ایک پراسرار کائنات: کیا وقت اور فاصلہ سب کے لئے یکساں ہوتا ہے؟


میں نے پچھلے مضمون میں البرٹ آئن سٹائن کے خصوصی نظریہ اضافیت کے اصول پیش کیے جن کو کچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے :
پہلے اصول کے مطابق طبیعیات کے قوانین ان دو افراد کے لئے بالکل یکساں ہیں جو ایک دوسرے کی نسبت ایک مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں۔

اور دوسرے اصول کے مطابق، روشنی ایک ہی رفتار سے حرکت کرتی ہے چاہے روشنی کا منبع ساکن ہو یا مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہا ہو۔

ان اصولوں کی بنیاد پر سادہ دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا کہ کوئی بھی چیز، روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے حرکت نہیں کر سکتی۔ اس طور تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ایک حتمی رفتار ہے۔ یہ نتیجہ انتہائی حیران کن تھا کیونکہ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے مطابق تو رفتار کی کوئی حد نہیں۔ اگر کسی چیز پر بہت لمبے عرصے تک بہت زیادہ قوت استعمال کی جائے تو بڑی سے بڑی رفتار، روشنی سے بھی بڑی رفتار، حاصل کی جا سکتی ہے۔

لیکن یہ کسی طور واحد نتیجہ نہیں جو دلچسپ تھا۔ البرٹ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے تو جگہ اور وقت کے بارے میں ہماری سمجھ میں انقلاب برپا کر دیا، اور بہت سے ایسے نتائج پیش کیے جو ہماری سوچ سے ماورا تھے۔

اس مضمون میں، میں ان میں سے چند کا تذکرہ کروں گا۔

نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے مطابق وقت کو خلا سے مطلق اور آزاد تصور کیا جاتا تھا۔ ان قوانین کے مطابق دو واقعات جو کسی کے لیے بیک وقت ہوں، سب کے لیے بیک وقت ہوں گے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں یاوہ ایک دوسرے سے مناسب کسی رفتار سے سفر کر رہے ہوں۔

مثال کے طور پر ، اگر ایک ہی وقت میں ایک بڑے شہر میں دو دھماکے ہوئے ہیں، تو وہ سب کے لیے بیک وقت شمار کیے جائیں گے، نہ صرف ایک ہی شہر میں، بلکہ دنیا میں ہر ایک کے لیے۔ چاہے کوئی گھر میں بیٹھا ہو، سڑک پر چل رہا ہو، گاڑی چلا رہا ہو یا ہوائی جہاز میں اڑ رہا ہو۔

آئن سٹائن کے خصوصی نظریہ اضافیت کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ جگہ اور وقت ایک دوسرے سے آزاد نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دو افراد جن میں سے ایک ساکن ہو اور دوسرا ایک مستقل رفتار سے حرکت کر رہا ہو، ان کے لئے دو واقعات کے درمیان وقت کا دورانیہ مختلف ہو گا۔ یہ نتیجہ وقت کے بارے میں ہمارے نظریات کو پاش پاش کر دیتا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے وابستہ اصولوں سے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا جا سکتا ہے۔
میں اسے ایک مثال سے واضح کرتا ہوں جو خود آئن سٹائن نے پیش کی تھی۔

آئیے دو دوستوں، زید اور عمر، کو تصور کریں۔ زید ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں، جبکہ عمر ریل کی پٹری پر مخصوص رفتار کے ساتھ چلنے والی گاڑی کے اندر موجود ہیں۔ تصور کریں کہ عمر گاڑی کے عین بیچ بیٹھے ہیں، اور گاڑی پلیٹ فارم کے سامنے بائیں سے دائیں حرکت کر رہی ہے۔

ہم تصور کرتے ہیں کہ جب چلتی ہوئی گاڑی میں موجود عمر پلیٹ فارم پر موجود زید کے عین سامنے سے گزر رہے ہوتے ہیں تو گاڑی کے دونوں سروں پر دو پٹاخے پھٹتے ہیں۔ ہم ان واقعات پر زید اور عمر کے نقطہ نظر سے بحث کرتے ہیں۔

پلیٹ فارم پر کھڑے زید کے لیے، دونوں دھماکے ان سے مساوی فاصلے پر ہوئے ہیں۔ دونوں پٹاخوں کی روشنی مساوی فاصلہ طے کرے گی۔ ایک وقت کے بعد ، جس کے دوران روشنی گاڑی کی لمبائی کے نصف کے برابر فاصلہ طے کرتی ہے، زید بیک وقت دونوں پٹاخوں سے فلیش دیکھیں گے۔ وہ یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ دونوں دھماکے ایک ساتھ ہوئے ہیں۔

لیکن عمر کیا نتیجہ اخذ کریں گے؟ کیا ان کے لیے بھی دونوں دھماکے ایک ساتھ ہوں گے؟

چونکہ گاڑی ایک خاص رفتار کے ساتھ دائیں طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے دو پٹاخوں کی روشنی مختلف فاصلے طے کرے گی۔ جب بائیں پٹاخے سے روشنی گاڑی کی نصف لمبائی کے برابر فاصلہ طے کرتی ہے، تو گاڑی، اور اس وجہ سے عمر، بہت دور چلے جاتے ہیں۔ اس لیے روشنی کو عمر تک پہنچنے کے لیے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ تاہم، دائیں پٹاخے سے روشنی کو تھوڑا فاصلہ طے کرنا پڑے گا کیونکہ عمر دائیں پٹاخے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس طرح، دائیں پٹاخے کی روشنی بائیں پٹاخے کی روشنی سے پہلے عمر تک پہنچے گی۔ عمر یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ دونوں دھماکے ایک ساتھ نہیں ہوئے تھے۔ دایاں پٹاخہ بائیں پٹاخے سے پہلے پھٹا تھا۔

اس طرح، دو واقعات ( جیسے دو پٹاخوں کا پھٹنا) کے درمیان گزرا ہوا وقت دونوں مبصرین (زید اور عمر) کے مطابق یکساں نہیں ہو گا۔ زید کے مطابق دونوں پٹاخے ایک ساتھ پھٹے، جبکہ عمر کے مطابق دایاں پٹاخہ بائیں پٹاخے سے پہلے پھٹا تھا۔

دونوں واقعات کے دونوں (زید اور عمر) کے لئے بیک وقت نہ ہونا خصوصی نظریہ اضافیت کا براہ راست نتیجہ ہے۔ خاص طور پر ، یہ آئن سٹائن کے اس موقف پر مبنی ہے کہ روشنی کی رفتار دونوں (زید اور عمر) کے لئے یکساں ہے جو ایک دوسرے کی نسبت ایک مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں۔

اب ہم اس تجربے کا تجزیہ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے فریم ورک کے اندر کرتے ہیں، جس کے مطابق دونوں دھماکے زید اور عمر، دونوں کے لیے بیک وقت ہوں گے۔ اس کو سمجھنے کے لیے، ہم نوٹ کرتے ہیں کہ عمر کے لیے دونوں پٹاخوں سے آنے والی روشنی کی رفتار مختلف ہو گی۔ اگر گاڑی دس ہزار میل فی گھنٹہ کے رفتار سے چل رہی ہے تو گاڑی کی حرکت کی سمت (بائیں پٹاخے سے عمر کی طرف) روشنی کی رفتار تین لاکھ جمع دس ہزار، یعنی تین لاکھ دس ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی، جبکہ گاڑی کی حرکت کے مخالف سمت (دائیں پٹاخے سے عمر تک) آنے والی روشنی کی رفتار تین لاکھ منفی دس ہزار، یعنی دو لاکھ نوے ہزار میل فی گھنٹہ ہو گی۔ چونکہ تیز رفتار روشنی ( بائیں پٹاخے سے عمر کی طرف ) کو لمبا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور دھیمی رفتار روشنی (دائیں پٹاخے سے عمر تک) کو کم فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے دونوں پٹاخوں کی روشنی عمر تک بیک وقت پہنچے گی۔

اس مثال سے واضح ہو جاتا ہے کہ آئن سٹائن کا وضع کردہ یہ اصول کہ روشنی ایک ہی رفتار سے حرکت کرتی ہے چاہے روشنی کا منبع ساکن ہو یا مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہا ہو، وقت کے تصور میں کتنی بڑی تبدیلی کا باعث ہے۔ ہر حرکت کرتے ہوئے شخص کے لئے وقت کا دورانیہ دوسرے سے مختلف ہو گا۔ وقت اور جگہ مطلق نہیں ہیں۔ ان نتائج کے مطابق وقت اور جگہ سے متعلق انیسویں صدی کے آخر تک مانے جانے والے تصورات میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی۔

یہ اصول کہ روشنی کی رفتار ایک دوسرے کے حوالے سے مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کرنے والے تمام مبصرین کے لیے یکساں ہے اس کا ایک اور حیرت انگیز نتیجہ ہے۔ ایک ساکن شخص کے لیے، مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کرنے والے کے لیے وقت زیادہ آہستہ سے گزرتا ہے۔ مثال کے طور پر ، ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے زید یہ سوچیں گے کہ پلیٹ فارم پر موجود گھڑی چلتی گاڑی کے اندر موجود گھڑی کے مقابلے میں تیز چل رہی ہیں۔

یہاں ہم ایک سادہ دلیل کا استعمال کرتے ہوئے اس حیرت انگیز نتیجہ کو بیان کرتے ہیں۔

فرض کریں کہ دو ایک جیسی گھڑیاں ہیں، ایک پلیٹ فارم پر اور دوسری گاڑی کے اندر۔ ان گھڑ یوں کی ساخت کچھ اس طرح ہے۔ ایک آئینہ کھڑے ہوئے شخص کے بالکل اوپر چھت پر موجود ہے۔ فرش سے ایک لائٹ سگنل آئینے کو بھیجا جاتا ہے جہاں سے یہ واپس منعکس ہوتا ہے۔ لائٹ سگنل کو آئینے تک جانے اور واپس آنے میں جو وقت لگتا ہے اسے ہم ایک نئے سرے سے متعین سیکنڈ تصور کرتے ہیں۔

پلیٹ فارم پر کھڑے زید کے لیے، ایک سیکنڈ لائٹ سگنل کے آئینے تک جانے اور منعکس ہو کر واپس آنے کے دورانیے کے برابر ہو گا۔ یہ دورانیہ روشنی کے سگنل کے طے کیے گئے فاصلے کو ، جو آئینے کی اونچائی کے دو گنا کے برابر ہے، روشنی کی رفتار سے تقسیم کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سیدھی سی بات ہے۔

اب ہم چلتی گاڑی میں ایک سیکنڈ کے دورانیے پر غور کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چلتی گاڑی میں ایک سیکنڈ کا دورانیہ پلیٹ فارم پر موجود گھڑی کے ایک سیکنڈ کے دورانیے کے برابر ہو گا؟

عمر کے لیے، چلتی ہوئی گاڑی کے اندر، ایک سیکنڈ دوبارہ لائٹ سگنل کے آئینے تک جانے اور منعکس ہو کر واپس آنے کے دورانیے کے برابر ہو گا۔ زید اور عمر دونوں کے لیے ان کے اپنے مقامات پر ایک سیکنڈ کا دورانیہ یکساں ہو گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ زید کے مطابق، عمر کی گھڑی کے ایک سیکنڈ کا دورانیہ کتنا ہو گا؟

زید کے نقطہ نظر سے، جب چلتی گاڑی میں روشنی آئینے سے ٹکراتی ہے، تو رفتار کے لحاظ سے گاڑی ایک خاص فاصلہ طے کر چکی ہوتی ہے۔ اس طور روشنی کے سگنل کو آئینے تک پہنچنے کے لیے ایک ترچھا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جو سیدھا اوپر جانے سے زیادہ لمبا فاصلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، منعکس ہونے والی روشنی کو بھی عمر تک واپس جانے کے لیے سیدھا نیچے جانے سے زیادہ طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ گاڑی کی حرکت کی وجہ سے ہے۔ اس طور آئینے تک جانے اور واپس لوٹنے کے لیے روشنی کے سگنل کی کل مسافت لمبی ہو گی۔

چونکہ روشنی کی رفتار مستقل ہے، اس لیے ایک سیکنڈ (روشنی کے آئینے تک جانے اور واپس لوٹنے کا دورانیہ) بڑا ہو گا۔ اس طرح، زید کے لیے، عمر کی گاڑی کی گھڑی اس کی اپنی گھڑی کے مقابلے میں آہستہ چلتی ہے۔ گاڑی کی عام رفتار کے لیے، وقت کا یہ فرق بہت چھوٹا ہو گا۔ تاہم، اگر گاڑی کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب ہو، تو روشنی کے سگنل کو ایک سیکنڈ کے دوران بہت لمبا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔

اس طور زید کے لیے، عمر کی گاڑی میں گھڑیاں آہستہ چل رہی ہوں گی۔
لیکن کتنی سست؟

فرض کریں کہ زید اور عمر ایک سیکنڈ میں پلک جھپکتے ہیں۔ اگر عمر کی گاڑی روشنی کی نصف رفتار سے چل رہی ہے، جو ایک ناقابل یقین حد تک تیز رفتار ہے، تو زید کے مطابق عمر کو پلک جھپکنے میں 1.15 سیکنڈ لگیں گے۔ اگر عمر کی گاڑی 2.997 لاکھ میل فی سیکنڈ رفتار سے چل رہی ہو تو عمر کے پلک جھپکنے میں 22 سیکنڈ لگیں گے اور اگر عمر کی گاڑی 2.999997 لاکھ میل فی سیکنڈ رفتار سے چل رہی ہو تو زید 10 منٹ تک چہل قدمی کر سکتے ہیں اور عمر اس دوران پلک جھپک رہے ہوں گے۔

یہ آئن سٹائن کے خصوصی نظریہ اضافیت کا انتہائی حیرت انگیز نتیجہ ہے۔

مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ وقت کے پھیلاؤ کا ایک اور ناقابل فہم نتیجہ یہ ہے کہ، زید اور عمر کے درمیان اس بات پر اختلاف ہو گا کہ عمر نے ایک خاص وقت کے دوران کتنا فاصلہ طے کیا۔ اس نکتے کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

آئیے فرض کریں کہ زید پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں جبکہ عمر روشنی کی نصف رفتار، 150,000 کلومیٹر فی سیکنڈ، سے حرکت کرتی ہوئی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں۔ ایک سیکنڈ گزرنے کے بعد ، عمر یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ انہوں نے 150,000 کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔

زید، پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے جانتے ہیں کہ عمر کی گھڑی سست ہے۔ عمر کا ایک سیکنڈ زید کے صرف 0.866 سیکنڈ کے برابر ہے۔ لہذا، زید یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ عمر نے ایک سیکنڈ میں x 0.866150,000 یعنی 129,900 کلومیٹر فاصلہ طے کیا ہے۔

اس طرح، ہمارے پاس ایک انتہائی حیرت انگیز نتیجہ ہے کہ زید اور عمر کے نزدیک ایک سیکنڈ میں طے کردہ فاصلہ مختلف ہے۔ زید کے مطابق طے کردہ فاصلہ عمر کی پیمائش سے کم ہو گا۔

اب، ہم زید اور عمر دونوں سے ایک اور متعلقہ سوال پوچھتے ہیں : عمر جس گاڑی میں سفر کر رہے ہیں، اس کی لمبائی کتنی ہے؟ حیرت انگیز طور پر ، زید اور عمر پھر مختلف جوابات دیں گے۔

ایک بار پھر، آئیے ایک سادہ سی مثال سے وضاحت کرتے ہیں جب پلیٹ فارم پر کھڑے زید، عمر کو پہلے کی طرح 150,000 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گاڑی میں سفر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہم یہ نوٹ کرتے ہیں کہ عمر کے نقطہ نظر سے تو گاڑی رکی ہوئی ہے، اور یہ زید ہیں جو مخالف سمت میں 150,000 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ عمر گاڑی کی لمبائی کی پیمائش کیسے کریں گے؟ ایک طریقہ یہ ہے کہ گاڑی کے دوسرے سرے پر آئینہ لگائیں۔ عمر گاڑی کے ایک سرے سے روشنی کا سگنل بھیجتے ہیں جو گاڑی کی لمبائی کا سفر کرنے کے بعد آئینے سے منعکس ہو کر واپس عمر کی طرف آتا ہے۔

اگر لائٹ سگنل کے جانے اور آنے میں لگنے والا کل وقت 0.000002 سیکنڈ ہے، تو عمر یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ کل طے کردہ فاصلہ روشنی کی رفتار، 3000,000 کلومیٹر فی سیکنڈ کو 0.000002 سیکنڈ سے ضرب دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فاصلہ 6 کلو میٖٹر بنتا ہے۔ مگر طے شدہ فاصلہ گاڑی کی لمبائی سے دوگنا ہے۔ اس طرح عمر کے مطابق گاڑی کی لمبائی 3 کلومیٹر ہے۔

اب ہم سوال پوچھتے ہیں کہ پلیٹ فارم پر کھڑے زید کے مطابق گاڑی کی لمبائی کتنی ہے؟ یہ جواب دینا کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہے، لیکن آئیے کوشش کرتے ہیں۔

زید کے نقطہ نظر سے، گاڑی روشنی کی نصف رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ دلیل دیں گے کہ عمر کو اپنے حساب کتاب میں گاڑی کی حرکت کو شامل کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق، روشنی کو آئینے تک سفر کرنے میں زیادہ وقت لگنا چاہیے کیونکہ جب روشنی کا سگنل عمر سے آئینے تک جاتا ہے، اس دوران گاڑی (اور آئینہ) آگے کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ لائٹ سگنل کو آئینے سے واپس عمر تک سفر کرنے میں کم وقت لگنا چاہیے کیونکہ جب روشنی کا سگنل واپس آتا ہے تو عمر آگے کی طرف بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ یہ بھی گاڑی کی حرکت کی وجہ سے ہے۔

اس طرح عمر سے آئینے تک کے سفر کے دوران، روشنی کے سگنل کا دورانیہ دو حصوں پر مشتمل ہے : ایک دورانیہ تو اس وقت کے برابر ہے جس میں سگنل ساکن گاڑی کی لمبائی کے مساوی فاصلے کو طے کرے گا اور پھر اس فاصلے کو عبور کرنے میں اضافی وقت لگے گا جتنا اس دوران گاڑی دور جا چکی ہو گی۔ تاہم، آئینے سے عمر تک منعکس سگنل کا دورانیہ اس وقت سے کم ہو گا جس میں سگنل ساکن گاڑی کی لمبائی کے مساوی فاصلے کو طے کرے گا، کیونکہ جب تک منعکس سگنل عمر تک پہنچے گا، اس دوران گاڑی سگنل کی سمت میں آگے بڑھ چکی ہو گی۔

ان مشاہدات کی بنیاد پر ایک سادہ سا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ زید یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ چلتی گاڑی کی لمبائی ایک ساکن گاڑی کی لمبائی کے تین چوتھائی کے برابر ہے۔ تاہم، مزید اصلاح کی ضرورت ہے۔ زید کو معلوم ہے کہ عمر کی گھڑی اس کی اپنی گھڑی سے سست ہے۔ جب اس بات کو شامل کیا جائے گا تو زید یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ گاڑی کی لمبائی ساکن گاڑی کی لمبائی کا 0.87 گنا ہے، یعنی 2.56 کلومیٹر۔ لہذا، زید کو عمر کے مقابلے میں گاڑی کی لمبائی چھوٹی نظر آئے گی۔ یہاں ہم نے گاڑی کی مخصوص مثال پر غور کیا۔ تاہم، یہ نتیجہ عمومی ہے اور ان تمام اشیاء کے لیے درست ہے جو گاڑی کی سمت میں چل رہی ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چلتی گاڑی کی لمبائی اس لمبائی سے کم دکھائی دیتی ہے جس کی پیمائش کسی ساکن مبصر نے کی تھی۔ اگر گاڑی روشنی کی رفتار کے قریب جاتی ہے تو گاڑی کی لمبائی صفر تک پہنچ جائے گی۔

ابھی تک تو ہم نے آئن سٹائن کے خصوصی نظریہ اضافیت اور اس سے وابستہ نتائج پر بات کی ہے۔ یہ ایک حیرت کدہ ہے، جہاں کائنات میں جگہ اور وقت کے بارے میں تصورات ہماری عام سمجھ بوجھ سے ماورا نظر آتے ہیں۔

لیکن ایک انگریزی ضرب المثل کے مطابق پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔

اگلے مضامین میں جب میں کائنات میں ستاروں اور سیاروں کے گرد زمان و مکاں کی ہیئت کا جائزہ لوں گا تو ایک ہوش ربا تصویر سامنے آئے گی، ایک ایسی تصویر جس کی مکمل تفہیم کے لئے سائنسدان ابھی تک کوشاں ہیں۔

لیکن اگلے مضمون میں آئن سٹائن کے خصوصی نظریہ اضافیت کے سب سے اہم نتیجے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جس کے مطابق مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس نتیجے نے ایک طرف تو ایٹم اور ہائیڈروجن بموں کو بنانا ممکن بنایا، جبکہ دوسری طرف یہ سمجھنے میں مدد دی کہ سورج اور ستاروں سے نکلنے والی روشنی کا منبع کیا ہے۔

(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔ )

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy