’بجوکا‘ میں جان پڑ جائے تو۔ ۔ ۔


اس ملک میں کھیتی تو کامیاب نہیں رہی اس لیے ہم خوراک کے معاملے میں ہمیشہ دست دراز رہے ہیں۔ اس کھیت میں کام کرنے والے کسان بھی بہت ہی مفلوک الحال ہیں، اناج سارا کھیت کا مالک لے جاتا ہے۔ کبھی کبھی کھیت ٹھیکے پر بھی دے دیتا ہے۔ مگر زیادہ تر کھیت کو اپنی ذاتی نگرانی میں ہی رکھتا ہے، کھیت کو سنبھالنے کے لیے اچھے ہاری ملے ہیں، اب تو ان ہاریوں کی نسل بھی ان کے لیے کام کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ کمال کے مالک ہیں کھیت سے خود بھی کھاتے ہیں اور اپنے کارندوں کو بھی کھلاتے ہیں۔

بس جن کا کھیت ہے اور جن کے لیے فصل بونی تھی وہ غربت سے مر رہے ہیں۔ کبھی کبھی پرندوں اور اپنے کارندوں کو ڈرانے کے لیے مالک کھیت میں ’بجوکا‘ (سٹرا مین) ضرور لگاتے ہیں۔ گزشتہ ستر برسوں میں ’بجوکا‘ بننے کے لیے چن چن کر نمونے تلاش کیے گئے۔ یہاں تک کہ ایک ’بجوکا‘ تو ایسا بھی تھا جو بول بھی نہیں سکتا تھا۔ بس اس کی نرخرے سے کچھ بے معنی آوازیں نکلتی تھیں۔ ایک ’بجوکا‘ تو ایسا تھا کہ اس نے کبھی شلوار قمیص بھی نہیں پہنی تھی۔ اس لیے اس کا کبھی شناختی کارڈ بھی نہیں بن سکا تھا۔ ایک ’بجوکا‘ ایسا بھی تھا کہ غضب کی تقریر کرتا تھا، مائیک توڑ دیتا تھا، اسے کاروباری لوگ بالکل پسند نہیں تھے، اس لیے اس نے سب کا کاروبار بند کروا دیا۔ اور اس کو مشرقی پاکستان سے الرجی تھی اس لیے اس نے اس کا علاج یہ ڈھونڈا کہ ’ادھر تم، ادھر ہم‘ یعنی ”بھاڑ میں جاؤ“ وہ بھاڑ میں نہیں گئے اب یہ ان کی مرضی۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کبھی کبھی ان بجوکوں میں جان بھی پڑ جاتی ہے، اب یہاں پھر مشکل پیش آتی ہے کہ اس ’بجوکے‘ میں سے جان واپس کیسے نکالی جائے۔

’ بجوکے‘ سے جان نکالنے کا عمل کبھی کبھی طویل تر ہوتا جاتا ہے اور اس عمل میں کھیت کا ستیاناس ہوجاتا ہے۔ وہ کھیت جس پر اتنا قرضہ چڑھ چکا ہے کہ سود دینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ کھیت میں گنا بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے اس لیے کھیت کا انتظام کرنے والوں نے چینی بنانے کے اپنے اپنے کارخانے بنائے ہیں۔ اب کارندوں کی خرچے بہت ہیں اس لیے مالک ان کو اجازت دے دیتا ہے کہ ہر برس دو ہزار ارب سے زیادہ منافع کماؤ اور اپنے بال بچے پالو۔

کبھی کبھی کھیت کے باسی شکایت کریں تو کارندوں کے ساتھ قاضی بھی غصے میں آ جاتا ہے، وہ اٹھاسی روپے کی چینی کو دو سو روپے میں فروخت کرنے کی اجازت دے دیتا ہے اور ریٹ مقرر کرنے والے کے ہاتھ باندھ کر مالک کے کارندوں کو سات ماہ کے لیے لوٹ مار کی اجازت دے دیتا ہے۔ اس پر بھی اس کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ وہ جو ریٹ مقرر کرنے کا اختیار رکھتے تھے ان کو ریٹ مقرر کرنے سے منع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ جو عارضی حکومت چلانے آئے ہیں ان کو بھی کچھ فائدہ ہو۔ ان کو ریٹ مقرر کرنے دو۔ وہ جھٹ سے اٹھاسی روپے کہ جگہ ایک سو چالیس روپے ریٹ مقرر کر دیتے ہیں۔ زیادہ نہیں پانچ سو ارب کا بیٹھے بیٹھے ان کو اس سے فائدہ ہو گا۔ یہ تو ایک چھوٹی سے رقم ہے اس سے بھلا کیا ہو گا۔ بڑے بڑے لوگ ہیں جن کو یہ پیسے ملیں گے۔ وہ عام لوگ ہیں بھلا۔ ان میں ملک کے وزیر اعظم، صدر، وزیر، مشیر، وزیر اعلی، گورنر رہے ہیں۔ دو صاحبان کے بائیس چینی کے کارخانے ہیں۔ ان کے بیرون ملک بہت سارے گھر اور جائیدادیں ہیں ان کے اخراجات پورے کرنے ہیں۔

ایک ملک کا صدر رہا ہے، تعلیم اتنی ہے کہ وہ اب ملک میں چپڑاسی بھی بھرتی نہیں ہو سکتا۔ مگر تعلیم قابلیت یہ سب کمی کمین کے لیے ہیں۔ بڑے لوگ اگر انگوٹھا چھاپ بھی ہوں تو ان کے لیے ملک حاضر ہوتا ہے۔ دوسرے صاحب نے ان پیسوں سے ملک کے وزیر اعظم کا سارا خرچہ چلانا تھا۔ ہو سکتا ہے آنے والے وزیر اعظم کو بھی گھر چلانے کے لیے ان کی ضرورت پڑے۔ اور باقی چینی کے کارخانہ دار تو سب ہمارے حکمران ہیں، لیکن مالک نے ایسے کارندے پالے ہیں ایک سے ایک چور، ڈاکو اور خائن ہے کہ کھیت کا سارا فائدہ بھی کھا جاتے ہیں اور کھیت کو گروی رکھ کر قرضے بھی لیے جا رہے ہیں۔

کھیت کے راستے بنانے کے لیے بڑے بڑے قرضے لیے مگر راستے بن نہیں رہے۔ اب سنا ہے کہ ان راستوں کے لیے مزید قرض لیں گے۔ حالانکہ گزشتہ قرضے کا سود ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے اس قرضے کو کئی مرتبہ ری شیڈول کر کے اس قرضے کے سود کو اصل زر سے بھی کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ کھیت کا پانی دو پڑوسی آہستہ آہستہ ہڑپ رہے ہیں۔ کھیت کے لیے بجلی بہت زیادہ ہے مگر کھیت تک لانے کے لیے لائن ابھی نہیں بچھی۔ ابھی صرف نصف سے بھی کم بجلی لائن میں آ سکتی ہے۔

مگر مالک کے کارندوں نے جو بجلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے اس کے پورے پورے پیسے وصول کیے ہیں، یہی نہیں بلکہ بجلی لگانے کے لیے جو قرضہ لیا تھا وہ بھی کھیت سے ہی ادا ہو رہا ہے، ایک کارندے نے تو پچھلے برس اٹھائیس ارب روپے کمائے ہیں جبکہ ان کا بجلی کا کارخانہ خراب پڑا ہے۔ وہاں سے ایک یونٹ بجلی بھی کھیت کو نہیں دی گئی، مگر مالک کی مرضی کہ، بغیر بجلی بنائے بھی ایک بجلی کے کارخانے کو اٹھائیس ارب دے دیے۔ یہ اتنی بڑی رقم بھی نہیں ہے اس سے بھلا کیا ہو سکتا تھا، صرف سو بڑے شفا خانے ہی بنائے جا سکتے تھے جہاں دس لاکھ لوگوں کا علاج ہو سکتا تھا، جہاں کھیت کے بے روزگار پانچ ہزار ڈاکٹروں، دس ہزار نرسوں، اور بیس ہزار دیگر لوگوں کو روزگار مل سکتا تھا۔

مگر مالک کی مرضی ان کے لیے تو ہسپتال ہیں اور ان کے کارندے تو سیدھے لندن چلے جاتے ہیں۔ اب بھلا کمی کمینوں کو بھی علاج کی ضرورت پڑتی ہے، ان کے علاج کے لیے حکیم ہیں عورتوں کے علاج و زچگی کے لیے دایہ ہے۔ ان پر اتنا خرچ کرنے کی بھلا کیا تک بنتی ہے۔ کھیت میں کوئلہ بھی بہت زیادہ ہے مگر مالک نے اس کوئلے سے بجلی بنانے کی اجازت نہیں دی۔ اور اس کوئلے کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں سے کوئلہ منگوا کر بجلی کے کارخانے لگائے ہیں۔

ایک تو باہر سے آئے کوئلے سے خوشبو آتی ہے، اس سے ہاتھ کالے نہیں ہوتے، اس سے بنے بجلی سے آکسیجن بھی نکلتی ہے۔ جس سے ان کو سانس لینے میں سہولت رہتی ہے۔ اس سے بنے بجلی سے اے سی چلانے سے امیروں والی فیلنگ بھی آتی ہے۔ ہاں البتہ یہ تھوڑی مہنگی ہے کچھ زیادہ نہیں چھیاسی فیصد ہی تو مہنگی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ مالک دو سو ساٹھ ارب روپے ہر برس ان کو باہر سے کوئلہ لانے کے لیے دے دیتا ہے۔ یہ اتنی زیادہ رقم نہیں ہے۔ بس تعلیم پر خرچ ہونے والے بجٹ سے صرف چار گنا ہی تو زیادہ ہے۔ ان کے بنانے والوں نے ان کے لیے اور اپنے لیے کھیت کو کتنے عرصے سے لوٹا ہے۔ اب ان کا حق تو بنتا ہے کہ ان کو کوئلے کی دلالی میں کچھ فائدہ تو ہو۔ اب ان کو اس سے کیا کہ اس دلالی میں ان کے ہاتھ کالے ہوں گے یا منہ، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کھیت میں ایشیاء کا سب سے بڑا لوہے کا کارخانہ بھی لگایا تھا جس کے لوہے سے ماضی کا پاکستان تعمیر ہوا، مگر مالک کو اچھا نہیں لگا۔ اس نے اپنے کارندوں کو کھلی اجازت دے دی کہ کھیت میں جو خام لوہا ہے اس کے استعمال سے بندہ ذرا پینڈو پینڈو سا لگتا ہے۔ اس لیے جاؤ پچیس ہزار میل دور سے خام لوہا لاؤ، اور یاد رہے سستا بالکل بھی نہیں لانا، ایسا کرو گے تو پڑوسی ہنسیں گے۔ اگر سو کا کلو ملتا ہے تو سات سو میں خریدنا۔ یہاں چونکہ کمی کمین ہیں اس لیے ان پر پھر پچاس روپے کا بیج دینا، باقی کے پیسے کھیت کی آمدن سے لے لینا اور کم پڑ جائے تو ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف اور چین کے بنکوں سے لے لینا بعد میں آنے والے چکا دیں گے۔

اگر کارخانے میں سو لوگوں کی ضرورت ہے تم ہزار بھرتی کر لینا، نو سو لوگ کو کچھ کیے بغیر گھر بیٹھے روزگار مل جائے گا۔ اب ایسے کارنامے کرنے والے بھلا مرتے ہیں۔ وہ زندہ رہتے ہیں اس لیے بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اتنی خرابی تو کوئی ایسی ہستی ہی لا سکتی ہے جس کو موت نہ آئے ورنہ خوف خدا بھی کوئی چیز ہے۔ اس انسان کو اگر مرنا ہوتا تو پاکستان کا یہ حال کر کے جاتا۔ مشرقی پاکستان دے دیا ”وہ سور کے بچے تھے“ تھے۔ کھیت میں رہتے تو سارا دھان کھا جاتے۔

بنگلہ دیش بنا کر وہ تعلیم یافتہ انسان بن گئے ہیں اب جو جی میں آئے کھاتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس پیسہ ہے۔ ان کو کھیت سے نکال کر اب سارا کاٹن ان کو بھیجتے ہیں کہ وہ اس سے دنیا کے لیے کپڑے بنائیں۔ کھیت میں فصل تو بوئی نہیں جا رہی مگر کھیت کے انتظام کے لیے لاکھوں بابو بھرتی کیے ہوئے ہیں، ان کو تنخواہ بھی دی جاتی ہے، یہ اپنی مرضی کے مالک ہیں تنخواہ کے ساتھ کئی سو گنا الاونس کے نام پر بھی لیتے ہیں، بجلی کے لیے الگ سے پیسے ملتے ہیں، اور چونکہ کھیت میں کام نہیں ہے۔

لیکن مالک کی شان! پھر بھی ہر بابو کو کئی کئی گاڑیاں دی ہوئی ہیں۔ کھیت کے نام پر بھیک مانگنے سعودی جاکر واپسی پر مالک نے بابووں کے لیے پھر سے چار ہزار نئی قیمتی گاڑیوں کا آرڈر دے دیا ہے۔ مالک بہت فیاض ہے بابو کے لیے تو گاڑی دی ہی ہے۔ بابو کے بچوں کے لیے بھی گاڑیاں ہیں۔ اگر ان کو گرمی لگے تو گلیات اور مری میں ان کے لیے فری گیسٹ ہاؤس ہیں جہاں وہ دور پار کے رشتہ داروں کے ساتھ جاکر مالک کو دعائیں دیتے ہیں۔ اور کمی کمین کی بیوی علاج نہ ہونے سے ہسپتال کے باہر مر جاتی ہے۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی ’بجوکا‘ کی۔ کھیت میں فصل تو ہے نہیں پرندے بھی فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ لیکن ’بجوکا‘ کا تماشا جاری ہے۔ صبح شام ٹی وی اخبار اسی ’بجوکا‘ کے خبروں اور تذکروں سے بھرے پڑے ہیں۔ کہتے ہیں اس بار ’بجوکا‘ کو ایک عدد بیوی بھی دی گئی جو سنا ہے جادوگرنی ہے، پہلے والے ’بجوکا‘ بے ضرر ہوا کرتے تھے۔ ان کو بنانے میں زیادہ محنت کی ضرورت بھی نہیں تھی بس دو بانسوں پر کوئی پرانی قمیص چڑھا کر کام چلایا جاتا تھا۔

مگر حالیہ ’بجوکا‘ ان سے ذرا سا مختلف ہے، یہ مشہور بھی تھا، معروف بھی تھا، مغرور بھی تھا اور سونے پر سہاگہ اس کو چلانے کے لیے ایک عامل کامل پیرنی کا بھی انتظام کرنا پڑا تھا۔ اس لیے اس ’بجوکا‘ میں سے جان واپس نکالنے میں بہت مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس کی جان بھی نکل جائے گی مگر اس کے بعد کوئی ’بجوکا‘ سے ڈرے گا نہیں۔ مالک کو اگلی بار کھیت میں حفاظتی کتا پالنا پڑے گا۔ اس لیے کہ اب تو سارے پرندے ’بجوکا‘ کی حقیقت جان گئے ہیں۔ اب پرندے بجوکوں سے ڈریں گے نہیں، کھیلیں گے۔ اس کھیل کود سے کھیت اور ویران ہو جائے گا۔ اب بھلا ویران کھیت میں پرندے کب ٹھہرتے ہیں۔ وہ خوراک کی تلاش میں دوسرے دیسوں کی طرف نکل جائیں گے۔ ہاں گدھ اور کوے کہیں نہیں جاتے۔ یہ جو مر جاتے ہیں ان کو نوچ کھاتے ہیں۔ اور یہ کسی ’بجوکا‘ سے بھی نہیں ڈرتے!

Facebook Comments HS