مسلماں تو ہے، انسان بھی ہے


میرے پاس لکھنے کے لیے شاید نیا کچھ نہ ہو لیکن مجھ جیسے کئی نا فہم لوگ جنہیں کبھی عرب اسرائیل جنگ میں دلچسپی نہیں رہی، جو بچپن سے فلسطین کے نام پر صرف یاسر عرفات کو جانتے تھے، آج وہ بھی خاموش نہیں رہ پا رہے ہوں گے۔ قلم اٹھانے پہ مجبور اسرائیل کے غزہ کے ایک ہسپتال پر کیے گئے حملے نے کیا۔ سینکڑوں اموات ہو چکی ہیں اور مزید بھی ہو سکتی ہیں۔ ان میں بچے اور خواتین سب شامل ہیں۔ تبھی سوچنے پہ مجبور ہوئی کہ یہ غصہ کس بات کا ہے۔ قیام کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کبھی چین سے نہیں بیٹھا اور نا بیٹھنے دیا۔ مجھ جیسے وہ سبھی لوگ جو تاریخ نہیں جانتے انہیں تھوڑا سا وہ کچھ بتاتی چلوں جس نے پچھلے دو دن میں مجھے ہلا کے رکھ دیا۔

1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطینی زمین کو تقسیم کر کے 55 فیصد علاقہ یہودیوں کے حوالے کر دیا اور 45 فیصد عربوں کو بخش دیا۔ باوجود اس کے کہ اس خطے میں فلسطینی زیادہ تعداد میں آباد تھے۔ یہودیوں کو وہاں لا کر قصدا آباد کیا گیا۔ عرب اسرائیل تنازعہ پہلی بار 1948 میں شروع ہوا جب اسرائیل دنیا کے نقشے پہ ظاہر ہوا۔ اور وہ 78 فیصد حصے پر قابض ہو گیا۔ اس سال اندازہ 750000 فلسطینیوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔ یہ دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی سازش تھی اور بہت بڑی تباہی تھی جسے النکبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کے معرض وجود میں آنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔ بلاشبہ عربوں کے لیے یہ ناقابل قبول بات تھی۔ ہلکی پھلکی جھڑپوں کا سلسلہ تبھی شروع ہو گیا۔ برٹش فورسز کی پشت پناہی کی وجہ سے اسرائیل کی طاقت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 1967 میں پھر تناؤ بڑھا اور قبضے اور حصول کی یہ جنگ 6 روز تک جاری رہی۔ ایک بار پھر خطے کے بیشتر حصے پر اسرائیل نے اپنے جھنڈے گاڑے۔ اس غیر قانونی اور غیر انسانی قبضے پر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کو خاطر میں نا لاتے ہوئے ان کی دھجیاں بکھیر دیں۔ آج بھی فلسطینی شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اور ایسے کٹھن حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ حقوق مانگنے کی بجائے وہ اس خطے سے نکل جانے میں عافیت سمجھتے ہیں۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کے گھر میں زبردستی کوئی گھسے اور اپنی مرضی چلانا شروع کردے یہاں تک کہ آپ کو گھر سے نکل جانے پر مجبور کر دے۔ میرا نہیں خیال اس وقت وہ ”باہر والا“ حق پر ہو گا۔ اس تنازعہ پر قائداعظم کا موقف بھی ابھی سمجھ آیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فلسطینیوں کی حق رائے دہی کے ساتھ مشروط ہے۔

الجزیرہ کا ایک مضمون پڑھتے ہوئے مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ قریب 600000 مہاجرین ہیں جو مہاجر کیمپ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی آس میں کہ شاید وہ واپس اپنے گھروں کو جا پائیں گے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو 1967 کی جنگ میں بے گھر ہوئے۔ اگر آپ نقشے پر غور کریں تو بھی اس گھناونی سازش کا پتا چلتا ہے۔ یہ مغربی ممالک کی سر پرستی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اسرائیلیوں نے ہر ممکن حد تک عربوں کے لیے زمین تنگ کر رکھی ہے۔ روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ سفری مشکلات بھی درپیش ہیں۔ یہاں تک کہ شادی کے معاملات بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔ ہر سال اسرائیل شرارتا سینکڑوں فلسطینی گھروں کو مسمار کر دیتا ہے اور اس کا جواز پوچھنے والا کوئی نہیں۔

اس دردناک کہانی کو پڑھتے جائیے اور سنتے جائیے کہ یہ صرف ایک قصہ کہانی نہیں، کہیں میلوں دور بیٹھے لوگوں پہ گزرنے والے روزمرہ کے حالات ہیں۔ آخر 7 اکتوبر 2023 کو حماس اپنے ہزاروں راکٹس کے ساتھ اسرائیل پہ حملہ آور ہوتا ہے تو عالمی دنیا کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ ایک صدی گزرنے کو ہے فلسطینیوں کو اس حال میں رہتے، لیکن تب یہ آنکھیں اشکبار کیوں نا ہوئیں جو آج اسرائیلیوں کی موت پر ہو رہی ہیں۔ خود سے کئی گنا بڑی ریاست پر یوں چڑھ دوڑنا یقیناً شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔ اسرائیل کے جوابی وار پر حماس کی طرف سے بیان جاری ہوتا ہے کہ نیتن یاہو پہ جہنم کے دروازے کھول دیں گے۔ یہ بیان دیکھ کر میں ششدر رہ گئی اور یہ ایمان مزید پختہ ہو گیا کہ طاقتور کے آگے نعرہ حق بلند وہی کر سکتا ہے جسے لا الہ الا اللہ پہ یقین ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ عرب اسرائیل تنازعہ میں مسجد اقصی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ مسجد اقصی قدیم یروشلم شہر میں قائم ہے۔ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس اور قابل تعظیم جگہ ہے۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق سفر معراج کے موقع پر یہی وہ جگہ ہے، جہاں سے حضور اکرم (ص) نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اہل یہود کے لیے بھی یہ جگہ مذہبی اعتبار سے انتہائی مقدس ہے۔ یہودی عقیدے کے مطابق اسی جگہ ان کا قدیم اور پہلا یہودی مندر قائم تھا جسے سلیمانی ہیکل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی مغربی دیوار کو دیوار گریہ کہا جاتا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ دیوار ان کی قدیم عبادت گاہ کا بچا ہوا حصہ ہے۔ اس دیوار سے لگ کر یہودی اپنی مقدس عبادت گاہ کی تباہی کے غم میں گریہ کرتے ہیں۔ نا صرف یہودیت بلکہ عیسائیت کے مطابق، حضرت عیسی (ع) بھی اسی جگہ اسی مسجد کی اندرونی دیواروں پہ وارد ہوں گے۔

اگر عالم اسلام نے اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف توجہ دی ہوتی تو آج یہ مذہبی مسئلہ بھی حل ہو جاتا۔ دنیا میں تقریباً 50 مسلم ممالک ہیں جن میں بڑی طاقتیں جیسے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ مسلمان کے مرنے کا دکھ تو کسی نے نہیں منایا۔ تماشا کل عالم نے دیکھا۔ بحث و مباحثے ہوئے، مشاورت اور مذاکرات ہوئے لیکن عرب اسرائیل تنازعہ کبھی حل کی طرف گامزن نہیں ہوا۔

مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں اور سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اور وہ کامیاب بھی شاید اسی لیے ہوئیں کہ مسلمان خود اپنے حق، اپنے ورثہ، اپنے مذہب اور اپنی طاقت کو سنبھالنے اور بچانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ہم تو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ ہم مسلمان نہیں ہیں ہم تو شیعہ ہیں، ہم تو سنی ہیں، ہم بریلوی ہیں اور ہم دیوبندی ہیں۔ آپ مسجد اقصی کو کیا روتے ہیں؟ آج مسلمان کو اتنا بٹا ہوا دیکھ کر خود مسجد اقصی روتی ہو گی۔

مسلمان نا صحیح انسان سمجھتے ہوئے اسرائیلی فورسز کو انسانیت دکھانی چاہیے۔ ہسپتال، بچوں اور خواتین پر حملہ مذہبی حملہ نہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کی عین خلاف ورزی ہے۔ امید تو ہے کہ وہ سینکڑوں لوگ مرتے ہوئے کل عالم کو جھنجھوڑ گئے ہوں گے۔ کمیٹیاں بیٹھ گئی ہوں گی۔ جنگ بندی کا حکم ہونے والا ہو گا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کو توڑنے پر اسرائیل کا گریبان پکڑا جانے والا ہو گا۔ غزہ کی پٹی اب سرخ نہیں رہے گی۔ یہ میری امید ہے اور امید پہ دنیا قائم ہے۔

Facebook Comments HS