محسن پاکستان۔ ایک نہ بھولنے والی شخصیت


جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں ان کی ناقدری کرتی ہیں ایسی قوموں کا مستقبل روشن ہر گز نہیں ہو سکتا اور وقت آ جاتا ہے کہ وہ مٹ جاتی ہیں۔ یہ محسن قوم کی شناخت ہوتے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں خوش قسمتی سے ایسے ہیروز پیدا ہوتے ہیں جو قوم کی زندگی میں نئی روح پھونک دیتے ہیں اس کو جلا بخشتے ہیں اور اس کی زندگی کو مہمیز کر دیتے ہیں۔ پاکستانی قوم کی زندگی میں بھی ایسے ہیرو گزرے ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی خاطر ہر وہ قربانی پیش کی جس کی وطن کو ضرورت تھی۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اگر کسی شخصیت نے پاکستان قوم کی زندگی میں نئی روح پھونکی اور اسے اپنے دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کا موقع دیا ہے تو وہ شخصیت محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے جنہوں نے یورپ کی پر آسائش زندگی کو خداحافظ کہا اور اپنے وطن کو دشمن کے ناپاک ارادوں سے محفوظ کرنے کے لئے پاکستان واپس لوٹنے کو ترجیح دی۔ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے محسن پاکستان جب ماضی کو یاد کرتے تھے تو ان کے لب و لہجہ سے بجلیاں کوند جاتی تھیں۔

وہ ماضی کی یادوں کو ایسے بیان کرتے کہ سننے والا مبہوت ہو کر رہ جاتا کہ وہ کیسے کٹھن حالات تھے جن میں محسن پاکستان اور ان کے رفقاء کار نے ایٹم بم بنانے کی داغ بیل ڈالی اور پھر ان کی زندگی میں وہ دن بھی آ گیا کہ جب ان کی ریاضت کامیاب ہو گئی۔ وہ بتاتے تھے کہ یہ ان کی زندگی کا وہ تاریخی دن تھا جس کا وہ ایک مدت سے انتظار کر رہے تھے اور اس کامیابی کے لئے شبانہ روز محنت کی جا رہی تھی۔ اس خوشی کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں ہے یہ ان کی ذات کی کامیابی تو تھی ہی لیکن اس کامیابی نے ان کے ملک اور امت مسلمہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔ محسن پاکستان اور ان کی ٹیم کی کامیابیوں کی داستان ایک الف لیلوی داستان ہے دفاع وطن کے لئے اس مشکل ترین مہم کو مکمل کرنے کے لئے ان کو کیسے پاپڑ بیلنے پڑے یہ ان کی مستقل مزاجی، استقامت اور وطن سے محبت تھی کہ دنیا کی بڑی طاقتوں نے جس مشن کو ناکام بنانے کی بھر پور کوشش کی وہ اس مشن کا مکمل کرنے میں نہ صرف کامیاب رہے بلکہ اس سے اگلے مشن کی بھی تیاری شروع کر دی گئی۔

دفاع وطن کے اس اہم ترین مشن میں ہر حکومت نے ان کی دامے درمے سخنے مدد کی اور ان کو ہر وہ مدد فراہم کی گئی جس کی ان کو ضرورت تھی۔ وہ اس بات کا برملا اظہار بھی کرتے تھے کہ کسی بھی حکومت نے ایٹم بنانے کے عمل کے دوران کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا تھا بلکہ وہ خاص طور پر ذکر کرتے تھے کہ ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے مختلف ذرائع استعمال کیے گئے اور کہیں نہ کہیں سے اس کے حصول کو ممکن بنایا گیا۔ حکمران ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا ضیاء الحق یا ان کے وزیر خزانہ غلام اسحاق خان سب نے اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

پیپلز پارٹی جو کہ بجا طور پر دعویدار ہے کہ اس کے بانی بھٹو صاحب نے ایٹم بم بنانے کی بنیاد رکھی اور پھر جرم میں وہ پھانسی کے پھندے پر بھی جھول گئے لیکن بھٹو صاحب نے دفاع وطن کے لئے کوئی بھی سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی پاداش میں بیرونی طاقتوں نے انہیں عبرت کی مثال بنا دیا۔ بعد ازاں جب دشمن ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی ریاست بن جانے کا اعلان کیا تو اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف پر امریکہ اور اس کے حواریوں کی جانب سے شدید دباؤ تھا کہ وہ ہندوستان کے مقابلے میں جوابی دھماکے نہ کریں اس کے بدلے ان کو کئی ارب ڈالر کی پیشکش بھی کی گئی لیکن میاں نواز شریف کی استقامت اور جرات کو داد دینی پڑے گی جنہوں نے بے پناہ بیرونی دباؤ کے باوجود ایک محب وطن حکمران کے ذمہ داری نبھائی اور جوابی ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور یوں پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی ریاست کا درجہ بھی مل گیا اور پاکستان کے ایٹم بم کو پوری مسلم امہ نے اسلامی بم قرار دے دیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہیں پاکستانی محسن پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن مجھے انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ قوم کے اس محسن کی دوسری برسی بھی خاموشی سے گزر گئی اور سرکاری سطح پر کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی اور نہ کسی اہم عہدیدار نے انہیں یاد کیا۔ پیپلز پارٹی جو کہ ایٹم بم کی خالق جماعت ہونے اور مسلم لیگ نواز جو ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ لینے سے کبھی نہیں چوکتی اور 28 مئی کو یوم تکبیر منایا جاتا ہے ان دونوں جماعتوں نے پاکستان کے محسن کو ان کی برسی کے موقع پر یاد کرنے کی کوشش نہیں کی۔

افسوس ہوتا ہے ان پاکستانی رہنماؤں پر جو دفاع وطن کے اس اہم ترین منصوبے پر سیاست تو کرتے ہیں لیکن اس کے خالق کو بھول گئے ہیں۔ محسن پاکستان اس دنیا میں پہنچ چکے ہیں جہاں پر ان دنیاوی چیزوں کی انہیں قطعاً ضرورت نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے رب کے ہاں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر حاصل کیے گئے وطن کو دشمن سے محفوظ کرنے پر اعلی و ارفع درجہ پائیں گے لیکن افسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کا حافظہ اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ ہم نے اپنے محسن کو دو برس میں ہی بھلا دیا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک کے ہر شہر میں ان کے نام سے سکول کالج، شاہراہیں یادگاریں بنائی جانی چاہئیں جو کہ ہماری آئندہ نسلوں کو یاد دلاتی رہیں کہ ان کا اصل محسن کون تھا جس کی بدولت وہ ایک آزاد وطن میں محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ محسن پاکستان کی زندگی کے آخری بیس برس جس کرب اور پابندیوں میں گزرے کسی آزاد قوم کے ہیرو کے وہ ہر گز شایان شان نہیں تھے لیکن ہمارے مجبور حکمران ان کی تحقیر کرنے پر مجبور ہو گئے ان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ وقت کے فرعون کے سامنے انکار کر دیتے۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنی ناقدری کا شدید احساس ہو گیا تھا شاید اسی لئے وہ اس کو محسوس کر کے یہ لازوال شعر بھی کہہ گئے۔

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے

محسن پاکستان کو عالم برزخ میں پاکستانی قوم یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس کے حکمران اپنی بشری کمزوریوں کے باعث انہیں یاد کریں یا نہ کریں مگر قوم اور اس کی آنے والی نسلیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہمیشہ احسان مند رہیں گی اور انہیں یاد کرتی رہیں گی اور ان کے احسانات کے بدلے ہمارے حکمرانوں نے ان کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا اس پر پاکستانی قوم معافی کی طلبگار ہے۔

Facebook Comments HS