لاطینی امریکہ مختصر تاریخ

لاطینی امریکہ سے مراد ریاست متحدہ امریکہ کے جنوب کا خطہ ہے جہاں لاطینی زبانیں ( اسپینی، پرتگالی اور فرانسیسی ) بولی جاتی ہیں۔ یہ خطہ میکسیکو، وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ کے علاوہ بحیرہ کربئین کے بیشتر جزائر پر مشتمل ہے جبکہ خطے کے انگریزی اور ڈچ بولنے والے چند ممالک (سورینام، گیانا، فاک لینڈ کا جزیرہ، جمیکا، ٹوباگو اور بیلیز وغیرہ) عموماً لاطینی امریکہ میں شمار نہیں کیے جاتے ہیں اس خطے میں انسانی آبادی اور تہذیب و تمدن

Read more

الیکشن نتائج کی تحقیقات اور چیف جسٹس پاکستان

گزشتہ دنوں مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسی سال نومبر کے بعد نون لیگ کی حکومت کے خاتمے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی پارٹی کا مبینہ چرایا گیا مینڈیٹ ان کو واپس مل جائے گا اور یوں بقول ان کے رواں سال دسمبر تک تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنانے کی

Read more

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ۔ ایک ممکنہ حل

عام انتحابات کو ہوئے پانچ مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں (تحریک انصاف اور جے یو آئی) نے بھی اسمبلیاں جائن کر لی ہیں۔ مگر انتحابات کے غیر شفاف ہونے کے اپنے بیانیے پر نہ صرف قائم ہیں بلکہ ان کو کالعدم قرار دے کر نئے الیکشن کرانے کے مطالبے پر مصر ہیں اور اس سلسلے میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انتحابات کے بعد اگرچہ تحریک انصاف کی قیادت نے کارکنوں کو

Read more

عمران خان کی (مطلوب) رہائی اور تحریک انصاف کی مشکلات

تحریک انصاف کی صفوں میں حالیہ باہمی اندرونی اختلافات اور گروہ بندی کے مختلف محرکات اور اسباب ہو سکتے ہیں تاہم عمومی طور پر اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پارٹی کے موجودہ ذمہ داران عمران خان کی جلد رہائی کے سلسلے میں سنجیدہ کوشش کرنے اور حکمت عملی سے کام لینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی یہ مبینہ ناکامی یا نا اہلی کارکنوں میں تشویش کا باعث گردانی جاتی ہے اگر ایسا ہے تو دیکھنا

Read more

اندلس کی تاریخ اور اہمیت

یورپ کے انتہائی جنوب مغرب میں 582، 860 مربع کلومیٹر پر پھیلا۔ جزیرہ نما آئبیریا ( Iberian Peninsua ) واقع ہے جو موجودہ اسپین اور پرتگال کے علاوہ شمالی فرانس کے کچھ علاقے پر مشتمل ہے جنوب اور مشرق میں اس کی سرحدیں بحیرہ روم اور شمال اور مغرب میں بحر اوقیانوس سے ملتی ہیں۔ اس کے شمالی حصے میں کوہستان پیرینیز (Pyrenees) ہے جو اسے یورپ سے منسلک کرتا ہے جنوب میں افریقہ کا شمالی ساحل اس کے قریب

Read more

جمہوریت جاگیردار اشرافیہ اور زرعی اصلاحات

دنیا کے۔ مختلف ممالک میں اس وقت مختلف نظام ہائے حکومت رائج ہیں جن میں ایک جمہوریت بھی ہے جمہوریت کوئی آئیڈیل یا نقائص سے پاک طرز حکومت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے تاہم موجود قابل عمل نظاموں میں اس کو قدرے بہتر سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری نظام کو اختیار کیا گیا ہے جبکہ دوسرے ممالک کے بیشتر عوام بھی اس کے حق میں ہیں۔ پاکستان میں ابتدا سے

Read more

مسلمانوں کی آمد سے قبل پاکستانی خطے میں تہذیب کا ارتقا اور گندھارا آرٹ

مسلمانوں کی آمد سے قبل پاکستانی خطے میں تہذیب کا ارتقا اور گندھارا آرٹ (ایک سرسری جائزہ) بنی آدم کی عمر افریقہ میں دریافت شدہ انسانی آثار کے مطابق 20 لاکھ سے کم نہیں جبکہ پاکستان کے خطے میں انسانی تہذیب کے آثار 4 لاکھ سال تک پرانے بتائے جاتے ہیں۔ یہاں کی قدیم تہذیب راولپنڈی کے قریب سوانی (پوٹھوہاری) تہذیب گردانی جاتی ہے۔ ان کے باشندوں کی نسل، زبان، رنگ اور کھیتی باڑی کے آغاز کے بارے زیادہ معلومات

Read more

یورپی سامراج کا براعظم افریقہ کی بندر بانٹ کرنا

رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے براعظم افریقہ کے شمال میں بحیرہ روم، شمال مشرق میں آبنائے سویز اور بحیرہ احمر جنوب مشرق میں بحر ہند اور مغرب میں بحر اوقیانوس ہے۔ یہ 54 مکمل آزاد، دو نیم خودمختار ریاستوں اور آٹھ ایسے شہروں اور جزیروں، جو غیر افریقی ریاستوں کا حصہ ہیں، پر مشتمل ہے۔ افریقہ میں یوں تو قدیم یونانیوں۔ رومیوں اور عربوں نے بہت پہلے کالونیاں قائم کی تھیں۔ جن میں بعض صدیوں

Read more

فارس (ایران) کی مختصر تاریخ (میدیا سلطنت سے 1979 کے اسلامی انقلاب تک )

موجودہ ایران ساڑھے سولہ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ملک ہے جس کے مشرق میں افغانستان اور پاکستان، مغرب میں عراق اور ترکی، شمال مغرب میں آذربائیجان آرمینیا شمال میں بحیرہ کیسپین اور ترکمانستان جبکہ جنوب میں خلیج اومان اور خلیج فارس واقع ہیں مگر قدیم ایران یا فارس کی تاریخ کافی وسیع خطے سے متعلق ہے جو مغرب میں اناطولیہ (ایشیا کوچک) سے لے کر مشرق میں دریا سندھ اور سر دریا، شمال میں کاکیشیا (آذربائیجان، آرمینیا اور

Read more

کیا عمران خان مستقبل قریب میں اقتدار میں آسکتا ہے

مختلف سیاسی جماعتوں کے تمام تر اعتراضات اور تحفظات کے باوجود اسمبلیاں نہ صرف قائم ہو گئیں ہیں بلکہ ان کے تحت حکومتیں بھی تشکیل پا گئیں ہیں قومی اسمبلی میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی اور یوں یہ معلق ایوان رہا اگرچہ اس میں۔ تحریک انصاف کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں ملی ہیں مگر کسی دوسری بڑی جماعت کے بغیر اس کا حکومت بنانا ممکن نہیں تھا۔ اگلی بڑی جماعت چونکہ

Read more

قدیم تہذیب کا مرکز چین اور اس کے شاہی ادوار ( ایک مختصر تذکرہ)

96 لاکھ مربع کلو میٹر پر مشتمل چین مشرقی جانب بحرالکاہل مغرب، شمال مغرب اور جنوب مغرب میں بلند پہاڑی سلسلوں، وسیع و عریض صحراؤں اور نیم بنجر سطح مرتفعوں میں گھیرا ہے جبکہ اس کی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں۔ جنوبی چین سب ٹراپیکل جبکہ شمالی چین شدید سردی اور شدید گرمی والا خطہ ہے۔ چین کی بیشتر آبادی خاص چینیوں کے علاوہ مانچو، منگول ترک اور تبت وغیرہ کے باشندوں پر مشتمل ہے۔ چینیوں کی ابتدا اور

Read more

بے نظیر بھٹو شہید: ایک حقیقی بہادر رہنما

پاکستان کی سیاست میں ایک عمومی مشاہدہ یہ چلا آ رہا ہے کہ انتحابات کے زمانے میں یہاں اکثر سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے جلسے جلوسوں کے دوران تقریروں میں بعض جملوں کا بڑے پرجوش انداز میں بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں بعض جملے کچھ اس طرح ہوتے ہیں۔ *۔ وطن عزیز کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ *۔ باطل قوتوں کے خلاف آخری سانس تک لڑیں گے۔ * جمہوریت کی بقا

Read more

مسلم لیگ (نون) اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری کیوں؟

آنے والے انتحابات اگر واقعی الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق جنوری کے اخیر میں منعقد کرائے گئے تو موجود سیاسی حالات کی روشنی میں غالب گمان یہ ہے کہ اس میں کسی واحد سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل سکتی ہے یوں اس کے بعد جو حکومت بنی گی وہ مخلوط ہوگی۔ اگر چہ کچھ حلقوں کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ کی یہ خواہش اور کوشش ہو سکتی ہے انتحابات کے بعد آئندہ حکومت چھوٹی پارٹیوں اور کچھ نئی

Read more

کولمبس سے پہلے امریکہ کی قدیم سلطنتیں اور تمدن

آج امریکہ دنیا کی تاریخ کا ایک بے مثل عالمی طاقت ہے اور شاید ہی ایسا کوئی فرد نہیں ہو گا، جو امریکہ کے نام سے واقف نہ ہو مگر آج سے 500 سال قبل دنیا کے لوگ اس خطے کے وجود سے بھی لا علم تھے۔ اس وقت تک خیال یہ تھا کہ ساری دنیا ایشیا، افریقہ اور یورپ کے براعظموں پر مشتمل ہے۔ یہ تو کہیں 15 ویں صدی کے اخیر ( 1492 ) میں جب اسپین کے

Read more

منگول سلطنت (ایک مختصر تذکرہ)

منگولیا مشرقی ایشیا کا ملک جس کے شمال مشرق میں روس، مغرب میں قازقستان اور جنوب میں چین واقع ہے۔ 1200 تک تاریخ میں اس کے باسیوں (منگولوں ) کا کوئی کردار نہیں تھا۔ ان کے قبیلے باہمی لڑ کر ایک دوسرے کے مال متاع (گھوڑے، ریوڑ اور بعض اوقات بچے اور خواتین چھین لیتے تھے۔ اس کے علاوہ مانچوریا اور شمالی چین میں ”جارجنیز“ قبیلے کی جن (Jin) سلطنت کے شمالی سرحدوں پر حملے کرتے تھے۔ 1162 میں منگول

Read more

وحدت جرمنی (جرمن قومی ریاست کی تشکیل) 1871

موجودہ جرمنی آبادی کے لحاظ سے یورپ کا دوسرا بڑا ملک اور 357387 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے اس کے شمال میں بحیرہ شمالی، ڈنمارک اور بحیرہ بالٹک، مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ جنوب میں آسٹریا اور سوئیزرلینڈ اور مغرب میں فرانس، لکسمبرگ، بلجئیم اور نیدر لینڈ واقع ہیں۔ ”جرمنی“ لاطینی لفظ جرمینیا سے مختص ہے۔ یہ نام نامور رومن جرنیل اور حکمران ”جولیس سیزر“ ( 59 ق م تا 44 ق م) نے شمال وسطی یورپ کے

Read more

متحدہ اٹلی کا قیام۔ 1871

جنوبی اور مغربی یورپ میں 301230 مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلا اٹلی بحیرہ روم کے وسط میں واقع اطالوی جزیرہ نما اور گردونواح کے متعدد جزائر پر مشتمل ہے جس کی زمینی سرحدیں فرانس، سوئٹزر لینڈ آسٹریا، سلووینیا کے علاوہ ”روم کے اندر آزاد پاپائی شہر ویٹیکن (روم کے اندر 44 ہیکٹر رقبے کی چھوٹی آزاد پاپائی ریاست) اور سان مارینو (اٹلی خطے میں گرے اپینائن (Appennine ) پہاڑوں کے شمال مشرقی طرف واقع 61 مربع کلومیٹر پر مشتمل

Read more

یورپ میں 1830 اور 1848 کی انقلابی بغاوتیں۔

نیپولین کی شکست اور زوال کے بعد یورپ کی روایتی طاقتوں ( برطانیہ، آسٹریا، روس اور پرشیا) کے نمائندوں نے آسٹریا چانسلر اور وزیر خارجہ ”پرنس میترنچ ( Mettrinch)“ کے زیر قیادت 1815 کے ”ویانا کانگریس“ میں یورپ میں امن و استحکام اور انقلاب فرانس کے تحت ابھرے لبرل اور جمہوری تصورات کا تدارک کرنے کے لیے قبل از انقلاب دور کا پرانا سیاسی نظام ( بادشاہتوں ) کی بحالی اور محفوظ کرنے کا فیصلہ کر کے کئی اقدامات کیے۔

Read more

1688 سے 1663 تک اہم یورپی جنگیں

ویسٹ فیلیا امن معاہدہ ( 1648 ) کے بعد یورپ کی سیاست میں مختلف تبدیلیاں آئیں تھیں طاقت کے توازن، رسمی سفارتی سرگرمیوں اور باہمی معاہدوں جیسے نظام اور تصورات پنپنے لگے تھے۔ تاہم اس کے باوجود اہمیت جنگ کی رہی۔ مگر اس کے محرک مذیب یا مسلکی نظریات کے بجائے وراثتی تنازعات، علاقائی توسیع اور نو آبادیاتی اور سامراجی مفادات (وسائل۔ تجارتی شاہراہوں اور کالونیوں کے لیے مسابقت) یورپی طاقتوں کے مابین جنگوں کے بنیادی سبب رہے۔ انقلاب فرانس

Read more

اگر انتحابات مقررہ وقت پر ہوئے تو؟

اگلے ماہ 12 اگست سے موجودہ اسمبلیوں اور حکومت کی مدت ختم ہونے پر آئینی لحاظ سے مقررہ مدت کے اندر نئے انتحابات کرانے پڑیں گے کیا انتحابات مقررہ وقت پر ہوں گے؟ اس حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے ہونے والے خدشات کے باعث یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے تاہم اگر کسی وجہ سے یہ التوا کا شکار نہ ہوئے تو موجود سیاسی صورت حال کی روشنی میں یہ کافی یقین کے ساتھ کہا جا سکتا

Read more

وسطی یورپ میں آسٹریا اور پرشیا (متحدہ جرمنی کا پیشرو ) کا عروج

30 سال جرمنی جنگ ( 1618 تا 1648 ) کے بعد ہونے والے ویسٹ فلایا امن معاہدہ ( 1648 ) کی اگلی دہائیوں میں یورپ کی سیاسی صورت حال کافی تبدیل ہو گئی تھی اسپین، ہرتگال۔ نیدر لینڈ، پولینڈ، وینس، سویڈن، مختلف باہمی لڑائیوں کے باعث طاقتور حیثیت میں نہیں رہے تھے مغربی جانب انگلینڈ، اور فرانس کے علاوہ مشرقی یورپ میں روس مضبوط طاقت تھی۔ فرانس اور روس کے درمیانی خطہ ( وسطی یورپ) میں 1 ) مقدس رومن

Read more

30 سالہ جرمنی جنگ اور 1648 ویسٹ فیلیا امن معاہدہ

قرون وسطی کے اوائل ادوار ( 500 تا 1300 ) میں رومن کیھتولک چرچ مغربی یورپ میں سب سے مستحکم اور با اثر ادارہ تھا۔ جو وہاں کے تمام پہلووں ( مذہب۔ سماج سیاست) پر حاوی تھا۔ آخری دور وسطی ( 14 ویں اور 15 ویں صدی ) میں اگرچہ کئی چیلنجوں اور مسائل کے باعث چرچ کا روایتی اثر و رسوخ اور مطلق اتھارٹی میں کمی آ گئی تھی مگر اس کو سب سے بڑے بحران کا سامنا 16

Read more

مغربی یورپ کا آخری دور وسطیٰ۔ 1300 تا 1500

سنہ 1300 سے 1500 تک دو صدیوں کا عرصہ آخری دور وسطی کہلاتا ہے جس کے بعد یورپ کے جدید دور کا آغاز ہونے لگتا ہے یہ آخری دور وسطی کئی حوالوں سے بحرانوں اور ابتلاء کا دور تھا۔ گزشتہ لگ بھگ 300 سال (درمیانی دور وسطی) معاشی ترقی، آبادی، سیاسی استحکام، چرچ کے تحت مذہبی یکجہتی اور علمی و تہذیبی لحاظ سے مغربی یورپ کی کامیابی اور خوشحالی کا عرصہ گردانا جاتا تھا۔ مگر اس کے بعد کی دو

Read more

مغربی یورپ کا درمیانی دور وسطی 1000 تا 1300

یورپ کی تاریخ میں 474ء میں سقوط روم ( مغربی رومن سلطنت کے باقاعدہ خاتمے ) کے بعد سے اگلے 1000 سال ( 1500ء ) تک عرصے کو دور وسطی کہا جاتا ہے۔ جو تین ضمنی ادوار ( ابتدائی، درمیانی اور آخری) میں تقسیم کیا ہے۔ 500ء سے 1000ء تک عرصہ یورپ کا ”ابتدائی دور وسطی“ کہلاتا ہے اس دور میں جرمنک قبائل کے ہاتھوں رومن سلطنت کے انتشار کے بعد تجارت، شہروں اور علوم و فنون کو زوال آ

Read more

فل کورٹ سے گریز کیوں؟ ایک سوال ایک خدشہ

ایک سال پہلے گزشتہ اپریل میں عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے بعد سے ملک مسلسل غیر یقینی صورت حال سے دو چار چلا آ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے شدید مہنگائی اور معاشی بدحالی کا پہلے سے شکار ملک اور عوام مزید مشکلات میں دھنستے جا رہے ہیں۔ نون لیگ اور اس کے اتحادی جماعتیں ملکی معیشت کو بہتر بنانے کا دعوی کر کے آئے تھے مگر معیشت کی بہتری تو کجا ان کے

Read more

روس: سلطنت سے بالشویک انقلاب تک

1 ’532.500 مربع میل پر مشتمل روس رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک (جس سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں) یورپ کے مشرقی سرے پر واقع ہے اور کوہ یورال (جو براعظم یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتا ہے) کے دونوں طرف واقع ہونے کی وجہ ”یورشیائی“ ملک کہلاتا ہے۔ کوہ یورل کے مغربی جانب یورپ اور مشرقی جانب براعظم ایشیا ہے۔ روس کا 25 فی صد حصہ یورپ اور 75 فی صد ایشیا میں ہے

Read more

قدیم مصر: اولین انسانی تہذیب کا دوسرا مرکز

میسوپوٹیمیا (دجلہ و فرات کی وادی) میں ہوئی جس کے بعد انسانی تہذیب کا دوسرا بڑا مرکز مصر کے دریا "نیل کی وادی” کو قرار دیا جاتا ہے۔قدیم مصر اپنے مخصوص جغرافیہ اردگرد صحراؤں) کے طفیل بیرونی حملوں سے زیادہ تر محفوظ ریا اور یوں یہاں کا معاشرہ اور تہذیب اپنی طویل تاریخ میں زیادہ تر تسلسل اور انفرادیت کا حامل رہا قدیم مصر کی تاریخ 5000 ق م سے 525 ق م تک پھیلی ہوئی ہے۔اس عرصے کے دوران

Read more

جاپان کی مختصر تاریخ

جاپان دنیا کا واحد بڑا ملک ہے جو 1945 تک بیرونی حملہ آوروں کے قبضے سے محفوظ رہا۔ جغرافیائی لحاظ سے ایشیا کے مشرقی سرے پر مرکزی زمین سے (کوریا کی جانب سے) 150 کلو میٹر دور شمال مغربی بحرالکاہل میں واقع 6500 ہزار سے زیادہ جزائر پر مشتمل ہے جن میں بڑے صرف چار جزیرے (ہو نشو، ہوکائیدو، شیکوکو اور کیوشو) ہیں۔ ان چار میں مرکزی ”ہونشو“ کا جزیرہ ہے جن میں آج کے اہم جاپانی شہر بشمول بادشاہت

Read more

مغربی یورپ کا ابتدائی دور وسطی: 500ء سے 1000ء تک

476 ع میں سقوط روم ( مغربی رومن سلطنت کے باقاعدہ خاتمے ) کے بعد سے اگلے 1000 سال ( 1500 ع ) تک کے عرصے کو مورخین قرون وسطی کے نام سے پکارتے ہیں۔ جس کو مزید تین ضمنی ادوار ( ابتدائی، درمیانی اور آخری ) میں تقسیم کیا ہے 500 ع سے 1000 ع تک عرصہ یورپ کا ابتدائی دور وسطی کہلاتا ہے۔ اس کو بعض اوقات یورپ کا دور تاریک بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دور

Read more

اگر اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کا دوبارہ اقتدار میں آنا گوارا نہ ہو تو؟

سنہ 2018 کے انتخابات میں عمران خان کے اقتدار میں آنے کے وقت سے مخالف سیاسی جماعتوں کا یہ دعوی یا الزام رہا ہے کہ عمران خان مقتدر قوتوں کے سپورٹ سے وزیر اعظم بنا دیا گیا تھا۔ سیاسی جماعتوں کے علاوہ ملک کے کئی اہم صحافی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی یہ موقف رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے واقعی بھر پور سپورٹ دی تھی اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان

Read more

برصغیر پاک و ہند میں یورپی اقوام کی آمد ( 1498 سے 1857 تک )

یورپ یوں تو قدیم رومن سلطنت کے دور سے بعض اشیاء برصغیر پاک و ہند اور مشرقی ایشیا سے برآمد کرتا تھا۔ تاہم یہ تجارت بہت محدود پیمانے پر تھی۔ مگر 15 ویں صدی میں جب یورپ کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی تو وہاں گرم مصالحہ جات، ریشمی اور شوخ کپڑوں جواہرات، خوشبو جات، چاول اور شکر وغیرہ کی طلب بھی بڑھ گئی۔ 15 صدی کے آخیر تک ان اشیاء کی تجارت بالواسطہ عرب اور ترک تاجروں اور علاقوں

Read more

جنوب مشرقی ایشیا اور یورپی نوآبادیات – ایک مختصر تذکرہ

براعظم ایشیا کا جغرافیائی خطہ، جو مرکزی چین کے جنوب، برصغیر کے مشرق اور آسٹریلیا کے شمال مغرب میں واقع ہے، جنوبی مشرقی ایشیا کہلاتا ہے۔ دو حصوں ( ایشیا سے زمینی طور پر ملحق علاقے اور مشرق اور جنوب مشرق کی جانب جزائر اور مجمع الجزائر ) پر مشتمل اس خطے میں برما ( میانمار ) ہند چینی ( لاوس، ویت نام، کمبوڈیا) ، سیام ( تھائی لینڈ ) ملائشیا، سنگاپور، انڈونیشیا فلپائن، برونائی اور مشرقی تیمور کل گیارہ

Read more

جنگ عظیم دوم اسباب۔ واقعات اور نتائج

جنگ عظیم اول ( 1914 تا 1918 ) کی تباہ کاریوں کے تلخ اور ہولناک تجربے کے بعد یورپی ممالک آئندہ کے لیے جنگوں سے گریز اور قیام امن کو ضروری سمجھ رہے تھے جنگ کے بعد 1919 کی پیرس امن کانفرنس میں جنگوں کو روکنے کے لیے ”لیگ آف نیشنز“ کی تنظیم تشکیل دینے سے توقع کی جا رہی تھی کہ یہ قیام امن کے لیے موثر ادارہ ثابت ہو گا۔ جنگ کے بعد اگلے دہائی تک فضا نسبتاً

Read more

جنگ عظیم اول۔ اسباب اور نتائج

20 صدی کے آغاز تک یورپی اقوام پچھلے 30 سال سے نسبتاً باہمی امن سے رہی تھیں۔ 19 ویں صدی کے وسط سے یورپی رہنما اور مختلف امن تنظیمیں یورپ میں جنگوں سے گریز اور مستقل امن کے قیام کے لیے کوشاں تھیں۔ جس کے باعث عمومی تاثر یہ بن گیا تھا کہ مادی اور فکری ترقی نے یورپ میں جنگوں کے کلچر کا خاتمہ کر دیا ہے مگر 20 ویں صدی کی دوسری دہائی میں یورپ ایک ایسی جنگ

Read more

صلیبی جنگیں اور ان کے اثرات

”یروشلم“ اسلام، یہودیت اور عیسائیت تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مقدس شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے ان تینوں مذاہب میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ 63 ق م میں قدیم رومن سلطنت نے فلسطین کو فتح کر لیا تھا۔ اور یوں یروشلم اس کے زیر تسلط آ گیا۔ 132 عیسوی میں جب یہودیوں نے رومی تسلط کے خلاف شدید بغاوت کر دی تو رومی حکومت نے اس کو کچل کر یہودیوں کو سلطنت کے مختلف حصوں میں

Read more

بیسویں صدی کا چین اور کمیونسٹ انقلاب

20 صدی کے ابتدا ہی میں چین کسی بڑی تبدیلی کے دھانے پر کھڑا تھا۔ غیر ملکی طاقتوں نے پچھلی صدی سے چین کو ہزیمتوں سے دوچار کیا تھا اس کی تجارت اور معاشی ذرائع کو گرفت میں لیا تھا۔ ملک مختلف جہت بحرانوں کا شکار تھا۔ اس کے باعث چین کے تعلیم یافتہ طبقے میں بے چینی بڑھ رہی تھی اور حالات کی بہتری کے لیے سوچنے لگے تھے ان میں بعض کے خیال میں ملک کی بقا کا

Read more

مبینہ سازشی بیانیہ اور عمران خان کی ساکھ

27 مارچ کو (سابقہ) وزیر اعظم عمران خان نے جلسے عام میں ایک خط لہرا کر پر زور دعوی کیا کہ اس کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے لائی گئی عدم ”اعتماد کی تحریک کے پیچھے ایک بیرونی ملک ہے جس کا ثبوت وہاں کے پاکستانی سفیر کا 7 مارچ کو بھیجا گیا یہ مراسلہ ہے“ ۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اس دعوی کو بہت اچھالا اگرچہ اس جلسے میں عمران خان نے امریکہ کا نام تو نہیں

Read more

امریکہ کی جنگ آزادی 1876

18 ویں صدی کے روشن خیالی دور کے فرانسیسی مفکر والٹیر ”نے اس وقت کی برطانوی حکومت کو یورپ کی“ سب سے ترقی پسند اور جمہوری حکومت قرار دیا تھا ( 1688 کے شاندار کہلائے جانے والے انقلاب سے برطانیہ میں آئینی بادشاہت قائم ہو گئی تھی جس میں بادشاہ کے اختیارات محدود کر دیے گئے۔ اور یوں وہاں کا نظام زیادہ جمہوری سمجھا جاتا تھا۔ ) والٹیر ”کے برعکس شمالی امریکہ کی برطانوی کالونیاں“ انگلینڈ کو آمرانہ حکومت گردانتی

Read more

روشن خیالی دور اور اس کے اہم سیاسی مفکرین

یورپ کے نشاۃ ثانیہ دور ”میں ابھرے فکری تجسس“ اور تنقیدی طرز فکر سے کام لینے کے نئے رجحان اور 16 ویں صدی کے ”ریفارمیشن تحریک“ کے باعث لائی گئی ذہنی آزادی کے طفیل 16 ویں صدی کے وسط اور 17 ویں صدی کے دوران یورپ میں بعض سائنس دانوں ( کوپرنیکس۔ کیپلر، گلیلیو، نیوٹن، رابرٹ بوائل وغیرہ ) نے طبعی دنیا کے بارے نئے نظریات پیش کیے جن نے یورپی فکر کو نئی سوچ کی راہ پر ڈالا۔ مورخین نے

Read more

ریفارمیشن – تحریک اصلاح کلیسا

قدیم رومن سلطنت کے شہنشاہ قسطنطین  کا 313 ع میں عیسائیت مذہب اختیار کرنے اور پھر 391 ع میں اس کے ایک جانشین تھیوڈوسس کا عیسائیت کو رومن سلطنت کا مذہب قرار دینے سے اس کا پھیلاؤ تیزی سے ہونے لگا یوں رومن چرچ کی اہمیت اور اثر بھی بڑھ گیا اس کے قواعد اور تنظیم میں تبدیلیاں کی گئیں۔ سقوط روم ( مغربی رومن سلطنت کے خاتمے ) کے بعد بتدریج اس کا دائرہ عمل اور طاقت بوجوہ بڑھتی

Read more

یورپ کا دور نشاۃ ثانیہ (Renaissance)

آخری قرون وسطی ( 14 ویں اور 15 ویں صدی ) کے دوران یورپ کی زمانہ وسطی تہذیب کو بحران کا سامنا تھا۔ 14 ویں صدی طویل جنگوں، شدید وباؤں، آبادی میں کمی، زراعت کی بربادی، پیداواری جمود، قحط، بے روزگاری، مہنگائی، دیہاتوں اور قصبات کی ویرانی سے عبارت تھی۔ قصبوں اور دیہات کے غریب کسانوں اور مزدور پیشہ۔ عوام کی بغاوتوں کو امراء طبقے نے بے رحمی سے کچلا تھا اسی کے ساتھ چرچ کو بھی چیلنجوں کا سامنا

Read more

کانگریس آف ویانا ( 1815 ) ۔

1815 میں نیپولین کے زوال کے بعد یورپ کے حکمران براعظم میں پائیدار امن اور استحکام کے خواہاں تھے۔ اسے مقصد کے حصول کے لیے یورپ کی بڑی طاقتوں ( روس، پروشیا، آسٹریا، برطانیہ اور فرانس ) کے نمائندوں نے آسٹریا کے شہر ”ویانا“ میں 8 مہینے تک کئی اجلاس منعقد کر دیے۔ جن کو ”کانگریس آف ویانا“ کہا جاتا ہے۔ یورپی ممالک کے ان نمائندوں میں سب سے متحرک اور با اثر آسٹریا کا وزیر خارجہ کلیمنس وان میٹرنچ

Read more

انگلستان کا جمہوری سفر ( میگنا کارٹا سے شاندار انقلاب تک )۔

جزائر برطانیہ براعظم یورپ کے شمال مغربی سرحد کے پار بحر اوقیانوس ) اور اس کے ذیلی سمندروں ( بحیرہ شمال، رودباد انگلستان، بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش ) کے پانیوں میں واقع دو بڑے اور بے شمار چھوٹے جزائر پر مشتمل براعظم یورپ کا خطہ ہے۔ سیاسی طور پر یہ خطہ آج کل دو ممالک میں منقسم ہے 1۔ برطانیہ عظمٰی اور 2۔ جمہوریہ آئرلینڈ۔ ”برطانیہ عظمٰی“ چار علاقوں (انگلستان، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ ) پر مشتمل

Read more

فرانس اور نیپولین کا دور

(نوٹ: یہ مضمون املا کی چند غلطیوں کو درست کر کے، بغیر کسی خاص تبدیلی کے شائع کیا جا رہا ہے۔ ایک طویل مضمون جس میں کمپوزنگ، گرائمر اور املا کی بہت زیادہ غلطیاں ہوں، درست کرنا ہمارے موجودہ وسائل کے تحت ممکن نہیں: مدیر) 1789 میں انقلاب آنے کے بعد ستمبر 1791 میں بنائے گئے آئین کے تحت فرانس کو جمہوریہ قرار دیا گیا۔ اسی دوران نیشنل کنونشن ( اسمبلی ) حالات کے تحت چند ایک آئینی اور انتظامی

Read more

انقلاب فرانس

18 ویں صدی میں فرانس یورپ کا سب سے ترقی یافتہ ملک گردانا جاتا تھا۔ بڑی آبادی اور کامیاب بیرونی تجارت کا حامل اور روشن خیال نظریات کا مرکز تھا۔ فرانس کا کلچر باقی دنیا میں قابل توصیف اور قابل تقلید سمجھا جاتا تھا۔ تاہم یہ ظاہری کامیابی ایک سراب تھی۔ کیونکہ اس دور میں فرانس کو ایک طرف خشک سالی، مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے ردعمل کا سامنا تھا اور دوسری طرف روشن خیال دور کے مفکرین ( لاک،

Read more

مشرقی رومی (بازنطینی) سلطنت اور تہذیب: ایک مختصر جائزہ

وسیع و عریض علاقوں پر مشتمل قدیم رومن سلطنت کو 395 عیسوی سے دو حصوں ( مغربی اور مشرقی ) میں تقسیم کیا گیا تھا۔ مغربی حصے کا دارالسلطنت روم تھا جبکہ مشرقی حصہ جو تاریخ میں مشرقی رومی سلطنت یا بازنطینی کے نام سے جانا جاتا ہے، کا دارالسلطنت ”قسطنطنیہ“ تھا۔ قسطنطنیہ ”ابنائے باسفورس کے جزیرہ نما میں واقع قدیم یونانی شہر“ بازنٹائم ( Byzantiumکے سائٹ پر روم کے نامی گرامی شہنشاہ قسطنطین ( Constantine) نے 330 ع میں تعمیر کیا

Read more

میسوپوٹیمیا۔ انسانی تہذیب کا پہلا مرکز

میسوپوٹیمیا یونانی لفظ ہے جس کا معنی ہے دو دریاؤں کے درمیان۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق دریائے دجلہ اور دریائے فرات کی وادیوں (موجودہ عراق اور شام ) کے اس خطے میں پہلی انسانی تہذیب کی ابتدا ہوئی۔ اس وادی کے شمالی حصے کو ”اشور“ وسطی کو ”اکاد“ جبکہ جنوبی حصے کو ”سومیر“ کہا جاتا تھا۔ نقشے میں دیکھا جائے تو یہ علاقہ ہلال (Crescent ) کی شکل رکھتا ہے اسی بنا اور سرزمین کی زرخیزی کی وجہ سے

Read more

عمران خان کے دعوی کی ممکنہ وجوہات

کچھ روز پہلے عمران خان نے صحافیوں کے سامنے بڑے پر زور اور پر اعتماد انداز میں یہ کہہ کر ایک بڑا دعوی کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کو سرپرائز دے گا ( صحافی ) لکھ لیں کہ عدم اعتماد کو ناکام کرا لوں گا ”۔ اگرچہ کچھ حلقے عمران خان کے اس دعوے کو زیادہ وقعت نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق عمران غیض و غضب یا جوش خطابت وغیرہ میں اس قسم کے لاتعداد دعوی کر

Read more

آئین کا آرٹیکل 63 اے اور منحرف ارکان

اپوزیشن جماعتوں کے رہنما وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد تحریک سامنے لانے کے ساتھ یہ دعوی کرنے لگے تھے کہ اگر حکومت کی اتحادی جماعتیں ان کا ساتھ نہ بھی دیں تب بھی ان کا نمبر گیم پورا ہے کیونکہ ان کو پی ٹی آئی کے بہت سارے منحرف ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ حکومتی ترجمان کافی رعونت کے ساتھ نہ صرف ان کی تردید پر مصر رہے بلکہ ان کا الٹا دعوی یہ بھی تھا کہ اپوزیشن

Read more

عدم اعتماد اور چودھری برادران کا مخمصہ

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی یا ناکام۔ اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر مختلف سیاسی ماہرین اپنے اپنے تجزیے اور پیش گوئیاں پیش کرتے آ رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا خیال یہ ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا زیادہ دار و مدار حکومت کی اتحادی جماعتوں بالخصوص ق لیگ پر ہے۔ اگر یہ اپوزیشن کے ساتھ مل گئیں تو پھر عدم اعتماد کا کامیاب ہونا یقینی ہے بصورت دیگر

Read more

اگر عدم اعتماد ناکام ہوا تو ۔ ۔ ۔

اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئی ہیں۔ جس سے اس کی ممکنہ کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے بحث مباحثے کا میدان گرم ہو گیا ہے اپوزیشن اپنی طرف سے پراعتماد ہے کہ ان کی یہ تحریک کامیاب ہو گی جبکہ دوسری طرف حکومت کا دعوی ہے کہ اس تحریک کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی ہے یا نا کام اس کا پتہ تو شاید اگلے چند ہفتوں

Read more

مجوزہ تحریک عدم اعتماد اور اپوزیشن کا تذبذب

اپوزیشن جماعتوں نے جب سے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر اتفاق کرنے کا اعلان کر دیا ہے تب سے اس کے بارے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بڑی ہلچل مچ گئی ہے اس حوالے سے ایک سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن مجوزہ تحریک عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہو سکے گی؟ بعض حلقوں کے دعووں کے باوجود اس حوالے سے یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اگرچہ

Read more

عمران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ ناراضگی

پی ٹی آئی حکومت قیام کے تھوڑے عرصے بعد سے بعض سیاسی اور صحافتی حلقے وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیتے چلے آ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان کے ساتھ تعلقات میں رخنے آ گئے ہیں اس لیے اس کی حکومت کی جلد چھٹی ہونی والی ہے۔ اپوزیشن حلقوں کی طرف سے اس قسم کا تاثر پھیلانے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے اسی طرح عام صحافیوں کی بات بھی اتنی اہم نہیں مگر بعض معتبر سمجھنے جانے والے

Read more

اگر مجوزہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو؟

پاکستانی سیاست میں ایک عمومی روایت یہ رہی ہے کہ انتحابات ہونے کے بعد ہارنے والی جماعتیں اور سیاست دان اکثر دھاندلی اور مقتدر قوتوں کی ساز باز کو اپنی ناکامی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں احتجاجی مظاہروں اور الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں اپیلیں دائر کرنے سے کچھ عرصے تک میدان گرم رکھ کر بھڑاس نکالنے میں لگے رہتے ہیں۔ جب اس سے کچھ نتیجہ نہ ملے تو پھر کچھ عرصے بعد اقتدار سے محروم رہ

Read more

کیا پرویز خٹک پارٹی سے بغاوت کرے گا؟

تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان مبینہ تلخ کلامی کے بعد سے کچھ سیاسی اور صحافتی حلقوں کا دعوی یا تاثر یہ ہے کہ تحریک انصاف میں سب اچھا نہیں اور کسی بھی وقت اس کے صفوں سے بعض ارکان پرویز خٹک کی قیادت میں پرواز کر سکتے ہیں اور یوں عمران حکومت کا دھڑم تختہ ہونے والا ہے۔ اگرچہ چند صحافی حضرات گزشتہ دو سال

Read more

انسان کا ارتقائی سفر (قدیم حجری دور سے تہذیب کی ابتدا تک)

موجودہ دور کا انسان آج الیکٹرانک اوزار اور ہتھیار سے لیس ہے۔ مگر اس کے قدیم آبا و اجداد جب لاکھوں سال پہلے سطح زمین پر رونما ہو کر کچھ جسمانی اور ذہنی ارتقائی مراحل طے کرتے گئے تو انہوں نے ابتدائی طور پر جو اوزار اور ہتھیار بنانے شروع کیے وہ پتھر کے تھے۔ انسانوں کے اس زمانے کو حجری ( پتھر) دور کہا جاتا ہے۔ ماہرین نے اس کو دو بڑے حصوں ( قدیم اور جدید دور حجر

Read more

عمران خان اپوزیشن سے مصالحت کیوں نہیں کر سکتا

پی ٹی آئی کی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے آغاز سے بعض سیاسی تجزیہ نگار اور کالم۔ نگار مختلف موقعوں پر یہ رائے یا مشورہ دیتے چلے آ رہے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کے استحکام اور کامیابی اور ملکی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ عمران خان اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف معاندانہ رویہ ترک کر کے مصالحانہ پالیسی اپنائے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان کے اس رائے یا سوچ کا بنیادی محرک

Read more

ترقی پسند تحریک

15 اپریل 1936 کو لکھنو میں ادیبوں اور شاعروں کی ایک کانفرنس ہوئی تھی جس کی صدارت نامور افسانہ نگار منشی پریم چند نے تھی۔ اس کانفرنس سے اردو ادب کی ایک بڑی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا جو متنازعہ بھی تھی اور جاندار بھی یہ ترقی پسند تحریک تھی۔ لکھنو کے متذکرہ کانفرنس ایک اعلامیہ کی بنیاد پر منعقد ہوئی تھی جو اس سے پہلے لندن میں مقیم نوجوان ہندوستانی ادیبوں اور طالب علموں ( سجاد ظہیر، ملک راج

Read more

سر سید احمد خان اور تحریک علی گڑھ

برصغیر میں مسلمانوں کا زوال یوں تو مغلیہ سلطنت کے انتشار سے شروع ہو چکا تھا مگر 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب انگریز ہندوستان کا باقاعدہ حاکم بن گیا تو ان کے زوال پر گویا مہر ثبت ہو گئی۔ انگریز جنگ آزادی۔ جس کو وہ جنگ غدر کہتے تھے۔ کے بنیادی ذمہ دار مسلمانان ہند کو گردانتے تھے اس لیے ہندوں اور سکھوں سے زیادہ ان کے بغض و عناد اور انتقام بڑا نشانہ مسلمان بنے۔ ان کی

Read more

لٹریچر ( ادب) کی نوعیت اور اہمیت و افادیت

علوم و فنون انسان کا خاصہ ہیں۔ قدرت نے انسان کو سوچنے والا دماغ، احساسات و جذبات والا دل، تخلیق ( ایجاد ) کی صلاحیت، ابلاغ والی زبان۔ اخلاقی حس اور جمالیاتی ذوق عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں کی بدولت وہ دوسرے جانداروں سے الگ اور بر تر ہو گیا ہے۔ سوچنے والے دماغ یا ذہن سے وہ زندگی اور کائنات پر غور و فکر کر کے ان کے حوالے سے اپنا علم بڑھاتا چلا آ رہا ہے۔ تخلیق کے

Read more

قدیم یونانی فلسفہ

فلاسفی یونانی لفظ ہے جس کا اصل معنی عقل و دانش سے محبت ہے۔ یونانیوں کی ذہانت و فطانت سب سے زیادہ فلسفے کے شعبے میں نمایاں ہوئی۔ یہ کہنا تو مبالغہ ہوگا کہ فلسفہ یونان کی ایجاد ہے کیونکہ یونان میں فلسفہ کے آغاز ( 6 ویں صدی ق م ) سے پہلے چین اور ہندوستان میں بھی فلسفے کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ابتدا میں مصر اور بابل کے افکار و نظریات سے یونانی مفکرین

Read more

قدیم یونانی مذہب

قدیم یونان میں مذہب کے لیے جدید دور کے معنوں میں مستعمل لفظ تو نہیں تھا۔ تاہم ان کے یہاں مختلف عقائد اور رسومات کا نظام ان کا مذہب تھا قدیم یونانی مذہب کا یونانیوں کی سماجی زندگی کے علاوہ ان کی تہذیب کی صورت گری میں بھی اہم رول رہا ہے۔ آغاز۔ قدیم یونانی مذہب کا آغاز ابہام کا شکار ہے تاہم یہ مختلف ذرائع (نئے دور حجر۔ انڈو یورپ۔ کریٹ۔ مشرق قریب، مصر وغیرہ) کے مختلف تصورات کے

Read more

قدیم یونان میں ”ڈرامے“ کا فن

تیسرے ہزار قبل مسیح (3000 ق م) سے قدیم جزیرہ نما اور اس کے گرد و نواح کے ایجیئن جزائر میں کانسی دور (Bronze age) کی تہذیب (جس کو ایجیئن تہذیب کہا جاتا ہے) کی ابتداء اور نشو و نماء ہوئی جو بعد میں ایشیا کوچک سے وقتاً فوقتاً آنے والے دوسرے آریائی نسل باشندوں کی آمد اور کئی مراحل اور نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد 6 ویں اور 5 ویں صدی ق م کے دوران یونان خاص

Read more

شمالی ہندوستان کی مختصر تاریخ ( آریاوں کی آمد سے مسلمانوں کی آمد تک)

سندھ ( ہڑپہ موہنجودڑو تہذیب ) کے زوال کے کچھ عرصے بعد ہندوستان میں آریاوں کی آمد سے یہاں دوسری بڑی تہذیب کا آغاز ہو جس میں بتدریج ایک منفرد مذہبی اور سماجی نظام تشکیل پا گیا آریا۔ 1500 ق م کے قریب وسطی ایشیا (بحیرہ اسود اور بحیرہ کسپئین) سے خانہ بدوش گڈریوں کے مختلف قبیلے مختلف سمتوں میں نکلنے شروع ہوئے۔ ان کی کچھ شاخیں ایران اور باختر ( افغانستان ) پر سے ہوتے ہوئے ہندوستان آنے لگے۔

Read more

وادی سندھ کی قدیم تہذیب (مختصر تعارف)

آج کا انسان کائنات کو تسخیر کرنے پر تلا ہوا ہے۔ لیکن ایک دور انسان پر ایسا بھی ہو گزرا ہے۔ جب وہ غاروں اور جنگلوں میں رہتا تھا۔ جنگلی پھل۔ جڑی بوٹیاں اور پتھر کے ہتھیار اور اوزار بنانے کے بعد جنگلی جانوروں کا شکار اس کی خوراک تھی۔ اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ خوراک اور شکار کی تلاش میں ایک علاقہ سے دوسرے علاقے ہجرت کرتا رہتا تھا۔ تہذیب سے بیگانہ ایک خانہ بدوش جاندار تھا۔

Read more

پاکستان اور طالبان حکومت تعلقات

افغانستان میں جنگ اور انتشار ہمیشہ پاکستان کے لیے مضر ثابت ہوئے ہیں اس لیے وہاں امن و استحکام کا قیام اس کے اپنے مفاد میں ہے۔ 1979 میں روسی مداخلت کے بعد سے افغانستان مسلسل جنگوں اور بدامنی کا شکار چلا ہے۔ جن سے خطے میں سب سے زیادہ متاثر پاکستان رہا۔ روس کے نکلنے اور نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان نے کوشش کی کہ افغانستان میں پاکستان دوست ٹولہ برسراقتدار آئے مگر وہاں مسلسل خانہ جنگی

Read more

قدیم رومن سلطنت۔ مختصر تاریخ

(حضرت عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے صدیوں قبل اٹلی کے دریائے ٹائبر (Tiber) کے کنارے سات چھوٹی پہاڑیوں پر مٹی کے بنے سات گاؤں آباد تھے جو وقت کے ساتھ ترقی کر کے ”روم“ نام کے ایک چھوٹے سے شہر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگلی صدیوں میں اس کا بتدریج بحیرہ روم کے اردگرد اور دوسرے ممالک پر قبضہ کر کے 500 سال تک ایک طاقتور سلطنت کا مرکز بن جانا دنیا کی تاریخ کا ایک دل آویز

Read more

سول بالا دستی: مزاحمت یا مفاہمت

آئینی لحاظ سے پاکستان ایک جمہوری ملک جانا جاتا ہے۔ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی مفکرین ملک میں جمہوریت کے استحکام کی اہمیت اور افادیت کے رہے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے یہاں جمہوریت بہت سارے رکاوٹوں سے دوچار چلی آ رہی ہے۔ کبھی مارشل لاء سے اکھاڑا گیا تو کبھی اس کو بالواسطہ پابند رکھا گیا۔ یوں تو عام طور پر حکومت سازی آئینی طریقے سے عمل میں آتی ہے مگر اس سارے عمل میں اسٹیبلشمنٹ کی

Read more

بین الافغان مصالحت: طالبان اور چند سوالات

امریکی افواج کے انخلا کے عمل کے آغاز سے افغانستان کی صورت حال پاکستانی میڈیا کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔ ان میں پیشتر روایتی تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کی گفتگووں اور تحریروں کا محور تو زیادہ تر عام فہم حقائق یا نکات پر رہتا ہے۔ حل سے متعلق بھی ان کی تجاویز عموماً پند و نصائح پر مبنی کتابی قسم کی ہوتی ہیں۔ اگرچہ ان تجزیہ کاروں کی بعض باتوں یا نکات پر تو بحث کی ضرورت

Read more

افغانستان کی ائندہ ممکنہ صورت حال اور پاکستان کے لیے خدشات۔

اکتوبر 2001 میں امریکہ کا افغانستان پر حملہ کا سبب 9 / 11 کا واقعہ بنا اور طویل جنگ کے اصل اہداف اسامہ بن لادن۔ القاعدہ اور افغانستان کی سرزمین سے اس کے خلاف سرگرم عسکری انتہا پسندوں تنظیموں کے عناصر اور مراکز کا خاتمہ تھا۔ افغانستان کے مقامی طالبان کے ساتھ امریکہ کا براہ راست جھگڑا یا کچھ بڑا عناد نہ تھا۔ اسامہ اور القاعدہ کے باعث افغانستان پر مسلط جنگ کا وہ شکار ہو گئے۔ ان کی حکومت

Read more

اپوزیشن کی تحریک کے پیش منظر میں چند سوالات

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مجوزہ احتجاجی تحریک کیا صورت اختیار کرے گی؟ کیا یہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو جائے گی یا کسی مرحلے پر کسی وجہ سے کمزور یا منتشر ہو کر فلاپ ہو جائے گی؟ اس کے بارے میں فی الحال یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اگر چہ نا کامی کی صورت میں اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ملنے کا امکان زیادہ ہے۔ اسمبلیاں قائم رہیں تو آئندہ سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتحابات میں پی ٹی آئی کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہو جائے گی، جو اس کے لیے اعتماد اور مضبوطی کا باعث ہو گا۔

Read more

قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد

بر صغیر کی تقسیم کی طرح قیام پاکستان کے اسباب و محرکات ایک ایسا موضوع ہے جو اوائل دنوں سے سیاسی مفکرین اور محققین کے زیر بحث چلا آرہا ہے۔ جس طرح تقسیم ہند کے سلسلے میں مختلف آراء ہیں۔ اسی طرح تحریک پاکستان کے مختلف محرکات اور اسباب بیان کیے جاتے ہیں۔ دو قومی نظریہ قیام پاکستان میں اساس کی حثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ دو قومی نظرئیے کی منطق سے کئی حلقے اتفاق نہیں رکھتے تھے مگر اس سے کسی کو احتلاف

Read more

مسئلہ کشمیر سے متعلق چند سوالات

پاک اور بھارت کے درمیان اختلافات اور تناو کی بنیادی وجہ ابتداء ہی سے مسلئہ کشمیر چلا آرہا ہے۔ اس کے مناسب حل تک نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں تناو کا عنصر بر قرار رہے گا  بلکہ علاقائی سیاست پر اس کے اثرات پڑتے رہیں گے۔  اس کے حل یا تصفیے کے لیے مختلف طرز کی کاوشیں بھی شروع سے ہوتی رہی ہیں جنگوں اور جھڑپوں کے طریقے بھی آزمائے گئے ہیں اور پر امن سیاسی ذرائع سے

Read more

اگر عمران خان بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چل نہ سکا تو ؟

پاکستان کی سیاست اور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ پاکستان میں اس کی آشیرباد کے بغیر کسی کا اقتدار میں آنا بہت مشکل امر سمجھا جاتا ہے۔ اور اقتدار میں آکر بھی اسے آئینی طور پر بالا دست ہونے کے۔ باوجود پورا اختیار نہیں دیا جاتا۔ اور جب کوئی منتخب وزیر اعظم اپنا اختیار جتانے پر زیادہ اترتا ہے تو اس کے لیے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی

Read more