حقیقت میں اگر وہ کسی پر مہربان ہے تو اُس شخص کا نام رجنی کانت ہے۔ رجنی کانت بھارت کا وہ سپر سٹار ہے جس کو لوگ بھگوان کی طرح پوجتے ہیں، جنوبی ہند کی فلموں میں اسے دیوتا کی طرح دکھایا جاتا ہے، اُس کا فلمی کیرئیر پچاس برس پر محیط ہے۔ وہ بسوں میں ٹکٹیں فروخت کیا کرتا تھا لیکن قسمت کی دیوی کی اُس پر نظر پڑ گئی اور وہ فلموں میں آ گیا، پھر اُس نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا، وہ اب تک 169 فلموں میں کام کرچکا ہے، بھارتی سرکار اور فلم انڈسٹری اسے ہر قسم کے تمغے سے نواز چکی ہے۔

اِس وقت رجنی کانت کی عمر 72 سال ہے، اُس کے بال جھڑ چکے ہیں، شکل تو پہلے ہی واجبی تھی اوپر سے بڑھاپے اور گنجے پن نے حالت مزید خراب کردی ہے مگر اِس کے باوجود اُس کی نئی ریلیز ہونے والی فلم جیلر نے کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ یہ فلم اب تک 700 کروڑ کا کاروبار کر چکی ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ اِس خوشی میں فلم کے پروڈیوسر نے رجنی کانت کو ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی اور 100 کروڑ کا چیک بھی تحفے میں دیا ہے جو کہ معاوضے کے 110 کروڑ روپوں کے علاوہ ہے۔

فلم کیا ہے، بارہ مصالحے کی چاٹ ہے، اِس میں رجنی کانت کو وِگ لگا کر ہیرو بنایا گیا ہے، فلیش بیک کے ایک سین میں تو اُس کو پینتیس برس کا بھی دکھایا گیا ہے۔ اگر آپ جنوبی انڈیا میں رہتے ہوں اور چنائی کے کسی سنیما میں یہ فلم دیکھنے جائیں تو آپ کو لگے گا کہ آپ حقیقی زندگی کے کسی دیوتا کی فلم دیکھ رہے ہیں۔ میرے بس میں ہوتا تو میں یہ تجربہ ضرور کرتا۔ چند سال پہلے رجنی کانت کی فلم روبوٹ آئی تھی جس میں ایشوریا رائے ہیروئن تھی، اِس فلم کی تقریب رونمائی میں، جس میں ایشوریا اور امیتابھ بچن بھی موجود تھے، رجنی کانت نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا کہ وہ بنگلور میں اپنے بھائی کے گھر تھے کہ وہاں ملاقات کے لیے اُن کا کوئی جاننے والا آیا جس کا تعلق راجھستان سے تھا، اُس نے چھوٹتے ہی کہا کہ رجنی یار تمہارے بال سب جھڑ گئے، میں نے بولا ہاں بس ایسا ہی ہے۔ اُس نے کہا کہ کیا اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہو، میں نے کہا نہیں ایک پکچر کر رہا ہوں، روبوٹ نام ہے۔ اُس نے پوچھا کہ اُس پکچر میں ہیروئن کون ہے، میں نے بولا ایشوریا رائے۔ کہنے لگا واہ، کمال کی لڑکی ہے، بہت خوبصورت، زبردست، ہیرو کون ہے؟ رجنی کانت کا یہ کہنا تھا کہ وہاں موجود لوگوں کے قہقہوں سے ہال کی چھٹ اُڑ گئی اور اُن میں امیتابھ اور ایشوریا کے قہقہے سب سے اونچے تھے۔ رجنی کانت نے کہا کہ اِس کے بعد وہ شخص دس منٹ تک موجود رہا مگر منہ سے ایک لفظ نہیں بولا اور بس مجھے گھورتا رہا۔

شہرت اور کامیابی کو ماپنے کا اگر کوئی پیمانہ ہو تو رجنی کانت اُس پیمانے پر سب سے اوپر کھڑا ہو گا لیکن اِس شہرت اور کامیابی نے رجنی کانت کا دماغ خراب نہیں کیا، جو واقعہ اُس نے فلم روبوٹ کے متعلق سنایا وہ اِس بات کی دلیل ہے۔ وہ جیسا ہے ویسا ہی خود کو پیش کرتا ہے، سادگی اور عاجزی کے ساتھ، لیکن دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جو ایسی شہرت کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔ لوگ جب زندگی میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اُس سے اگلا مرحلہ اِس کامیابی کو ہینڈل کرنے کا ہوتا ہے اور اکثر لوگ وہاں ناکام ہو جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں اِس ناکامی کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا یا یوں کہیے کہ انہیں کامیابی ’چڑھ‘ جاتی ہے بالکل جیسے شراب چڑھتی ہے اور بندہ ’آؤٹ‘ ہو کر عجیب و غریب حرکتیں شروع کر دیتا ہے، اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ نشے میں وہ کیا اول فول بَک رہا ہے، ایسے میں وہ خود کو ولی اللہ بھی سمجھ بیٹھتا ہے۔

کامیابی کا نشہ کچھ ایسا ہی ہے، بندہ اگر شہرت کی بلندی پر پہنچ جائے اور لوگ سمجھنے لگیں کہ اِس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہو گا تو ایسا بندہ سچ مُچ یہ یقین کرنا شروع کر دیتا ہے جیسے وہ دیومالائی قسم کی کوئی مخلوق ہے جس کا فانی انسانوں سے موازنہ ممکن نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ کوئی اپنے منہ سے یہ نہیں کہتا کہ وہ انسان کے درجے سے ترقی کر کے (نعوذ با اللہ) پیغمبر کے درجے پر فائز ہو گیا ہے مگر اُس کی حرکتیں پکار پکار کر بتاتی ہیں کہ وہ لا شعوری طور پر خود کو ایسا ہی سمجھتا ہے۔ ایسا شخص دوسروں سے مکالمہ کرنے کی بجائے یک طرفہ گفتگو، بولے تو مونولاگ، کرنا پسند کرتا ہے، اسے اپنی ذات میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی، اُس کے منہ سے کبھی یہ نہیں نکلتا کہ وہ کسی بات کے بارے لا علم ہے یا وہ غلط بھی ہو سکتا ہے، وہ دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، اپنی ذہانت کے بل بوتے پر عام انسانوں کو کمتر سمجھتا ہے، اپنی کامیابی کی داستانیں سنانا اسے اچھا لگتا ہے، دوسروں کی کامیابیاں اسے معمولی لگتی ہیں اور سب سے بڑھ کر ایسا شخص چاہے عاجزی اور انکساری کا لبادہ ہی کیوں نہ اوڑھ لے اُس کا ’ٹپنگ پوائنٹ‘ بہت جلد آ جاتا ہے جس کے بعد اُس کی ذات کا خول یک دم اتر جاتا ہے۔

میری رائے میں کامیابی کو ویسے ہی ہینڈل کرنا چاہیے جیسے رجنی کانت نے کیا ہے۔ جس صاف گوئی سے وہ خود کو پیش کرتا ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اسے اپنے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہے حالانکہ اُس کے پرستاروں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور وہ ایک فرقے (Cult) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس شہرت کا ایک فیصد بھی اگر کسی کو نصیب ہو جائے تو اُس کا دماغ خراب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ یہی بات ہم اپنے ارد گرد کے اُن لوگوں میں دیکھتے ہیں جو معمولی کامیابی ملنے کے بعد ’آؤٹ‘ ہو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر لوگ شہرت اور کامیابی کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد اسے ہینڈل نہیں کر پاتے تو اِس میں انہی کا نقصان ہے، عام آدمی کیوں فکر کرے؟

اصل میں عام آدمی اُس وقت متاثر ہونا شروع ہوتا ہے جب ایسے لوگ حکمران بنتے ہیں یا پھر وہ اُن لوگوں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں جو عام آدمیوں کو زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ کامیابی کو ہینڈل نہ کر پانے والے لوگ لا شعوری طور پر خود کو غلطی سے مبرّا سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی فیصلہ سازی کی قوت متاثر ہوجاتی ہے، ایسے میں اُن کے فیصلوں کے منفی اثرات عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں اور یہ عمل ہم چھہتر برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے اب مجھے ضرورت سے زیادہ کامیاب اور ذہین لوگوں سے خوف محسوس ہوتا ہے، ہمیں کوئی فوق البشر یا سپر مین نہیں چاہیے، ہمیں تو ایسے لوگ درکار ہیں جو صاف گوئی سے کام لیں، جنہیں علم ہو کہ اُن کے سر کے بال جھڑ چکے ہیں اور وہ دیکھنے میں کہیں سے بھی ہیرو نہیں لگتے اور انہیں یہ باتیں تسلیم کرنے میں کوئی تامل بھی نہ ہو۔ ایسے لوگ اگر خود کو انسانوں کے درجے پر ہی رکھیں اور اپنے آپ کو غلطی کا پتلا سمجھیں تو تو پھر ہی اجتماعی سطح پر دانشمندانہ فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ کم سے کم کام ہے جس کی ہم اپنے حکمرانوں سے امید رکھ سکتے ہیں!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada