کم عمری کی شادی


syeda bazila batool

معاشرے کے پرسکون ماحول میں۔ خاموش جدوجہد جاری رہتی ہے۔ کم عمری میں شادی کے بوجھ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نڈھال ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے جو اکثر روایات کی تہوں میں چھپا ہوتا ہے اور بیت جلد بکھر جانے والے خواب کی داستان اس میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

عائشہ 12 سال کی ایک روشن خواب اپنی آنکھوں میں سجانے والی لڑکی، جس کے قہقہے اسکول میں اپنی دوستوں کے ساتھ گونجنے چاہیے تھے وہ دلہن کی ذمہ داریوں سے پریشان ہے۔ عائشہ کی زندگی کی کہانی بہت سے دوسرے لوگوں کی کہانیوں کی طرح ہے اور ایسے معاشرتی معمول کی پیچیدگیوں سے پردہ اٹھاتی ہے جو نوجوانوں کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع دینے سے قبل ان کو ذمہ داریوں کی بھاری چادر اڑھا دیتی ہے۔

پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں جہاں زندگی اطمینان اور ہلکی رفتار کے ساتھ چلتی ہے۔ عائشہ کی دنیا اچانک جوانی کی ذمہ داریوں کے جنگل میں دھکیل دی گئی۔ یہ فیصلہ ان کی خواہشات اور خوابوں پر غور و فکر کیے بغیر کیا گیا، یہ خاندان کے لین دین کا معاملہ تھا جس پر روایت کے وعدے مہر ثابت ہوئے۔

عائشہ نے دلہن کے لباس کو جس خوش کن دن سجایا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور آزمائش بن کر آنسو جھلک رہے تھے۔ معاشرتی توقعات کا وزن اس کے نازک کندھوں پر تھا اور کھیل کا میدان جسے وہ کبھی گھر کہتی تھی اب وہ ازدواجی۔ ذمہ داری کی بند دیواروں میں تبدیل ہو گیا۔

کم عمری کی شادی کے نتائج میں وہ لوگ تو زد میں آتے ہی نہیں جن کا یہ فیصلہ ہوتا ہے اس کی زد میں وہ لوگ آ جاتے جن پر یہ فیصلہ مسلط کیا جاتا ہے۔ نوجوان ذہن کی قابل استعمال صلاحیت کو قبل از وقت وعدوں کی وجہ سے دبایا جاتا ہے جو ترقی کے لئے بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔

تاہم وکلا، کمیونٹی لیڈرز اور بہادر افراد ان اصولوں کو چیلنج کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ وہ روایت کی وجہ سے خاموش ہو جانے والے افراد کی آواز بڑھاتے ہیں اور کم عمری کی شادی۔ سے اختلاف کرنے والے بیانیے کو نئی شکل دینے کے لئے تعلیمی مواقع، پیشہ وارنہ تربیت کے لے انتھک محنت کرتے ہیں۔

پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (PDHS) 2020۔ 2021۔ کے مطابق، 15 سال سے کم عمر کی 3.6 فیصد لڑکیوں کی شادی ہو جاتی اور 18.3 فیصد لڑکیوں کی شادیاں 18 سال سے کم ہوتی ہیں۔ تاہم یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 21 فیصد پاکستانی لڑکیوں کی شادیاں۔ 18 سال کی عمر، اور 15 سال کی عمر سے پہلے تین فیصد لڑکیوں کی شادی کردی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی ادارے کی ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان دنیا میں بچوں کی شادیوں کی تعداد میں چھٹے نمبر پر ہیں۔

حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کم عمری میں شادی کے خلاف قانون سازی پر عمل درآمد کر نے کی کوشش کریں تاکہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کے واقعات میں کمی آئے۔

Facebook Comments HS