حضرت شاہ دیوان: تدوین و تحقیق
حقیقت کی تلاش، چھان بین، کھوج اور دریافت تحقیق کہلاتی ہے جو غور و فکر کے ساتھ کسی حقیقت کو آشکار کرتی ہے، مگر یہ عمل انتہائی صبر آزما ہے جو سنجیدگی، لگن اور محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ تحقیق میں تدوین متن کی اپنی اہمیت ہے۔ یہ انتہائی مشکل اور محنت طلب کام ہے جو دیوانہ پن کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا بقول یوسف عزیز مگسی :
فقط مرادیں بر نہیں آتی ان داناؤں سے
ضرورت ہے کہ ان داناؤں میں کوئی دیوانہ ہو جائے
تدوین متن باریک بینی کا کام ہے، اس میں علمی مہارت حاصل کرنے کے لیے مختلف علوم و فنون کا گہرائی سے مطالعہ اور زبان و اسالیب کے ارتقائی سفر سے آگاہی بہت ضروری ہے۔
پشتو میں تدون متن کی روایت خاصی قدیم ہے۔ علامہ عبدالحی حبیبی، صدیق اللہ، رشتین، عبدالروف بینوا، عبدالشکور، رشاد، ہمیش خلیل، زلمے ہیوادمل، حبیب اللہ رفیع، پرویز مہجور، عبدالروف رفیقی و دیگر جیسے نابغہ روزگار عالموں اور مدونین نے پوری دنیا سے پشتو کے قلمی نسخے تلاش کر کے ان کی تدوین کی، مگر یہ سلسلہ ایک عرصے سے رکا ہوا نظر آ رہا تھا کہ اب پشتو زبان کے نامور محقق، مدون، استاد اور صدر شعبہ پاکستانی زبانیں پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان نے اس جمود کو توڑنے کی سعی کی۔ جن کا تازہ مدونہ دیوان حضرت شاہ شائع ہو کر مارکیٹ میں آ گیا۔
احمد شاہ ابدالی کے ہم عصر، رحمان بابا کے مکتب کے پیرو کار اور مردان ڈویژن کے پہلے صاحب دیوان شاعر حضرت شاہ اخون بابا عرف اخون بابا آف چڑ چوڑ، تقشبندیہ سلسلے سے منسلک اپنے زمانے کے بڑے عالم، حافظ قرآن، روحانی پیشوا، واعظ و مبلغ اور کشف و کرامات کے مالک تھے۔ ان کا زمانہ 1729 ء سے 1803 ءتک بنتا ہے۔ ان کے اس دیوان کا ذکر سب سے پہلے قاضی عبدالحلیم اثر افغانی نے 1963 ءمیں اپنے تذکرے تہر ہیر شاعران میں کیا۔
اس کے بعد زلمے ہیواد مل نے فرہنگ ادبیات پشتو کے جلد اول و دوم میں کیا۔ حافظ غلام فرید کے احوال العارفین، ڈاکٹر قابل خان خٹک کی کتاب ”سمہ اور سوات“ ڈاکٹر محمد حسین تسبیحی کے ”فہرست الفبائی نسخہ ہائے خطی کتا بخانہ گنج بخش“ میں بھی حضرت شاہ بابا اور ان کے دیوان کا ذکر موجود ہے۔ پروفیسر محمد عثمان امر، ڈاکٹر عبدالروف رفیقی، عبدالکریم عامر اور عبدالرحمٰن حبیب زوئے کی تحقیقات میں بھی حضرت شاہ بابا کا تذکرہ موجود ہے مگر تاحال ان کے دیوان کا خطی نسخہ مدونہ صورت سے محروم تھا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عابد کی شبانہ روز محنت اور چھان بین سے اس کی مدونہ صورت سامنے آئی۔
274 صفحات پر مشتمل اس خوبصورت کتاب کے آخر میں ڈاکٹر عابد نے ضمیہ کے طور پر 8 رنگین صفحات پر قلمی نسخے کی نقول، حضرت بابا کے چشمے اور مزار کی تصاویر بھی دی ہیں۔ دیدہ زیب کاغذ، عمدہ سرورق اور بہترین طباعت نے اس کتاب کی خوبصورتی کو دوبالا کیا ہے۔
کتاب کے آغاز میں استاد حبیب اللہ رفیع اور میاں وکیل شاہ فقیر خیل کے علمی دیباچوں نے کتاب کی اہمیت اور بڑھا دی ہے۔ کتاب کا مقدمہ 72 صفحات اور سات حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں ڈاکٹر عابد نے حضرت شاہ بابا کا جن جن منابع میں بھی تذکرہ موجود تھا، وہ حوالے اکٹھے کیے۔ دوسرے حصے میں چڑچوڑ میں مقیم صاحبزادگان کے پاس حضرت شاہ بابا کے بارے میں جو معلومات موجود تھیں اور ڈاکٹر عابد کو ملی، ان کو مجتمع کیا۔ تیسرے حصے میں ان تمام مواد کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں حضرت شاہ بابا کا سوانحی خاکہ ترتیب دیا گیا ہے۔
چوتھے حصے میں ڈاکٹر عابد نے حضرت شاہ بابا کی شاعری کا موضوعاتی، فکری اور فنی مطالعہ پیش کیا ہے، اسی طرح پانچویں، چھٹے اور ساتویں حصے میں بالترتیب حضرت بابا اور رحمان بابا کی شاعری کا تقابل، نسخے کے بارے میں علمی مباحث اور تدوین کا طریقہ کار درج کیا ہے۔ ڈاکٹر عابد کے مطابق: وہ رحمان بابا کے مکتب کے پیروکار جبکہ، احمد شاہ ابدالی، محمدی صاحبزادہ، قنبر علی خان، علی خان، حافظ الپوری اور رحمت داوی کے معاصر تھے، ان کی شاعری کے اہم تر موضوعات، عشق حقیقی اور اخلاقیات ہیں۔ اخلاقیات کی بنیاد مذہب اور اسلامی احکامات پر استوار ہے۔ مجموعی طور پر ان کی شاعری ہجر و وصال کی پر سوز کیفیات، سے معمور ہے، عشق مجازی کے رنگ بھی کہیں کہیں دکھائی دیتے ہیں لیکن مقامی، سماجی رویوں کا عکس بھی ان کی شاعری میں نمایاں ہے۔
رومانی، مذہبی اور تاریخی تلمیحات بھی حضرت شاہ کی شاعری کا اہم حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی اور اپنی مٹی زمین سے جڑی ہوئی تلمیحات بھی نظر آتی ہیں جیسے کہ انھوں نے خیبر کے بڑے واقعہ اور جندی دریا کی شاہیزار کا ذکر کیا ہے۔
حضرت شاہ بابا کے اس دیوان کے مدون پشتو کے نامور محقق، نقاد اور استاد ہیں جو پشتو کے پہلے صاحب دیوان شاعر ازرانی خویشکی کے ہم قبیلہ ہیں۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں لکھنے کا آغاز کیا اور ادبی دنیا کے سمندر میں غوط زن ہوا اور پہلی مرتبہ جب اپنی تخلیقات اپنے استاد، محقق اور مدون ڈاکٹر پرویز مہجور کو پیش کیں تو اس میں انھوں نے اس کا ردعمل یوں دیا :
ایک طوفان :جو ابھی خاموشی کی کوکھ میں ہے
ایک صبح :جو ابھی تاریکی میں ہے،
ایک مستقبل :جو پشتو زبان و ادب کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے
یہاں سے ڈاکٹر عابد کا علمی اور ادبی سفر شروع ہوا، جو آج ایک تناور درخت کی صورت میں پشتو ادبی دنیا میں اپنے ثمرات دکھا رہا ہے۔ پشتو میں تدوین متن کی روایت کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی اور مختلف لائبریریوں اور کتب خانوں میں پشتو کے حوالے سے قدیم نسخوں کی چھان بین کرتے رہے اور اس حوالے سے بہت سے تحقیقی مقالات بھی شائع کیے، مگر پشتو ادب کو اردو دنیا میں ایک نام، مقام اور پہچان دینے کے لیے ڈاکٹر عابد نے جب اردو میں لفظ تراشے اور پشتو ادب کی تاریخ لکھی تو وہ کسی ماہر اردو دان کی تحریر سے کم نہ تھی۔
اس کی تاریخ کی زبان و بیان، الفاظ کا چناؤ، جملوں کی بنت، قواعد سے آشنائی، املا اور تذکیر و تانیث سے واقفیت اور آگاہی نے سب کو انگشت بدنداں کر دیا۔ اب اس تاریخ کا انیسواں ایڈیشن زیر طباعت ہے۔ اس تاریخ کی اب تک 36 ہزار کاپیاں زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں، جو خود میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ پشتو ادب ماضی و حال، پشتو ادب کے جدید رجحانات، اجمل خٹک فن اور شخصیت ان کی وہ کتابیں ہیں، جن سے ڈاکٹر عابد نے علمی و ادبی دنیا میں اپنا نام کمایا اور اپنے مقام و مرتبے کا تعین کیا۔
وہ جستجو اور تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، ہر لمحے کو قیمتی گردانتے ہیں، کم لفظوں میں اپنی بات کرنے کے قائل ہیں، طوالت اور غیر ضروری تمہیدوں سے خود بھی پرہیز کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ یہ سلسلہ ان کی تحریروں میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ تحقیق میں وہ انتہائی باریک بینی اور محنت سے کام کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی چیز کی تصدیق کے لیے گھنٹے صرف کرتے ہیں مگر سچائی تک پہنچے بغیر نہیں چھوڑتے۔ دیوان حضرت کی تدوین و تحقیق کو مکمل کرنے کے بعد وہ اس وقت ایک اور اہم کلاسیکی متن کی تدوین میں مصروف کا رہیں، امید ہے کہ عنقریب وہ پشتو علمی اور ادبی دنیا کو ایک اور مدونہ کلاسیکی متن پہلی دفعہ پیش کریں گے۔

