کعبہ پہ پڑی پہلی نظر

2025 کا آغاز بے حد حسین تھا۔ ہر سال کا آغاز ایسے ہی ہو تو اس سے زیادہ خوش قسمتی کسی انسان کی کیا ہو گی۔ ہم عمرہ کی نیت سے اللہ کے گھر کے مہمان بننے والے تھے۔ جیسے جیسے دن نزدیک آ رہے تھے، تیاریوں میں بھی تیزی آ رہی تھی اور اندیشوں میں بھی۔ اندیشہ اس بات کا کہ ہم تو پہلی بار جا رہے ہیں، کوئی غلطی سرزد نا ہو جائے۔ کبھی کسی سے مشورہ، کبھی

Read more

آئینی ترمیم: اگر میں کہوں

واہ بھئی واہ! کیسا زبردست ڈرامہ رچا ہے اس نام نہاد مقدس ایوان میں۔ میں آخری وقت تک بیوقوفوں کی طرح سمجھتی رہی کہ یہ نہیں ہو پائے گا۔ آخر کہیں تو رکے گا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح میں غلط ہی ثابت ہوئی۔ یہ سب ایسے ہی ہوتا آیا ہے اور ایسے ہی ہونا ٹھہر گیا ہے۔ یہ اقتدار اور پیسے کی بھوک کب ختم ہو گی؟ یہ مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ، اس کا نام نا لو، اس کا نعرہ

Read more

2024 سے 2008 تک کا سفر، پلک جھپکنے میں

21 اپریل 2008۔ اوہ معاف کیجیئے گا۔ غلط تاریخ لکھ دی۔ یہ تو 21 اپریل 2024 کی خوش گوار صبح تھی۔ جس نے ہمیں سولہ سال پیچھے دھکیل دیا۔ 2008 میں ہیلی کالج سے جب پاس آؤٹ ہوئے، تب پاس تو ہم بھول ہی گئے، بس آؤٹ ہی یاد رہ گیا۔ لیکن واپسی کبھی اس طرح ہو گی، اس کا یقین کیا، کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ہیلی کالج آف کامرس کے فیس بک پیج کے ذریعے معلوم ہوا کہ

Read more

مسلماں تو ہے، انسان بھی ہے

میرے پاس لکھنے کے لیے شاید نیا کچھ نہ ہو لیکن مجھ جیسے کئی نا فہم لوگ جنہیں کبھی عرب اسرائیل جنگ میں دلچسپی نہیں رہی، جو بچپن سے فلسطین کے نام پر صرف یاسر عرفات کو جانتے تھے، آج وہ بھی خاموش نہیں رہ پا رہے ہوں گے۔ قلم اٹھانے پہ مجبور اسرائیل کے غزہ کے ایک ہسپتال پر کیے گئے حملے نے کیا۔ سینکڑوں اموات ہو چکی ہیں اور مزید بھی ہو سکتی ہیں۔ ان میں بچے اور

Read more

ایک غازی بنا، ایک شہید!

ایسا پہلے بھی ہوا ہے کہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن سارے الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ کہیں دہشت ہے، کہیں خوف ہے، کہیں احتیاط ہے۔ کہیں لکھتے لکھتے قلم پھسل نا جائے اور وہ کہہ دوں جو نہیں کہنا چاہیے۔ اچھا! ہمت کرتی ہوں۔ جہاں عمران ریاض کی واپسی پہ خوشی کی انتہا نہیں رہی، وہیں اگلے ہی لمحے ان کی کمزور اور پژمردہ سی تصویر نے دل دہلا کے رکھ دیا۔ ایسی گرج برس،

Read more

اخلاقیات کا ‘الف’

عمران خان کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے، بالکل ٹھیک ہو رہا ہے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان جیسے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے کے خواب دیکھنے والے کے ساتھ ایسا سلوک ہی ہونا چاہیے۔ یقیناً اس نے ریاست مدینہ پر تحقیق تو کی ہو گی لیکن اس قوم کی اخلاقیات پر تحقیق کرنا وہ شاید بھول گیا۔ کچھ روز قبل ٹی وی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جب بشری بی بی اپنی نیب کی پیشی بھگتنے جا رہی

Read more

ماما! کھانا بن گیا؟

میری سوچوں کے تسلسل کو میری چھ سالہ بیٹی نے توڑا۔ اور کچھ پل کے لیے میں بھول بھی گئی کہ مجھے کھانا بنانا تھا۔ خبر ہی کچھ ایسی تھی۔ عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ خبر تھی یا بجلی تھی جو مجھ پر گری تھی۔ اب کیا ہو گا؟ اب کیا کرنا ہو گا؟ دل و دماغ سوچوں کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب رہا تھا۔ کیا ہو گا، یہ واضح نہیں تھا۔ لیکن کیا کرنا چاہیے، یہ بالکل

Read more

ماموں جی کے بغیر ایک سال گزرا

ماموں تو سب کو بہت عزیز ہوتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ باپ کے بعد کسی سے لاڈ اٹھوا کر ہر بات منوائی جا سکتی ہے، وہ ماموں کا رشتہ ہے تو یہ بے جا نا ہو گا۔ مگر میرے ماموں تو دنیا سے نرالے ماموں تھے۔ ان کی شفقت سے تو دودھ والا، سبزی والا یہاں تک کہ کچرے والا بھی محروم نہیں تھے۔ میں آج بھی سوچتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں، کیا یہ آپ کو پیدا

Read more

محبت کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے

سوچیں آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ دماغ چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے تم آزاد نہیں۔ 14 اگست کو ہم آزاد ہوئے تھے یا بس ایک غلامی سے دوسری غلامی میں داخل ہوئے تھے۔ واردات وہی تھی بس طریقہ واردات بدلہ تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم 75 سال تک سمجھ ہی نہیں سکے کہ آزادی کس چڑیا کا نام ہے۔ جمہوریت کے ٹھیکے دار آخر بتائیں تو سہی جمہوریت کہتے کسے ہیں؟ میری دانست میں جمہوریت عوام کی

Read more

رحم عالی جاہ! رحم!

کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں۔ اب تو لگتا ہے غم زندگی کے ساتھ ساتھ ہی چلیں گے۔ ابھی ایک زخم بھر نہیں پاتا کہ اگلا گھاؤ نڈھال کر دیتا ہے۔ ابھی پہلے دکھ پہ آنسو تھمے نہیں ہوتے کہ اگلے حادثہ پہ آنسوؤں کی ایک نئی جھڑی لگ جاتی ہے۔ ٹھہراؤ ہے کہ آ ہی نہیں رہا۔ ٹھہراؤ آ نہیں رہا یا ہم وہاں پہنچ نہیں پا رہے۔ کچھ تو ہے جو سلجھ نہیں رہا۔ ملک میں بڑھتی

Read more

طاقتور سوشل میڈیا اور کمزور ہم!

آج دل بہت رنجیدہ ہے۔ آنکھوں میں آنسو ہیں۔ ہاتھ کپکپا رہے ہیں۔ آئینہ کھڑا ہے سامنے۔ کبھی کبھی آئینہ بہت خوفناک چیزیں دکھاتا ہے۔ وہ سب جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ آئینہ کچھ نہیں چھپاتا۔ پرانے ترانے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ ”ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔“ کیسے کہوں کہ ہم زندہ قوم ہیں۔ زندہ قومیں تو ایسی نہیں ہوتیں۔ وہ تکلیف محسوس کرتی ہیں۔ تکلیف کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ جیسے کل ترکی میں ہزاروں مرد

Read more

موٹیویشنل سپیکر بمقابلہ قاسم علی شاہ

میں قاسم علی شاہ کے بارے میں بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن ایک چیز مجھے روک دیتی ہے۔ مجھے کبھی بھی ان کے لیکچرز میں دلچسپی نہیں رہی۔ میرا ماننا تھا کہ ان کا انداز بیاں مجھے کبھی بھی متاثر نہیں کر سکا۔ کبھی دوستوں، عزیزوں کے کہنے پہ سننے کی کوشش بھی کی تو کبھی مکمل سن نہیں پائی۔ اس کی وجہ ہر گز یہ نہیں کہ میں عقل کل ہوں اور مجھ میں اصلاح کی گنجائش نہیں،

Read more

آٹا آٹا کرتی میں رل گئی

آٹے کا بحران انتہائی سنگین ہو گیا ہے۔ جو مناظر اس وقت دکھائے جا رہے ہیں وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ شامت ہمیشہ غریب ہی کی کیوں آتی ہے؟ کچھ روز پہلے میری ملازمہ نے بتایا کہ ہم صرف روٹی ہی کھاتے ہیں، جب بھی بھوک لگے۔ اور کچھ تو ہوتا نہیں کھانے کو تو بس روٹی ہی کھاتے ہیں۔ اب سوچ سوچ کے دل بیٹھا جاتا ہے کہ روٹی بھی پہنچ سے دور ہو گئی ہو گی۔ صد

Read more

عدلیہ جاگ گئی؟ نہیں، ابھی نہیں!

ہمارے دین کی عمارت کی اہم ترین بنیاد ہے ’عدل‘ ۔ عدل قائم نا ہو گا تو دین اسلام ادھورا ہے۔ میں کوئی عالم دین نہیں ہوں، نا کوئی بہت بڑی لکھاری۔ میں کسی دوڑ اور کسی مقابلہ کا حصہ نہیں ہوں۔ میں ایک عام شہری کی آواز بننا چاہتی ہوں۔ ایک عام شہری جب میرا لکھا پڑھے تو بے ساختہ کہہ اٹھے، ”میرے دل کی بات کہہ دی“ ۔ میں اس کے ذہن و دل میں ابھرتے ہزاروں اندیشوں،

Read more

جان کی امان پاؤں، تو عرض کروں!

ملک کی دن بدن بدلتی صورتحال عجیب سے عجیب تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سیاست شطرنج کی شاطر بازی کی بجائے لڈو کی بازی لگ رہی ہے جس میں کھیلنے والے روز ایک دوسرے کی گوٹی مارنے پر خوش ہوتے ہیں۔ ایک گوٹی کو گھر بھیجتے ہیں تو اگلی چال سے پہلے گوٹی باہر آ جاتی ہے۔ کہاں گئے وہ سب گھاگ سیاستدان؟ کہاں گئی اڑتی چڑیا کے پر بھی گن لینے والی اسٹیبلشمنٹ؟ کہاں گئی ہماری وہ نمبر

Read more

چھوٹے چھوٹے سیاستدان

جنرل باجوہ کا دور تاریخ میں سیاہ ترین دور کے طور پر جانا جائے گا۔ جب فوج سے عوام کا رومانس تقریباً تمام ہوا۔ آج خود کو سمجھاتے ہیں کہ ”فوج“ ایک شخص نہیں ہے تو پھر سرحدوں پہ قربان ہونے والے بیٹوں سے شکوہ کیوں؟ لیکن دل ہے کہ مان ہی نہیں رہا۔ وہ یہی کہتا جا رہا ہے کہ آخر کو طاقت ”اسی“ ایک شخص کی ہے۔ جب تک اس کی مٹھی سے آزاد نہیں ہوں گے، شاید

Read more