مسلم لیگ (نون) اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری کیوں؟

آنے والے انتحابات اگر واقعی الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق جنوری کے اخیر میں منعقد کرائے گئے تو موجود سیاسی حالات کی روشنی میں غالب گمان یہ ہے کہ اس میں کسی واحد سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل سکتی ہے یوں اس کے بعد جو حکومت بنی گی وہ مخلوط ہوگی۔ اگر چہ کچھ حلقوں کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ کی یہ خواہش اور کوشش ہو سکتی ہے انتحابات کے بعد آئندہ حکومت چھوٹی پارٹیوں اور کچھ نئی بنی والی جماعتوں اور گروپوں کے اشتراک سے تشکیل دی جائے مگر یہ خیال کچھ زیادہ وزن دار نہیں
کیونکہ ایک تو نہ پرانی چھوٹی جماعتیں اور نہ نئی پارٹیاں اس پوزیشن میں ہو سکتی ہیں کہ مختصر مدت میں قومی سطح کے تینوں جماعتوں پر سبقت حاصل کر سکے دوسرا یہ کہ کسی مستحکم قومی جماعت کے بغیر ایسی حکومت غیر مقبول اور غیر مستحکم ہوگی۔ جبکہ موجودہ ملکی حالات اور بالخصوص معاشی صورت حال ایک مستحکم حکومت کے متقاضی ہیں۔ چھوٹی یا نئی جماعتوں اور گروپس پر مشتمل حکومت استحکام کے بجائے مزید خرابی کا باعث بنی گی۔ اس لیے کسی مستحکم قومی جماعت کے بغیر کوئی مخلوط حکومت بنانا نہ تو مناسب اور معقول ہو گا اور نہ آسان اور مفید رہے گا۔ اس لیے مقتدر حلقے ایسی غلطی کبھی نہیں کریں گے۔ البتہ اس کی غالباً کوشش یہ تو ہوگی کہ آئندہ کی ممکنہ مخلوط حکومت میں منظور نظر چھوٹی جماعتیں اور گروپس کا شامل کرانا بوجوہ یقینی بنائیں۔ جبکہ
آئندہ حکومت میں ملک کی تین قومی جماعتوں میں کم ازکم کسی ایک کا ہونا ناگزیر ہے اور مقتدر حلقے اس کو نظرانداز کرنے کی غلطی نہیں کر سکتے ہیں
اب ایسا میں دیکھنا یہ ہے کہ ملک کے تین قومی جماعتوں میں کس جماعت کو اولیت ملنے کا امکان زیادہ ہے؟ اصولاً تو پہلا حق دوسروں سے زیادہ نشستیں لینی والی جماعت کا بنتا ہے۔ مگر پاکستانی سیاست اور حکومت سازی میں چونکہ اصولوں کی پاسداری کرنے کی روایت مستحکم نہیں ہے اور عوامی مقبولیت سے زیادہ قبولیت کا فیکٹر اہم ہوتا ہے۔ یوں محض مقبولیت سے بھی کام نہیں بنتا ہے
عمومی اندازے کے مطابق تو تاحال عوامی لحاظ سے تحریک انصاف مقبول جماعت سمجھی جاتی ہے
لیکن موجودہ حالات میں تحریک انصاف اور مقتدرہ کے درمیان پائے جانے والے عناد کے باعث اس کو عدم قبولیت کا سامنا ہے جس کے بنا سر دست یہ امکان کم نظر نہیں آتا ہے کہ آئندہ انتحابات میں تحریک انصاف (بالخصوص عمران خان کے زیر قیادت) کو حکومت مل جائے
قومی سطح کی دوسری جماعت پیپلز پارٹی ہے جو کئی لحاظ سے بعض منفرد خصوصیات رکھتی ہیں ایک تو یہ کہ ملکی سطح کی واحد جماعت ہے جو ترقی پسندانہ سیاست کی علمبردار ہے۔ نظریاتی پس منظر رکھنے کے ساتھ نشیب و فراز پر مبنی سیاسی جدوجہد اور قربانیوں سے بھرپور تاریخ اور ورثہ رکھتی ہے۔ اس کے نظریاتی کارکن سیاسی طور پر زیادہ با شعور اور تربیت یافتہ ہیں۔ اس کے صف اول کے بیشتر رہنما سنجیدہ۔ تجربہ کار اور پختہ کار ہیں۔ وقت آنے پر اس کی لیڈر شپ بھی موقع آنے پر سختیوں کا پامردی سے سامنا کرنے اور قربانی سے گریزاں نہیں رہتی۔ سندھ جیسے حساس صوبے میں وفاقی سیاست کی مستحکم اور مقبول ترجمان جماعت ہے
بیشتر دانشور حلقوں میں دوسری جماعتوں کی نسبت پیپلز پارٹی ترقی پسند، روشن خیال اور عوامی طرز سیاست کی جماعت گردانی جاتی ہے۔ تاہم متذکرہ منفرد خصوصیات کے باوجود پیپلز پارٹی کو بعض وجوہات اور عوامل کے باعث مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ دوسری قومی جماعتوں (تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن) کے مقابلے میں تنظیمی طور پر بھی نسبتاً بہتر رہی ہے۔ لیکن اس کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں اس کی سابقہ انتخابی حیثیت بوجوہ برقرار نہیں رہی ہے چونکہ کسی قومی جماعت کا صوبہ پنجاب میں موثر نمائندگی کی عدم موجودگی کے بنا اس کو مرکزی حکومت کی سربراہی ملنا یا دیے جانا کافی مشکل ہوتا ہے۔ یوں پیپلز پارٹی کا انتحابات کے بعد حکومت میں حصہ دار ہونا تو شاید بعید از قیاس نہ ہو تاہم سربراہی (وزرات عظمی) کا منصب پانے کا امکان فی الحال کم ہے۔
باقی رہتی ہے مسلم لیگ (نون) تو اپنی کئی دوسری کمزوریوں سمیت ملک کے تین صوبوں میں کچھ خاص ٹھوس عوامی حمایت اور اساس نہ رکھنے کے باوجود اس کے حق میں سب بڑی بات یہ جاتی ہے کہ صوبہ پنجاب میں مقبولیت رکھتی ہے۔ یہاں تحریک انصاف اس کے لیے یقیناً ایک بڑا چیلینج رہی ہے مگر اسٹیبلشمنٹ اور اس کے درمیان موجود عناد مسلم لیگ (نون) کے حق میں جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا مسلم لیگ (نون) اور بالخصوص نواز شریف کی قیادت میں حکومتی انتطام کے بارے بوجوہ کئی خدشات ہو سکتے ہیں۔ مگر تحریک انصاف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا عناد اور تناؤ اور پیپلز پارٹی کی صوبہ پنجاب میں موثر نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (نون) ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
پنجاب میں تحریک انصاف کے اثر اور زور کو توڑنے یا کم کرنے میں مسلم لیگ ( نون) کا کارگر ہونے کے توقع اور یوں اس کی پشت پناہی اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے
بلا شبہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی اشیر باد کے بغیر اقتدار میں آنا آسان نہیں سمجھا جاتا ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کے بھی حدود اور مجبوریاں ہو سکتی ہیں جس کی وجہ سے اپنی طاقت اور ذرائع رکھنے اور کافی کچھ کر سکنے کے باوجود بعض حالات میں اپنی مرضی سے سب کچھ بھی نہیں کر سکتی ہے۔ اور کچھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں پاکستان کی سیاست کی موجود صورت حال بھی کچھ ایسی ہے کہ مسلم لیگ نون کے حوالے سے اپنے بعض مبینہ تحفظات اور خدشات کے ہوتے ہوئے بھی اس کو فوقیت دینے کے سوا کوئی موثر متبادل چارہ نہیں
مذکورہ گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک تو ملک کے موجودہ حالات میں ہونے والے انتحابات کے نتیجے میں بننی والی حکومت مخلوط ہوگی دوسرا یہ کہ اس کی سربراہی کسی مستحکم قومی جماعت کے پاس ہونا ناگزیر ہے کہ یہ ملک کے سیاسی اور معاشی حالات کا تقاضا اور یوں اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری بھی ہے تیسرا یہ کہ قرائن اور آثار سے لگتا ہے کہ اس ضمن میں مسلم لیگ (نون) ایک ایسا آپشن ہے جس کو زمینی حقائق کے تحت خواستہ یا ناخواستہ فوقیت دینا مقتدر حلقوں کی شاید نہ صرف ضرورت ہے بلکہ کئی حوالوں سے مدد کرنا اور اس کی قیادت کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے میں کسی طریقے سے رول ادا کرنا بھی اس کی مجبوری ہو سکتی ہے

