حالیہ تنازعہ اسرائیل کے مستقبل کا تعین کرے گا

حماس، اسرائیل جنگ پہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دوسرا اجلاس بھی بے نتیجہ رہا، امریکی وزیر خارجہ کی شٹل ڈپلومیسی سے قطع نظر تاریخ میں پہلی بار عالمی طاقتیں اسرائیلی جارحیت کی توثیق سے ہچکچا رہی ہیں، جمعہ کے اجلاس میں روس نے اسرائیل، حماس تنازعہ پر سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی جس میں شہریوں کے خلاف تشدد کی تمام کارروائیوں کی مذمت، انسانی بنیادوں پر جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، غزہ تک انسانی امداد کی رسائی اور شہریوں کے محفوظ انخلاء جیسے مطالبات شامل ہیں، اگر امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین یا روس کی طرف سے کوئی ویٹو نہیں ہوتا تو سلامتی کونسل کی قرارداد کے لئے کم از کم نو ووٹ درکار ہوں گے تاہم ماضی میں امریکہ اسرائیل کو سلامتی کونسل کی کارروائیوں سے بچانے کی خاطر ویٹو کا حق استعمال کرتا رہا۔
حماس نے ہفتہ کے روز نئی اسرائیلی بستیوں پہ تاریخ کا سب سے مہلک حملہ کیا، جس میں 1,300 سے زائد ہلاکتوں سمیت متعدد افراد یرغمال بنا لئے گئے، ردعمل میں اسرائیل نے غزہ پہ بدترین فضائی حملہ کر کے 1,900 سے زیادہ شہریوں کو مار ڈالا۔ جنیوا کنونشن اور قانون فطرت کا منشا تو یہی ہے اگر مروجہ آئینی نظام اور عالمی قوانین کسی بھی قوم کو باعزت طور پہ جینے کا حق دینے میں ناکام ہو جائیں تو مظلوم قوم کو اپنی بقا کی خاطر ہتھیار اٹھانے کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن افسوس کہ عالمی نظام انصاف کی 76 سالوں سے فلسطینیوں کو پرامن طریقوں سے اپنی سرزمین پہ جینے کا حق دلانے میں ناکامی کے باوجود مہذب دنیا ان کی فطری مزاحمت کو اخلاقی حمایت تک نہ دے سکی، ایسے میں مظلوم فلسطینیوں کے پاس عزت کی موت تلاش کرنے کے سوا کون سا چارہ باقی بچتا ہے؟
امر واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی طرف سے ہمیشہ محدود حملوں کا سامنا رہا تاہم اسرائیل حماس کے مقابلہ میں اس قدر طاقتور ہے کہ وہ اسے باآسانی منیج کر کے غزہ میں متوازن سیکورٹی آرڈر قائم کر سکتا تھا لیکن خوفزدہ صیہونی بدترین تشدد کے سوا کوئی متبادل لائحہ عمل اپنانے کی ہمت کھو بیٹھے، لاریب، ریاستی تشدد سے انسانی زندگیوں کو تلف کرنا تو ممکن ہو گا لیکن پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ اسرائیل کو عرب پڑوسیوں سے براہ راست کوئی خطرے نہیں، لبنان خود افراتفری میں مبتلا ہے، مصر فوجی لحاظ سے مضبوط سہی لیکن اب وہ اپنی داخلی سیاسی کشمکش اور معاشی بحرانوں میں پھنسا ہے، اردن کے پاس محدود فوجی استعداد کے علاوہ اپنے اندرونی اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کافی گہرے ہیں، شام کی اسد حکومت کو دس سالوں پہ محیط خانہ جنگی اور عالمی قوتوں کی مداخلت نے بے دست پاکر دیا، غیر مستحکم عراق میں بھی اتنی سکت باقی نہیں بچی کہ وہ کوئی بامعنی مزاحمت کر سکے، خلیجی ریاستیں اسرائیل کے لئے فوجی خطرہ نہیں رہیں۔
ایران بھی اسرائیل کو دھمکیاں دینے کے علاوہ فلسطینی جنگجوؤں کو رقم اور محدود ہتھیاروں کی سپلائی کے سوا کچھ نہیں کر سکتا، جوابی کارروائی کے خطرہ اسے اسرائیل کے خلاف، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملوں سے بھی روکتا ہے اور عرب ریاستوں کے ساتھ ایران کے سفارتی تعلقات کی بحالی خطرات سے خالی نہیں کیونکہ اب تک اسرائیل اور امریکہ نے مڈل ایسٹ میں عرب ریاستوں کے کنٹرول میں رکھنے کی خاطر تمام تر کشیدگی کے باوجود ایران کو عربوں کے لئے حقیقی خطرہ کے طور پہ برقرار رکھنے میں مفاد تلاش کیا لیکن اب ایران اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کی بحالی اور خلیجی ممالک کی چین کے ساتھ اقتصادی وابستگیاں دراصل ایران کی سلامتی کے لئے خطرہ اور مڈل ایسٹ پہ نئی جنگیں مسلط کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، چنانچہ اسی تناظر میں چین سمیت عالمی برادری حماس، اسرائیل جنگ کو بے قابو ہوتا دیکھتی ہے۔
فلسطین تنازعہ کے ٹریک ریکارڈ پہ نظر ڈالیں تو فلسطینیوں کے لئے اہل مغرب کی سب سے مہلک چال، کیمپ ڈیوڈ، معاہدہ کے تحت دو ریاستی فارمولہ تھا جس کا اصل مقصد فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل کی بجائے مسلمان حکمرانوں کے ذریعے کنٹرول کرنا تھا، حکمرانوں پہ حکمرانی کے اسی فارمولہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد مڈل ایسٹ، ایشیا اور افریقی ممالک میں کامیابی سے آزمایا گیا لیکن سیاسی طور پر بالغ النظر فلسطینیوں نے پی ایل او کے تحت قائم فلسطینی اتھارٹی کی حاکمیت تسلیم کرنے کی بجائے اسرائیل کے خلاف براہ راست مزاحمت کا میدان گرم کر کے دو ریاستی سکیم کو غیر موثر بنا دیا چنانچہ فی الوقت اسرائیل کے لئے سب سے سنگین خطرہ اندرونی مزاحمت ہے، جسے عراق، شام، لیبیا، مصر اور سوڈان کی شورشیں خام مواد فراہم کرتیں ہیں، قومی سلامتی کے ماہر نوم چومسکی تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ نے عراق میں صدام حسین کی مضبوط حکومت ختم کر کے خطہ کے مسلمانوں کے لئے اسرائیل کے خلاف براہ راست مزاحمت کا راستہ ہموار بنا دیا، تیسرا فلسطینیوں کو حقیقی ریاست، قومی سلامتی، مساوی اقتصادیات اور سیاسی مواقع فراہم کرنے میں اسرائیل کی ناکامی بھی مزاحمتی گروہوں کی حمایت بڑھانے کا وسیلہ بنی۔
انہی داخلی خطرات سے نمٹنے کی خاطر اسرائیل نے فلسطینیوں کو اپنے زیر کنٹرول چار علاقوں میں منقسم کیا، جن میں سے ہر ایک میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کی وجوہات مختلف ہیں، پہلا حصہ، یروشلم، غیر ریاستی تنازعہ کا موجب ہے، جس میں مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات ہیں، اگرچہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں پر رہائش و تجارت کی پابندیاں ہیں لیکن یہاں مستقل وجہ تنازعہ مسجد اقصی ہے، دوسرا انکلیو اسرائیل خود ہے، جس میں فلسطینیوں کے حقوق، شہریت اور نقل و حرکت کی سخت نگرانی اور داخلی دفاع سے متعلق کچھ متنازعہ ضوابط کشمکش کا ذریعہ ہیں۔
تیسرا مغربی کنارہ، جس میں فلسطینی اتھارٹی کا علامتی وجود، جہاں فلسطینی سیکیورٹی فورسز اور نقل و حمل پر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول، اسرائیل تک رسائی میں رکاوٹیں اور اسرائیلی ”آباد کاروں“ کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد داخلی تشدد کو ہوا دیتی ہے۔ چوتھا انکلیو غزہ ہے، جہاں حماس کا کنٹرول وقفہ وقفہ سے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح کی مزاحمت کو جنم دیتا ہے۔ غزہ میں تقریباً 2.1 ملین فلسطینی آباد ہیں، یہاں کوئی ایک بھی یہودی نہیں، کوئی بڑی صنعت یا برآمدات نہیں، زیادہ تر پینے کے پانی اور بجلی کی ترسیل کا انحصار اسرائیل پر ہے حتی کہ یہاں کے کھیت کھلیان اور باغات اسرائیلی سیکورٹی زون کا حصہ ہیں، اسے ایک دیوار کے ذریعے باقی اسرائیل سے الگ کیا گیا، یہاں کوئی قابل ذکر ائرپورٹ یا بحیرہ روم تک رسائی کا نظام موجود نہیں۔
لوگوں کے روزگار کا انحصار اسرائیل میں ملازمتوں پر ہے جہاں اسرائیل کے سیکیورٹی ضوابط نے روزگار کے مواقع کو تیزی سے محدود کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس نے حملہ ان نئی اسرائیلی بستیوں پہ کیا جہاں یو این او کے منع کرنے کے باوجود اسرائیل نے آبادی کاری کی، اس لئے حماس کے خلاف اسرائیل کو کارروائی کا حق حاصل نہیں، تاہم حماس کی انہی حملوں کے خوف سے یورپ سے آئے آباد کاروں کی بڑی تعداد نقل مکانی پہ مائل ہے اور یہی اس پورے قضیہ کا مرکز ثقل ہے، آبادکاروں کی پسپائی روکنے کے لئے پہلے امریکہ سمیت یورپی ممالک کی تل ابیب سے ائر سروس بند کی گئی پھر غزہ پہ فضائی حملوں کے ذریعے ماحول پہ خوف سایہ فگن کیا گیا۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ فلسطینیوں کے برعکس اسرائیل دراصل یورپی ممالک سے لا کر بسائے گئے لوگوں کا آبائی وطن نہیں، اس لئے اسرائیلی سرزمین سے ان کی اس قدر جذباتی وابستگی پیدا نہیں ہو سکی کہ وہ دھرتی کے لئے مر مٹنے کو تیار ہو جائیں چنانچہ حماس سمیت عربوں کے مسلح گروہوں کا خوف ان کی مستقل آبادکاری کی راہ میں حائل رہے گا، آبادی کاری رک گئی تو اسرائیل کی وجود خطرہ میں پڑ سکتا ہے، اگر اسرائیل، حماس جنگ نے طول پکڑا تو عدم تحفظ کا احساس آبادکاروں کا انخلاء بڑھائے گا جو بالآخر اسرائیل کے وجود کو معدوم کر سکتا ہے، اس لئے جارحانہ حملوں اور امریکی فوجی پیشقدمی کا خوف پیدا کر کے جلد از جلد اس قضیہ کا حل تلاش کرنے کی مشق جاری ہے کیونکہ مڈل ایسٹ میں خود امریکی کی جانب سے مضبوط حکومتوں کو توڑ کر پیدا کی گئی شورشوں کو جنگی مشین کے ذریعے کنٹرول کرنا ممکن نہیں بلکہ ہر بیرونی حملہ تشدد کے عوامل کو مزید بھڑکانے کا سبب بنتا رہے گا۔

